Likhari vs. Qalamkaar

30 views
Skip to first unread message

Mukarram Niyaz

unread,
Aug 30, 2015, 6:21:22 AM8/30/15
to bazmeqalam

لکھاری یا قلمکار - ایک مکالمہ
http://www.taemeernews.com/2015/08/A-dialogue-on-using-words-Qalamkaar-vs-Likhari.html

فیس بک کے ایک گروپ "عالمی افسانہ فورم" کے ایک مکالمے سے اخذ شدہ تحریر ۔۔۔۔
شرکاء :
مکرم نیاز ، امجد علی شاہ ، جاوید نہال حشمی ، امین بھایانی ، علی نثار ، وصی بختیاری عمری اور  ارشد جمال حشمی

مکرم نیاز:
کئی دفعہ پوچھا گیا سوال ایک بار پھر : لکھاری کے بجائے لفظ قلمکار استعمال کرنے میں آخر کیا قباحت ہے؟

امجد علی شاہ:
جب لکھ رہے ہیں تو لکھاری کہنے میں کیا مضائقہ ہے.. اور بحث کیوں...جسے لکھاری لکھنا ہو لکھے..جسے قلمکار, جسے مصنف جسے افسانہ نگار وہ وہ لکھے.

مکرم نیاز:
مضائقہ اس لیے ہے کہ ۔۔۔۔
ہندوستان میں یہ لفظ استعمال نہیں ہوتا۔ اسکے بجائے قلمکار ہی لکھا جاتا ہے۔
آج سے بیس پچیس سال پہلے کے پاکستانی اخبار و رسائل میں لفظ "لکھاری" کا دور دور تک کوئی پتا نہیں تھا ۔۔۔ اس وقت "قلمکار" ہی استعمال ہوتا تھا۔
پاکستان میں یہ تبدیلی کیسے آئی اور کیوں آئی؟ بس اس سوال کا جواب مطلوب ہے۔

امجد علی شاہ:
بیس پچیس سال میں بہت کچھ بدلا ہے اور .بعض الفاظ کا استعمال بھی بہت بڑھا ہے...فیس بک بھی نہیں تھی ٹوئیٹر بھی نہیں تھا مثال کو طور پر اب ٹوئیٹر استعمال کرنے والوں کے پاس اپنا پیغام لکھنے کیلئے الفاظ کی تعداد محدود ہوتی ہے وہ کئی الفاظ کو مختصر کرنے پر مجبور ہوتے ہیں..اور ایسا صرف اردو استعمال کرنے والوں کے ساتھ نہیں ہے ہر زبان نے اس تبدیلی کو قبول کیا ہے..اگر آپ وقت کے ساتھ تبدیلیوں کو ضم کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے تو اس سے وقت کا کچھ نہیں بگڑتا مگر آپ پیچھے رہ جاتے ہیں اسی لئے میرا اصرار ہے کہ اردو کو فرہنگ آصفیہ کی تشریحات سے باہر نکلنا چاہئے

مکرم نیاز:
ہم آپ کے اصرار سے بالکلیہ اتفاق نہیں کرتے!
۔۔ اس طرح تو کل آپ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ چونکہ ہمارے ہاں ساری قوم "وجہ" کو "کارن" ، اداکار کو "کلاکار" اور ڈاکیہ کو "پوسٹ ماسٹر" کہہ رہی ہے ۔۔۔ اس میں کیا مضائقہ ہے؟

امجد علی شاہ:
پاکستان میں یہ الفاظ رائج نہیں ہوئے ابھی تک..
یہ خالص ہندی کے لفظ ہیں اگر وہاں کہے جاتے ہیں تو ان پر اعتراض کی کوئی وجہ نہیں ہے

مکرم نیاز:
تو پھر خاطر جمع رکھئے بھائی ۔۔۔ جب لکھاری رائج ہو سکتا ہے تو یہ بھی کبھی نہ کبھی رائج ہو ہی جائیں گے۔
اور یہ واضح رہے کہ یہ لفظ "لکھاری" ہندوستان میں ہندی دانوں کے درمیان ہی رائج ہے، اردو والوں کے ہاں نہیں۔ گوگل چیک کر کے دیکھ لیجیے : लिखारी
اور پھر یہ لفظ فیروزاللغات فرہنگ آصفیہ میں بھی نہیں ملتا ۔۔۔ (اور شاید یہی وجہ ہے کہ آپ کا تقاضا ہے کہ : اردو کو فرہنگ آصفیہ کی تشریحات سے باہر نکلنا چاہیے )

جاوید نہال حشمی:
یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی زبان میں نئے نئے الفاظ کی شمولیت اس زبان کو وسیع، مقبول اور rich بنانے میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے. لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اپنی زبان میں متبادل لفظ ہونے کے باوجود دیگر زبانوں کے "نئے نئے الفاظ" شامل کئے جائیں. انگریزی میں "مجاہدین" "جہاد "اور" gherao"جیسے الفاظ اس لئے شامل ہوئے کہ ان کے موجودہ انگریزی متبادل الفاظ اصل مفہوم کو ادا کرنے سے قاصر ہیں. ہندوستانی سیاسی منظر نامے کے حوالے سے دھرنا کا sit-in, مظاہرہ کا demonstration تو ہو سکتا ہے لیکن" گھیراؤ کیا گیا" کا surrounded مضحکہ خیز ہو جائے گا!
اس بنیاد پر "قلم کار" کی بجائے "لکھاری" کا استعمال انتہائی غیر ضروری اور نہایت افسوس ناک ہے. اردو میں اس لفظ کے استعمال سے زبان کی بلاغت میں تو اضافہ نہیں ہوتا البتہ اس کی چاشنی میں کمی ضرور ہو جاتی ہے
ہندی میں کھیلنے والے کو کھلاڑی، لکھنے والے کو لکھاری کہا جاتا ہے کہ ان کے یہاں الفاظ کی ترکیب کا یہی طریقہ ہے. مگر اردو میں الفاظ کی تشکیل کا الگ طریقہ ہے جو عربی یا فارسی سے مستعار ہے اور جو اس کی نہ صرف شناخت ہے بلکہ اس سے اس کی چاشنی بھی برقرار رہتی ہے.

امین بھایانی:
میری رائے میں قلمکار کہیں بہتر ہے لفظ لکھاری سے۔
سن 80ء کی دھائی میں پاکستان میں دوردرشن دیکھے جانے کا رواج عام ہوا جس سے یہ لکھاری ہمارے معاشرے میں چند دیگر لفظوں کے ساتھ داخل ہوا۔
اسی طرح پہلے اور اب بھی اچھے اُردو لکھنے بولنے والے "میکے" لکھتے تھے۔ دور درشن اور ہندوستانی فلموں کے زیراثر یہ لفظ "مائیکے" بوزن "مائی کے" لکھا اور بولا جانے لگا ہے جو کہ اُردو کے لحاظ سے درست نہیں۔
پاکستان میں چونکہ ان دنوں عام بول چال میں کئی ایسے لفظ اور تلفظ استعمال ہونا شروع ہوگئے ہیں جو کہ ہندوستانی فلموں کے ہندی لفظوں اور تلفظ سے مستعار لے لئے گئے ہیں اور اُردو کو مشرف بہ ہندی کیا جارہا ہے۔
ایک اور مثال پیش کرتا ہوں۔ کٹہرے کو ہندوستانی فلموں میں کٹگہرے کہا جاتا ہے سو ہمارے یہاں نئی نسل کے نیوز ریڈرز بھی نیوز چینلز پر اسے کٹگہرے ہی کہتے سُنائی دیتے ہیں۔

جاوید نہال حشمی:
اتنا ہی نہیں، ہندی نیوز ریڈرس "انکار" کی جگہ "منع" دھڑلّے سے استعمال کرتے ہیں. یعنی "انہوں نے یہ تحفہ لینے سے منع کر دیا"

علی نثار:
میں نے جس دن تک یہ افسانہ فورم جوائن نہیں کیا تھا تب تک مجھے لفظ لکھاری کسی بھی ادبی کتاب یا رسالے میں نظر نہیں آیا تھا. اور یہاں پر ہر دوسرا تبصرہ نگار یہ لفظ استعمال کرتا ہوا دکھائی دینے لگا. مجھے یہ لفظ پڑھ کر یہی ذہن میں آتا تھا کہ لوگ افسانہ نگار کی جگہ لکھاری لکھاری کیوں لکھ رہے ہیں؟ کئ دفعہ اس لفظ کو پڑھنے کے بعد اس لفظ کے بارے میں یہی سوچنے لگا کہ یہ اردو میں لکھنے والے پاکستانی ادیبوں کی زبان کا ایک نیا لفظ ہے جو افسانہ نگار کے متبادل استعمال ہو رہا ہے. میری نظرمیں اردو زبان کی ترقی و ترویج میں آئے دن ایسے نئے الفاظ کا انتخاب اور اضافہ اردو زبان کے مزاج اور وسیع دامنی کے لئے نیک شگون ہے.

وصی بختیاری عمری:
میرا معروضہ یہ ہے کہ لکھاری کسی بھی طرح، کسی بھی لحاظ سے اردو کے مزاج اور زبان کی ساخت سے ہم آہنگ نہیں ہے، اردو میں جب قلمکار کا لفظ رائج اور مستعمل ہے، تو پھر یہ لکھاری کیوں؟ اور اس پر اصرار کیوں؟ چند دنوں سے فیس بُک اور دیگر ویب سائٹس پر لکھاری کا چلن عام ہو گیا ہے، اور یہی واحد وجہ ہے کہ نئے لفظ کا استعمال بطورِ فیشن کیا جا رہا ہے، جدت طرازی اور مشقِ ستم صرف اردو زبان کے الفاظ ہی کے ساتھ....؟ اب احبابِ گرامی کو قلمکار لکھنے میں کیا حرج ہے، اور لکھاری پر اصرار کیوں؟؟
اردو میں اسمِ فاعل بنانے کے قواعد ہیں، اردو کی مخصوص لسانی ساخت ہے، اس کے مستعمل اور مروج و متداول لفظیات ہیں، اردو کے دامن میں اظہار کے لیے الفاظ کی ایک وسیع کہکشاں اپنی معنوی جلوہ سامانی اور رنگارنگ بوقلمونی کے ساتھ تابندہ ہے۔ تو پھر ہندی کے نامانوس اور غریب لفظ "لکھاری" کی کیا ضرورت پیش آئی؟ ویسے تو آج کل یہی ہو رہا ہے کہ نعتوں کی جمع نعوت اور کاغذ کی جمع کواغذ کے استعمال کو یار لوگ اپنی عربیت اور زبان دانی کے مظاہرے کے لیے استعمال کر رہے ہیں... میں اسی طویل پس منظر سے واقفیت کی بنا پر عرض کر رہا ہوں، جو تقسیمِ ہند سے قبل ہندی، اردو اور ہندوستانی کی بحث، اور بابائے اردو اور گاندھی وغیرہ کی کوششیں تھیں۔
میں، الفاظ کے معنیاتی سیاق سے دلچسپی رکھتا ہوں اور الفاظ کو جاندار اور تہذیبی پس منظر کا حامل سمجھتا ہوں، میرا یہ نکتۂ نظر ہے کہ ہر لفظ اپنی جگہ بذاتِ خود مکمل ہوتا ہے اور اس کے مترادف کے وجود کے باوجود بھی عام طور پر دونوں میں فرق ہوا کرتا ہے۔ لہذا اردو کے ایک طالب علم کی حیثیت سے یہ عرض کردوں کہ لکھاری میں مجھے اجنبیت اور غرابت محسوس ہوتی ہے، لفظ استعمال سے مانوس و نامانوس ہوا کرتے ہیں، اور یہ استعمال میرا یا کسی اور کا نہیں بلکہ اہلِ زبان کا اور زبان کے روزمرہ و محاورہ پر مضبوط گرفت رکھنے والوں کا استعمال معتبر اور قابل تسلیم ہے، انہیں کی سند بھی آج تک تسلیم کی جاتی رہی ہے۔ اگر معنیاتی سباق و سیاق کو ملحوظ نہیں رکھا جائے گا تو وقت سب سے بڑا منصف اور نقاد ہے، ایک زمانہ آئے گا کہ لوگ یہ دیکھ کر ہنسیں گے کہ وہ کیسے لوگ تھے جنہوں نے قلمکار کے بجائے لیکھک اور لکھاری جیسے الفاظ کو اردو میں مروج کرنے کی ناکام کوشش کی اور زبان کے مزاج سے ہم آہنگ نہ ہونے والے ایسے الفاظ پر اصرار کیا تھا۔

