١- مسلمان ہونا؛ قربانی ایک عبادت ہے لہٰذا ایک کافر کیلئے نہیں ہے۔ اس شرط کا فائدہ تب ہو گا جب کوئی شخص ایسے گروہ سے تعلق رکھتا ہو جو اہل سنت و الجماعت کے ہاں مسلمان نہیں گنا جاتا اور اس نے اسلام والی قربانی کر دی پھر انہی ایام میں ان گمراہ عقائد سے توبہ کر لی تو پہلی قربانی کافی نہیں اگر باقی شرائط موجود ہیں تو دوبارہ کرے گا کیونکہ مسلمان ہونا شرط ہے۔ اسی طرح کسی کافر نے نیت کی کہ میں خالص مسلمانوں کے اللہ کیلئے قربانی کرتا ہوں‘ پھر ایام تشریق میں مسلمان ہو گیا تو بھی قربانی کرے گا اگر باقی شرائط موجود ہیں۔
٢- عاقل‘ بالغ ہونا؛ امام ابوحنیفہ اور ابو یوسف رحمھما اللہ کے نزدیک یہ شرط نہیں ہے لہٰذا بچہ یا مجنوں جو نصاب کا مالک ہو اس کے مال سے قربانی کی جائے گی‘ جبکہ باقی آئمہ رحمھم اللہ کے ہاں یہ شرط ہے پس عاقل بالغ نہیں ہے تو قربانی واجب نہیں وجہ اختلاف یہ ہے کہ آیا کہ قربانی کی علت مال ہے یا خود مکلف ہونا‘پس جس نے صرف مال کو علت سمجھا اس نے صاحب مال پر قربانی لازم کی اگرچہ اس میں سمجھ ہو یا نہ ہو اور جس نے مکلف ہونا ضروری سمجھا اس نے کہا کہ قربانی لازم نہیں ہے۔ لہٰذا اس صورت میں کسی عالم کو حالات بتا کے فتوٰی لے لیا جائے۔
٣- آزاد ہونا؛ کیونکہ غلام کسی مال کا مالک نہیں ہوتا لہٰذا اس پر قربانی نہیں۔ پس کسی نے اپنے غلام کی طرف سے قربانی کی بعد میں ایام تشریق میں آزاد کر دیا تو اگر باقی شرائط موجود ہیں تو واجب قربانی کرے گا۔
٤- مُوسر(غنی)ہونا ؛ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (جیسا کہ پہلے یہ روایت گذری ہے) جو کشادگی پائے قربانی کرے اور جو اس کے باوجود قربانی نہیں کرتا وہ ہمارے مصلے کے قریب نہ آئے‘ پس اصل تو یہی ہے کہ جو قربانی کر سکے کرے مگر فتوے کی رو سے نصاب کا مالک ہونا ضروری ہے۔ نصاب کیلئے کم و بیش وہی اصول ہیں جو زکوٰہ کیلئے ہیں سوائے اس کے کہ سال گزرنا شرط نہیں ہے‘ مثلا اپنے کھانے پینے کے سامان اور اپنا رہا ئش کا سامان اور وہ گھر جس میں رہائش پذیر ہے اور وہ سواری جسے ذاتی طور پر استعمال کرتا ہے اور وہ آلات جن سے خود کام کر کے کماتا ہے وغیرہ وغیرہ نصاب میں شامل نہیں‘ لیکن یہی اشیاء اگر اپنے استعمال سے زائد ہوں تو نصاب میں شامل ہیں۔ اسی طرح ٹی وی‘ وی سی آر‘ ڈش‘ گراموفون‘ پورٹریٹ‘ تصاویر‘ کیمرے‘ آلاتِ موسیقی وغیرہ نصاب میں شامل ہیں کیونکہ یہ انسان کی ضرورت اصلیہ میں سے نہیں ہیں بلکہ بعض تو آلات معصیت ہیں فورا تلف کر دینے چاہئیں۔ الغرض جو قربانی کی ہمت کر سکتا ہو اس کیلئے کرنا ہی مناسب ہے جیسا کہ حدیث سے معلوم ہوا‘ ہاں آخری حد یہ ہے کہ اگر نصاب کا مالک ہے تو پھر تو لامحالہ کرے۔
٥- مقیم ہونا؛ زکوٰۃ کے مقابلے میں اس مسئلے میں یہ شرط اس لئے لگائی گئی ہے کہ قربانی چند دنوں میں آتی ہے اور وقت بھی مقرر ہے‘ اگر مسافر پر واجب کی جائے تو اس میں حرج ہے‘ ہاں اگر سفر میں بھی موسر ہے تو احتیاطا کر دینا مناسب ہے‘ آجکل کے حالات کو مدنظر رکھا جائے کہ اکثر لوگوں کیلئے اپنے مال تک رسائی کیلئے سفر اور حضر برابر ہیں تو قربانی کرنا ہی مناسب معلوم ہوتا ہے' واللہ اعلم۔
