ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ

125 views
Skip to first unread message

Firoz Hashmi

unread,
Aug 15, 2021, 11:42:30 AM8/15/21
to Bazm E Qalam Groups
ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ
 ➗ ➗فیروزہاشمی
ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہے؟
سب سے پہلے ہماری منفی سوچ کسی بھی میدان میں ترقی کرنے میں رکاوٹ ہے۔ اور افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ یہ ہمیں وراثت میں ملی ہوتی ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ نہ ہم بڑا سوچتے ہیں اور ہمت جٹا پاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ہم آپسی چپقلش شکار ہوتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کے لئے بڑی بڑی پریشانیاں اٹھاتے ہیں اور اُن چھوٹی ضرورتوں کو ہم بڑی کامیابی تصور کرتے ہیں۔ یہ چھوٹی اور منفی سوچ نے ہمیںکچھ بڑا نہیں کرنے دیا۔ اس کی معمولی مثالیں گلیوں سڑکوں پر ناجائز قبضے ،ذاتی کسی بھی مقصد کے لئے استعمال کرنا اور گندگی پھیلانا، اُس پر اپنا حق جتانا اور آپس میں لڑائی جھگڑے اور مغلظات کے ذریعہ جسمانی اور دماغی ایذا رسانی وغیرہ۔
اگر مذکورہ چھوٹی اغراض کو چھوڑ دیا جائے تو اب تین اور بنیادی وجوہات ہیں 
۱۔انانیت یا Ego ۲۔ شرم ۳۔ شک
انانیت  ’’وہ ہمیں کیا سکھائے گا‘‘ ……
انسان اگر سیکھنا چاہے تو پانچ سال کے بچہ سے بھی سیکھ سکتا ہے۔ ……ایک چھوٹی مثال لیجیے موبائل فون۔ ……جس کے بہت سے فنکشن آپ نہیں جانتے جسے آپ اپنے بچے یا ناتی پوتے سے پوچھتے ہیںاور سیکھتے ہیں۔  آخر کیوں؟ ……اِسی لئے نا کہ وہ ان فنکشنز کو جان چکے ہیں اور آپ نہیں جانتے۔……  لیکن اگر یہ باتیں دیگر کسی میدان میں اپنے ہم عمر یا کچھ چھوٹے سے سیکھنا ہو تو آپ کی سوچ عموماً کیا ہوتی ہے؟ ……کبھی آپ نے غور کیا ہے؟ ……اگر نہیں کیا ہے تو کر لیجیے اور سیکھیے جو آپ نہیں جانتے۔…… قرآن مجید بھی یہی سکھاتا ہے
 وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِمْ  ۚ   فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ       (سورۃ النحل، آیت ۴۳)
ترجمہ اور ہم نے نہیں بھیجا آپ سے پہلےکسی کو مگر لوگوں میں سے ہی، اُن کی طرف ہم نے وحی کی۔ …… ’’پس اپنے جاننے والوں سے پوچھو اگر تم لوگ نہیں جانتے ہو تو۔‘‘
مطلب اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ بطور نبی انسانوں کو ہی بھیجا کسی اور مخلوق کو نہیں۔ لہٰذا اگر تم نہیں جانتے ہو تو اس میدان کے ماہر سے پوچھو۔ وہی تمہاری درست رہنمائی کر سکتا ہے۔
 اتنی واضح ثبوت کے باوجود ہمارے معاشرے کا رویّہ کیسا ہے؟ عموماً لوگ کسی بھی قسم کے سوال یا ضرورت کو کسی سے بھی بیان کر دیتے ہیں۔ اور آپ جانتے ہیں کہ ہمارے یہاں مشورہ دینے میں لوگ کسی قدر جلدی کرتے ہیں۔ اور بعض لوگ تو بغیر مشورہ مانگے مشورہ دیتے رہتے ہیں۔ اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے جس میدان کے بھی آپ ماہر بننا چاہتے ہیں یا ضرورت ہے تو اُس میدان کے ماہر سے آپ رابطہ کرنا ہی پڑے گا۔ ورنہ آپ ہر ایک سے مشورہ کرکے اپنی مالی اور جسمانی نقصان تو اٹھائیں گے ہی  اُلٹا اس معاملہ میں بھی آپ کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ بلکہ نقصان ہو سکتا ہے۔ سسٹم کو جاننا پڑے گا۔ ingredients یعنی مشمولات کو جاننا اور سمجھنا ہی پڑے گا تب ہی آپ کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ ego ہمار ی زندگی میں ترقی کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ ego اپنی زندگی سے نکال دیجے۔ ……’’ہو جائے گا۔ کردے گا، کردیں گے، کروں گا۔ کریں گے،‘‘ کو نکال دیجیے۔ آپ کو سکھانے والا مل جائے گا۔ آپ سیکھنے والے بنو۔ آج ورچوئل لرننگ کا زمانہ ہے۔ آپ سیکھنے والا بنئے تب ہی آپ ایک اچھا سکھانے والا بنیں گے۔
شرم  …… ’’اب ہم اُس سے سیکھنے جائیں؟‘‘ ……لوگ کیا کہیں گے؟……
جب آپ ایک ساتھ بیٹھ کر ٹی وی دیکھ سکتے ہیں، …ایک ساتھ بیٹھ کر تاش کھیل سکتے ہیں، …شراب نوشی کر سکتے ہیں، …فلم ہال میں فلم دیکھ سکتے ہیں؟ …جب کہ وہاں بھی کچھ نہ کچھ سیکھتے ہیں۔ …وہاں تو شرم نہیں آتی؟ …… پھر نیا فن سیکھنے میں کیوں شرم آتی ہے؟ …… کیا آپ نے کسی فلم کے ایکٹر یا ایکٹرس کو اپنے رشتہ دار کے ساتھ فلم کے پردے پر دیکھا ہے؟  اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے تو یہ اُن کا پیشہ ہے۔ جس کے ذریعہ وہ پیسہ کماتے ہیں نا کہ اُن کا کلچر جس میں وہ زندگی گزارتے ہیں۔ کیا باپ، بیٹا، بہو، بیٹی، ایک ہی پیشہ سے نہیں ہوتے؟ …… وہاں تو سیکھنے میں شرم محسوس نہیں کرتے؟ …… آپ خود دیکھیں، ڈاکٹر، وکیل، انجینئر، اینٹ بھٹہ پر کام کرنے والے، راج مستری اور لیبر، ہفتہ واری بازاروں میں کپڑا بیچنے والے، مسالہ بیچنے والے، سبزی بیچنے والے، کپڑوں میں پریس کرنے والے، میڈیکل اسٹور پر دوائی دینے یا بیچنے والے وغیرہ تو آپس میں مل کر اپنے تجارت اور ہنر کے ذریعہ سرمایہ کما رہے ہیں۔ اور ہم؟؟؟
ہم کو شرم دلایا جاتا ہے …… کیا ……؟  آپ مولوی ہو کر پینٹ شرٹ پہنتے ہیں؟ …… آپ کے پیچھے نماز کیسے پڑھ سکتے ہیں؟  …… ارے… یہ کیسا کرتا پاجامہ والا ڈاکٹر ہے!!! …… افسوس ہم ابھی اِس طرح کی چھوٹی چھوٹی سطحی سوچ سے باہر نہیں نکل پائے ہیں۔ …… جب ایک مولوی منہ میں گٹکھا مسالہ بھرے محلّے میں پھرتا ہے تو اُسے شرم نہیں آتی…!!  اور نہ عوام کو …… بیڑی پیتا ہے اور اُس کے جسم سے کراہت والی بو آتی ہے تب بھی اُس مولوی کو شرم نہیں آتی…… …!!  یہاں تک کہ اُس مولوی کے پیچھے نماز ادا کرنا یا اُس سے گفتگو کرنے پر بھی کراہت محسوس ہوتی ہے …… …تب بھی لوگوں کو اور اُس مولوی کو شرم نہیں آتی!! ……چند سکّوں کے حصول کے لئے جھوٹ بولتا ہے، …… عام لوگوں کو بھوت پریت سے ڈراتا ہے تو شرم نہیں آتی …!! …
ایک ڈاکٹر جھوٹی پرچیاں لکھتا ہے، جھوٹے ٹیسٹ کراتا ہے …… سگریٹ نوشی ، تمباکو خوری، شراب نوشی کرتا ہے …… تب بھی شرم نہیں آتی۔ …… جائز اور حلال طریقے اپنانے میں کیوں شرم آتی ہے؟ …شرعی اصولوں کو اپنانے میں  …… کیوں شرم آتی ہے؟
