اتنی دلکش تھی اس کی حیرانی - غزل از احمد ندیم رفیع

71 views
Skip to first unread message

AHMAD RAFI

unread,
May 16, 2014, 9:09:55 PM5/16/14
to bazme...@googlegroups.com
محترم قارئین 
غزل نظرِثانی کے بعد دوبارہ پیش خدمت ہے- آپ قیمتی آراء کا انتظار رہے گا- ڈاکٹر احمد ندیم رفیع 

                  غزل
          ڈاکٹر احمد ندیم رفیع
 
 
اتنی  دلکش  تھی   اس  کی  حیرانی
خود بھی حیراں  تھی  میری حیرانی
 
آنکھ  مِلتے  ہی  مجھ  کو  لے ڈوبی 
اک   سمندر   سی   گہری   حیرانی
 
کوئی   ہمسر   نہیں   اگر   اس    کا  
کیا    سوالات  !    کیسی    حیرانی!
 
دلِ   مُضطَر   کا   راز   کھول  گئی 
میرے   چہرے   پہ   لِکھّی  حیرانی 
 
حرفِ  راز  و  نیاز  کے   با وصف
سرِ    مژگاں   سجی   تھی   حیرانی
 
اک   تماشا   تھا   رُوبرُو  اس   کے  
سب   کی   تھی  اپنی  اپنی  حیرانی

رگِ  جاں   میں  سمٹ   گئی  آ  کر   
 اس  کی  آنکھوں کی ساری حیرانی 
 
قطرہ   قطرہ   بھگو   گئی  اس  کو 
آئِنے      سے     برستی    حیرانی

سب   سرِ   بزم   تھے   خُمار  آلود
یُوں  فضا  میں رچی   تھی  حیرانی

قید   تھی    اس   نگاہِ   خِیرہ   میں  
مہ  و  خورشید   کی  سی  حیرانی

ایک  چلمن  کی اَوٹ  سے  لگ کر
مجھ  کو تکتی  تھی  کوئی  حیرانی

ہجر   تھا    انتظار    صدیوں    کا 
وصل  تھا   ایک   پل  کی  حیرانی

زندگی    تھی    طلسمِ   ہوش   رُبا
ہر نفس  میں  چُھپی  تھی  حیرانی 

سامنے    جلوہ  گاہِ   فطرت   کے
سر بہ  سجدہ   تھی  میری  حیرانی
 
 
        ڈاکٹر احمد ندیم رفیع
       آرکنساس ، یو -ایس-اے 

Khalid Kazi

unread,
May 17, 2014, 5:05:57 AM5/17/14
to BAZMe...@googlegroups.com
بہت عمدہ۔ ماشاء الله
Khalid Kazi

Sent from my iPhone
--
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
To post to this group, send email to BAZMe...@googlegroups.com.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.

Muzaffar Hussain

unread,
May 17, 2014, 11:43:49 AM5/17/14
to BAZMe...@googlegroups.com

محترم ڈاکٹر احمد ندیم رفیع صاحب

سلامِ مسنون

اتنی  دلکش  تھی   اس  کی  حیرانی

خود بھی حیراں  تھی  میری حیرانی

ہمیشہ کی طرح یہ غزل بھی دل کو چھو لینے والے مضامین اور فنکارانہ نوعیت کے تراکیب سے مرصّع ہے۔
بہ حیثیت ایک طالبِ علم کے یہ استفسار گوش گذار کرنا چاہتا ہوں کہ، اس غزل میں استعمال شدہ قافیہ میں حرفِ روی ‘ ‘ی‘ ‘ ہے اور واقعتًا قواعدِ قوافی کے عین مطابق حرفِ روی ‘ ‘ی‘ ‘ حرفِ اصلی ہے ‘ ‘ی‘ ‘ کو ہی مکرر استعمال کیا گیا ہے لیکن، اسی حرفِ روی ‘ ‘ی‘ ‘کو ضرورتِ شعری کے تحت گرادیا گیا ، کیا ایسا کیا جاسکتا ہے؟، البتہ یہ صحیح ہے کہ حرفِ روی سے پہلے والی حرکت ‘‘زیر‘‘ کو بطور ‘‘توجیہ ‘‘ پابندی سے برتا گیا، مذکورہ غزل جیسا کہ بحرخفیف میں کہی گئ ہے جس کے افاعیل ہیں ۔‘‘ فاعلاتن مفاعلن فعلن ‘‘ اور غزل میں قافیہ ‘‘مفاعلن ‘‘ کے ع پر یعنی صرف ‘‘توجیہ ‘‘ پر اکتفاء کرتا ہے ۔ التماس یہ ہے کہ ، آپ جیسے اہلِ علم سے سہو یقینًا نا ممکن ہے اس سوال کو میری کم علمی پر محمول کیا جائے اور اس موضوع پرکچھ روشنی ڈالی جائے تاکہ مجھ جیسے تشنگانِ علم و فن مستفید ہو سکیں۔
 

مظفر   نايابؔ

دوحہ قطر



--
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
To post to this group, send email to BAZMe...@googlegroups.com.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.