پس جس میں وجوب قربانی کی تمام شرائط قربانی کے دنوں میں کبھی بھی پائی گئیں اس پر قربانی اسی وقت واجب ہو جائے گی ۔ شہر ہونے یا گاؤں ہونے میں‘ عورت ہونے یا مرد ہونے میں کوئی فرق نہیں سب پر قربانی ایک ہی طرح واجب ہے کیونکہ سنت میں اس کے فرق کا کہیں سراغ نہیں ملتا۔ گھر کے تمام افراد میاں بیوی‘ باپ بیٹا وغیرہ جو ان شرائط پر پورے اترتے ہیں سب پر علٰیحدہ علٰیحدہ قربانی واجب ہے کیونکہ سنت میں اس کے ایک ہونے کے بارے میں کچھ نہیں ملتا اور عبادت ہر کسی کے اپنے ادا کرنے سے ادا ہوتی ہے سوائے اس کے کہ شارع خود دوسری صورت کی اجازت دیں۔ ہاں جب قربانی کرے تب اپنے ان گھر والوں کو(ثواب میں) شامل کر لے جن پر قربانی واجب نہیں تھی مثلا بچے اور بیوی' جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک قربانی میں اپنی امت کے تمام لوگوں کو شامل کر لیتے جو قربانی نہ کر سکتے‘ ظاہر سی بات ہے وہ ثواب میں شامل کرتے تھے نہ کہ واجب کے ادا ہونے میں۔
قربانی کا وقت دس ذوالحج کی فجر سے بارہ کی مغرب تک ہے (امام شافعی رحمہ اللہ کے ہاں غالبا تیرہ ذوالحج کو بھی ہو سکتی ہے' لیکن بہرحال احتیاط وقت پر کرنے میں ہی ہے' بعض جگہ لوگ محض تعصب کی وجہ سے چوتھے دن کرتے ہیں' یہ انتہائی گمراہی ہے)۔ افضل پہلا دن ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ہمارا آج کا کام نماز پڑھنا ہے پھر قربانی کرنا ہے۔ دن اور رات سب میں قربانی جائز ہے (امام مالک رحمہ اللہ کے ہاں غالبا اندھیرے میں مکروہ ہے‘ لیکن اب حالات مختلف ہیں اس لئے اب شائد کراہت نہ ہو۔ واللہ اعلم)۔ بارہ ذوالحج کی مغرب سے پہلے پہلے ذبح کر لیا تو قربانی ہو جائے گی خواہ باقی کام بعد میں کئے۔ جہاں نماز عید ہوتی ہو وھاں نماز سے پہلے قربانی نہیں ہوتی‘ کر لی تو واجب ادا نہ ہوا عن جندب بن سفيان قال شهدت الأضحى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم يعد أن صلى وفرغ من صلاته سلم فإذا هو يرى لحم أضاحي قد ذبحت قبل أن يفرغ من صلاته فقال من كان ذبح أضحيته قبل أن يصلي أو نصلي فليذبح مكانها أخرى ومن كان لم يذبح فليذبح باسم الله (صحیح لمسلم‘باب وقت الأضحية) جندب بن سفیان فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قربانی (کی عید) کو پایا‘ پس واپس نہیں ہوئے کہ نماز پڑھی اور سلام پھیرا تو قربانی کا گوشت دیکھا جو کہ ذبح کی جا چکی تھی نماز سے فارغ ہونے سے پہلے۔ پس فرمایا جس نے نماز پڑھنے سے یا ہماری نماز سے پہلے ذبح کر لیا وہ اس کی جگہ ذبح کرے اور جس نے نہیں کیا پس وہ اللہ کا نام لیکر ذبح کرے۔ شہر کی کسی ایک مسجد میں نماز ہو جانا کافی ہے پورے شہر کیلئے۔ اگر نماز کے بعد اور خطبے سے پہلے ذبح کر دیا تو قربانی ہو جائے گی کیونکہ احادیث میں صرف نماز کی قید ہے‘ البتہ ایسا کرنا نہیں چاہئے کیونکہ بعض فقہاء اس کے قائل نہیں لہذا جب تمام فقہاء کے کہنے پر عمل ہو سکے تو یہی بہتر ہے۔ بعض فقہاء تو قائل ہیں کہ نماز پڑھانے والا امام ذبح نہ کر لے تب تک شروع نہ کریں۔ بہرحال اس معاملے میں جتنی احتیاط ہو سکے کریں۔
قربانی کے جانوروں کی عمریں مختلف ہیں؛ عن جابر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تذبحوا إلا مسنة إلا أن يعسر عليكم فتذبحوا جذعة من الضأن (صحیح لمسلم‘ باب الاضحیہ) جابر رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سال سے کم کا جانور ذبح نہ کرو سوائے اس کے کہ مجبوری ہو تو بھیڑ کا بچہ ذبح کرو۔
اس روایت میں مذکور لفظ ہے "مسنة" جس کا اطلاق بھیڑ بکری پر ہو تو معنی ہے ایک سال' گائے اور بھینس وغیرہ پر ہو تو معنی ہے دو سال اور اونٹ پر ہو تو معنی ہے پانچ سال۔ یہ کم از کم ہیں ورنہ بعض اہل لغت نے اس سے زائد عمریں بتائی ہیں۔ پس اس سے تمام اجناس کی عمریں واضح ہو گئیں۔ مزید روایات بھی ہیں لیکن اختصار کیلئے ایک ہی پر اکتفاء کرتے ہیں۔ بھیڑ میں چھ ماہ کی قید اس لئے لگائی کہ فقہائے کرام میں کم از کم عمر کا اختلاف ہے' پس امام ابو حنیفہ اور احمد بن حنبل رحمھما اللہ نے فرمایا چھ ماہ ہے' باقی کسی نے سات ماہ کہا کسی نے آٹھ۔ بہرحال کوشش کرنی چاہئے کہ آٹھ ماہ سے بڑی ہی ہو تاکہ اختلاف سے نکلا جا سکے۔ مذکورہ عمریں کم از کم ہیں جبکہ ان سے زائد عمر کی جائز ہے‘ دانت یا کوئی اور علامت شرعا مذکور نہیں ہے لہٰذا ان کا اعتبار نہیں ہاں تخمینے وغیرہ کیلئے استعمال کی جا سکتی ہیں ورنہ اصل اعتبار عمر کا ہی ہے۔
قربانی کے جانور میں نقص نہیں ہونا چاہئے۔ قال البراء قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أربع لا يجزئ في الضحايا العوراء البين عورها والمكسورة بعض قوائمها بين كسرها والمريضة بين مرضها والعجفاء التي لا تنقى (مستدرک للحاکم علی الصحیحین) براء رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چار جانوروں کی قربانی جائز نہیں؛ اندھا کہ جس کا اندھا پن واضح ہو‘ لنگڑا کہ جس کا لنگڑا پن واضح ہو‘ بیمار کہ جس کی بیماری واضح ہو‘ ایسا کمزور کی جس میں کچھ نہ ہو۔
پس یہ چیزیں تو واضح ہیں۔ فقہاء نے اس کی تفصیل میں مزید بھی کہا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ مثلا اگر سینگ جڑ سے ہی اکھڑ گیا ہو یا کان بالکل ہی کٹ گیا ہو یا دُم آدھی سے زائد غائب ہو تو بھی قربانی جائز نہیں۔ یہ تمام چیزیں تب کہ اگر پیدائشی طور پر تھیں اور بعد میں تلف ہوئیں اگر پیدائشی تھی ہی نہیں تو پھر کوئی مضائقہ نہیں۔ اسی طرح جسم پر ایسا زخم ہو کہ جس سے خون بہتا ہو یا بڑا زخم ہو کہ واضح ہو۔ ان تمام صورتوں میں تو قربانی ادا نہیں ہو گی اور وجہ یہ ہے کہ آپ اللہ تعالٰی کے سامنے قربانی پیش کر رہے ہیں اور یہ تمام نقائص جانور میں اس کی قدر و قیمت گھٹانے والے ہیں پس ان کے ذریعے قربانی پیش کرنا ٹھیک نہیں۔ ہاں کوئی اور بات ہو کہ جو فطری طور پر جانوروں میں عموما ہوتی ہے مثلا رنگ اچھا نہ ہو یا موٹا تازہ نہ ہو یا انکھ کان ناک دانت وغیرہ میں معمولی نقص ہو تو قربانی ہو جائے گی لیکن بہتر ہے کہ ایسا نہ کرے۔ اگر مذبحہ تک جاتے ہوئے زخم ہو گیا یا کوئی نقص پیدا ہو گیا اور تقریبا فورا بعد ذبح کر لیا تو قربانی ٹھیک ہو گئی۔
بڑے جانور میں سات حصے زیادہ سے زیادہ ہیں جبکہ اس سے کم لوگ بھی مل کر حصے دار بن سکتے ہیں‘ اور ان کے حصے مختلف مقدار میں بھی ہو سکتے ہیں مگر کم از کم حصہ ایک بٹا سات سے کم نہ ہو‘ مثلا ایک کا حصہ دو تہائی اور ایک کا ایک تہائی جائز ہے۔ گوشت تول کر تقسیم کیا جائے گا‘ اندازے سے نہیں کیونکہ یہ مال ربویہ میں سے ہے۔ کافی لوگ مل کر ایک سے زائد گائے یا اونٹ میں حصہ ڈال سکتے ہیں مثلا چھ لوگ مل کر دو تین چار یا پانچ جانور ذبح کریں‘ مگر سات سے زائد لوگ اشتراک نہیں کر سکتے خواہ کتنے ہی جانور ہوں‘ کیونکہ جتنے بھی لوگ ہوں گے ان سب کا ہر جانور میں برابر حصہ ہو گا لیکن اگر یہ لوگ سات سے بڑھ گئے تو کسی جانور سے بھی حصہ پورا نہیں ہو گا‘ پس اصول یہ ہے کہ جتنے جانور بھی مشترکہ ہوں گے تمام شراکت داروں کا ان سب میں برابر حصہ ہو گا‘ پس پندرہ لوگوں نے پندرہ گائیں ذبح کیں تو بھی قربانی نہیں ہوئی۔ اگر تین لوگوں نے ملکر تین بکریاں خریدیں اور مشترکہ قربانی کہ کر ذبح کر دیں تو قربانی ہو جائے گی‘ ظاہرا تو لگتا ہے کہ یہ چیز مذکورہ اصول کے خلاف ہے مگر کیونکہ بکری میں اصلا حصے ہیں ہی نہیں تو استحسانا ان میں اشتراک کو نہیں مانا جائے گا اور ہر ایک کو ایک ایک بکری دے دی جائے گی۔
اگر ایک حصہ دار فوت ہو گیا اور جانور ورثاء سے پوچھے بغیر ذبح کر دیا تو استحسانا قربانی ہو جائے گی کیونکہ اب اس قربانی (جو کہ ہو چکی ہے) سے کافی لوگوں کا تعلق جڑ چکا ہے‘ لیکن اگر قربانی سے پہلے کسی وارث نے روک دیا تو اب نیا حصہ دار ڈھونڈیں یا آپس میں تقسیم کریں اور فوت شدہ کی رقم ورثاء کو دیں۔ اگر غریب نے جانور خریدتے ہوئے اور لوگوں کو شامل کرنے کا ارادہ نہیں کیا تو بعد میں نہیں کر سکتا‘ ہاں امیر ہے تو کر سکتا ہے‘ بہتر یہی ہے کہ پہلے حصہ دار تلاش کر لئے جائیں پھر جانور خریدا جائے۔
جمہور فقہاء کے ہاں ایک ہی جانور میں قربانی اور عقیقہ وغیرہ کے حصے ہو سکتے ہیں‘ کیونکہ دونوں کا مقصد ایک ہے یعنی خون بہانا‘ پس اگر کسی نے نذر مان لی قربانی کی یا ایام نحر میں نفلی قربانی ہی کرنا چاہتا ہے یا حج کی واجب قربانی کرنا چاہتا ہے تو یہ تمام طرح کے لوگ ایک جانور میں شریک ہو سکتے ہیں۔ اگر حصے داروں میں سے ایک کی بھی نیت محض گوشت حاصل کرنے کی ہو یا صدقہ کرنے کی ہو یا ولیمہ کی ہو تو کسی کی قربانی ادا نہیں ہو گی کیونکہ خون بہنے کے حصے نہیں ہو سکتے پس سب کی جہت ایک ہو گی تو قربانی صحیح مانی جائے گی۔
قربان کرنے کے طریقے اور کچھ دوسرے مسائل انشاء اللہ آئندہ۔
مع السلام
ابو ابراہیم۔
Qurbani par is shandar mazmoon ke liye mubarakbad
Nehal SagheerOn Sep 25, 2013 1:51 AM, "Humayun Rasheed" <rana.humay...@gmail.com> wrote:----Please find attached if not readable here.الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی النبی و علی آلہ و اصحابہ۔
جاننا چاہئے کہ قربانی ایک عبادت ہے جوکہ اسلام کے علاوہ ملتوں میں بھی تھا۔ پس فرمایا تبارک و تعالٰی نے وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَكًا لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَى مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ فَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَلَهُ أَسْلِمُوا وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِينَ - الحج – ٣٤ اور ہم نے ہر اُمت کے لئے قربانی کا طریق مقرر کردیا ہے تاکہ جو مویشی چارپائے خدا نے ان کو دیئے ہیں (ان کے ذبح کرنے کے وقت) ان پر خدا کا نام لیں۔ سو تمہارا معبود ایک ہی ہے تو اسی کے فرمانبردار ہوجاؤ۔اورعاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنادو۔ پھر اللہ تعالٰی نے جانور قربان کرنے کومحل عبادت میں بیان کیا پس فرمایا کہ قُل إِنَّ صَلاتى وَنُسُكى وَمَحياىَ وَمَماتى لِلَّهِ رَبِّ العـٰلَمينَ - الأنعام - ١٦٢ کہ دیجئے کہ بے شک میری نماز میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ہی کیلئے ہیں جو کہ تمام جہانوں کا رب ہے۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے کہا کہ امام مجاھد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ نسک سے مراد قربانی ہے حج اور عمرہ کی‘ صاحب جلالین نے بھی اسی معنی کو لیا ہے۔ اور امام ثوری اور سدی نے سعید بن جبیر رحمھم اللہ اجمعین سے روایت کیا کہ ‘نسکی‘ سے مراد ہے میرا ذبح کرنا۔ اور امام ابن کثیر نے کہا کہ کفار بتوں کی پوجا کرتے تھے اور انہی کے نام کی قربانی کرتے تھے پس اللہ تعالٰی نے حکم دیا کہ آپ اس طرح کہیں کہ میری نماز اور میری قربانی۔۔۔ انتہٰی کلامہ اور اس معنی کو لینے کہ وجہ وہ روایت بھی ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روز عید الاضحی جانور کو ذبح کرنے لگتے تو اس آیت کو بطور نیت کے تلاوت فرماتے (عن ابن عباس عن جابر بن عبد الله قال ضحى رسول الله صلى الله عليه وسلم في يوم عيد بكبشين وقال حين ذبحهما وجهت وجهي للذي فطر السماوات والأرض حنيفا وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا أول المسلمين - ابن کثیر-البقرہ-١٦٣) جو اس بات پر دال ہے کہ یہاں مراد جانور کو قربان کرنا ہے ورنہ جمیع عبادات میں ان الفاظ کے ساتھ نیت مسنون طرز پر مذکور نہیں۔ گو کہ ‘نسکی‘ سے مراد حج اور عمرہ کے مناسک بھی لئے جا سکتے ہیں‘ اور بعض نے تو اس کا ترجہ ‘عبادتیں‘ کیا ہے‘ کہ فی نفسہ یہ ترجمہ جائز ہے لیکن ظاہرالفاظ سے قربانی ہی مراد ہے اور حج میں بھی مناسک اسی لئے کہا جاتا ہے کہ اس کا اختتام قربانی پر ہوتا ہے‘ ورنہ اللہ تعالٰی نے ‘نسک‘ کو حج سے علیحدہ قربانی کے معنی میں استعمال کیا پس جو آدمی کسی وجہ سے احرام باندھنے کے بعد حج نہ کر سکا اس کیلئے فرمایا فَمَن كانَ مِنكُم مَريضًا أَو بِهِ أَذًى مِن رَأسِهِ فَفِديَةٌ مِن صِيامٍ أَو صَدَقَةٍ أَو نُسُكٍ - البقرة - ١٩٦ پس جو کوئی تم میں سے مریض ہو یا اس کے سر میں بیماری ہو (اور بال کاٹنا چاہتا ہو) تو وہ فدیہ دے روزہ (کے ذریعے) یا صدقہ یا جانور کی قربانی (کر کے)۔ یہاں نسک کو واضح طور پر قربانی کیلئے استعمال کیا۔ پس ان تمام وجوھات کہ وجہ سے یہاں قربانی ہی معنی لینا سب سے ٹھیک ہے اور محض عبادت کہ لینا جائز ہے‘اور یہ بھی قربانی کے عبادت ہونے پر دلیل ہے۔
جانور کو اللہ کے نام پر ذبح کرنا بذات خود ایک عبادت ہے جیسا کہ فرمایا وَالبُدنَ جَعَلنـٰها لَكُم مِن شَعـٰئِرِ اللَّهِ لَكُم فيها خَيرٌ فَاذكُرُوا اسمَ اللَّهِ عَلَيها صَوافَّ فَإِذا وَجَبَت جُنوبُها فَكُلوا مِنها وَأَطعِمُوا القانِعَ وَالمُعتَرَّ كَذٰلِكَ سَخَّرنـٰها لَكُم لَعَلَّكُم تَشكُرونَ - لَن يَنالَ اللَّهَ لُحومُها وَلا دِماؤُها وَلـٰكِن يَنالُهُ التَّقوىٰ مِنكُم كَذٰلِكَ سَخَّرَها لَكُم لِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلىٰ ما هَدىٰكُم وَبَشِّرِ المُحسِنينَ - الحج - ٣٦-٣٧ اور قربانی کے اونٹوں کو بھی ہم نے تمہارے لئے اللہ کی نشانی بنایا ان میں تمہارے لئے فائدے ہیں۔ تو (قربانی کرنے کے وقت) قطار باندھ کر ان پر خدا کا نام لو۔ جب پہلو کے بل گر پڑیں تو ان میں سے کھاؤ اور قانع اور سائل کو بھی کھلاؤ۔ اس طرح ہم نے ان کو تمہارے لئے مسخر کردیا ہے تاکہ تم شکر ادا کرو - اللہ تک نہ اُن کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون۔ بلکہ اس تک تمہاری پرہیزگاری (یعنی خالص اللہ کیلئے کی گئی قربانی کی نیت) پہنچتی ہے۔ اسی طرح خدا نے ان کو تمہارا مسخر کر دیا ہے تاکہ اس بات کے بدلے کہ اس نے تم کو ہدایت بخشی ہے اس کی بڑائی بیان کرو۔ اور (اے پیغمبر) نیکوکاروں کو خوشخبری سنا دو۔
پس معلوم ہوا کہ قربانی سے اگرچہ کھانے کو ملتا ہے اور دوسرے منافع ہیں لیکن اللہ تک جو چیز پہنچی وہ خالص عبادت ہے کیونکہ اگر خود بھی ذبح کر کے کھا لیا تو بھی عبادت ادا ہو گئی پس کسی دوسرے کو نفع پہنچنا ضروری نہیں اسی لئے دوسروں کے نفع کو اس عبادت کی علت بنانا جائز نہیں۔
عبادت کا یہ اصول ہے کہ وہ اسی طرح ادا کی جائے جیسا کہ کہا گیا ہے‘ اس کہ صورت بدلنا یا حیلے بہانوں سے نئی نئی باتیں نکالنا اور عبادت کی اصلی ہئیت کو بدلنا جائز نہیں۔ علامہ کاسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کوئی بھی چیز اس (یعنی قربانی) کی قائم مقام نہیں بن سکتی یہاں تک کہ اگر بعین یہی بکری (جو قربان کرنی تھی) یا اس کی قیمت صدقہ کر دی قربانی کے دنوں میں تو یہ قربانی کے مقابلے میں کافی نہیں کیونکہ وجوب کا تعلق خون بہانے سے ہے اور اصل بات یہی ہے کہ جب وجوب کسی خاص فعل سے متعلق ہو جائے تو پھر کچھ بھی اس کا قائم مقام نہیں ہو سکتا جیسا کہ نماز روزہ وغیرہ (أن لا يقوم غيرها مقامها حتى لو تصدق بعين الشاة أو قيمتها في الوقت لا يجزيه عن الاضحية لان الوجوب تعلق بالاراقة والاصل ان الوجوب إذا تعلق بفعل معين أنه لا يقوم غيره مقامه كما في الصلاة والصوم وغيرهما– بدائع الصنائع‘ باب الاضحیہ)۔
اللہ تعالٰی نے ابراہیم علیہ السلام کی قربانی قبول فرمائی فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ ۔ وَنَادَيْنَاهُ أَن يَا إِبْرَاهِيمُ ۔ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ۔ إِنَّ هَـٰذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينُ ۔ وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ ۔ وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ ۔ الصافات ۔ ١٠٣ تا ١٠٨ جب دونوں نے حکم مان لیا اور (باپ نے بیٹے کو) ماتھے کے بل لٹا دیا‘ تو ہم نے ان کو پکارا کہ اے ابراہیم‘ تم نے خواب کو سچا کر دکھایا۔ ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں‘ بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی‘ اور ہم نے ایک بڑی قربانی کو ان کا فدیہ دیا‘ اور پیچھے آنے والوں میں اسے باقی رکھا۔ پس اس ذکر خیر میں قربانی بھی شامل ہے۔ عن زيد بن أرقم قال قلت أو قالوا يا رسول الله ما هذه الأضاحي قال سنة أبيكم إبراهيم قالوا مالنا منها قال بكل شعرة حسنة قال فالصوف قال بكل شعرة من الصوف حسنة (مسند احمد) زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے کہا یا لوگوں نے کہا یا رسول اللہ یہ قربانی کیا ہے؟ فرمایا یہ تمہارے باپ ابراہیم کی سنت ہے‘ کہنے لگے ہمارے لئے اس میں کیا ہے؟ تو فرمایا ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی‘ کہنے لگے اون والے جانور کے بارے میں؟ فرمایا اون کے بھی ہر ریشے پر ایک نیکی۔
احادیث میں قربانی کے بہت سے فضائل وارد ہوئے ہیں۔ عن عمران بن حصين أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال يا فاطمة قومي إلى أضحيتك فاشهديها فإنه يغفر لك عند أول قطرة تقطر من دمها كل ذنب عملتيه وقولي إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا أول المسلمين‘ قال عمران قلت يا رسول الله هذا لك ولأهل بيتك خاصة فأهل ذاك أنتم أم للمسلمين عامة؟ فقال لا بل للمسلمين عامة۔ مستدرک حاکم‘ کتاب الاضاحی۔ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے فاطمہ اپنی قربانی کے جانور کے پاس کھڑی ہو جاؤ اور اسے دیکھو کہ اس کے خون کا پہلا قطرہ بہتے ہی تمہارے تمام گناہ معاف ہو جائیں گے اور کہو إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا أول المسلمين‘ کہا عمران رضی اللہ عنہ نے کہ میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا یہ آپ اور آپ کے اہل بیت کیلئے خاص ہے‘ کیا آپ ہی اس کے اہل ہیں یا تمام مسلمانوں کیلئے؟ پس فرمایا تمام مسلمانوں کیلئے۔
یہی روایت سعید ابن خدری رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے۔ اسی روایت کو علی رضی اللہ عنہ سے بھی روایت کیا گیا ہے (بدائع الصنائع‘ کتاب الاضحیہ) اور اس میں یہ الفاظ زائد ہیں ۔۔۔ مغفرة لكل ذنب أما إنه يجاء بدمها ولحمها فيوضع في ميزانك وسبعون ضعفا ۔۔۔ یہ مغفرت بن جائے گا تمام گناہوں کا اور اس کا گوشت اور خون میزان میں ستر گنا تک وزنی ہو جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عظموا ضحاياكم فإنها على الصراط مطاياكم (المبسوط للسرخسی‘ باب الاضحیہ) تمہاری قربانی کی ہڈیاں بے شک بل صراط پر تمہاری سواریاں ہوں گی۔
دس ذی الحج کو قربانی سے بڑھ کر کوئی عبادت نہیں'عن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ما عمل آدمي من عمل يوم النحر أحب إلى الله من إهراق الدم إنها لتأتي يوم القيامة بقرونها وأشعارها وأظلافها وأن الدم ليقع من الله بمكان قبل أن يقع من الأرض فطيبوا بها نفسا قال وفي الباب عن عمران بن حصين وزيد بن أرقم (سنن الترمذی۔ باب ما جاء في فضل الأضحية) عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یوم نحر میں انسان کا کوئی بھی عمل اللہ کے نزدیک خون بہانے سے بڑھ کر نہیں ہے‘ بے شک یہ (قربان شدہ جانور) قیامت کے دن لایا جائے گا اپنے سینگوں کے ساتھ‘ بالوں کے ساتھ اور کھروں کے ساتھ (تاکہ میزان میں تولا جا سکے)‘ پس یہ خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کے ھاں مقام پا لیتا ہے پس اسے اختیار کرو۔
سب کو معلوم ہے کی قربانی دراصل اس عظیم واقعہ کی یاداشت ہے جو کہ خلیل اللہ اور ذبیح اللہ علیھم السلام کے ساتھ پیش آیا ا ور اللہ تعالٰی نے بیٹے کی بجائے جانور کی قربانی مقرر کی لہٰذا اسی کے پیش نظر جانور سے کچھ دنوں میں انسیت پیدا کر لے تاکہ قربانی کا جذبہ محسوس ہو‘ ہم نے اس دور میں بھی ایسے اللہ والوں کا حال سنا ہے جو سال پہلے جانور خرید کر اتنا مانوس کر لیتے ہیں کہ جانور ان کی آواز پہچانتا ہے اور ان سے اولاد کی طرح مانوس ہوتا ہے یہاں تک کہ ادھر قربان کرتے ہیں اور ادھر اسی انسیت کی بناء پر انسو ٹپکتے ہیں اور محسوس کرنے کو ملتا ہے کہ یہ تو جانور ہے اور ابراہیم علیہ السلام نے جب لخت جگر کو لٹایا ہو گا تو کیا گذری ہو گی‘ یوں قربانی ہی نہیں فلسفہ قربانی پر بھی عمل ہو جائے گا۔ یہ دراصل اس بات کا اعادہ ہے کہ کبھی بھی قربانی دینی پڑی تو دیں گے۔
عید الاضحٰی پر قربانی کرنا امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک (اور امام مالک رحمہ اللہ کے ایک قول کے مطابق بھی) واجب ہے اور باقی آئمہ کے نزدیک سنت (مؤکدہ) ہے' اور اس اختلاف کی صرف یہ وجہ ہے کہ دوسرے فقہاء کے نزدیک فرض اور سنت کے درمیان کوئی درجہ نہیں ورنہ تمام فقہاء اس کے لازم ہونے کے قائل ہیں۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک اس کا حکم اس آیت میں مذکور ہے فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ الكوثر ٢ تو اپنے پروردگار کے لیے نماز پڑھا کرو اور قربانی دیا کرو۔ اس کی تفسیر میں نماز کو عید کی نماز اور نحر کو قربانی کہا گیا ہے‘ دیکھئے ابن کثیر وغیرہ۔ بعض مفسرین کے ھاں نحر کا تعلق نماز سے ہی ہے‘ جبکہ امام کاسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر دو الفاظ جو اکٹھے استعمال ہوں تو علیحدہ معنوں پر محمول کرنا فصاحت و بلاغت کے زیادہ قریب ہے (یہ بات مختلف فیہ نہیں بلکہ علمائے ادب و بلاغت کے ھاں متداول ہے‘ فرق صرف موقع محل کا ہے) لہٰذا وہ تفسیر جو اس اصول سے زیادہ موافق ہے وہی ہمارے ھاں اولٰی ہے (بدائع الصنائع للامام الکاسانی‘ باب الاضحیہ)۔ دوسری دلیل یہ کہ عن ابن عمر قال أقام رسول الله صلى الله عليه وسلم بالمدينة عشر سنين يضحي (مسند الإمام أحمد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں دس سال قیام کیا اور قربانی کرتے۔ تیسری دلیل؛ قربانی کرنے کیلئے صیغہ امر کا استعمال ہے جیسا کہ فرمایا ضحوا فانها سنة أبيكم ابراهيم عليه الصلاة والسلام (ابن ماجہ ثواب الاضحیہ‘ بیہقی کتاب الضحایا)قربانی کرو کیونکہ یہ تمہارے آباء ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ اور امر وجوب پر دلالت کرتا ہے اگر مطلقا ذکر ہو۔ عن حنش عن علي رضي الله عنه قال أمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أضحي عنه فأنا أضحي عنه أبدا (مسند الإمام أحمد) علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ قربانی کروں‘پس تب سے میں ہمیشہ قربانی کرتا ہوں۔ چوتھی دلیل زجر ہے‘ فرمایا من لم يضح فلا يقربن مصلانا (حاکم‘ ابن ماجہ باب الاضاحی واجبہ ام لا‘ دارقطنی باب الصید والذبائح‘ بیہقی کتاب الضحایا) جو قربانی نہ کرے وہ ہرگز ہمارے مصلے یعنی عید گاہ کے قریب بھی مت آئے۔ اور وعید اس کے واجب ہونے پر دلالت کرتا ہے کیونکہ وعید کسی ضروری امر کو چھوڑنے پر ہی ہو سکتی ہے۔ پانچویں دلیل اس کی قضاء پر ہے‘ فرمایا من ذبح قبل الصلاة فليعد أضحيته ومن لم يذبح فليذبح بسم الله (بیہقی کتاب الضحایا)جس نے نماز سے پہلے قربانی کر دی وہ قربانی لوٹائے اور جس نے نہیں کی وہ اللہ کا نام لے کے کرے عمل کے لوٹانے کا ضروری ہونا اس کے واجب ہونے کی دلیل ہے ورنہ لوٹانے کا حکم نہ دیا جاتا۔
حديث أم سلمة أنه قال إذا دخل العشر فأراد أحدكم أن يضحي فلا يأخذ من شعره شيئا ولا من أظفاره سے استدلال کرنا کہ قربانی کرنا اور نہ کرنا جائز ہیں یہ مناسب نہیں کیونکہ یہاں مخاطب وہ ہیں جن پر قربانی واجب ہے‘ انہیں ایک ادب سکھایا جا رہا ہے کہ جب قربانی کا ارادہ کر لو تو بال اور ناخن نہ کاٹو۔گو کہ یہ لغت کی آسان سی بات ہےلیکن اب لوگ ضد پر آگئے ہیں تو قرآن سے مثال بھی دیکھ لیں‘ اللہ تعالٰی وضو کے بارے میں فرماتے ہیں؛ إِذا قُمتُم إِلَى الصَّلوٰةِ فَاغسِلوا وُجوهَكُم ۔۔۔ الخ المائدة – ٦ جب تم نماز کیلئے کھڑے ہو تو چہروں کو دھو ۔۔۔ الخ اب اس سے یہ استدلال کرنا کہ نماز پڑھنا نہ پڑھنا جائز ہے‘ درست نہیں‘ کیونکہ نماز کی فرضیت کیلئے اور دلائل ہیں یہاں تو اس شخص کا بیان ہے جو نماز کی نیت سے کھڑا ہونا چاہ رہا ہے نہ کہ یہاں یہ بتایا جا رھا ہے کہ چاہو تو نماز پڑھو چاہونہ پڑھو۔ اگر آپ کی ضد یہ ہے کہ بعین آپکی مرضی کے الفاظ میں حدیث ہونی چاہئے تو ہم معذور ہیں ورنہ حدیث ام سلمہ رضی اللہ عنھا بعین یہی مفہوم دے رہی ہے کہ ‘اذا اردتم الاضحیہ ۔۔۔
اسی طرح جو کہا جاتا ہے کہ بعض اوقات صدیق اکبر اور فاروق اعظم رضی اللہ عنھما نے قربانی نہیں کی تو عین ممکن ہے تب وہ صاحب نصاب نہ ہوں پس یہ ظاہر کرنے کیلئے نہ کی ہو کہ ادھار نہیں لینا اگر وسعت ہے تو کرے ورنہ نہ کرے۔
الغرض‘ قربانی ایک عبادت ہے جو کہ خوش دلی سے ادا کرنی چاہئے اور اللہ تعالٰی سے اجر کی امید رکھنی چاہئے۔ اس سے متعلق دوسری باتیں ان شاء اللہ آئندہ بیان ہوں گی۔
مع السلام
ہمایوں رشید۔
To Join and post in BazmEQalam ,click the following link
https://groups.google.com/forum/#!forum/BAZMeQALAM
To Join and post in BazmEQalam ,click the following link
https://groups.google.com/forum/#!forum/BAZMeQALAM