چچا! یہ گاڑی کب تک چلے گی؟ ہو نہ ہو ....
زبیر حسن شیخ
آج پھر بقراط کا برقی پیام پڑھکر ہم مخمصے میں پڑ گئے... اور اس کیفیت میں شیفتہ کی شرکت کے متمنی تھے کہ اخبارات پر رکھا موبائیل گنگنانے اور تھرکنے لگا- اسے کانوں سے لگایا تو دوسری طرف شیفتہ کی ناراض مگر مشفق آواز سنا ئی دی..... فرمانے لگے.. حضور ہر جگہ موسم گرما کا دور دورہ ہے اور بقراط کو پٹ جھڑ میں ' ہری ہری' سوجھ رہی ہے.... ہماری ضعیفی پر طنز کر رہا ہے ... ہمیں چچا کہہ رہا ہے اور ہماری عمر رفتہ کو گاڑی.....ہم نے کہا حضور موسم تو گرمی کے ساتھ تعطیلات کا بھی ہے.... ہو نہ ہو.... بقراط گاؤں جانے کے لئے ریل کی روانگی کے انتظار میں ہو، اور پوچھ رہا ہو یہ گاڑی کب تک چلے گی ؟... بر صغیر میں انتظار کی کوفت میں مبتلا مریضوں پر تحقیق کرنا ہو تو ریل گاڑی کے مسافر وں پر کی جاسکتی ہے ، ماضی میں عاشقوں پر کی جاتی تھی ، جبکہ دور حاضر کے عاشقو ں میں صبرنہیں ہوتا ....بہر حال گاڑی کوئی بھی ہو بر صغیر میں چلتی کہاں ہے... بلکہ اب تو عاشقی کی ہو یا ازداجی گاڑی ، سیاسی ہو یا تجارتی، سب پٹری سے اتر جا تی ہیں .... بلکہ اب تو ہوائی سفر میں بھی تاخیر عام بات ہے....فرمایا، اہل مغرب کی تقلید میں اہل مشرق نے اپنے حلق تک زخمی کر لئے اور کپڑے تک پھاڑ لئے، لیکن وقت کی پابندی، وقت کی نزاکت، وقت کی رفتا اور وقت کی مار کے معاملے میں اہل مغرب کی تقلید سے گریز کیا، اور ان سے کوئی سبق نہیں لیا ...کاش یہ سب کچھ بھی لے لیتے !-
فرمایا .... آپ نے ہو نہ ہو کہہ کر بہت سارے امکانات کو ہوا دی ہے..... یوں تو ہونے کو کیا نہیں ہوتا... اور اب یہاں کیا کچھ نہیں ہورہا ہے... اب ہماری اور مودی راجہ کی عمر رفتہ و شکستہ میں کچھ زیادہ فرق بھی نہیں ہے کہ زندگی کی گاڑی طویل عرصہ تک گھسیٹی جا ئے.. مودی راجہ ہوں یا نواز شریف صاحب یا مسٹر ٹرمپ ......"انچر پنچر" سب کے ڈھیلے ہو چکے ہیں ... ..چچا تو وہ انہیں بھی کہہ سکتا ہے... اور انکی پارٹی اور حکومت کو گاڑی بھی سمجھ سکتا ہے... انکی گاڑی بھی تو رکی ہوئی ہے... اور ہر کوئی اپنے اپنے انداز میں یہی کچھ پوچھ رہا ہے ...بقراط کا سوال بر صغیر کی سیاست اور سیاسی رہنماوں سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے، اور آپ کا 'ہو نہ ہو' کہنا عوام میں خوف ، امید و نا امیدی سے ملے جلے تاثرات کی عکاسی کرتا ہے ....اب ان رہنماؤں کو دیکھ دیکھ کر عوام بھی " ہو نہ ہو" کے مخمصے میں زندگی گزار رہی ہے.. ہو نہ ہو اب کے برسات ہو جائے...ہو نہ ہو سر پھرا مسٹر ٹرمپ صدر بن جا ئے جس کا انتظار ایک اور سر پھرا شمالی کوریا میں بے چینی سے کر رہا ہے ...ہو نہ ہو ہند و پاک کے تعلقات خوشگوار ہو جائیں .... ہو نہ ہو بر صغیر سے بد عنوانی ختم ہی نہ ہو.... ہو نہ ہو اچھے دن اب کبھی نہ آئیں... ہو نہ ہو گجرات کے مسلمانوں کو انصاف کبھی نہ ملے...... ہو نہ ہو مالیگاؤں، مکہ مسجد، سمجھوتہ ایکسپریس اور ایسے ہی دیگر بم دھماکوں کے مجروموں کو سزا نہ ملے اور وہ بری کر دئے جائیں....ہو نہ ہو ہندوستان کی عدالت عالیہ کے آنسو جو چیف جسٹس کی آنکھوں میں نظر آئے تھے، کبھی نہ تھمے.... اور مقنننہ یوں ہی مسکرائے جائے.... ہو نہ ہو آنے والے دنوں میں عدلیہ کا ایسا کردار بھی باقی نہ رہے ...اور ہو نہ ہو بابری مسجد کا تنازعہ سرد بستہ میں ڈال دیا جا ئے......ہو نہ ہو مستقبل میں معتبر اخبارات و رسالات اداریہ میں سچا ئی پیش کرنے سے قاصر رہیں ...ہو نہ ہو ریزو بینک کے گورنر کا کہنا درست ہو کہ اندھوں میں کانا راجہ ہے .. اب کسے کہا جارہا ہے کسے پتا....سرکار میں تو ہر ایک شعبے میں ایک کانا راجہ ہے .... مودی راجہ کے لئے ہندوستانی غریب عوام تو یہی کہتی ہے کہ.... تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے....... ورنہ ہونے کو کیا نہیں ہوتا......اب تو مودی راجہ کو فاتح بنانے والی، جاٹ، پٹیل، مراٹھا اور مارواڑی برادری، سب مل کر کہہ رہی ہے کہ ...ہونے کوحکومت میں دو سال بھی مکمل ہوجاتا ہے، اور پھر بھی کچھ نہیں ہوتا!!!.... بلکہ اب تو میڈیا کے ساتھ ساتھ سارا انڈیا کہہ رہا ہے کہ..... اچھے دن نہیں بلکہ ہمارے وہ دن ہی لوٹا دو، اب یہ رات کاٹے نہیں کٹتی...... کچھ لوگ تو یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ اب سورج طلوع ہوگا بھی یا نہیں.....اس کالی رات کی صبح ہوگی بھی یا نہیں..... مودی راجہ !! یہ گاڑی کب تک چلے گی؟ ایسا کب تک چلے گا ؟...صرف مجسمے بنوانے سے تاریخ نہیں بنتی ، ہاں یادگار یں بنائی جاسکتی ہیں... اورجو مستقبل میں مٹا ئی بھی جاسکتی ہیں ...مستقبل میں کون کسے یاد رکھتاہے کسے پتا .....لوگ باگ تو سب کچھ بھول جاتے ہیں......بس ایک خدا ہی ہے جو کچھ نہیں بھولتا ....کبھی نہیں بھولتا.....
چچا یہ گاڑی کب تک چلے گی ؟ عجیب سوال ہے، سیاست ہو یا معیشت،تعلیم ہو یا روزگار تمام گاڑیاں جو رک رک کر چل رہی تھی اب بند پڑی ہے..... اور کیا اہل مغرب اور کیا اہل مشرق سب ملکر دھکا لگا رہے ہیں.....اور جو ٹس سے مس ہونے کا نام ہی نہیں لیتی.... دہلی کے کیجری وال صاحب طاق و جفت کے چکر میں جیسے تیسے گاڑی چلا رہے ہیں.... پارلیمینٹ کا اجلاس ابھی شروع ہو ا ہے ..... "مڈ تھرو انگ" یعنی کیچڑ کا کھیل بھی شروع ہوچکا ہے... جو اب امریکی سیاست میں بھی دھڑلے سے کھیلا جا رہا ہے، جہاں یہ کھیل کبھی مہذب انداز میں کھیلا جاتا تھا...دوسروں کے دل و دماغ داغدار بھلے ہوجاتے لیکن انکا اپنا دامن داغدار نہیں ہوتا تھا .... ہندوستان میں مڈ تھرو انگ کھلے عام ہوتی ہے اور اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ ہر ایک شہری تماشائی ہو.... اور اس کا دل و دماغ کیچڑ سے داغدار ضرور ہو... اس کھیل کو بھی اب ہولی کے تہوار کی طرح منایا جاتا ہے... اور مسلسل منایا جاتا، اور اب کوئی برا بھی نہیں مانتا .. الغرض دونوں طرف کے سیاسی رہنماؤں نے اسکی تیاری قبل از وقت مکمل کر رکھی ہے....جس کا کچا چٹھا میڈیا منظر عام پر لا بھی چکا ہے... میڈیا کا کیا ہے.. اسے اپنی روٹی سینکنے سے مطلب ہے.... وہ تو سیاسی جماعتوں سے قبل ہی آٹا گوند کر تیار بیٹھا رہتا ہے...... مفت کا آٹا ہے جو سرمایہ داروں کے گھروں سے آتا ہے ... چاہے مقامی ہوں یا غیر ملکی ..... اسے بس آگ درکار ہوتی ہے سینکنے کے لئے....جب چاہا لگا دی .. اور جب چاہا سینک دی... اب تو یہ آٹا سادھو سنتوں کے تجارتی گھرانوں سے بھی مل رہا ہے.... بھگوا راج میں سادھو سنت بھی اب مادیت پرستی اور سرمایہ داری کی اندھی دوڑ میں شامل ہوگئے ہیں، آر ایس ایس کی عجیب و غریب حکمت عملی ہے.. بلکہ عجیب ہی ہے ، غریب تو بلکل بھی نظر نہیں آتی ..اپنے تاریک مستقبل کے لئے یہ حکمت عملی اپنا ئی ہے انہوں نے .... سیاست اور سرمایہ داری کے "لیو ان ریلیشن شپ" سے پیدا شدہ اولاد عجیب ہی ہوگی ، جو غریب "ماتا جمہوریت" کے کاندھوں پر سوار ہو کر قد آور ہو جائیگی ، اور قانون کی گرفت سے باہر ہوگی ، بلکہ معطل شدہ سیاسی پارٹیوں کا نان نفقہ انہیں کے سر ہوگا.... بھگوا حکمت عملی کے تحت رام بابا ہوں یا شری شری شنکر بابا .....یا سچا ڈیرہ سودا بابا.... اب سب اربوں کی ملکیت کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں، اور ماہر معاشیات دم بہ خود ہیں کہ... یہ کونسا اور کیسا طلسم ہے کہ اشتہارات کی آگ لگی ہوئی ہے، سب کچھ جل رہا ہے لیکن ٹی وی میڈیا میں دھواں بھی نہیں اٹھتا....سب کچھ بک رہا ہے ، لیکن گاڑی ہے کہ پھر بھی چلنے کا نام ہی نہیں لیتی....ہندوستان کے سرمایہ دار ہوں یا پڑوس میں شریف خاندان... "پناما لیکس " کے راستے اب سب کی حب الوطنی تاریخ میں درج ہوچکی ہے...یہی حال برطانیہ بلکہ سارے یوروپ کا ہے....اور وہاں شمالی کوریا دوسرا "پرل ہاربر" رچانے پر تلا ہے، اور مغربی اہل اقتدار منہ میں چوسنی لئے بیٹھے ہیں، نیا ورلڈ آرڈر جاری کرنے سے اب معذور دکھا ئی دیتے ہیں ..... ایک اور پرل ہاربر ہوا تو پھر ہیرو شیما اور ناگا ساکی کے امکانات بھی ہونگے...عربوں کا کیا تھا کہ وہ بڑی سادگی سے فلسطین، لبنان، لیبیا، عراق اور مصر ، وشام میں برباد ہو گئے...لیکن ابھی انکی نسل ختم نہیں ہوئی ہے، بلکہ یہودیوں کی طرح مغرب میں پھیل گئی ہے ....الغرض گاڑی سب کی رکی ہوئی ہے ....اب سارا دار و مدار تو گاڑی کے چلنے پر ہے جو بے قابو سرمایہ داری ، بد عنوان سیاست اور اندھی مادیت پرستی کے دلدلوں میں پھنسی ہے... ایسی بند گاڑی میں بیٹھے لوگوں کی اکڑ فوں دھری رہ جاتی ہے... وہ تو اسی انتظار میں رہتے ہیں کہ کوئی آئے اور دھکا لگائے یا انہیں نکال لے جائے ..... مشرق وسطی کی گاڑی بھی رک رک کر ہی چل رہی ہے، گرچہ تیل کے کنویں ابھی خشک نہیں ہوئے ہیں، اب تو یہ بھی کنوؤں کے حصص عالمی منڈی میں فروخت کر اپنے ملک میں صنعتی انقلاب لانا چاہتے ہیں ....... بڑی دیر کی مہرباں! اسے دیر آید درست آید سے موسوم بھی نہیں کیا جاسکتا .... یہی حال کچھ ترکی و ایران اور خلیج کا ہے .... . اب سب کی طرح یہ بھی اپنی گاڑی ڈھکیل رہے ہیں، مکافات عمل کی گاڑی ..... گاڑی جو اغیار کی ہے اور تیل انکا ہے ... عجیب و غریب مسئلہ درپیش ہے دنیا کو....قدرت بھی خاموش ہے...اور یہ خاموشی اہل علم و دانش بھی سمجھ نہیں پارہے ہیں..الکتاب کھولے تو سمجھ میں بھی آئے کہ انسانیت مختلف گاڑیوں کے نیچے آکر دبی پڑی ہے..... ہواؤں کے رخ بھی بدلے ہوئے ہیں... عوام تو قدرت کی اس خاموشی سے خوف زدہ ہے کہ اگر ہواؤں کے دوش پر دنیا کی گاڑیاں چلنے لگی تو پھر کیا ہوگا......قدرت کے احکامات کی پابند ہوائیں پھر لحاظ کہاں کرتی ہیں ... اور امتیاز بھی نہیں کرتی .....وہی کر گزرتی ہے جس کا حکم ہوا ہے....خالق حقیقی سب پر رحم کرے.....