--
Best Regards

M. Muzaffar Hussain Nayab
Doha, Qatar
 
 
 


AHMAD RAFI

unread,
May 17, 2014, 5:23:52 PM5/17/14
to BAZMe...@googlegroups.com
محترم مظفر نایاب صاحب 
سلام مسنون 
سب سے پہلے توغزل کی پسندیدگی کا شکریہ-   دوسرا یہ کہ میں کوئی اہل علم نہیں ہوں- میری شاعری میں اب بھی بہت سے عیب  اور غلطیاں گاہے بگاہے نظر آ جاتی ہیں - جب کوئی اہل علم  ان کی  نشان دہی کرتا ہے تو میں کھلے دل سے اسے تسلیم کر کے اپنی شاعری میں نظر ثانی کر لیتا ہوں- یوں سمجھیے کہ سیکھنے کا یہ  عمل ساری زندگی جاری و ساری رہتا ہے- 
البتہ اس غزل میں جس  نکتے کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے اور جو سوال اٹھاۓ ہیں  وہ بالکل درست ہیں- مجھے اس بات کا اندازہ مطلع سے ہی ہو گیا تھا - لیکن زمین اتنی زرخیز تھی اور خیالات کا ایک ریلا تھا کہ بہتا چلا گیا - سو میں نے  اس عیب کو نظر انداز کر دیا - لیکن مجھے یقین تھا کہ کوئی نہ کوئی اہل علم و فن اس طرف اشارہ ضرور کرے گا- سو ایسا ہی ہوا - یوں سمجھیے کہ  میں نے نے خیال کو قوائد پر  ترجیح دی اور اس غلطی کا مرتکب ٹھہرا - اور اپنی اس غلطی کو کھلے دل سے تسلیم بھی کرتا ہوں - اگرچہ یہ غلطی شعوری تھی-  
میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ اردو شاعری میں قافیہ کے اصول کچھ زیادہ ہی سخت ہیں - جیسا کہ ہم ض ، ذ ، ز کی آوازیں بول چال میں  ایک جیسی ہیں  لیکن قافیہ میں ان کی بطور حرف روی ایک ساتھ لانا غیر فصیح سمجھا جاتا ہے- مثال کے طور پر بیاض اور گداز  کو ہم قافیہ استعما ل کرنا درست نہیں سمجھا جاتا - اسی طرح صراحی اور تباہی کا قافیہ غلط سمجھا جاتا ہے - میرے خیال میں اس معاملے میں اجتہاد کی ضرورت ہے- قافیہ اور ردیف کے استعما ل سے شاعری میں نغمگی اور موسیقیت پیدا ہوتی ہے -چونکہ  قافیے کا تعلق صوتیات سے ہے لہذا جو لفظ صوتی  اعتبار سے  ایک جیسے ہیں وہ بطور قافیہ  استعما ل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے - انگریزی زبان میں ایسا ہی ہے -  
 میری غزل میں اصولوں کی بنیاد پر تو غلطی ہے لیکن صوتی  اعتبار سے کوئی جھول نظر نہیں آتا - قافیوں میں  میری ، اپنی ، کیسی وغیرہ کی "ی " گر جاتی ہے لیکن  ان الفاظ کو جب  ردیف حیرانی کے ساتھ  پڑھا جاۓ تو رحے ، نحے ، سہے وغیرہ بن جاتا ہے- اور صوتی  اعتبار سے بات بن جاتی ہے- میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ایسا کرنا جائز ہے بلکہ یہ میری ذاتی راۓ ہے اور آپ کا اس بات سے متفق ہوں ضروری نہیں- 
مخلص 
احمد ندیم رفیع 

Muzaffar Hussain

unread,
May 18, 2014, 10:53:49 AM5/18/14
to BAZMe...@googlegroups.com

محترم ڈاکٹر احمد ندیم رفیع صاحب، سلامِ مسنون

میں بے حد ممنون ہوں کہ ایک ادنی سے طالبِ علم کے استفسار کا آپ نے تشفی بخش جواب دیا، جس قدر دلکش اور مرصّع غزل سے مستفید کیا اسی قدردلنشیں ، علمی اور اجتہاد کی نقیب تحریر سے بھی سرفراز فرمایا۔
جیسا کہ آپ نے بتایا قافیہ اور ردیف کے استعمال سے شاعری میں نغمگی اور موسیقیت پیدا ہو تی ہے، بے شک بجا فرمایا، اگر ناگوارِ خاطر نہ ہو تو عرض کروں کہ قافیہ کا تعلق صرف صوتیات سے نہیں بلکہ لفظیات سے بھی ہے ا س کا اظہار آپ کے مراسلے سے بھی ہوتا ہے اور یہ بات اپنی جگہ مسلّمہ حیثیت رکھتی ہے کہ درست قافیہ شعر کے حسن میں بے پناہ اضافہ کرتا ہے بلکہ بعض علمائے شعروسخن کا ماننا یہ ہے کہ شعر میں ردیف کا لانا ضروری نہیں لیکن در ست قافیہ کا ہونا ضروری ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ قافیہ رکنِ شعر ہے اور ردیف مستحسنات میں ہے۔ اس مختصر مراسلے میں
 اگر کہیں کوئ گستاخی کا شائیبہ بھی ہو تو معافی کا خواستگار ہوں۔
ایک طالبِ علم

مظفر   نايابؔ

دوحہ قطر

Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages