|
ردیف ( د )حسن غمزہ کی کشاکش سے چهڻا ميرے بعد بارے آرام سے ہيں اہل جفا ميرے بعد چهڻنا اور چهوڻنا ايک ہی معنی پر ہے الف تعديہ بڑهانے کے بعد ’ ٹ ، کا ’ ڑ ، کردينا فصيح ہے يعنی چهڑانا فصيح ہے اور چهڻانا غيرفصيح اور چهوڑا اور چهڑانا دونوں متعدی ہيں ، چهوڻنا سے چهوڑنا متعدی بيک مفعول ہے جيسے پهوڻنا سے پهوڑنا اور ڻوڻنا سے توڑنا اور چهڑانا متعدی بد و مفعول ہے ، بعض متبعين زبان دہلی کے کلام ميں چهڻوانا ديکهنے ميں آيا ہے ، اہل لکهنؤ اس طرح نہيں کرتے۔ منصب شيفتگی کے کوئی قابل نہ رہا ہوئی معزولی انداز و ادا ميرے بعد ’ کے ، اس شعر ميں اضافت کے لئے نہيں ہے ورنہ ’ کا ، ہوتا جيسے کہتے ہيں کوئی اس منصب کا مستحق نہ رہا بلکہ يہ ’ کے ، ويسا ہے جيسے مير انيسمرحوم کے اس مصرع ميں ہے ’ سرمہ ديا آنکهوں ميں کبهی نور نظر کے ، اسمصرع پر لوگوں کو شبہ ہوا تها کہ مير صاحب نے غلطی کی يعنی ’ کی ، کہناچاہئے تها۔ اسی طرح کہتے ہيں اُن کے مہندی لگادی جو لوگ نحوی مذاق رکهتے ہيں وہ اس بات کو سمجهيں گے کہ ايسے مقام پر ’ کے ، حرف تعديہ ہے اور اسیکے اس مصرعہ کو غلط نہيں سمجهتا جو مرثيہ ميں اُنهوں نے بناء پر ميں برق کہا تها اور اعتراض ہوا تها ’ ڈاڑهی ميں لال بال تهے اُس بدنہاد کے ، اور اسیکا يہ مصرع بهی ’ آنکهوں کا مصرع بهی صحيح ہے اور مير دليل سے انيسميں ہيں حقير جس تس کے ، غلط نہيں ہے اور آتش کا يہ شعر بهی صحيح ہے :معرفت ميں اُس خدائے پاک کے اُڑتے ہيں ہوش و حواس ادراکے شمع بجهتی ہے تو اس ميں سے دُهواں اُڻهتا ہے شعلۂ عشق سيہ پوش ہوا ميرے بعد يعنی دُهواں نہيں ہے بلکہ شمع کشتہ کے سوگ ميں شعلہ سياہ پوش ہوا ہے ، اسی طرح ميرے غم ميں شعلہ عشق سياہ پوش ہوا ہے يعنی ميں شعلۂ عشق سے مثل شمع کے سوز و گداز ميں تها۔ خون ہے دل خاک ميں احوال بتاں پر يعنی اُن کے ناخن ہوئے محتاجِ حنا ميرے بعد يعنی ميرے سوگ ميں مہندی ملنا چهوڑدی خاک سے خاک قبر مراد ہے۔ درخورِ عرض نہيں جوہر بيداد کو جا نگہِ ناز ہے سرمے سے خفا ميرے بعد جوہر بيداد يعنی سرمہ کے اس کی آنکهوں ميں جگہ نہيں ہے۔ ’ درخور عرض ،يعنی بيان کے قابل۔ عرض کا لفظ فقط جوہر کی مناسبت سے لائے ہيں۔ ہے جنوں اہل جنوں کے لئے آغوش وداع چاک ہوتا ہے گريباں سے جدا ميرے بعد گريباں اہل جنوں سے چاک رخصت ہوتا ہے گويا چاک آغوش وداع ہے کہ ميرے بعد اہل جنوں سے رخصت ہوتا ہے ’ ہے ، کا محل وداع کے بعد تها ، ليکنضرورت شعر کے سبب سے مقدم کر ديا ورنہ نحو اُردو ميں فعل کو تمام متعلقات کے بعد ذکر کرتے ہيں۔ البتہ مقام استفہام ميں کہتے ہيں ، ہے کوئی ايسا جو ميری اعانت کرے۔ کون ہوتا ہے حريفِ مےِ مرد افگن عشق ہے مکرر لبِ ساقی ميں صلا ميرے بعد لب ساقی جو صلا کرتا ہے اُس کا بيان پہلے مصرع ميں ہے ، يعنی ہے کوئی ايسا کہ شرابِ عشق کا جام پئے ’ ميں ، کاتب کی غلطی معلوم ہوتی ہے ، يہاں ’ کی ،ياد يہ چاہئے اس شعر کی معنی ميں لوگوں نے زيادہ تدقيق کی ہے مگر جادۀ مستقيم سے خارج ہے۔ غم سے مرتا ہوں کہ اتنا نہيں دُنيا ميں کوئی کہ کرے تعزيتِ مہر و وفا ميرے بعد يعنی اس غم سے مرتا ہوں کہ کوئی ميرے بعد مہر و وفا کو ميرا پرسہ بهی دينے والا نہيں ہے۔ يعنی مرنے سے پہلے يہ غم مجهے مارے ڈالتا ہے۔ آئے ہے بے کسیٴ عشق پہ رونا غالب کس کے گهر جائے گا سيلاب بلا ميرے بعد عشق ہی کو دوسرے مصرع ميں سيلابِ بلا سے تعبير کيا ہے۔ ردیف ( ر )بلا سے ہيں جو يہ پيش نظر در و ديوار نگاہِ شوق کو ہيں بال و پر در و ديوار يعنی گو در و ديوار نظر کے لئے مانع ہيں ليکن اُن کے حاجب و حائل ہونے سے شوق اور تيز ہوتا ہے ، گويا پرواز نگاہ شوق کے لئے بال و پر بن گئے ہيں۔ وفورِ اشک نے کاشانہ کا کيا يہ رنگ کہ ہو گئے مرے ديوار و در ، در و ديوار يعنی ديوار گرکر در ہو گئی اور در پهٹ کر ديوار بن گيا۔ نہيں ہے سايہ کہ سن کر نويد مقدم يار گئے ہيں چند قدم پيشتر در و ديوار سايہ سے در و ديوار کا سايہ مراد ہے جو مہمان کے استقبال کے لئے در سے چند قدم آگے دوڑ گيا ہے۔ ہوئی کس قدر ارزانیِ مئے جلوہ کہ مست ہے ترے کوچہ ميں ہر در و ديوار طعن سے شاعر کہتا ہے کہ تو نے اب اپنی شراب ديدار کو ہرکس و ناکس کے لئے ارزاں کر ديا ہے۔ جو ہے تجهے سر سودائے انتظار تو آ کہ ہيں دوکانِ متاعِ نظر در و ديوار يعنی ميری نظر در و ديوار پر عالم انتظار ميں اس طرح پڑرہی ہے گويا وہ دوکان متاع نظر بن گئی ہيں ، اگر تجهے اس متاع کی خريداری و قدردانی منظور ہے تو آ۔ وہ آرہا ہے مرے ہمسائے ميں تو سايہ سے ہوئے فدا در و ديوار پر در و ديوار يعنی ميرے در و ديوار کا سايہ اُس کے در و ديوار کی بلائيں لے آيا۔ نظر ميں کهڻکے ہے بن تيرے گهر کی آبادی ہميشہ روتے ہيں ہم ديکه کر در و ديوار جب آنکه ميں کوئی چيز کهڻکتی ہے تو آنسو جاری ہوتے ہيں ، يہ وجہ رونے کی ہے۔ ہجوم گريہ کا سامان کب کيا ميں نے کہ گر پڑے نہ مرے پاؤں پر در و ديوار استفہام انکاری کے مقام پر کہتے ہيں کہ وہ بات کب کی کہ يہ بات نہيں ہوئی ، يعنی جب ميں نے سامان گريہ کيا در و ديوار پاؤں پر گرپڑے۔ نہ پوچه بے خودیٴ عيش مقدم سيلاب کہ ناچتے ہيں پڑے سر بسر در و ديوار يعنی خانہ ويرانی سے مجهے ايسی لذت حاصل ہوتی ہے کہ سيلاب سے جو ديواريں گرنے لگتی ہيں ، اُسے رقص سمجه کر بے خود ہو جاتا ہوں۔ نہيں زمانہ ميں نہ کہہ کسی سے کہ غالب حريف رازِ محبت مگر در و ديوار يعنی رازِ محبت کسی اور سے نہ کہہ کہ اس راز کا محل اعتماد در و ديوار کے سوا اور کوئی زمانہ ميں نہيں اور در و ديوار سے باتيں کرنا فعل عبث ہے ، حاصل يہ ہوا کہ رازِ محبت کبهی منہ سے نکالنا نہ چاہئے۔ _______ گهر جب بناليا ترے در پر کہے بغير جائے گا اب بهی تو نہ مرا گهر کہے بغير دوسرے مصرع ميں استفہام انکاری ہے۔ کہنے کی جب رہی نہ مجهے طاقتِ سخن جانوں کسی کے دل کی ميں کيوں کر کہے بغير شعر کا مطلب ظاہر ہے ليکن يہ نکتہ اس شعر سے خوب سمجه ميں آتا ہے کہ شاعر اکثر زبانِ حال سے گفتگو کيا کرتے ہيں ، کبهی اپنے تئيں حيوان بے زبان بلبل و قمری سمجه کر صياد و گلچيں کی شکايت کرتے ہيں ، کبهی نباتات بے حس فرض کر کے اپنے تئيں شاخ بريدہ يا نہال خزاں رسيدہ کہتے ہيں ، کبهی اپنے نفس کو جمادات بے نفس کی طرح فرض کر کے غبار رہ گذار يا موجِ نسيم بہار کی زبانی گفتگو کرتے ہيں ، کبهی مردہ بے جان يا کشتہ حرمان بن کر اپنے خون کا دعوی کرتے ہيں ، غرض کہ يہ ميدان بہت وسيع ہے۔ اس شعر ميں شاعر خود ہی کہتا ہے کہ مجه ميں بات کرنے کی طاقت نہيں رہی پهر شکايت بهی کرتا ہے کہ جب ميں دل کا حال بيان کرنے سے مايوس ہو گيا اور طاقت گويائی نے جواب دے ديا تو تم يہ کہتے ہو کہ کہے بغير مجهے حال کيا معلوم تو يہ شکايت زبان حال سے ہے۔ کام اُس سے آپڑا ہے کہ جس کا جہان ميں ليوے نہ کوئی نام ستم گر کہے بغير دلی کی زبان ميں کہوے اور رہوے بہت ہے يہ بقاعدۀ صرف بهی غلط ہے اور متروک بهی ہے ليکن ليوے اور ديوے اور ہووے بهی گو قياساً صحيح ہے مگر متروک ہوتا جاتا ہے۔ جی ميں ہی کچه نہيں ہے ہمارے وگر نہ ہم سر جائے يار ہے نہ رہيں پر کہے بغير اس شعر ميں ايک مضمون اخلاقی ہے کہتے ہيں ميرا دل سب سے صاف ہے ، اگر کسی کی برائی دل ميں ہوتی تو ظاہر کر ديتا اور اُس کے اظہار ميں جو کچه ہو جاتا سب مجهے گوارا تها مگر شيوۀ نفاق کہ ظاہر کچه ہو اور باطن کچه ہو مجهے گوارا نہيں۔ چهوڑوں گا ميں نہ اُس بتِ کافر کا پوجنا چهوڑے نہ خلق گو مجهے کافر کہے بغير چهوڑنے کا لفظ دونوں مصرعوں ميں قابل توجہ ہے کہ اس لفظ کی تکرار نے حسن کلام کو بڑهاديا ، يہ بهی ايک صنعت ہے صنائع لفظيہ ميں سے گو اہل فن نے اس کا ذکر نہيں کيا۔ مقصد ہے ناز و غمزہ ولے گفتگو ميں کام چلتا نہيں ہے دشنہ و خنجر کہے بغير دشنہ و خنجر سے ناز و غمزہ کی تشبيہ محسوس سے معقول کی تشبيہ ہے اور معقول کا فہم ہر ايک کو نہيں ہوتا ، اس لئے اسے محسوس فرض کر کے کام نکالتے ہيں يعنی اُن کی تاثير کو سمجها ديتے ہيں۔ ہر چند ہو مشاہدۀ حق کی گفتگو بنتی نہيں ہے بادۀ و ساغر کہے بغير اس شعر کا مطلب بهی مثل شعر سابق کے ہے اور بنتی نہيں ہے يعنی گفتگو بن نہيں پڑتی۔ بہرا ہوں ميں تو چاہئے دونا ہو التفات سنتا نہيں ہوں بات مکرر کہے بغير جيسے معشوق نے کسی بات پر کہا ہے کہ کيا تو بہرا ہو گيا اور آپ ہی بہرا بنايا اور آپ ہی خفا بهی ہو گيا ہے ، اس مقام پر کہتے ہيں کہ بہرا ہوں ميں الخ۔ نہ کر حضور ميں تو بار بار عرض غالب ظاہر ہے تيرا حال سب اُن پر کہے بغير اس شعر ميں يہ صفت ہے کہ اس طرح اظہارِ خيال کيا ہے کہ گويا کچه نہيں کہا اور اسے صنائع معنويہ ميں شمار کرنا چاہئے۔ _______ کيوں جل گيا نہ تابِ رُخِ يار ديکه کر جلتا ہوں اپنی طاقتِ ديدار ديکه کر جس طرح بخل کا انتہائے مرتبہ مشہور ہے کہ بخيل خود بهی لذتِ نعمت سے محروم رہتا ہے اپنا تمتع آپ ہی نہيں ديکه سکتا ، اسی طرح انتہائے غيرت کا مرتبہ مصنف نے بيان کيا ہے کہ اپنی طاقتِ ديدار سے ميں خود جلتا ہوں ، اسی مطلب کو آگے ايک شعر ميں بہت صاف ادا کيا ہے :ديکهنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آجائے ہے ميں اُسے ديکهوں بهلا کب مجه سے ديکها جائے ہے آتش پرست کہتے ہيں اہل جہاں مجهے سرگرم نالہ ہائے شرر بار ديکه کر اپنے ذوق نالہ کشی کو ارادت آتش پرست سے تشبيہ دی ہے يعنی جس ارادت سے وہ آگ کی پرستش ميں مشغول ہوتا ہے ، اُسی ذوق و شوق سے ميں نالہ آتشيں کرنے ميں سرگرم رہتا ہوں۔ کيا آبروئے عشق جہاں عام ہو جفا رُکتا ہوں تم کو بے سبب آزار ديکه کر بے سبب آزار ترکيب فارسی ہے حکيم مومن خان صاحب نے اس قسم کی ترکيبيں بنانے ميں بہت افراط کی ہے ايک جگہ فرماتے ہيں ’ رحمے بحال بندہ خدايا نگاہتها ،۔ البتہ تازگی لفظ اور ترکيب کلام ميں بڑا حسن پيدا کرتی ہے ليکن يہ يہاں سمجهنا چاہئے کہ دوسری زبان پر جب تک اچهی طرح قدرت نہ حاصل ہو ، اُس ميں تصرف و ارتجال کا ہر ايک کو حق نہيں ہے۔ يہاں جفا کے عام ہونے سے يہ مراد ہے کہ رقيب جس ميں سبب جفا يعنی عشق نہيں پايا جاتا ، اُس پر بهی تم جفائے معشوقانہ ميری طرح کرتے ہو۔ آتا ہے ميرے قتل کو پرجوش رشک سے مرتا ہوں اُس کے ہاته ميں تلوار ديکه کر دوسرا مصرع اس مضمون کو مانگتا ہے کہ وہ اس ادا سے ميرے قتل کو آتا ہے کہ ميں مرتا ہوں الخ۔ مصنف مرحوم نے معنی رشک کے اتنے پہلو نکالے ہيں کہ اُن کی تعريف حدِ امکان سے باہر ہے ليکن يہ قاعدہ ہے کہ جب ايک ہی مطلب کو بار بار کہو تو اس ميں افراط و تفريط ہو جاتی ہے ، اس غزل کے دو شعر اس سبب سے سست رہے ايک تو يہ شعر کے معشوق کے ہاته ميں تلوار کو ديکه کر تلوار پر رشک آنا ، دوسرے عاشق کے طوطی پالنے سے معشوق کو طوطی پر رشک آنا ، دونوں امر غيرعادی ہيں اور بے لطف ہيں اور اسی سبب سے يہاں مصرع نے ربط نہيں کهايا ، اس بات کو بوجہ بصيرت سمجهنے کے لئے يہ سن لينا چاہئے کہ شعر اُلڻا کہا جاتا ہے يعنی پہلے شاعر کا يہ کام ہوتا ہے کہ قافيہ تجويز کرے جو کہ آخر شعر ميں ہوتا ہے ، دوسری فکر يہ ہوتی ہے کہ جس قافيہ پر تجويز کيا ہے اُسے ديکهے کہ يہ کسی صفت کے ساته يا کسی مضاف کے ساته يا کسی اور قيد کے ساته يا کسی اور محاورہ کے ساته يا اپنے کسی عامل کے ساته يا معمول کے ساته مل کر ايک مصرع ہوتا ہے يا نہيں ، اگر نہ ہوا تو کوئی لفظ گهڻا بڑها کر يا مقدم مؤخر کر کے اُسے پورا کرے ، يہ دوسرا مصرع ہوا مثلاً اسی زمين ميں جب مصنف نے ديدار ديکه کر ، آزار ديکه کر نظم کر ليا تو پہلے يہ تجويز کيا کہ تلوار ديکه کر کہنا چاہئے ، دوسری فکر ميں تلوار کے ساته يہ قيد لگائی کہ اُس کے ہاته ميں تلوار ديکه کر اور مصرع کے پورا کرنے کے لئے۔ مرتا ہوں بڑهايا تو پہلے يہ دوسرا مصرع موزوں ہوا ’ مرتا ہوں اُس کے ہاته ميں تلوار ديکه کر ، دوسرامصرع کہہ چکنے کے بعد تيسری فکر ميں اس بات کے وجوہ سوچے کہ اُس کے ہاته ميں تلوار ديکه کر کيوں مرتا ہوں يہاں مصنف نے اس توجيہ کو اختيار کيا کہ جوش رشک سے مرتا ہوں اور پہلے مصرع ميں ’جوش رشک سے ، ايسا لفظ ہےکہ اگر آخر مصرع ميں نہ ہوتا تو کسی طرح يہ لفظ اپنے فعل سے مرتبط نہ ہوتا ، اس سے ظاہر ہے کہ پہلے مصرع کا يہ آخری ڻکڑا پہلے معين کر کے صدر مصرع اُس پر بڑهايا اور شعر کو تمام کيا ہے اور جو شعر کی ابتداء ہے وہی فکر کا منتہی ہے اور حرکات فکر کے منازل ميں سے بڑی منزل يہی ہے کہ دوسرا مصرع کہہ چکنے کے بعد اُس پر مصرع ايسا لگائے کہ وہ مرتبط ہو جائے اور دست و گريبان کا حکم پيدا کرے اور يہ ظاہر ہے کہ معشوق کے ہاته ميں کوئی چيز ديکه کر اُس چيز پر رشک کرنا عادت کے خلاف ہے محض تصنع ہے اور نامربوط ہے۔ اتنا لکهنا اور يہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہر زمين ميں دوسرے مصرع کا نظم کر لينا آسان ہے مثلاً اسی زمين ميں ’ تلوار ديکه کر ، تقريباً آدهےمصرع کے برابر ہے جو صاحبِ طبع موزوں ہے وہ کچه الفاظ بڑها کر اُسے پورا کر سکتا ہے اور جو الفاظ کے بڑهائے جائيں گے وہ بهی گويا کہ معين ہيں يعنی اکثر وہی پہلو شعراء اختيار کرتے ہيں اور جو اوپر بيان ہوئے۔ قافيہ کی صفت ، اضافت ، قيد ، عامل يا معمول ، فعل وغيرہ مثلاً کهنچی ہوئی تلوار ديکه کر يا اوپی ہوئی تلوار ديکه کر ، يا ہلال سی تلوار ديکه کر ، يا حلق پر تلوار ديکه کر يا ترک کی تلوار ديکه کر يا اس کے ہاته ميں تلوار ديکه کر يا دانت سے تلوار ديکه کر۔ غرض کہ دوسرا مصرع کہنے ميں شاعر مجبور ہے کہ قافيہ و رديف کے متعلقات کو پورا کرے اور اس مصرع کے کہنے ميں بس يہی خوبی ہے کہ ايسے پہلو تلاش کرے کہ توارد نہ ہونے پائے اور مصرع لڑ نہ جائے ، ہاں دوسرا مصرع کہہ چکنے کے بعد اُس پر مصرع لگانا بڑے وسيع ميدان کا طے کرنا ہے جس ميں صدہا راہيں ہيں اور مصرع لگانے کی مشق کا بہت مفيد و آسان طريقہ يہ ہے کہ کسی شاعر خوش گوار کا ديوان کهولے تو داہنے ہاته کی طرف سب اوپر کے مصرع ہوں گے اور بائيں طرف سب نيچے کے مصرع ہوں گے ، اوپر کے مصرعوں کو کسی کاغذ سے چهپادينا چاہئے اور نيچے کے مصرع پر يہ فکر کرے کہ اس کے ساته کون سا مضمون ربط کهاتا ہے ، جب مضمون ذہن ميں آجائے تو کاغذ سر کا کر ديکهے کہ شاعر نے کيا کہا ہے۔ غرض کہ شعر کا سحر ہو جانا اور شاعر کا ماہر ثابت ہونا اکثر مصرع لگانے پر موقوف اور منحصر ہے۔ کو کہا کرتے تهے کہ يہ صحاف ہيں يعنی لگا کر ، مصحفی مير تقی مير مصرع کو چپکاديا کرتے ہيں يعنی مصرعہ اچها لگانا نہيں جانتے۔ ثابت ہوا ہے گردنِ مينا پہ خون خلق لرزے ہے موجِ مے تری رفتار ديکه کر نشہ ميں تيری رفتار مستانہ ديکه کر موج مے اس انديشہ ميں کانپ رہی ہے کہ اس رفتار سے عالم کا خون ہو جائے گا۔ اس بات سے ہم کو يہ پتہ لگ گيا کہ خون خلق کا باعث يہی شيشہ شراب ہے کہ نہ تو شراب پيتا نہ يہ رفتار مستانہ عالم کا خون کرتی۔ واحسر تاکہ يار نے کهينچا ستم سے ہاته ہم کو حريص لذتِ آزار ديکه کر آزار و ستم و حسرت و الم و بيداد و جفا و مرگ و بلا و ياس و حرمان و آہ سوزاں و ديدۀ تر و زخم جگر و خانۂ ويرانی و بے سر و سامانی و دشت پيمائی و ہرزہ درائی و داغ جنوں و بخت و اژوں وغيرہ کو مانوس و معشوق بنانا اور اُس کی خواہش و آرزو و حسرت کرنا اور اُس کے حصول پر ناز و افتخار و مسرت کرنا ايسا مضمون ہے کہ اس ميں شک نہيں اکثر مؤثر واقع فی القلب ہوا کرتا ہے۔ بک جاتے ہيں ہم آپ متاعِ سخن کے ساته ليکن عيارِ طبع خريدار ديکه کر پہلے مصرع کا مطلب يہ ہے کہ ميرے کلام کا جو خريدار ہوتا ہے اُس کے ہاته خود بک جاتا ہوں اور دوسرے مصرع ميں يہ اشارہ ہے کہ ميرے کلام کا مذاق صحيح ہونا دليل ہے اُس شخص کے اہل کمال ہونے کی اور يہ باعث ہے ميرے خود اُس کے ہاته بک جانے کا۔ زنار بانده سبحۂ صددا نہ توڑ ڈال رہرو چلے ہے راہ کو ہموار ديکه کر رشتۂ تسبيح و زنار دونوں راہيں ہيں مگر فرق يہی ہے کہ زنار ہموار ہے اور تسبيح وہ راہ ہے جس ميں سو ڻهوکروں کا سامنا ہے۔ شعراء بت خانہ و برہمن و زنار کو خانقاہ و واعظ و شيخ و مصلی و تسبيح پر ہميشہ ترجيح ديا کرتے ہيں اور غرض اس سے طعن ہے يعنی عارف کو تسبيح و مصلی سے کيا کام ہے۔ اِ ن آبلوں سے پاؤں کے گهبرا گيا تها ميں جی خوش ہوا ہے راہ کو پرخار ديکه کر يعنی اس شعر ميں مصنف نے آبلوں کی طرف اشارہ کر کے مخاطب کو زيادہ متوجہ کر ليا ، اگر ’ان ، کی جگہ پر ’ کيا ،ہوتا تو يہ لطف نہ حاصل ہوتا ، اشارہنے جس شعر ميں زيادہ تر لطف ديا ہے ، وہ يہ شعر ہے :صحبت وعظ تو تادير رہے گی واعظ يہ ہے ميخانہ ابهی پی کہ چلے آتے ہيں کيا بدگماں ہے مجه سے کہ آئينے ميں مرے طوطی کا عکس سمجهے ہے زنگار ديکه کر يعنی اسے گمان ہوتا ہے کہ اسے طوطی کا بهی شوق ہے ، آگے کہتے ہيں :بدگماں ہوتا ہے وہ کافر نہ ہوتا کاش کے اس قدر ذوق نوائے مرغ بستانی مجهے ليکن يہ بدگمانی تصنع سے خالی نہيں۔ گرنی تهی ہم پہ برقِ تجلی نہ طور پر ديتے ہيں بادہ ظرفِ قدح خوار ديکه کر بڑے پلے کا مصرع لگايا ہے اور تجلی کو شراب سے اور طور کو مے خوار تنگ ظرف سے تشبيہ دی ہے اور تنگ ظرف ہونا اس سے ظاہر ہے کہ وہ تجلی کا متحمل نہ ہو سکا۔ شوريدہ حال کا سر پهوڑنا وہ غالب ياد آگيا مجهے تری ديوار ديکه کر نيچے کا مصرع فقط مفعول بہ کو مانگ رہا ہے اور مفعول بہ عاشق کا سر پهوڑنا کہا اور نکرہ کے بدلے معرفہ کو اختيار ہے ، مصنف نے عاشق کی جگہ غالب کيا اور اُس سبب سے شعر زيادہ مانوس ہو گيا اور دوسرا لطف يہ ہے کہ مصرع پورا کرنے کے لئے جو الفاظ بڑهائے ہيں وہ بہت ہی پرمعنی ہيں ، ايک تو غالب کی صفت شوريدہ حال بڑهادی ، جس سے سر پهوڑنے کا سبب ظاہر ہو گيا ، دوسری لفظ ’ وہ ، بڑهادی اور اُس نے کثيرالمعنی ہونے کے سبب سے شعر کاحسن ايک سے ہزار کر ديا۔ _______ لرزتا ہے مرا دل زحمتِ مہر درخشاں پر ميں ہوں وہ قطرۀ شبنم کہ ہو خارِ بياباں پر يعنی زبان تشنہ خار مجهے خود جذب کر لے گی آفتاب کو ميرے خشک کرنے ميں زحمت کرنا کيا ضروری ہے۔ اس شعر ميں دل کے لرزنے سے آفتاب شبنم کے چمکنے کو تشبيہ دی ہے اور وجہ شبہ حرکت ہے نے ياں بهی خانہ آرائی نہ چهوڑی حضرتِ يوسف کی پهرتی ہے زنداں پر سفيدی ديدۀ يعقوب يعنی ان کی مفارقت ميں اُن کی آنکهيں سفيد ہوتی جاتی ہيں کہ گويا ان کا زندان ميں آنا اس کا باعث ہوا کہ ان کی آنکهيں ان کو ڈهونڈتے ڈهونڈتے زندان ميں پہنچيں اور آنکهوں کی سفيدی ديوار زنداں پر پهر رہی ہے اور زنداں پر سفيدی پهرنا اور آنکهوں کا سفيد ہو جانا دونوں ميں حرکت نے الکيف ہے اور يہاں بهی وجہ شبہ يہی حرکت ہے۔ فنا تعليم درس بے خودی ہوں اُس زمانے سے کہ مجنوں لام الف لکهتا تها ديوار دبستاں پر فنا اور تعليم دونوں لغت تازی ہيں اور ترکيب دونوں لفظوں ميں فارسی ہے يعنی فنا تعليم اسم صفت بن گيا ہے جس کو فنا کی تعليم ہوئی ہو وہ مراد ہے اور يہ درس جس نے ديا ہے وہ بے خودی ہے اور مصنف نے ’ الف بے ، کو چهوڑکر لام الفاس سبب سے کہا کہ دونوں حرف مل کر ’ لا ، ہو جاتے ہيں اور ’ لا ، نيستی و فناکے مناسب ہے۔ فراغت کس قدر رہتی مجهے تشويش مرہم سے بہم گر صلح کرتے پارہ ہائے دل نمک داں پر يعنی پارہائے دل کو نمک چهڑکنے سے وہ لذت حاصل ہوتی ہے کہ باہم نزاع کرتے ہيں اس سبب سے ميں چاہتا ہوں کہ بلا سے ميں مرہم لگا لوں اور ان سب کو اس لذت سے محروم کر دوں ، دوسرا پہلو يہ بهی ہے کہ اگر پارہائے دل نمک چهڑکنے کی ايذا پر راضی رہتے تو اس ايذا اُڻهالينے کو تشويش مرہم کرنے سے ميں بہتر سمجهتا۔ نہيں اقليم اُلفت ميں کوئی طومارِ ناز ايسا کہ پشتِ چشم سے جس کے نہ ہو وے مہر عنواں پر ناز و ادا کو طومار کہنا تو ايک وجہ رکهتا ہے ليکن اُلفت جو ايک ادنی مرتبہ عشق کاہے اُسے اقليم و قلمرو سے تعبير کرنا بلاوجہ ہے ، اس لئے کہ مشبہ و مشبہ بہ ميں اضافت کرنے ميں وجہ شبہ ظاہر ہونا شرط ہے ، نہيں تو وہ اضافت ايسی ہی ہو گی جيسے کہيں کہ آسمان رُخ کا ستارہ خال ہے يا دريائے دہن کے موتی دندان ہيں اور ان اضافتوں کا غلط ہونا اہل ادب کے مذاق ميں ظاہر ہے۔ دوسرے مصرع کی بندش ميں گنجلک بہت ہو گئی ہے ، مطلب مصنف کا يہ ہے کہ ديوان حسن ميں کوئی طومار ناز ايسا نہيں جس کے عنوان پر پشت چشم شوق کی مہر نہ ہوئی ہو اور پشت چشم سے مہر ہونا معشوق کی آنکه چرانے اور آنکه پهيرلينے اور کنکهيوں ديکهنے سے اشارہ ہے اور مہر اور آنکه ميں وجہ شبہ سياہی ہے۔ حاصل يہ کہ جس طرح ہر طومار کے لئے عنوان پر مہر ہونا ضرور ہے ، اسی طرح ناز و ادا کے لئے آنکه چرانا اور ترچهی نظر رکهنا ضرور ہے ، اس شعر ميں محض طومار اور مہر کے ذکر سے مصنف نے اُلفت کو اقليم فرض کيا ہے اور اس اعتبار سے بهی اگر ديکهئے تو طومار و مہر کو بہ نسبت اقليم کے لفظ ديوان کے ساته زيادہ مناسبت ہے ، مگر مصنف نے اس اضافت کو اور بندش کی اس گنجلک کو جس خوبی شعر کے لئے گوارا کيا ہے البتہ اُس خوبی کے مقابلہ ميں بندش کا عيب کچه بهی نہيں وہ يہ ہے کہ عنوان پر نقش بڻها کر فوراً مہر کا پشت پهيرلينا اور عاشق سے آنکه ملا کر فوراً معشوق کا آنکه پهيرلينا تشبيہ بديع ہے اور وجہ شبہ حرکت ہے اور حرکت بهی وہ حرکت جو نہايت محبوب ہے۔ مجهے اب ديکه کر ابر شفق آلودہ ياد آيا کہ فرقت ميں تری آتش برستی تهی گلستاں پر ’ اب ، کا لفظ اس شعر ميں کثيرالمعنی ہے ، يعنی يہ کہنا کہ اب ياد آيا اس سےبالتزام يہ نکلتا ہے کہ پہلے بهولا ہوا تها اور صدمہ مفارقت کے اس طرح بهول جانے سے يہ معنی نکلتے ہيں کہ معشوق کو ديکه کر انتہا کی محويت و مسرت غالب ہو گئی ہے اور يہ معنی نکلتے ہيں کہ جيسے شکوۀ ہجر کچه بيان کيا تها اور کچه باتيں اب ياد آتی جاتی ہيں ، غرض کہ ايک لفظ ميں اتنی معنی انتہائے بلاغت ہے اور پهر شفق کی ابر آتش بار سے تشبيہ نہايت بديع ہے۔ بجز پروازِ شوقِ ناز کيا باقی رہا ہو گا قيامت اک ہوائے تند ہے خاکِ شہيداں پر يعنی شہيدانِ حسرت ديدار ميں اب کيا باقی رہا ہے جو قيامت انهيں اُڻهائے گی ہاں جلوہ سراپا ناز کے شوق ميں اُن کی خاک اُڑ رہی ہے تو اس کے لئے شور قيامت ايک ہوائے تند ہے يعنی اُس کے پرواز ميں کچه يہ بهی معين ہو جائے گی اور اس کا عکس تو يہ معنی ہيں کہ جب ہوائے تند چلی اس نے قيامت کا کام کيا يعنی خاک اُن کی شوق ديدار ميں اُڑنے لگی۔ کيا ہو اگر اُس نے شدت کی نہ لڑ ، ناصح سے غالب ہمارا بهی تو آخر زور چلتا ہے گريباں پر کيا گريبان پهاڑنے سے بهی تسکين نہ ہو گی ، کيا خوب شعر کہا ہے۔ _______ ہے بسکہ ہر اک اُن کے اشارہ ميں نشاں اور کرتے ہيں محبت تو گذرتا ہے گماں اور يعنی وہ محبت بهی کرتے ہيں تو ميں جانتا ہوں کوئی فريب ہے۔ يارب وہ نہ سمجهے ہيں نہ سمجهيں گے مری بات دے اور دل اُن کو جو نہ دے مجه کو زباں اور يعنی سوال وصل ميں کهل کے نہيں کہہ سکتا اور وہ سادہ دلی سے بے صاف صاف کہے ہوئے مطلب سمجه نہيں سکتے۔ ابرو سے ہے کيا اُس نگہ ناز کو پيوند ہے تير مقرر مگر اُس کی ہے کماں اور ابرو کو کمان اور نگہ کو تير کہنا پرانی تشبيہ ہے ، مصنف نے فی الجملہ اسے تازہ کر کے کہا ہے يعنی نگہ کا تير ابرو کی کمان ميں اُسے نہيں آتا ہے دلفريبی حسن اسی پر تاب کرتی ہے۔ تم شہر ميں ہو تو ہميں کيا غم جب اُڻهيں گے لے آئيں گے بازار سے جا کر دل و جاں اور يعنی تمہاری بدولت ہر شخص کو دل و جان دوبهر ہے سستا بيچ ڈالے گا۔ ہر چند سبک دست ہوئے بت شکنی ميں ہم ہيں تو ابهی راہ ميں ہے سنگِ گراں اور يعنی بت شکنی ميں مشاق ہوئے تو کيا يہ ماو من بهی تو سنگِ گراں کی طرح منزل عرفان تک پہنچنے ميں مانع ہے ، ہمارا يہ سمجهنا کہ ہم ہيں يہی سنگِ راہ ہے۔ ہے خون جگر جوش ميں دل کهول کے روتا ہوتے جو کئی ديدۀ خوننابہ فشاں اور ’ ہے خون جگر جوش ميں ، جملہ خبريہ ہے اور اُس کے بعد آخر شعر تک تمنا ہےاور يہ تمنا مبنی ہے خبر سابق پر کہ تمنا کرنے کی وجہ جوش خون ہے ، اسی سبب سے مصنف نے يہاں انشا کے ساته خبر کو جمع کيا اور شعر ميں بہ نسبت خبر کے انشا زيادہ لطف ديتی ہے۔ مرتا ہوں اس آواز پہ ہر چند سر اُڑ جائے جلاد کو ليکن وہ کہے جائيں کہ ہاں اور اُس کا يہ کہنا کہ ہاں اور تلوار لگا مجهے اس قدر پسندِ ہے کہ اپنی جان جانے کی کچه پرواہ نہيں۔ لوگوں کو ہے خورشيدِ جہاں تاب کا دهوکا ہر روز دکهاتا ہوں ميں اک داغِ نہاں اور ميں اپنے اک داغِ نہاں کو ہر روز ظاہر کرتا ہوں ، جسے لوگ دهوکے سے طلوعِ خورشيد سمجهتے ہيں اور وہ جانتے ہيں کہ وہی ايک آفتاب ہے جو روز روز نکلا کرتا ہے۔ ليتا نہ اگر دل تمہيں ديتا کوئی دم چين کرتا جو نہ مرتا کوئی دن آہ و فغاں اور دونوں مصرعوں ميں شرط جزا کے درميان ميں واقع ہوئی ہے اور دونوں مصرعوں کی ترکيب ميں مشابہت اور معادلت ہے اور حسن بندش ہے ، مطلب يہ ہے کہ اگر دل تمہيں نہ دے ديا ہوتا تو کوئی دم چين ليتا ، اگر نہ مرجاتا تو کچه دنوں آہ و فغاں کرتا ، نحو کے اعتبار سے پہلے مصرع ميں ’ ليتا ، کا محل آخرمصرع ہے اور دوسرے مصرع ميں بهی ’کرتا ، آخر ميں ہونا چاہئے تها ليکنمعنی کے اعتبار سے يہاں ترکيب نحوی کی مخالفت ہی چاہئے اور ’ ليتا ، اور ’کرتا ، کا مقدم کر دينا ہی ضروری ہے کہ ان دونوں فعلوں کے مقدم کر دينے سے معنی ميں کثرت پيدا ہو گئی ، يعنی اب ترتيب الفاظ ان معنی پر دلالت کرتی ہے جيسے معشوق نے اس سے کہا ہے کہ تو کوئی دم چين نہيں ليتا اور اب تو آہ و فغاں کرنا بهی تو نے کم کر ديا ہے ، اس کے جواب ميں يہ شعر ہے کہ :ہاں ليتا ميں چين اگر دل تجهے نہ ديا ہوتا نہ کرتا کچه دنوں اور آہ و فغاں مر نہ گيا ہوتا اور اس ميں شک نہيں کہ کثرت معنی سے کلام ميں حسن پيدا ہوتا ہے اور حسن ايجاز کی ايک صورت يہ بهی ہے کہ سوال کو مقدر کر کے فقط جواب ايسے الفاظ ميں ادا کرے کہ اس سے ساری عبارت سوال کی مخاطب کی سمجه ميں آجائے اور اصطلاح ميں اُسے دفع دخل مقدر کہتے ہيں اور يہ طريقہ ايسا شائع ہے بلکہ ايک امر فطری کہ جو روزمرہ کی بول چال ميں پايا جاتا ہے۔ مثلاً جس شخص سے خلف وعدہ يا خدمت ميں تخلف ہوا وہ کہتا ہے ميں کل نہ آ سکا مجهے ايک کام ہو گيا اور چهوڻتے ہی يہ بات کہہ اُڻهنا ان معنی پر دلالت کرتا ہے مخاطب نے اس سے کہا ہے کہ تم نے وعدہ خلافی کی يا تساہل کيا يعنی اعتراض مقدر کا جواب ديتا ہے۔ پاتے نہيں جب راہ تو چڑه جاتے ہيں نالے رُکتی ہے مری طبع تو ہوتی ہے رواں اور يعنی رُکنے کے بعد جو طبيعت رواں ہوتی ہے تو زيادہ تر رواں ہوتی ہے ، جس طرح چڑهے ہوئے نالے کو جب رستہ مل جاتا ہے تو بہت ہی زور سے بہتا ہے اور معنی تفصيل کے لئے ہے ، يعنی پہلے کے بہ نسبت زيادہ تر روانی ہوتی ہے۔ ہيں اور بهی دُنيا ميں سخنور بہت اچهے کاہے اندازِ بياں اور کہتے ہيں کہ غالب ’ کہتے ہيں ، کا فاعل حذف کرنے سے يہ معنی پيدا ہوئے کہ يہ بات عام ہے اورمشہور ہے۔ _______ صفائے حيرتِ آئينہ ہے سامان زنگ آخر تغير آب برجا ماندہ کا پاتا ہے رنگ آخر يعنی آبِ راکد کا رنگ تغير پا کر کائی جم جاتی ہے تو حيرت کا حد سے بڑه جانا بهی اچها نہيں ، اس شعر ميں آئينہ پر زنگ آنا اور پانی پر کائی کا جمنا وہ تشبيہ ہے جس ميں وجہ شبہ حرکت نے الکيف ہے نہ کی سامانِ عيش و جاہ نے تدبير وحشت کی ہوا جام زمرد بهی مجهے داغِ پلنگ آخر يعنی جام زمرديں پر مجهے داغ پشت پلنگ کا شبہ ہوتا ہے اور وحشت اور بڑهتی ہے مضمون شعر کا مبتذل ہے ليکن تشبيہ نے جان ڈال دی۔ جنوں کی دستگيری کس سے ہو گر ہو نہ عريانی گريباں چاک کا حق ہو گيا ہے ميری گردن پر اے گريباں اُس چاک کا ميری گردن پر حق ہو گيا ہے کہ اُس نے مجهے عرياں کيا نہيں تو جنوں کی دستگيری مجه سے نہيں ہو سکتی ، يہاں عرياں نہ ہوتا تو پهر جنوں کيسا۔ برنگِ کاغذِ آتش زدہ نيرنگِ بے تابی ہزار آئينۂ دل باندهے ہے بال يک تپيدن پر پہلے مصرع ميں سے ’ ہے ، محذوف ہے ، کہتے ہيں نيرنگ بے تابی مثل کاغذِآتش زدہ ہے کہ دل نے ايک بال تپيدن پر ہزار ہزار آئينہ باندهے ہيں ، اس شعر ميں آئينہ متحرک کی تڑپ کو اُس شعلہ سے تشبيہ دی ہے جو کاغذ آتش زدہ سے بلند ہو۔ فلک سے ہم کو عيش رفتہ کا کيا کيا تقاضہ ہے متاعِ بردہ کو سمجهے ہوئے ہيں قرض رہزن پر حاصل يہ کہ انقلابِ آسمانی سے جو زمانہ عيش کا جاتا ہے پهر اُسکے واپس آنے کی اُميد فضول ہے ہم اور وہ بے سبب رنج آزما دُشمن کہ رکهتا ہے شعاعِ مہر سے تہمت نگہ کی چشم رَوزن پر يعنی روزن سے جو شعاع آتی ہے اُسے ديکه کر وہ مجه سے آزردہ ہوتا ہے کہ تيری نگاہ تهی تو نے جهانکا ہو گا ايسے بدگمان سے مجه کو سابقہ پڑا ہے۔ فنا کو سونپ گر مشتاق ہے اپنی حقيقت کا فروغ طالع خاشاک ہے موقوف گلخن پر يعنی فنا فی الله ہوکر فروغ معرفت حاصل کر اس شعر ميں لفظ حقيقت ميں دو عالموں کا تنازع ہے ، ايک فعل دوسری اضافت يعنی لفظ ’ سونپ ، يہ چاہتا ہے کہحقيقت مفعول ہو اور علامت مفعول يعنی ’کو ، اس ميں ہونا چاہئے اور لفظ مشتاقجو حقيقت کی طرف مضاف ہے وہ چاہتا ہے کہ ’ کا ، علامت مضاف اليہ اس ميںہو اور نحو اُردو يہ ہے کہ عامل ثانی کو عمل دينا چاہئے جيسا کہ اس شعر ميں ہے۔ بسمل ہے کس انداز کا قاتل سے کہتا ہے اسد کہ مشقِ ناز کر خونِ دوعالم ميری گردن پر مطلب صاف ہے اور کس يہاں استفہام کے لئے نہيں ہے استعجاب کے لئے ہے ، اس شعر کی تعريف حد امکاں سے باہر ہے۔ _______ ستم کش مصلحت سے ہوں کہ خوباں تجه پہ عاشق ميں تکلف برطرف ، مل جائے گا تجه سا رقيب آخر يعنی جو حسين تجه پر عاشق ہيں اُن ميں سے کوئی نہ کوئی ميرے ہاته لگ جائے گا اس مصلحت سے ميں تيری ناز برداری کئے جاتا ہوں کہ تو نہيں ملتا تو تجه سا حسين کوئی رقيب تو مجهے مل جائے گا۔ _______ لازم تها کہ ديکهو مرا رستہ کوئی دن اور تنہا گئے کيوں اب رہو تنہا کوئی دن اور اس شعر ميں مصنف نے عارف سے خطاب کيا ہے کہ ہمارے ساته تمہيں مرنا تها تم نے جلدی کی تو اب تنہا رہو۔ اس غزل کے سب شعر عارف کے مرثيہ ميں ہيں۔ عارف صاحب مرزا صاحب کی بی بی کے بهائی تهے زين العابدين خاں نام تها خوش فکر تهے جواں مرگ ہوئے۔ مٹ جائے گا سر گر ترا پتهر نہ گهسے گا ہوں در پہ ترے ناصيہ فرسا کوئی دن اور يعنی ميری ناصيہ سائی جو تيرے در پر ہے يہ بهی ہميشہ کے لئے نہيں ہے چند دن ميں يا تو پتهر ہی گهس جائے گا يا سر ہی باقی نہ رہے گا اور در سے اشارہ ہے قبر عارف کی طرف اور پتهر سے سنگ لوح مزار مراد ہے اور ناصيہ فرسائی سے سر ڻکرانا مقصود ہے۔ آئے ہو کل اور آج ہی کہتے ہو کہ جاؤں مانا کہ ہميشہ نہيں اچها کوئی دن اور کثرت غم ميں يہ تصور بند گيا جيسے عارف ابهی زندہ ہے اور وداع ہوا چاہتا ہے۔ جاتے ہوئے کہتے ہو قيامت ميں مليں گے کيا خوب قيامت کاہے گويا کوئی دن اور يعنی ہم جانتے ہيں کہ آج ہی قيامت کا دن ہے۔ ہاں اے فلک پير جواں تها ابهی عارف کيا تيرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور اس شعر ميں ’ ہاں ، اپنے محل پر نہيں ہے ’ کيوں ، کا مقام ہے۔تم ماہ شب چار دہم تهے مرے گهر کے پهر کيوں نہ رہا گهر کا وہ نقشہ کوئی دن اور يعنی شب چار دہم کے بعد تو کچه دنوں تک چاند رہتا ہے پهر کيوں تم يکايک چهپ گئے۔ تم کون سے تهے ايسے کهرے داد و ستد کے کرتا ملک الموت تقاضا کوئی دن اور مجه سے تمہيں نفرت سہی نير سے لڑائی بچوں کا بهی ديکها نہ تماشا کوئی دن اور گذری نہ بہرحال يہ مدت خوش و ناخوش کرنا تها جواں مرگ گذارا کوئی دن اور ’ نہ ، استفہام انکاری کے لئے ہے اور جوان مرگ منادی ہے ، مير مصنف کےشاگرد رشيد ہيں ، اس شعر سے ظاہر ہے کہ مصنف کے ساته اُن کی خصوصيت عارف کو ناگوار تهی۔ ناداں ہو جو کہتے ہو کہ کيوں جيتے ہيں غالب قسمت ميں ہے مرنے کی تمنا کوئی دن اور جيتے ہيں تم لوگ تعجب کرتے ہو کہ جواں مرگی عارف کا داغ اُڻها کر غالب بڑے نادان ہو ، ابهی کچه دنوں اور موت کی تمنا ميں رہنا ميری قسمت ميں لکها ہوا
Abida Rahmani |