سلام علیکم قارئین
مجھے یاد آیا کہ شرح دیوان غالب کا کچھ حساب چکانا میر ے ذمے باقی ہے اگرچہ مرزا اور رمضان !میرے خیال میں دو متضاد کیفیا ت ہیں - بہر کیف ہیں تو اردو کے نامی گرامی شاعر
انکے رمضان سے متعلق کوئی تحریر ہو تو ضرور سامنے لانی چاہئے دیکھئے میں بھی کوشش کرتی ہوں
دعاؤں کی طالب
عابدہ
شرح دیوان غالب
نظم طبابائئ
ردیف ی بقیہ
کس روز تہمتيں نہ تراشا کيے عدو کس دن ہمارے سر پہ نہ آرے چلا کيے تہمت ہونا ، تہمت کرنا ، تہمت دهرنا ، تہمت باندهنا ، تہمت بنانا ، تہمت لگانا ، يہ سب محاورہ ميں ہے مگر تہمت تراشنا مصنف نے آرے کی رعايت سے کہہ ديا ہے۔ صحبتِ غير کی نہ پڑی ہو کہيں يہ خو دينے لگا ہے بوسہ بغير التجا کيے وصل ميں معشوق کا التفات ديکه کر يہ بدگمانی پيدا ہوئی کہ يہ عادت رقيب کی بگاڑی ہوئی ہے اور اس خيال سے ساری خوشی وصل کی خاک ہو گئی اس شعر ميں مصنف نے يہ حالت دکهائی ہے کہ جس عاشق کو بے اعتنائی معشوق کی عادت پڑی ہوئی ہو اور اس سبب سے ہميشہ غم زدہ رہتا ہو اور غم کا خوگر ہو گيا ہو ، التفاتِ معشوق سے بهی اُسے خوشی نہيں ہوتی اور اُس ميں بهی غم کا پہلو ڈهونڈه ليتا ہے۔ ضد کی ہے بات اور مگر خو بری نہيں بهولے سے اُس نے سيکڑوں وعدے وفا کيے مطلب ظاہر ہے مگر مقام اس کلام کا جب تک نہ معلوم ہو لطف نہيں مل سکتا۔ کسی ہمدرد نے سمجهايا ہے کہ اُس سے محبت نہ کرو ، وعدہ خلاف ہے ، بے وفا ہے اور انهيں محبت کی آنکه سے اُس کا کوئی عيب دکهائی نہيں دينا اور اس کی طرف داری کر رہے ہيں ، اب دلی کی زبان ميں برخلاف لکهنؤ کے سيکڑوں کی لفظ ميں نون بهی داخل ہو گيا ہے۔ سيکڑوں کو سينکڑوں کہنے لگے ہيں اسی طرح پراڻهے کو پرانڻها کہتے ہيں۔ تمہيں کہو کہ ملے گا جواب کيا غالب مانا کہ تم کہا کيے اور وہ سنا کيے دوسرے مصرع ميں طنز ہے يعنی اچها يہی سہی تم نے کہا اور اُنهوں نے سنا مگر ديوانہ ہوا يہ تو سوچو کو جواب کيا ملے گا سمجهانے والے کو يقين ہے کہ غالب ہے کہ وہاں اظہارِ عشق کرنے کو چلا ہے ، اُس جگہ گذر ہونا بهی محال ہے پوری بات کون سنتا ہے اسی سبب سے اُسے مانا کہا ہے۔ _______ رفتارِ عمر ، قطع رہِ اِ ضطراب ہے اس سال کے حساب کو برق آفتاب ہے يعنی جس طرح رفتار آفتاب سے سال کا حساب کرتے ہيں عمر گريزاں کا حساب آفتاب کے بدلے برق سے کرنا چاہئے اور سال کے معنی عمر کے بهی ہيں راہ اضطراب کے معنی وہ راہ جو حالتِ اضطراب ميں طے ہو۔ مينائے مے ہے سر و نشاط بہار سے بال تدرو جلوۀ موجِ شراب ہے نشاط بہار ميں مينائے سبز رنگ کشيدہ بالا سرو کا اندازہ دکها رہا ہے اور شراب سر جوش کی لہر بال تدرو کی جهلکی دکهائی جاتی ہے حاصل يہ ہے کہ صحبت شراب ميں تماشائے باغ کا مزہ آرہا ہے ليکن شعرا کی عادت ہے کہ سرو کے ساته قمری کا ذکر کرتے ہيں مصنف نے تدرو کو باندها اور قمری کو چهوڑديا۔ فقط فارسيت مصنف کو اس طرف لے گئی کہ مصطلحات فارسی ميں بال تدرو مگر ابر کو بهی کہتے ہيں۔ زخمی ہوا ہے پاشنہ پائے ثبات کا نے بهاگنے کی گوں نہ اقامت کی تاب ہے يعنی يہ نوبت پہنچی ہے کہ اثنائے راہ ميں گرکر ايڑهياں رگڑيے گوں کا لفظ اس شعر ميں اپنی نازکی دکها رہا ہے۔ جادادِ بادہ نوشی زنداں ہے شش جہت غافل گماں کرے ہے کہ گيتی خراب ہے جاداد مخفف جائے داد يعنی جاگير ہے بادہ عرفاں اور رند سے عارف مراد ہے اور عالم کے خراب اور ويران ہونے سے يہ مطلب ہے کہ کوئی صانع و مدبر اُس کے زعم ميں نہيں ہے جو شخص جلوۀ حقيقت سے غافل ہے۔ نظارہ کيا حريف ہو اس برق حسن کا جوش بہار جلوہ کو جس کی نقاب ہے يعنی عالم اجسام کا ظہور جس شاہد حقيقی کے لئے حفاظت کا باعث ہے اُس کو نظر کيوں کر ديکه سکتی ہے۔ نظر جب پڑے گی نقاب ہی پر پڑے گی يعنی آنکه جب ديکهے گی اجسام ہی کو ديکهے گی جوش بہار ظہور عالم سے استعارہ ہے اور نقاب اُسے اس وجہ سے کہا کہ جس طرح نقاب چہرہ کی آڑ کر ليتی ہے ، اسی طرح تماشائے عالم اجسام صوفيہ کے نزديک عالم لاموت تک جانے سے مانع ہے۔ ميں نامراد دل کی تسلی کو کيا کروں مانا کہ تيرے رُخ سے نگہ کامياب ہے ’ تو ، معنی مفعوليت کے لئے نہيں ہے بلکہ واسطے کے معنی پر ہے يعنی دلنامراد کی تسلی کے لئے کيا تدبير کروں تجه سے سينہ بسينہ ہوئے بغير اُس کو تسلی نہيں ہونے کی يہ سچ ہے کہ نگاہ کو ديکهنے سے تسلی ہو گئی مگر دل کو نہيں ہوئی۔ مسرتِ پيغام يار سے گذرا اسد قاصد پہ مجه کو رشکِ سوال و جواب ہے ميں پيغام يار کی خوشی سے درگذرا مجهے يہی رشک ہے کہ يعنی اے اسد قاصد اُس سے جا کر ہم کلام ہو گا۔ _______ ديکهنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آجائے ہے ميں اُسے ديکهوں بهلا کب مجه سے ديکها جائے ہے انتہائے رشک يہ کہ اپنے تئيں بهی محروم رکها جيسے بخيل انتہائے بخل ميں اپنے تئيں بهی محروم رکهتا ہے مصنف کا يہ قياس صحيح ہے اس وجہ سے کہ رشک بهی ايک طرح کا بخل ہے۔ ہاته دهو دل سے يہی گرمی گر انديشہ ميں ہے آبگينہ تندئی صہبا سے پگهلا جائے ہے گرميٴانديشہ سے انديشہ کے وہ اثر مراد ہيں جو دل کا حال دگرگوں کر ديتے ہيں اور اُسی تندیٴ مے سے اور دل کو آبگينہ سے تشبيہ دی ہے۔ غير کو يارب وہ کيوں کر منع گستاخی کرے گر حيا اس کو بهی آتی ہے تو شرما جائے ہے حيا کو ذی روح فرض کيا ہے جس کے آنے سے معشوق کو حيا آجاتی ہے يعنی غير کے چهيڑنے سے اُسے حيا بهی آتی ہے تو اُس سے بهی حيا آجاتی ہے مطلب يہ کہ اس قدر شرم ہے کہ رقيب کو گستاخی کرنے سے منع نہيں کرتا۔ شوق کو يہ لت کہ ہر دم نالہ کهينچے جائے ہے دل کی وہ حالت کہ دم لينے سے گهبرا جائے ہے شوق کو نالہ کشی کا لپکا پڑگيا ہے اور دل کی حالت ايسی نازک ہے کہ سانس لينا بهی ناگوار ہے۔ لت کہتے ہيں بد عادت اور بری علت کو يہ لفظ فحش سے خالی نہيں ہے اور يہ اس کا محل استعمال نہ تها مگر مصنف نے لفظ حالت کے سجع کو خيال کيا۔ دور چشم بد تری بزم طرب سے واہ واہ نغمہ ہو جاتا ہے واں گر نالہ ميرا جائے ہے يعنی تيری محفل ميں نالہ ميرا نغمہ کی طرح طرب انگيز ہوتا ہے يعنی ميرا نالہ کسی سے تو خوش ہوتا ہے مقصود تشنيع ہے۔ گرچہ ہے طرزِ تغافل پردہ دارِ رازِ عشق پر ہم ايسے کهوئے جاتے ہيں کہ وہ پاجائے ہے اس کے سامنے جا کر ہم ايسے کهوئے جاتے ہيں يعنی ازخود رفتہ ہو جاتے ہيں کہ وہ پاجاتا ہے يعنی سمجه جاتا ہے کہ اس پر جادو چل گيا اگرچہ وہ تغافل کا انداز رکهتا ہے تاکہ ميرے رازِ دل کا پردہ باقی رہ جائے يہ ياد رہے کہ کهوے جانا ’ ے، کے ساته ازخود رفتگی کے معنی پر ہے اگر کهو جانا کہيں تو يہ معنی نہ پيدا ہوں گے۔ اس کی بزم آرائياں سن کر دل رنجورياں مثل نقش مدعائے غير بيڻها جائے ہے يعنی جس طرح بزم يار ميں رقيب کا نقش بيڻها ہے اسی طرح اس بزم آرائی کا حال سن کر ميرا دل بيڻها جاتا ہے۔ ہوکے عاشق وہ پری رُخ اور نازک بن گيا رنگ کهلتا جائے ہے جتنا کہ اُڑتا جائے ہے عشق ميں رنگ سفيد ہونے کو رنگ کے کهلنے سے تعبير کيا ہے۔ نقش کو اُس کے مصور پر بهی کيا کيا ناز ہيں کهينچتا ہے جس قدر اتنا ہی کهنچتا جائے ہے يعنی مصور جس قدر اُس کی تصوير کو کهينچتا جاتا ہے اسی قدر تصوير بهی کهنچتی جاتی ہے اور يہ کهنچنا دوسرے معنی رکهتا ہے۔ سايہ ميرا مجه سے مثل دور بهاگے ہے اسد پاس مجه آتش بجاں کے کس سے ڻهہرا جائے ہے يعنی ميری وہ حالت ہے کہ سايہ تک ساته نہيں ديتا يہ سارا مضمون تو محاورہ ہے ليکن مصنف نے اسی تشبيہات سے رنگا ہے اپنے تئيں آتش بجاں کہا ہے يعنی اپنے اضطراب و بيتابی کو اُس شخص کے تڑپنے سے تشبيہ دی ہے جو آگ ميں گر پڑا ہو اور سايہ کو دُهوئيں سے تشبيہ دی ہے ان تشبيہوں کے علاوہ اس شعر ميں اس توجيہ نے بڑا لطف ديا کہ دهوئيں کے اُڻهنے کو آگ سے بهاگنا قرار ديا۔ _______ گرم فرياد رکها شکل نہالی نے مجهے تب اماں ہجر ميں دی برد ليالی نے مجهے يعنی نقش فانی کو ديکه کر ميں گرم فرياد ہوا کہ ہائے يہ شکل پہلو ميں ہو اور وہ شکل نہ ہو اور گرم فرياد ہونے سے شبِ ہجر کی سردی سے جان بچی۔ نسيۂ و نقد دوعالم کی حقيقت معلوم لے ليا مجه سے مری ہمتِ عالی نے مجهے يعنی ميری ہمت بلند دنيا و عقبی کی نسيہ و نقد دونوں کو کم حقيقت سمجهی اور اُس نے مجهے دونوں سے علاحدہ کر ديا ميری قيمت کے قابل نہ دُنيا ہے نہ نسيہ عقبی ہے۔ کثرت آرائی وحدت ہے پرستاری وہم کر ديا کافر اِ ن اَصنام خيالی نے مجهے يعنی وحدت کو لباس کثرت ميں آراستہ کرنا اور وحدت پر کثرت کا خيال کرنا وہم پرستی ہے اور يہی کثرت خيالی اصنام خيالی ہيں اور جس طرح اصنام کو بندۀ اصنام شريک باری سمجهتا ہے اسی طرح جو بے خبر کے وجود کثرت کے قائل ہيں وہ کثرت کو وحدت کا شريک وجود سمجهے ہوئے ہيں اور يہ شرک و کفر ہے۔ ہوس گل کا تصور ميں بهی کهڻکا نہ رہا عجب آرام ديا بے پر و بالی نے مجهے بے پر و بال ہو جانے سے ايسی راحت ہوئی کہ تماشائے گل کا تصور بهی اب نہيں آتا۔ _______ کار گاہ ہستی ميں لالہ داغ ساماں ہے برق خرمن راحت خون گرم دہقاں ہے مصنف مرحوم خود عود ہندی ميں ان تينوں شعروں کے معنی بيان کرتے ہيں۔ کہتے سامان مثل انجم انجمن وہ شخص کہ داغ جس کا سرمايۂ ساماں ہو ہيں داغ موجوديت لالہ کی منحصر نمائش داغ پر ہے ورنہ رنگ تو اور پهولوں کا بهی لال ہوتا ہے بعد اس کے يہ سمجه ليجئے کہ پهول کے درخت يا غلہ جو کچه بويا جاتا ہے دہقان کو جوتنے بونے پانی دينے ميں مشقت کرنی پڑتی ہے اور رياضت ميں لہو گرم ہو جاتا ہے مقصود شاعر کا يہ ہے کہ وجود محض رنج و عنا ہے مزارع کا وہ لہو جو کشت کار ميں گرم ہوا ہے وہی اس کی راحت کی خرمن کا برق ہے حاصل موجوديت داغ اور داغ مخالفت راحت اور صورت رنج ہے انتہیٰ غرض يہ ہے کہ ہستی د اربلا ہے اگر کوئی يہاں راحت پہنچانے کا قصد کرتا ہے تو وہ راحت ميں آفت ہو جاتی ہے دہقان لالہ کے لئے سرگرمی و خون گرمی کرتا ہے ليکن اس سے لالہ کو داغ حاصل ہوتا ہے۔ غنچہ تاشگفتنہا برگِ عافيت معلوم باوجودِ دلجمعی خوابِ گل پريشاں ہے يعنی کلی جب تک کهلے کهلے ساز برگ عافيت کا حاصل ہونا يعنی آفت سے اُس کا محفوظ رہنا کہاں سے معلوم ہے جب يہ حال ہوا تو گل کو باوجود دل جمعی پريشانی ہے اور غنچہ کو دل سے تشبيہ ہے اور جمعيت دل کی صورت بهی اُس سے ظاہر ہے اسی طرح گل شگفتہ کی پنکهڑيوں کا بکهرا ہوا ہونا پريشانی کی صورت ظاہر کر رہا ہے اور گل کی خاموشی و برجا ماندگی خواب کا عالم دکها رہی ہے غرض کہ يہ تينوں حالتيں گل پر طاری رہتی ہيں تو باوجود دل جمعی خواب گل پريشان رہتا ہے اور سبب پريشانی کا يہ ہے کہ اس سے انديشہ ہے کہ ديکهئے ساز و برگ عافيت اس دار بلا ميں ممکن ہوتا ہے يا نہيں۔ ہم سے رنج بيتابی کس طرح اُڻهايا جائے داغ پشتِ دستِ عجز شعلہ خسن بدنداں ہے مطلب يہ کہ اس رنج کی تاب ہم سے نہ ہو سکے گی اور يہ ہلاک کردے گا دست عجز سے وہ ہاته مراد ہے جو صدمہ کے دفع کرنے سے مجر رکهتا ہے اسی سبب سے اُسے خس سے تشبيہ دی ہے اور داغ کو شعلہ سے اور پشت دست زمين پر رکهنا عاجزی کرنے کے معنی پر ہے۔ يہ ظاہر ہے کہ شعلہ کی آفت کو خس نہيں اُڻها سکتی وہ اُسے جلا کر فنا کر ديتا ہے اور خس بدنداں گرفتن بهی عجز کے معنی پر ہے يہ دوسرا پہلو اس شعر کے معنی ميں نکلتا ہے يعنی ميرے دست عجز کا داغ شعلۂ خس بدنداں ہے کہ ميری طرف سے اظہارِ عشق کر رہا ہے کہ رنج بيتابی اس سے نہ اُڻه سکے گا۔ ان تينوں شعروں کے معنی بيان کرنے کے بعد مصنف مرحوم لکهتے ہيں قبلہ ابتدائے فکر سخن ميں بے دل و اسير و شوکت کے طرز پر ريختہ لکهتا تها چنانچہ ايک غزل کا مقطع يہ تها :طرز بے دل ميں ريختہ لکهنا اسد الله خاں قيامت ہے پندرہ برس کی عمر سے پچيس برس کی عمر تک مضامين خيالی لکها گيا دس برس ميں بڑا ديوان جمع ہو گيا آخر جب تميز آئی تو اُس ديوان کا دور کيا ، اوراق يک قلم چاک کئے دس پندرہ شعر واسطے نمونہ کے ديوان حال ميں رہنے دئيے۔ _______ اُگ رہا ہے در و ديوار سے سبزہ غالب ہم بياباں ميں ہيں اور گهر ميں بہار آئی ہے ديوانگی ميں ويرانہ و خرابہ پسند ہوتا ہے جب گهر ويران نہ تها تو اُسے چهوڑکر بيابان ميں چلے آئے ليکن بيابان نوردی ميں اتنی مدت گذری کہ گهر ويران ہو گيا يہاں تک کہ در و ديوار پر گهانس اُگ آئی ، اب اس خانہ باغ کے ديکهنے کے لئے جی لوٹ رہا ہے اس شعر ميں بيان و بديع کی کوئی خوبی نہيں ہے ليکن صاف صاف لفظوں ميں حالت ديوانگی کی ايسی تصوير کهينچی ہے کہ جواب نہيں۔ _______ سادگی پر اُس کی مرجانے کی حسرت دل ميں بس نہيں چلتا کہ پهر خنجر کف قاتل ميں ہے سادگی سے عياں ترک زينت و آرائش مراد ہے جو کہ بے تلوار کے قتل کرتی ہے يعنی بے تلوار باندهے ہوئے جو عالم اُس پر ہوتا ہے اُسی انداز ميں گلا کاٹ کر مرجانے کی حسرت ميں ہوں ليکن وہ گلا کاڻنے نہيں ديتا اور خنجر ہاته ميں لے ليتا ہے اور خنجر اُس کے ہاته ميں ہونے سے دو وجہوں سے حسرت نہيں نکل سکتی ايک تو يہ کہ جب خنجر اُس کے قابو ميں ہے تو ہم گلا کيوں کر کاڻيں اور دوسری وجہ يہ کہ جب خنجر اُس کے ہاته ميں ہوا تو وہ سادگی کہاں رہی جس پر ہم جان قربان کرتے تهے اور پهر ’ کی ، لفظ سے يہ معنی نکلتے ہيں کہ پہلے بهی ايسا ہوچکاہے کہ ہم گلا کاڻتے تهے مگر اُس نے خنجر ہاته ميں لے ليا کہ پهر نہ وہ سادگی باقی رہی جس انداز پر ہم جان ديتے تهے نہ خنجر ہی پر ہم قابو پاسکے۔ ديکهنا تقرير کی لذت کہ جو اُس نے کہا ميں نے يہ جانا کہ گويا يہ بهی ميرے دل ميں ہے يعنی تجهے يہ معلوم ہوتا ہے کہ جو بات اُس نے کہی ميرے دل کی کہی۔ گرچہ ہے کس کس برائی سے ولے با اينہمہ ذکر ميرا مجه سے بہتر ہے کہ اُس محفل ميں ہے مسند اليہ جو کہ عمدہ جملہ ہوتا ہے وہ يہاں بہت پيچهے رہ گيا يعنی لفظ ذکر اور اُس کا سبب وہی ہے کہ پہلے نيچے کا مصرع کہہ ليا ہے اُس کے بعد مصرع لگايا ہے۔ بس ہجومِ نا اُميدی خاک ميں مل جائے گی يہ جو اک لذت ہماری سعی بے حاصل ميں ہے اے ہجوم ياس بس کر ايسا نہ ہو کہ مجهے اپنی سعی لاحاصل ميں جو ايک لذت ملتی ہے يہ بهی پامال ہو جائے يعنی ياس و نا اُميدی کے ہجوم ميں سعی بے فائدہ ہے جو لذت ملتی ہے وہ بهی خاک ميں مل جائے گی مطلب يہ کہ نا اُميدی کی حالت بری اور سعی گو بے نيل مرام ہو مگر لذت سے خالی نہيں۔ رنج رہ کيوں کهينچئے واماندگی کو عشق ہے اُڻه نہيں سکتا ہمارا جو قدم منزل ميں ہے اس شعر ميں معلوم ہوتا ہے ’ کا ، کی جگہ ’ کو ، کاتب کا سہو ہے اور اس صورتميں معنی صاف ہيں ليکن عجب نہيں کہ ’ کو ، ہی کہا ہو تو معنی ذرا تکلف سےپيدا ہوں گے يعنی واماندگی کو ميرے قدم سے عشق ہو گيا ہے اور وہ نہيں چهوڑتے کہ ميں منزل مقصود کی طرف جاؤں شعر ميں مصنف نے منزل سے راہ منزل مراد لی ہے چنانچہ ’ ميں ، کا لفظ اس پر دلالت کرتا ہے۔ يعنی محاورہ ميںمنزل کو جب ’ ميں ، کے ساته بوليں تو راہ منزل اُس سے مراد ہوتی ہے اور جب ’پر ، کے ساته کہيں تو خود منزل مقصود مراد ہوتی ہے اور فارسی والوں کے محاورہ ميں عشق بمعنی سلام و نياز بهی ہے اور اس صورت ميں ’ کو ، صحيحہے يعنی ہم واماندگی کے نيازمند ہيں کہ اس کی بدولت اُڻه نہيں سکتا ہمارا جو قدم منزل ميں ہے۔ جلوہ زار آتش دوزخ ہمارا دل سہی فتنۂ شورِ قيامت کس کے آب و گل ميں ہے ’ کس کے ، کا لفظ طنز سے کہا ہے غرض يہ ہے کہ تمہارے آب و گل ميں فتنۂقيامت ہے يعنی ہم نے مانا کہ ہمارے دل ميں دوزخ کی آگ بهری ہوئی ہے تمہارا ہی کہنا سچ ہے ليکن اپنی تو خبر لو کہ تم بهی تو سراپا فتنۂ حشر بنے ہوئے ہو۔ طلسم پيچ و تاب ہے دلِ شوريدۀ غالب رحم کر اپنی تمنا پر کہ کس مشکل ميں ہے يعنی ميرے دل ميں پيچ و تاب بهرا ہوا ہے اس ميں تيری تمنا آ کر پهنس گئی ہے اُس پر رحم کر اور اس مشکل سے اُسے چهڑالے حاصل يہ کہ ميرے دل کی حسرت و تمنا کو نکال دے۔ _______ دل سے تری نگاہ جگر تک اُترگئی دونوں کو اک ادا ميں رضامند کرگئی يعنی اس تير کی حسرت دل و جگر دونوں کو تهی۔ شق ہو گيا ہے سينہ خوشا لذتِ فراغ تکليفِ پردہ داریِ زخم جگر گئی پہلے اس واقعہ کی خبر دی کہ سينہ شق ہو گيا ، پهر اظہارِ سرور کر کے جو فائدہ چهاتی کے پهٹ جانے سے حاصل ہوا اُسے بيان کيا يعنی زخم جگر کے چهپائے رہنے سے فراغ حاصل ہو گيا۔ وہ بادئہ شبانہ کی سرمستياں کہاں اُڻهئے بس اب کہ لذتِ خوابِ سحر گئی اس شعر کے الفاظ معنی حقيقی پر محمول کريں تو کچه لطف نہيں غالباً مصنف کو استعارہ مقصود ہے ، يعنی بادۀ شبانہ سے نشۂ شباب اور سحر سے پيری کا استعارہ ہے اور ’ اُڻهئے ، کا خطاب اپنے نفس غافل کی طرف ہے۔اُڑتی پهرے ہے خاک مری کوئے يار ميں بارے اب ائے ہوا ہوس بال و پر گئی يہ ظاہر ہے کہ ہوا کی طرف خطاب کرنا بے مزہ ہے ، ليکن ہوس کی مناسبت سے مصنف نے صبا کو چهوڑکر ہوا کو باندها ہے ، اسی طرح بال و پر کی مناسبت يہ چاہتی ہے کہ کوئے يار کے بدلے صحن باغِ يار ميں خاک اُڑائی ہوتی ، اس کے علاوہ يہ مضمون اس قدر کہا گيا ہے کہ مبتذل ہو گيا ہے ، غرض کہ يہ شعر کے کلام کے مرتبہ سے بہت گرا ہوا ہے۔ غالب ديکهو تو دل فريبی اندازِ نقش و پا موجِ خرامِ يار کے کيا گل کتر گئی گل کترنا اور شگوفہ چهوڑنا ايک ہی معنی کے دونوں محاورے ہيں ، يعنی کوئی ايسی بات کرنا جس سے فساد برپا ہو اور آپ الگ رہے۔ ہر بوالہوس نے حسن پرستی شعار کی اب آبروئے شيوۀ اہل نظر گئی يعنی حسن پرستی تو اہل نظر کا شيوہ تها کہ وہ تناسبِ اعضا کو پہچان کر عشق صادق کرتے تهے ، جب ايسے ويسے لوگ بهی حسن پرستی کرنے لگے تو شيوۀ اہل نظر کی خاک آبرو رہی۔ نظارہ نے بهی کام کيا واں نقاب کا مستی سے ہر نگہ تيرے رُخ پر بکهر گئی يعنی تيرے رُخ تک نگاہ کو پہنچ کر ايسی مستی ہوئی کہ بکهر گئی اور اُس کے تار تار الگ ہو گئے اور وہ بکهرے ہوئے تار نقاب کی طرح مانع ديد ہوئے نگہ کو تار سے اور رشتہ سے تشبيہ مشہور بات ہے ، تازگی يہاں يہ ہے کہ رشتہ نگاہ کے تار تار کهل کر اُن سے نقاب بن گئی اور جس تشبيہ ميں اس طرح کے معنی صيرورت ہوں جو وجہ شبہ کے گهڻانے سے يا بڑهانے سے پيدا ہو گئے ہوں ، وہ تشبيہ نہايت لذيذ ہوتی ہے اور سننے والے کے ذہن ميں استعجاب کا اثر پيدا کرتی ہے ’ ہر ، کالفظ يہاں پورا نقاب بنانے کے لئے مصنف نے صرف کيا ہے ، مطلب شعر کا يہ ہے کہ تيرا رُخ ديکه کر ايسی از خود رفتگی ہوئی کہ لذتِ ديد سے سب محروم رہے۔ فردا دوی کا تفرقہ يک بار مٹ گيا کل تم گئے کہ ہم پہ قيامت گذر گئی کل باوجود يہ کہ وے تها ، ليکن فراد حشر کا سامنا ہو گيا اور فرداروی ايک ہی دن ميں جمع ہو گئے کچه تفرقہ ماضی و استقبال نہ باقی رہا۔ مارا زمانے نے اسد الله خاں تمہيں وہ ولولے کہاں وہ جوانی کدهر گئی پہلا مصرع انشائے تاسف کے لئے ہے اور دوسرا استفہام ہے ، غرض يہ کہ سارا شعر انشا ہے ، دوسری خوبی پورا نام لقب سميت آنے سے پيدا ہوئی لفظ ’ خاں ،سے اور معنی نکلتے ہيں کسی زمانہ ميں قوت و سطعت تهی ، جسے پيری نے مڻاديا۔ _______ تسکيں کو ہم نہ روئيں جو ذوقِ نظر ملے حورانِ خلد ميں تری صورت اگر ملے يعنی تيری صورت سے ملتی ہوئی شکل اگر حوروں کی ہو اور لذتِ نظر فقط حاصل ہو تو ہم تسکين دل کا غم نہ کريں کہ لطف نظر تو ہے ، تسکين دل نہيں نہ سہی۔ اپنی گلی ميں مجه کو نہ کر دفن بعد قتل ميرے پتے سے خلق کو کيوں تيرا گهر ملے يعنی لوگ يوں پتا ديا کريں گے کہ جس گلی ميں ايک قبر ہے ، وہاں فلاں شخص کا گهر ہے ، ميرا رشک اسے گوارا نہيں کرتا کہ غيرلوگ ميری قبر کے پتے سے تيرے گهر کو ڈهونڈهيں اور دوسرے معنی يہ کہ ميری محبت اسے گوارا نہيں کرتی کہ تيرے قاتل ہونے کا حال کهل جائے اور تجه سے ميرے قتل کا مواخذہ ہو۔ ساقی گری کی شرم کرو آج ورنہ ہم ہر شب پيا ہی کرتے ہيں مے جس قدر ملے يعنی آج تم ساقی بنے ہو ، آج تو چهکا کر پلادو ، ساقی گری کا لفظ ويسا ہی ہے ، جيسے منشی گری اور مولوی گری اور آدمی گری ، يہاں يہ بحث ہے کہ لفظ ’ گر، افادہ معنی فاعليت کے لئے ہوتا ہے ، جيسے ستمگر دادگر اور جادوگر شعبدہ گر اور زرگر شيشہ گر اور لفظ ’ ساقی ، ميں خود معنی فاعليت موجود ہيں ، اس کیترکيب ’ گر ، کے ساته کيوں کر صحيح ہو گی اس کا جواب ميلی کے اس شعر سےہو سکتا ہے :گفتی زدہ لطف کہ ميلی سگ ماست شرمندہ آدمی گريہ ہائے توہم اور ملا طغرا کہتے ہيں :کند حق صوفی گری را ادا بيک چشم بيند بہ شاہ و گدا تجه سے تو کچه کلام نہيں ليکن اے نديم ميرا سلام کہيو اگر نامہ بر ملے تجه سے تو مجهے کچه شکايت نہيں ، ليکن نامہ بر کو ميرا سلام شکايت آميز پہنچادينا۔ تم کو بهی ہم دکهائيں گے مجنوں نے کيا کيا فرصت کشاکش غم پنہاں سے گر ملے يعنی غم کهينچ کهينچ کر نہ رکهے تو ہم بهی مجنوں کی طرح بياباں ميں نکل جائيں۔ لازم نہيں کہ خضر کی ہم پيروی کريں جانا کہ اک بزرگ ہميں ہم سفر ملے يعنی ہمارا مرتبہ سلوک بهی خضر سے کچه کم نہيں ہے۔ اے ساکنانِ کوچۂ دل دار ديکهنا آشفتہ سر ملے تم کو کہيں جو غالب اگر مل جائے تو ديکهنا اور مطلب يہ ہے کہ عبارت تو يہ ہے کہ وہاں کہيں غالب خيال رکهنا شايد غالب وہاں کہيں مل جائے ، يہ مطلب اُس عبارت سے ’ جو ، کےسبب سے نہيں نکلتا ’جو ، کی لفظ نے جملہ کو شرطيہ کر ديا اور شرط مقصودنہيں ، اس لئے کہ شرط سے يہ معنی نکلتے ہيں کہ اگر غالب کہيں ملے تو ديکهنا حالاں کہ جو ملے اُس کا نہ ديکهنا کيا معنی غرض کہ شرط يہاں کچه معنی نہيں رکهتی ، اس جملہ کی صورت شرط کی ہے ، مگر قصد شرط نہيں ہے اور ’ جو ،يا ’اگر ، اس محاورہ ميں زائد ہوا کرتا ہے ، معنی مقصود يہی ہوا کرتے ہيں کہديکهنا يعنی خيال رکهنا شايد فلاں شخص کہيں مل جائے ، ليکن محاورہ يوں نہيں جاری ہے کہ اس معنی کو جملہ شرطيہ کی صورت ميں ادا کرتے ہيں جيسا کہ مصنف نے کيا ہے اور يہ مسئلہ نحو اُردو کے نوادر ميں سے ہے۔ _______ کوئی دن گر زندگانی اور ہے اپنے جی ميں ہم نے ڻهانی اور ہے بندش کی خوبی اور محاورہ کے لطف نے اس شعر کو سنبهال ليا ، ورنہ غالب سا شخص اس بات سے بے خبر نہيں ہے کہ جمع کی بات جی ہی ميں رکهنا المعنی فی بطن الشاعر کہلاتا ہے ، اس شعر سے يہ سبق لينا چاہئے کہ بندش کے حسن اور زبان کے مزہ کے آگے اساتذہ ضعف معنی کو بهی گوارا کر ليتے ہيں۔ آتش دوزخ ميں يہ گرمی کہاں سوزِ غم ہائے نہانی اور ہے کہاں کے بدلے نہيں کا لفظ بهی آ سکتا تها ، مگر اُس صورت ميں جملہ خبريہ ہوتا اور اب استفہام انکاری نے انشائيہ کر ديا اور انشا خبر سے بہتر ہے۔ بارہا ديکهی ہيں اُن کی رنجشيں پر کچه اب کی سرگرانی اور ہے وفورِ محبت کے مقتضا سے يہ وہم پيدا ہوا ہے کہ اب کی سب دفعہ سے زيادہ خفگی ہے۔ Abida Rahmani |
From: syed maeraj jami <maer...@yahoo.co.uk>
To: "bazme...@googlegroups.com" <bazme...@googlegroups.com>
Sent: Wednesday, August 1, 2012 7:03 PM
Subject: Re: {13465} بقیہ شرح دیوان غالب
رمضان کے حوالے سے مرزا کا ایک ہی واقعہ کثرت سے پڑھا ہےدروغ بر گردن راویرمضان کے بعد عید کی مبارک باد دینے بہادر شاہ ظفر کے دربار میں تمام شعرا جمع تھےبادشاہ نے سب سے سوال کیاآپ نے کتنے روزے رکھےسب نے حسب مقدور جواب دیامرزا سے پوچھاآپ نے کتنے روزے رکھےمرزا نے عرض کیعالم پناہایک نہیں رکھا
-- -- زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/ اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.comسہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.comکمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.comhttp://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/راشد اشرف کی تحریروں کے لیےhttp://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"-- -- زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/ اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.comسہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.comکمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.comhttp://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/راشد اشرف کی تحریروں کے لیےhttp://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"
بیحد ممنون ہوں جامی صاحب اور مخلص صاحب آپ حضرات کے تبصرے نے اس تحریر کو چار چاند لگادئے!
جزاک اللہ خیر
|
|
|