سماج کی ایک پریشانی یہ بھی ہے کہ اُسے ہر چیز کو پیسے سے تولنے کی عادت پڑ چکی ہے۔ ……جتنی زیادہ قیمت اتنا عمدہ کپڑا یا لباس۔ ……جتنا مہنگا اسکول کی تعلیم اتنی زیادہ پیسے کمانے والی نوکری۔ ……جنتی مہنگی دوائی اور ٹیسٹ اُتنا بڑھیا علاج۔ …… جتنے زیادہ نذرانہ دے کر مولوی پنڈت کو کسی مذہبی کام کے لئے بلایا جاتا ہے اُس میں اتنا ہی فائدہ سمجھ میں آتا ہے ……  جتنی مہنگی گاڑی ، سماج میں اُتنی زیادہ عزت۔ ……جتنا زیادہ دکھاوا، اُتنی زیادہ کمائی۔ یا لوگوں پر رُعب۔ بلکہ کچھ لوگوں نے یہ محاورہ عام کر رکھا ہے  ’’جتنا گُڑ ڈالوگے، اتنا میٹھا ہوگا۔‘‘ شک میں اتنے زیادہ مبتلا ہیں کہ عموماً غلط دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں۔
شک  برسوں کی ریسرچ پر شک۔ اگر طور طریقہ سادگی والا ہو تو اُس پر شک جیسے کہ سابق صدر جمہوریہ میزائل مین اے پی جے عبدالکلام مرحوم کے بارے میں لوگوں نے نہ جانے کیا کیا منفی رائے قائم کی۔ جس کا کوئی ثبوت پیش کر پانا مشکل ہے۔ اور اکثر لوگ پیش نہیں کر پائے۔ یہاں تک کہ اپنے لوگوں کے کئے کارناموں پر اپنے ہی لوگوں کا شک۔ جیسے وپرو لمیٹڈ کے چیئرمین عظیم ہاشم پریم جی کے بارے میں۔ دنیا کی دوسری قوم  اُن کی کوششوں اور کاوشوں کو پسند کر رہی ہے۔ سراہ رہی ہے۔ اُن سے استفادہ کر رہی ہے۔ اُن کے منصوبوں میں شامل ہو رہی ہے۔ ……  ہمیں اُن کے عقیدہ اور طور طریقے پر شک ہے۔ اور ایسے ایسے شکوک شبہات کا اظہار کیا جاتا ہے جیسے ہم جان کے انجان بنے ہوئے ہیں۔
ہم قرآن و حدیث جانتے نہیں، پڑھنا سیکھتے نہیں ، اصول و قوانین کو نہ جانتے نہ سیکھتے۔ پھر بھی سکھانے اور بتانے والے پر شک۔ یہی وجہ ہے ایسے شکی لوگوں کو گمراہ کرنے والے رہبر بھی ملتے ہیں۔ برسوں وہ اُلجھائے رکھتے ہیں۔ تعلیم میں صحیح رہنمائی نہیں ملتی، بیماری میں صحت کے اصولوں پر کاربند معالج نہیں ملتے، سماجی مسئلے میں قانونی سمجھ نہیں اور رہنمائی نہیں ملتی۔ ……نتیجہ جانوروں والی زندگی۔ جاگتے ہیں اُس وقت جب بھوک لگتی ہے۔ جب پیٹ بھر جاتا ہے تو سو جاتے ہیں۔ نہ حقوق اللہ کی سمجھ اور ادائیگی۔ نہ حقوق العباد کی سمجھ اور ادائیگی۔ اگر یہ سمجھ ہے تو کتنے فیصد لوگوں میں ……؟
اپنے اوپر بھروسہ کرنا سیکھیے۔ یہ کیا نہیں،…  وہ ہوا نہیں … یہ ملا نہیں  …وہ رہا نہیں … اِس طرح کی باتوں اور سوچ سے نکلیے۔ اپنے آپ کو اصولوں پر کاربند کیجیے۔ اور انسان ہیں تو زندگی انسانوں کی طرح گزاریے۔  …کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ساری مخلوق میں انسان کو اشرف بنایا ہے۔
۱۵؍اگست ۲۰۲۱ء    مطابق    ۵؍محرم الحرام ۱۴۴۳ہجری
فیروزہاشمی، ڈائی بی ٹیز ایجوکیٹر اینڈ نائس
9811742537

--
Mohammad Firoz Alam 
Diabetes Educator & N.I.C.E
Health & Nutrition Consultant
......................................................
Resi.  Shanti Vihar, Mangal Bazar, 
          Chipiyana Khurd Urf Tigri, 
          Gautam Budh Nagar (UP) 201307 INDIA

Mobile: 91-98117 42537
Google Talk : firoz...@gmail.com
WebSite       : https://foreverliving.com/
                    : www.inpage.com




Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages