نماز چھڑانے گئے روزے گلے پڑے
محترم جناب راشد اشرف صاحب
سلامِ مسنون
میں ایک محاورے کی تلاش میں نٹ پر گیا، کہ وہیں سرِ راہ یارانِ بزمِ
قلم: مخلص صاحب، احمد صفی صاحب، آنجناب، محترمہ عابدہ رحمانی صاحبہ اشفاق
صاحب ودیگر حضرات بھی محوِ گفتگو نظر آئے، سوچا کہ کیا فائدہ یہاں رک
کر؟ اب تو اس گفتگو کو ٹھیک ایک سال گزر چکا ہے لیکن پھر یہی خیال آیا
کہ اگر کسی بات میں کچھ شک وشبہ ہو تو بزم کے وجود سے فائدہ اٹھاتے ہوئے
تبادلہُ خیال کر لینا چاہیے کہ یہی علم دوستی کا تقاضہ ہے اس لیے اپنے اطمئنان کے
لیے سوال کر رہا ہوں کہ آپ نے دڑبے کو ڈربا زیادہ مستحسن مانا ہے جس کے لیے
دلیل میں ڈربے کا لفظ ناول کا ٹائٹل بنانے کا حوالہ دیا ہے۔
چونکہ یہ سلسلہ تنقیدی دائرے میں آتا ہے اس لیے یہ وضاحت کرنا مناسب
سمجھتا ہوں کہ میں بزم کے ہر شخص کو اپنا بڑا مانتا ہوں اور کوشش یہی
ہوتی ہے کہ ادب کے دائرے میں رہتے ہوئے علمی گفتگو کا ماحول بنائے رکھوں، کسی کی
اہانت اپنا ہرگز مشغلہ نہیں، ممکن حد تک یہی سعی کرتا ہوں کہ کسی
ملحوظ چیز پر سوال اٹھا کر اپنی تشفی کر لوں، جو کچھ بھی عرض کر رہا
ہوں رسمی انکساری نہیں بلکہ حقیقت حال یہی ہے کہ میں اس طرح سے اپنی معلومات
میں اضافہ کر لیتا ہوں، پچھلے بتیس تینتیس سال سے سعودی عرب کے قیام میں اردو کی
ضرورت بالکل معدوم سی ہو کر رہ گئی تھی، جو کچھ پڑھا وہ زنگ آلود ہے، اور پڑھنے کے
بعد برتنے کا جب وقت آیا تو یہاں آگیا، بس یہ کہیے کہ اب بزم قلم اور
این آر آئی انڈینس ویب ساٹوں نے بھولے سبق کو دوبارہ یاد کرانے کے لیے
قاعدۂ بغدادی ہاتھ میں پکڑا دیا، ورنہ تو ڈر یہ ہو رہا تھا کہ وہ حال ہوتا جس کو
یوں تعبیر کرنا بہتر ہے کہ (نہ ادھر کے رہے، نہ ادھر کے رہے) بہر حال اس طرح علمی
تبادلۂ خیال سے عام فایدہ بھی ہو جاتا ہے.
آئیے اب ہم پھر اپنی گفتگو کو تمام کرنے کے لیے اصل لفظ دڑبے
کی طرف رجوع کرتے ہیں تو اس سلسلے میں عرض یہ ہے کہ فیروز اللغات، فرہنگ آصفیہ نے
اس کو (دڑبا) پہلے دال بنا نقطہ اور (ر) اس پر فوقانی چھوٹی طوے کے ساتھ
لکھا ہے، اب فیصلہ آپ پر ہے کہ کون سا لفظ زیادہ صحیح ہے، رہی ناول کے ٹائٹل بنانے
والی بات تو اس طرح کی مثالیں کو کیا معیار بنایا مناسب ہوگا باں اگر تحقیق کے
معیار پر جب بات ہو تو اس کو وہی زیادہ بہتر معلوم ہوتی ہے، یعنی زبان کے قواعد پر پورا اترنا،
اس میں کسی شخصی تسامح یا رجحانی کیفیت کو اچھا قرار دینا بہتر نہیں رہتا، اگر اس
باب میں آپ کی تحقیق دونوں مذکورہ لغتوں سے کچھ سوا ہے اور مدلل ہے تو
ضرور تحریر کیجیے کہ اس سے عام لوگوں کو بھی فایدہ ہوگا، میں یقین رکھتا
ہوں کہ آپ کسی نتیجہ پر ضرور پہنچ جائيں گے۔
بات سے بات نکلتی چلی جاتی ہے اصل
میں جس محاورے کی تحقیق کے لیے نٹ پر گیا وہ ہے (یہ منہ اور مسور کی
دال)، لیکن اللہ غریق رحمت کرے میرے استاذ محترم کو وہ فر مایا کرتے تھے کہ اس کی
اصل (یہ رو اور منصور کی دار) ہے اور اس کی لم وعلّت یہ بیان کرتے تھے کہ
رو فارسی کا اردو میں منہ بنا اور دار کی (ر) بعض جگہوں کے عامیہ استعمالات
کی زد سے -جو کہ (ر) کو لام سے بدل دیتے ہیں- (ر) سے دال ہوگئی، بات کچھ
دل کو لگتی ہوئی معلوم ہوتی ہے لیکن تحقیق چاہتا ہوں، ما شاء اللہ آپ نے تو اردو
ادب کو اپنے گھر میں بسا رکھا ہے، جدید وقدیم ذخیرے پر آپ کی مجہودات قابل ستائش
ہیں، علمی سرمایے کے خازن ہیں، اس لیے اگر اس کی مدلل تصدیق ہو سکے تو بڑی نوازش
ہوگی، اسی طرح احباب بزم سے بھی ملتمس ہوں کہ اگر وہ اس سلسلے میں کچھ میری
راہنمائی کر دیں گے تو بڑی عنایت ہوگی۔
ایک بار پھر یہ یقین دہانی کراتے ہوئے کہ امتحان ہرگز
مقصود نہیں۔
ملتمس زحمت
سید احمد
16-2-1435ھ
19-12-2013ء