--
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
To post to this group, send email to BAZMe...@googlegroups.com.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.
محترم ڈاکٹر احمد ندیم رفیع صاحب
سلامِ مسنون
اتنی دلکش تھی اس کی حیرانی
خود بھی حیراں تھی میری حیرانی
ہمیشہ
کی طرح یہ غزل بھی دل کو چھو لینے والے مضامین اور فنکارانہ نوعیت کے تراکیب سے
مرصّع ہے۔
بہ حیثیت ایک طالبِ علم کے یہ استفسار گوش گذار کرنا چاہتا ہوں کہ، اس غزل میں
استعمال شدہ قافیہ میں حرفِ روی ‘ ‘ی‘ ‘ ہے اور واقعتًا قواعدِ قوافی کے عین مطابق
حرفِ روی ‘ ‘ی‘ ‘ حرفِ اصلی ہے ‘ ‘ی‘ ‘ کو ہی مکرر استعمال کیا گیا ہے لیکن، اسی
حرفِ روی ‘ ‘ی‘ ‘کو ضرورتِ شعری کے تحت گرادیا گیا ، کیا ایسا کیا جاسکتا ہے؟،
البتہ یہ صحیح ہے کہ حرفِ روی سے پہلے والی حرکت ‘‘زیر‘‘ کو بطور ‘‘توجیہ ‘‘
پابندی سے برتا گیا، مذکورہ غزل جیسا کہ بحرخفیف میں کہی گئ ہے جس کے افاعیل ہیں
۔‘‘ فاعلاتن مفاعلن فعلن ‘‘ اور غزل میں قافیہ ‘‘مفاعلن ‘‘ کے ع پر یعنی صرف
‘‘توجیہ ‘‘ پر اکتفاء کرتا ہے ۔ التماس یہ ہے کہ ، آپ جیسے اہلِ علم سے سہو یقینًا
نا ممکن ہے اس سوال کو میری کم علمی پر محمول کیا جائے اور اس موضوع پرکچھ روشنی
ڈالی جائے تاکہ مجھ جیسے تشنگانِ علم و فن مستفید ہو سکیں۔
مظفر نايابؔ
دوحہ قطر
--
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
To post to this group, send email to BAZMe...@googlegroups.com.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.
محترم
ڈاکٹر احمد ندیم رفیع صاحب، سلامِ مسنون
میں بے حد ممنون ہوں کہ ایک ادنی سے طالبِ علم کے استفسار کا آپ نے تشفی بخش جواب
دیا، جس قدر دلکش اور مرصّع غزل سے مستفید کیا اسی قدردلنشیں ، علمی اور اجتہاد کی
نقیب تحریر سے بھی سرفراز فرمایا۔
جیسا کہ آپ نے بتایا قافیہ اور ردیف کے استعمال سے شاعری میں نغمگی اور موسیقیت
پیدا ہو تی ہے، بے شک بجا فرمایا، اگر ناگوارِ خاطر نہ ہو تو عرض کروں کہ قافیہ کا
تعلق صرف صوتیات سے نہیں بلکہ لفظیات سے بھی ہے ا س کا اظہار آپ کے مراسلے سے بھی
ہوتا ہے اور یہ بات اپنی جگہ مسلّمہ حیثیت رکھتی ہے کہ درست قافیہ شعر کے حسن میں
بے پناہ اضافہ کرتا ہے بلکہ بعض علمائے شعروسخن کا ماننا یہ ہے کہ شعر میں ردیف کا
لانا ضروری نہیں لیکن در ست قافیہ کا ہونا ضروری ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ
قافیہ رکنِ شعر ہے اور ردیف مستحسنات میں ہے۔ اس مختصر مراسلے میں اگر
کہیں کوئ گستاخی کا شائیبہ بھی ہو تو معافی کا خواستگار ہوں۔
ایک طالبِ علم
مظفر نايابؔ
دوحہ قطر