ارشد جمال حشمی:
بھئی پاکستانی اردوداں معرب اور مفرس اردو لکھتے بولتے سنتے بور ہو گئے ہیں۔ اس لئے منہ کا چٹخارہ بدلنے کے وہاں ہندی الفاظ کا چلن عام ہونے لگا ہے۔ یہ رویہ مستحسن نہیں۔
دوسری طرف ہندوستانی اردوداں (بشمول ناچیز) ایک کامپلیکس میں گرفتار ہیں۔ ہندی چونکہ یہاں اردو کی سب سے بڑی حریف ہے اسے اردو کے وجود کے لئے خطرہ سمجھا جاتا ہے لہٰذا شعوری اور لاشعوری طور پر ہندی سے دامن بچانے کی کوشش نظر آتی ہے۔ یہ بھی مستحسن نہیں ہے۔
رہی بات "لکھاری" کی تو یہ لفظ سنتے ہی میرے ذہن "بکھاری" گونجنے لگتا ہے جو یہاں کی علاقائی زبان میں بانس کے لمبائی میں تراشے کو کہتے ہیں جو عموماً گندے نالوں کی صفائی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لئے مجھے اس لفظ سے کراہت ہوتی ہے۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ میری کراہت سے کیا ہوتا ہے۔ اگر روئے زمین پر اردو بولنے والوں کی اکثریت اسے مروج کردے تو کوئی مائی کا لال اسے لغت اور زبان میں شامل ہونے سے نہیں روک سکتا کہ زبانیں اسی طرح بنتی اور بگڑتی ہیں۔ خاص طور سے زبان کی تبدیلیوں میں نیم خواندہ طبقوں کا سب سے بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ اردو زبان ہی نیم خواندہ طبقوں (لشکری) کی بنائی ہوئی ہے۔ پڑھے لکھوں نے تو بعد میں اپنی چودھراہٹ قائم کی ہے۔


***


--
Syed Mukarram Niyaz
www.taemeer.com|https://www.facebook.com/taemeer|http://twitter.com/taemeer|https://plus.google.com/+MukarramNiyaz|http://www.youtube.com/user/taemeer|http://www.pinterest.com/taemeer/
www.taemeernews.com : the very 1st daily Urdu News searchable web portal on the net
www.urdukidzcartoon.com : the very 1st Urdu cartoon/comics project on the net

Aalim Naqvi

unread,
Aug 30, 2015, 7:14:54 AM8/30/15
to BAZMe...@googlegroups.com

ہم لکھاری نہیں نہیں لکھتے حسب ضرورت قلم کار .افسانہ نگار.ناول نگار .یا.طنز و مزاح نگار ہی لکھتے اور بولتے ہیں .ہم مخالفت کو خلافت .جذ بات کو جذباتوں وغیرہ لکھنے والوں کو جاہل سمجھتے ہیں

On Aug 30, 2015 4:07 PM, "Mukarram Niyaz" <tae...@gmail.com> wrote:
Boxbe This message is eligible for Automatic Cleanup! (tae...@gmail.com) Add cleanup rule | More info

Gul Bakhshalvi

unread,
Aug 30, 2015, 8:58:00 AM8/30/15
to Aijaz .Shaheen
بہت خوب ۔۔  اس سلسلے کو جاری رکھیے ۔۔۔۔ اس لیے کہ ہم پشتو میں اردو لکھتے ہیں ،، میرے جیسے قلمکار اس سلسلے سے مستفید ہوں گے۔۔۔۔ بخشالوی
--
Warm regards,
 
Gul Bakhshalvi
Chief Editor Kharian Gazette
Cell: +92 302 589 2786
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages