جزاک اللہ

560 views
Skip to first unread message

Maqsood Sheikh

unread,
Oct 28, 2013, 9:05:34 PM10/28/13
to BAZMe...@googlegroups.com

میری توجہ دلائی گئی کہ اس سےقبل مرسلہ مضمون جزاک اللہ ادھورا پیش کیا گیا تھا اس لئے دوبارہ مکمل شکل میں پڑھئیے اور اظہار رائے فرما کر مضمون نگار کو ان کی خوش قلمی پر مبارکباد دیجئے ۔ شکریہ ۔
 جزاک اللہ 

از
عابدہ رحمانی 


کافی قیمتی چیزوں کو اونے پونے داموں بیج کر میں کافی دل گرفتہ ہو رہی تھی۔ خریدنے والا ہمیشہ سستا خرید کر خوش ہوتا ہے جب کہ فروخت کرنے والا مہنگا بیچ کر خوش ہوتا ہے۔ یہ بھی عجیب بات تھی کہ زیادہ تر سامان مسلمان خرید رہے تھے۔ ترکی سے تعلق رکھنے والے اور سعودی عرب سے آئے ہوئے امیگرنٹ خاندان تو جیسے میرے گھر پر ہلہ بول دیا تھا۔ تھوڑے ہی داموں میں بہت ساری چیزیں اکٹھی کر لیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ میرے پاس ابھی تک اس کے لیے دوسری آفر نہیں تھی لیکن پھر بھی اتنی تھوڑی قیمت ؟مجھے بہت پچھتاوا ہو رہا تھا کچھ بہت سامان ابھی لے جانے کے لیے باقی تھا میں نے اس خیال سے کہ شاید وہ کچھ احساس کرے اسے فون پر بتایا کہ ’’دیکھو میں نے یہ چیزیں کافی مہنگی لی تھیں اگر تم کچھ دام بڑھا دو تو۔۔۔‘‘
اس پر وہ شخص کہنے لگا"معاملہ تو طے ہو چکا ہے ، ڈیل ہو چکی ہے ، جزاک اللہ سسٹر۔"
 اس ’’جزاک اللہ‘‘ کے لفظ نے میرے ذہن کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ، بعض اوقات الفاظ ہم محض رسماً کہ دیتے ہیں اس پر غور بھی نہیں کرتے لیکن اگر غور کریں تو ۔۔۔ اللہ سے بڑھ کر بہترین جزا دینے والا تو کوئی بھی نہیں ہو سکتا اور اس سے ہی بہترین جزا کی توقع رکھنی چاہیے۔ یہ دنیا اور اس کے فائدے اور نقصانات تو چند روزہ ہیں۔ اصل فائدہ تو وہ فوزِعظیم ہے اور فلاح عظیم جو ہمیں آخرت میں میسر ہو اور بحیثیت مسلمان ہماری ساری تگ و دو اس کے لیے ہونی چاہیے۔ اچھے مسلمانوں نے ہر ہر جملے میں اپنے آپ کو اللہ سے جوڑ رکھا ہے۔
سبحان اللہ ، الحمداللہ ، ماشاء اللہ ، بارک اللہ اور پھر یہ جزاک اللہ۔ ’’جزاک اللہ‘‘ نہ معلوم مسلمان معاشرے میں کب سے استعمال ہو رہا ہے لیکن میں نے زیادہ تر اس کو پچھلے چند سالوں میں سنا ہے او راس وقت سے خود بھی کہتی ہوں۔
بچپن میں جو ہماری مادری زبان تھی اس کے دعائیہ کلمات بھی کچھ اس طرح کے تھے۔ ’’اللہ تمہارا بھلا کرے یا خدا تمہارے ساتھ اچھا ہو‘‘ اور ’’مہربانی‘‘ جو شکریہ ادا کرنے کے لیے بولا جاتا تھا۔ جب کچھ اور بڑے ہوئے تو بات بات پر ’’شکریہ اور بہت بہت شکریہ‘‘ پھر انگریزی کا استعمال زیادہ ہوا تو ہر جملے پر تھینک یو Thank you ، thank you very muchاور Thanks کہ دینا۔
ہماری ایک منہ بولی امی تھیں ان کا شکریہ ادا کرنا تو لڑائی مول لینے کے مترادف تھا، زبان پر چڑھا ہوا تھا جہاں کہا اور وہ برا مان جاتی تھیں۔ ’’اپنا نہیں سمجھتی ہو اس لیے بات بات پر شکریہ او رتھینک یو کہتی ہو ارے بھئی کبھی کوئی اپنوں کو اس طرح کہتا ہے یہ تو غیروں کو کہا جاتا ہے۔‘‘
اب ان کو کون سمجھائے کہ یہ تو آپ سے ایک اظہار محبت اور عقیدت ہے اور آپ کی محبت  اور شفقت کا اظہار تشکر ہے۔رب کائنات کی ہر لحظہ ، ہر لمحہ مہربانیوں پر ہر لحظہ ، ہر لمحہ شکر ادا کرنے کا بھی حکم ہے، اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں جا بجا تاکید کی ہے۔
اور میرا شکر ادا کرو ، میرے شکر گزار بندے بنو ، اگر تم شکر ادا کرو گے تو تمہیں بڑھا چڑھا کر دوں گا۔ اگر میری نعمتوں کا انکار کروں گے تو میرا عذاب بہت سخت ہے
جزاک اللہ  خیر
شکریہ کی جگہ ، ’’جزاک اللہ‘‘ کا استعمال شروع ہوا تو ایک مشہور عالمہ نے مزید رہنمائی کی کہ کہو ’’جزاک اللہ خیر‘‘ یعنی اللہ تمہیں بہترین جزا دے اور یوں ’’جزاک اللہ خیر‘‘ کہنا شروع کیا۔ یہ دعائیہ کلمہ ہمیں کتنے دنیاوی اجروں سے بے نیاز کر دیتا ہے جبکہ اپنے تمام کاموں کے اجر کی توقع اللہ تعالیٰ سے رکھنے لگتے ہیں۔ پیغمبروں کا شیوہ تھا کہ ہمارا اجر تو اللہ رب العالمین کے ذمہ ہے- 
پھر اسکے ساتھ مذید جدت یا اضافہ ہوا جزاک اللہ خیر کا جواب کیا ہونا چاہئے --و ایاکم (تمہارے ساتھ بھی ایسا ہو) شروع میں'میں کہہ دیتی تھی وعلیکم جزاک اللہ اب
 thank you تھینک یو کے جواب میں ہم کہتے ہیں موسٹ ویلکم' نیور ماینڈ ، نو پرابلم اور جو پرانی انگریزی تھی اسمیں جوابا کہتے تھے - do not mention please

 ایک بہت پیاری بہن نے بہت پیاری بات کی ’’جو بھی اچھا عمل کریں ، جس کے ساتھ جو بھی بھلائی، نیکی کریں ، تحفہ تخائف دیں اس شخص سے واپسی کی توقع ہرگز نہ رکھیں ۔ دل میں نیت کر لیں کہ یااللہ یہ میں صرف تیری رضا کے لیے کر رہی ہوں اور تجھ سے بہترین اجر کی طلبگار ہوں یہ آپ کو تمام توقعات سے بے نیاز کر دے گا۔‘‘
اور میں نے کافی کوشش کی کہ اس بے حد پیاری نصیحت کو پلے سے باندھ کر اس پر عمل کروں۔ یہ  جا بیجا توقعات تو ہمیں مارے ڈالتے ہیں۔ میری نانی کہتی تھیں "جو اچھا کرے اس کا بھی بھلا اور جو نہ کرے اس کا بھی بھلا۔"
اردو کا مشہور محاورہ ہے "نیکی کر دیا میں ڈال" مقصد یہی ہے کہ کسی کے ساتھ نیکی کرو تو بھلائی کی توقع اور امید نہ رکھو۔ لیکن ہمارے دین نے ہمیں کتنی امید افزا اور کتنی پیاری خوش خبریاں دی ہیں کہ ان نیکیوں اور بھلائیوں کو اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنے کھاتے میں داخل کر لو اور اسی سے بڑھ چڑھ کر فضل و کرم کی امید اور درخواست کرتے رہو۔ ورنہ تو سارا وقت اسی حساب کتاب میں گزر جاتا ہے دیکھو میں نے کیا کیا تھا اور وہ کیا کر رہا ہے کر رہی ہے- دیکھو میں نے تو اسے یہ اسقدر گراں تحفہ دیا تھا اور اسنے مجھے یہ بیکارچیزدی ہے- ان تعلقات اور توقعات میں ہمارا کسقدر قیمتی وقت اور صلاحیتیں ضائع ہو جاتی ہیں- یہ توقعات تعلقات میں خوب خوب بگاڑ بھی ڈالتے ہیں- وہ بیمار تھی تو میں مزاج پرسی کو گئی تھی اب دیکھو اسنے مجھے پلٹ کر پوچھا ہی نہیں اسطرح ہر معاملے میں ہمارے توقعات یا لین دین کا سلسلہ چلتا رہتا ہے- میری وہ دوست اکثر شادی بیاہ میں تحفہ دیتی تھیں تو اسپر اپنا نام ظاہر نہیں کرتی تھیں - اب اتنا بھی بے نیاز کوئی  کہاں ہوگا-   
 
زندگی کے نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے اور مختلف منازل طے کرتے ہوئے مختلف النوع لوگوں سے سابقہ پڑا - کچھ تو اسقدر بے لوث ، مخلص اور نیک نیت اور چند حد درجہ مطلبی ، خود غرض اور خود پسند - کتنے ایسے کہ انسے ملکر یک گونہ سکون اور اطمینان میسر آتا ہے اورچند ایسے جنکو دوسروں کو بلاوجہ دکھ اور تکلیف میں مبتلا کر کے سکون ملتا ہے - یہ پر خار لوگ خود بھی جلتے بھنتے ہیں اور دوسروں کو بھی جلانے پر یقین رکھتے ہیں -لیکن وہ جنکو خوف خدا ہے اور جنمیں انسانیت ہے - جزاک اللہ خیر جنہوں نے ہر مشکل میں میرا ساتھ دیا اور جزاک اللہ  انکے لئے بھی ،جنہوں نے مجھے دکھ دینے میں کوئی تامل نہیں برتا--
کینیڈا، امریکہ آئی تو مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے دوبارہ انہیں بہنوں کا دامن تھاما جن کی معیت اور صحبت میں زندگی کے کئی سال گزارے تھے۔وہ لپٹی لپٹائی اللہ کی راہ میں مجاہد خواتین جو اللہ کے دین کا بول بالا کرنے کے لیے ہر جگہ، ہر مقام پر سرگرم عمل ہیں۔ (اللہ تعالیٰ بھی اپنے دین کے قیام اور نفاذ کے لیے کیا کیا حکمت عملی رکھتا ہے ، ان میں سے تو بیشتر تو ہماری سمجھ سے بالاتر ہیں۔)
یہ دین اس سرزمین میں ماشاء اللہ خوب پھل پھول رہا ہے اگرچہ بہت بندشیں ہو گئی ہیں، کڑی نگرانی ہے لیکن کام جاری ہے۔ کچھ بھی کر لو جو بھی حاصل کر لو سکون اور اطمینان قلب اللہ کی یاد میں اور اچھی صحبت یعنی صحبت صالحہ میں میسر ہوتا ہے اور یہ کام کتنی صورتوں میں جاری و ساری ہے۔
 - ماشاءاللہ ایک سے بڑھ کر ایک عالم دین اور فقہا ء- کہاں کہاں سے کیسے کیسے اس دین کو پہنچانے کیلئے سر گرم عمل ہیں  اور پھر یہ آن لائن تعلقات اور کلاسوں نے  اس قدر خواتین کو دین سے جوڑا ہوا ہے اور ان سب نے اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑا ہوا ہے۔ یہ کلاسز ویب نار، ہاٹ کانفرنس ،پال ٹالک، سکائپ اور اتنے ذرائع سے آتی ہیں - یوں لگتا ہے کہ مسلمانوں نے اس سہولت کا خوب خوب فائدہ اٹھا یا ہے-- اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے-
’’تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہو اور تفرقے میں مت پڑو اور اللہ کی اس نعمت اور احسان کو یاد کرو جو اس نے تم پر کیا ہے تم ایک دوسرے کے دشمن تھے اس نے تمہارے دل جوڑ دیے اور تم اس کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے‘‘ (آل عمران)
یہ ساری بہنیں اور بھائی جو اللہ کے دین کے قیام اور بقاء کے لیے کھڑے ہیں میں ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں اور یہ دعا دینا چاہتی ہوں۔
جزاک اللہ خیر ، جزاک اللہ خیرا کثیرا---





Abida Rahmani



--
.



--
Sent from Gmail Mobile


Syed Fazil Hussain Parvez

unread,
Oct 29, 2013, 9:35:46 AM10/29/13
to Bazm e Qalam
Assalam Alaikum
Jazak Allah.... dilchasp aur fikr angez hai. ittefaq se kuch arsa qabl Gawah Urdu Weekly mein apne column. such to agar kahne do ... mein isi mouzu per likhne ki koshish ki thi .
log kis taah se la houl wala quwath.... insha Allah ,  masha Allah.... Subhan Allah     aur jazak Allah ka istemaal karte hain insha  allah kuch hi deir mein is ki pdf file post ki jaigi aap  ahbaab ki aaraa  ki ummid k saath

Syed fazil hussain Parvez


2013/10/29 Maqsood Sheikh <maqsood....@googlemail.com>

--
To Join and post in BazmEQalam ,click the following link
 
https://groups.google.com/forum/#!forum/BAZMeQALAM



--
No.30, 2nd Floor, Bachelor Building,
M.J. Market, Hyderabad. 500001.
Andhra Pradesh. 040-24741243

Dr. Shakeel Ahmed

unread,
Oct 29, 2013, 10:25:25 AM10/29/13
to Shaheen Siddiqui
 محترمہ عابدہ رحمانی صاحبہ 
السلام علیکم و رحمۃ اللہ تعالی
آپ کا مضمون چونکہ علمی ہے اس لیے تصحیح کر رھا ھوں
درست جزاک اللہ خیر نہیں بلکہ جزاک اللہ خیراً ہے۔ عربی قواعد کی اصطلاح میں اسے حال کہتے ہیں
اردو میں جزا کا مطلب اچھانی ہوتا ہے جبکہ عربی میں اچھانی یا برانی سے بدلہ ہے، یہ اصطلاح قرآن میں بھی استعمال ھونی ہے جزاک اللہ خیراً کا ترجمہ یوں ہو گا ، اللہ تعالی آپ کو اس کا بدلہ کسی اچھانی سے عطا فرمائے   
 خیر اندیش
ڈاکٹر شکیل احمد



Date: Tue, 29 Oct 2013 19:05:46 +0530
Subject: Re: [مراسلہ نمبر:29425] جزاک اللہ
From: gawahur...@gmail.com
To: BAZMe...@googlegroups.com

Nehal Sagheer

unread,
Oct 29, 2013, 10:45:36 AM10/29/13
to BAZMe...@googlegroups.com

Jazakallah ke ilawah aur behtar ho sakta hai iss mazmoon ke jawab mein jazakallah
Nehal Sagheer

Syed Ahmed

unread,
Oct 30, 2013, 7:53:36 AM10/30/13
to BAZMe...@googlegroups.com
جناب نہال صغیر صاحب                          السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کا محولۂ بالا مضمون جو عابدہ رحمانی صاحبہ کا تحریر کردہ ہے مکمل شکل میں پہنچا، مضمون پہلے سے بہت اچھا ہوگیا ہے اور ان کے خلوص کی قدر ہمارا اخلاقی ودینی فریضہ ہے تاہم ایک بہت معمولی سی گزارش مزید عرض کردوں کہ اس مضمون میں ((یہ  جا بیجا توقعات تو ہمیں مارے ڈالتے ہیں۔)) لفظ توقع استعمال ہوا ہے، اسی طرح ((یہ توقعات تعلقات میں خوب خوب بگاڑ بھی ڈالتے ہیں)) یہ لفظ دوسری مرتبہ استعمال میں آیا ہے، نیز تیسری بار یہ لفظ اس جملہ میں ((اسطرح ہر معاملے میں ہمارے توقعات یا لین دین کا سلسلہ چلتا رہتا ہے)) میں استعمال ہوا ہے، نفس مضمون اور اس طرح کے موضوعات بڑے قابل قدر ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی از حد ضروری ہے، پھر بھی ہم سب کا ایک مشترکہ مقصد، زبان اردو کو ترقی دینا اور اپنی زبان کے استعمال کی عادت باقی رکھنا ہے اس لیے گزارش ہے کہ میری ناقص معلومات میں لفظ "توقع" اردو میں مؤنث استعمال ہوتا ہے، اگر کسی معتبر اہل لغت نے اس کو مذکّر استعمال کیا ہو تو برائے مہربانی واز راہ کرم اس کا حوالہ دیدیں -اگر وہ لغت آپ کے پاس پی ڈی ایف یا کسی دوسری فارمیٹ میں کمپیوٹر پر یا کسی ویب پر ہو تو ارسال کرکے ممنون فرمائیں- تاکہ میں بھی اس کو اپنی یاد داشت میں ثبت کرلوں، میں اس پر اشارہ نہ کرتا اگر یہ لفظ کسی ایک جگہ استعمال ہوتا اس لیے کہ جب مضمون لکھا جاتا ہے تو اس میں کاٹ چھانٹ کا عمل ضروری ہوتا ہے اور اس میں کسی لفظ کے گھٹانے بڑھانے سے جملہ کی حالت وقوعہ یکسر مختلف ہوجایا کرتی ہے اس لیے اگر از سر نو اس کی قراءت بار بار نہ ہو تو پھر اس طرح کی غلطیوں کا رہ جانا ایک فطری بات ہے ہاں کوشش ضرور ہونا چاہیے کہ اس طرح کی غلطیاں بھی باقی نہ رہیں؛ چونکہ یہ لفظ تین مرتبہ مضمون بالا میں آیا ہے اس لیے یہ گزارش ضروری سمجھی کہ آج انٹرنٹ کے ذریعہ بیشمار لوگوں کی نظر سے مضمون گزرتا ہے اس وجہ سے اس پر توجہ دلائی گئی ہے، صاحب مضمون کو اس پر چراغ پا ہونے کے بجائے درستگی کو مقصد اصلی گرداننا چاہیے، یہی وجہ بنتی ہے کبھی کبھی بعض مراسلتی دوستوں کے مضامین یا ادبی وشعری کاوشوں پر خاموشی یا تاخیر کی۔
اس طوالت اور چشم خراشی کے لیے میں معذرت پیش کرتا ہوں اور توقع کرتا ہوں کہ ہمارے آپسی توجہات دلانے اور تنبیہات کے اس عمل کو سلبی نظریہ کے بجائے اصلاحی پہلو سمجھ کر خندہ پیشانی سے برداشت کرتے رہیں گے اور اپنے مضامینی سلسلوں کو جاری رکھیں گے کہ:  گرتے ہیں شہ سوار ہی میدان جنگ میں۔
ملتمس
سید احمد
25-12-1434ھ
30-10-2013ء
از جدہ

Nehal Sagheer

unread,
Oct 30, 2013, 9:05:11 AM10/30/13
to BAZMe...@googlegroups.com

Bazm ke doston se arz hai ki syed ahmed sb ne jin kamion ki taraf nishandahi farmai hai uspar tawajja den main samajhta ki jin umoor par mukhlisana mashwira diya gya hai usse koi chiraghpa bhi ho sakta hai balki hum jaise kamilm logon ke liye to yeh taryaq hai
Wasalam
Nehal Sagheer

Aapka Mukhlis

unread,
Oct 30, 2013, 12:48:32 PM10/30/13
to bazm qalam


بہت اچھا مضمون ہے۔ اسلامی اخلاقیات کی یہ بہت بڑی خوبی ہے کہ اس میں کسی کی کسی کیفیت کے بارے میں کچھ بھی کہنا ہو اس میں اللہ کا ذکر اور دعا کا انداز پایا جاتا ہے اس طرح دوسری اقوام کے رسمی الفاظ کی جگہ ہمارے کلمات اس لحاظ سے زیادہ اثر انگیز اور خوبصورت ہیں۔ عربوں کی یہ بہت بڑی خوبی ہے کہ وہ مختلف مواقع پر ایسے ہی کلمات کثرت سے استعمال کرتے ہیں جن میں اللہ کا ذکر پایا جاتا ہے۔

میرے خیال میں سید احمد صاحب نے توقعات کے استعمال کی خامی کی طرف بجا طور پر نشان دہی کی ہے۔ میں نے ہمیشہ اس کو مونث ہی استعمال ہوتے دیکھا ہے۔ سچ ہے کہ انسان ساری عمر سیکھتا ہے۔ مجھے ایک صاحب نے بتایا کہ کسی یونیورسٹی کے اردو کے پروفیسر طلباء کو مرنجاں مرنج کی بجائے مربخاں مربخ پڑھاتے رہے۔ 

والسلام

مخلص



2013/10/30 Nehal Sagheer <mediac...@gmail.com>

Syed Ahmed

unread,
Oct 31, 2013, 7:37:18 PM10/31/13
to bazme...@googlegroups.com

مکرمی جناب مخلص صاحب السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ
میں مشکور ہوں آپ کی ہم آہنگی وہم نوائی پر، کہ:من لم يشكر الناس لم يشكر الله.کے قبیل سے ہے. اللہ سلامت رکھے.
دعاء جو ودعاء گو
سید احمد
26/12/1434ھ
1/11/2013ء



------------------------------
On Wed, Oct 30, 2013 12:48 PM EDT Aapka Mukhlis wrote:

>بہت اچھا مضمون ہے۔ اسلامی اخلاقیات کی یہ بہت بڑی خوبی ہے کہ اس میں کسی کی
>کسی کیفیت کے بارے میں کچھ بھی کہنا ہو اس میں اللہ کا ذکر اور دعا کا انداز
>پایا جاتا ہے اس طرح دوسری اقوام کے رسمی الفاظ کی جگہ ہمارے کلمات اس لحاظ سے
>زیادہ اثر انگیز اور خوبصورت ہیں۔ عربوں کی یہ بہت بڑی خوبی ہے کہ وہ مختلف
>مواقع پر ایسے ہی کلمات کثرت سے استعمال کرتے ہیں جن میں اللہ کا ذکر پایا
>جاتا ہے۔
>
>میرے خیال میں سید احمد صاحب نے توقعات کے استعمال کی خامی کی طرف بجا طور پر
>نشان دہی کی ہے۔ میں نے ہمیشہ اس کو مونث ہی استعمال ہوتے دیکھا ہے۔ سچ ہے کہ
>انسان ساری عمر سیکھتا ہے۔ مجھے ایک صاحب نے بتایا کہ کسی یونیورسٹی کے اردو
>کے پروفیسر طلباء کو مرنجاں مرنج کی بجائے مربخاں مربخ پڑھاتے رہے۔
>
>والسلام
>
>مخلص
>
>
>2013/10/30 Nehal Sagheer <mediac...@gmail.com>
>
>> Bazm ke doston se arz hai ki syed ahmed sb ne jin kamion ki taraf
>> nishandahi farmai hai uspar tawajja den main samajhta ki jin umoor par
>> mukhlisana mashwira diya gya hai usse koi chiraghpa bhi ho sakta hai balki
>> hum jaise kamilm logon ke liye to yeh taryaq hai
>> Wasalam
>> Nehal Sagheer
>> On Oct 30, 2013 5:23 PM, "Syed Ahmed" <syedah...@yahoo.com> wrote:
>>
>> *جناب نہال صغیر صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ
>> وبرکاتہ*****
>> آپ کا محولۂ بالا مضمون جو عابدہ رحمانی صاحبہ کا تحریر کردہ ہے مکمل شکل
>> میں پہنچا، مضمون پہلے سے بہت اچھا ہوگیا ہے اور ان کے خلوص کی قدر ہمارا
>> اخلاقی ودینی فریضہ ہے تاہم ایک بہت معمولی سی گزارش مزید عرض کردوں کہ اس
>> مضمون میں ((*یہ جا بیجا توقعات تو ہمیں مارے ڈالتے ہیں۔*)) لفظ توقع
>> استعمال ہوا ہے، اسی طرح ((*یہ توقعات تعلقات میں خوب خوب بگاڑ بھی ڈالتے
>> ہیں*)) یہ لفظ دوسری مرتبہ استعمال میں آیا ہے، نیز تیسری بار یہ لفظ اس
>> جملہ میں ((*اسطرح ہر معاملے میں ہمارے توقعات یا لین دین کا سلسلہ چلتا
>> رہتا ہے*)) میں استعمال ہوا ہے، نفس مضمون اور اس طرح کے موضوعات بڑے قابل
>> قدر ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی از حد ضروری ہے، پھر بھی ہم سب کا ایک مشترکہ
>> مقصد، زبان اردو کو ترقی دینا اور اپنی زبان کے استعمال کی عادت باقی رکھنا ہے
>> اس لیے گزارش ہے کہ میری ناقص معلومات میں لفظ "*توقع" *اردو میں مؤنث
>> استعمال ہوتا ہے، اگر کسی معتبر اہل لغت نے اس کو مذکّر استعمال کیا ہو تو
>> برائے مہربانی واز راہ کرم اس کا حوالہ دیدیں -اگر وہ لغت آپ کے پاس پی ڈی ایف
>> یا کسی دوسری فارمیٹ میں کمپیوٹر پر یا کسی ویب پر ہو تو ارسال کرکے ممنون
>> فرمائیں- تاکہ میں بھی اس کو اپنی یاد داشت میں ثبت کرلوں، میں اس پر اشارہ نہ
>> کرتا اگر یہ لفظ کسی ایک جگہ استعمال ہوتا اس لیے کہ جب مضمون لکھا جاتا ہے تو
>> اس میں کاٹ چھانٹ کا عمل ضروری ہوتا ہے اور اس میں کسی لفظ کے گھٹانے بڑھانے
>> سے جملہ کی حالت وقوعہ یکسر مختلف ہوجایا کرتی ہے اس لیے اگر از سر نو اس کی
>> قراءت بار بار نہ ہو تو پھر اس طرح کی غلطیوں کا رہ جانا ایک فطری بات ہے ہاں
>> کوشش ضرور ہونا چاہیے کہ اس طرح کی غلطیاں بھی باقی نہ رہیں؛ چونکہ یہ لفظ تین
>> مرتبہ مضمون بالا میں آیا ہے اس لیے یہ گزارش ضروری سمجھی کہ آج انٹرنٹ کے
>> ذریعہ بیشمار لوگوں کی نظر سے مضمون گزرتا ہے اس وجہ سے اس پر توجہ دلائی گئی
>> ہے، صاحب مضمون کو اس پر چراغ پا ہونے کے بجائے درستگی کو مقصد اصلی گرداننا
>> چاہیے، یہی وجہ بنتی ہے کبھی کبھی بعض مراسلتی دوستوں کے مضامین یا ادبی وشعری
>> کاوشوں پر خاموشی یا تاخیر کی۔****
>> اس طوالت اور چشم خراشی کے لیے میں معذرت پیش کرتا ہوں اور توقع کرتا ہوں کہ
>> ہمارے آپسی توجہات دلانے اور تنبیہات کے اس عمل کو سلبی نظریہ کے بجائے اصلاحی
>> پہلو سمجھ کر خندہ پیشانی سے برداشت کرتے رہیں گے اور اپنے مضامینی سلسلوں
>> کو جاری رکھیں گے کہ: گرتے ہیں شہ سوار ہی میدان جنگ میں۔****
>> ملتمس
>> *سید احمد*
>> 25-12-1434ھ
>> 30-10-2013ء
>> از جدہ****
>> * *
>>
>>
>>
>> *
>> Abida Rahmani*

Aapka Mukhlis

unread,
Nov 1, 2013, 9:09:37 AM11/1/13
to bazm qalam

محترمی ومکرمی سید احمد صاحب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

بہت بہت شکریہ دعاوں کا۔ اللہ آپ کوخوش رکھے۔ آمین

والسلام

مخلص



2013/11/1 Syed Ahmed <syedah...@yahoo.com>
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages