نواب محسن الملک کا خط بنام سر سید احمد خان

62 views
Skip to first unread message

Bazm e Qalam

unread,
Dec 16, 2011, 4:25:16 AM12/16/11
to 1 بزم قلم

جب سرسید نے اپنی تفسیر القرآن شائع کی تو اس پر مخالفت اور موافقت کا ایک طوفان کھڑا ہو گیا۔ جو موافق تھے وہ اسے بے نظیر اسلامی اور دینی خدمت بتاتے تھے اور جو مخالفین تھے وہ دو حصوں میں منقسم ہو گئے تھے۔ ایک وہ جنہوں نے سب و شتم اور دشنام دہی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی، دوسرے وہ جنہوں نے متانت و سنجیدگی اور سلاست و روانی کے ساتھ سرسید کے پیش کردہ مسائل پر تنقید اور تبصرہ کیا۔ اس آخر الذکر گروہ میں نواب محسن الملک سب سے پیش پیش تھے

 نواب محسن الملک کا خط  بنام سر سید احمد خان 

نواب محسن الملک بنام سر سید احمد خان

9 اگست 1892ء  حیدرآباد دکن

جناب عالی!
   
آج کل میں آپ کی تفسیر دیکھ رہا ہوں جسے درحقیقت اب تک اچھی طرح بلکہ سرسری طور پر بھی نہ دیکھا تھا اور اس کے نہ دیکھنے کا سبب آپ سے کہہ بھی دیا تھا۔ غالباً آپ اس بات سے تو خوش نہ ہوں گے کہ میں اب تک آپ کی رایوں سے اتفاق نہیں کرتا اور ہر بحث میں اسے قرآن کی وہ تفسیر جس کو کوئی قرآن کے مطالب کی تشریح اور تفصیل اور تفسیر سمجھے، نہیں سمجھتا۔ بلکہ اکثر جگہ تفسیر کو تفسیر القول بما لایرضی بہ قائلہ (یعنی کسی قول کی ایسی تفسیر کرنا جو اس کے کہنے والے کا مقصد نہ ہو۔ اسماعیل) تصور کرتا ہوں۔ مگر اس میں شبہ نہیں ہے کہ جس مضمون کو آپ نے لکھا ہے، ایسی عمدگی اور خوبی اور صفائی سے بیان کیا ہے کہ اگر آدمی نہایت ہی راسخ الاعتقاد نہ ہو تو ضرور اس کی تصدیق کرنے لگے اور بلاشبہ ایک جادو کئے ہوئے آدمی کی طرح آمنا و صدقنا پکارنے لگے۔ واقعی خدا نے دل کے حالات کو الفاظ میں ادا کرنے اور تحریر میں لانے کی عجیب حیرت انگیز قوت اور طاقت آپ کو دی ہے کہ اگر اسے جادو کہیں یا سحر تو بے محل نہ ہو۔ مگر افسوس ہے کہ آپ نے ان مسائل کو جو آج کل یورپ کے وہ تعلیم یافتہ لوگ جو مذہب کے پورے پابند اور معتقد نہیں ہیں، صحیح اور یقینی اور غیر قابل الاعتراض سمجھتے ہیں، مان لیا اور قرآن کی آیتوں کو، جن میں ان کا ذکر ہے، ایساتاویل کر دیا کہ وہ تاویل ایسے درجے پر پہنچ گئی کہ اس پر تاویل کا لفظ بھی صادق نہیں ہو سکتا۔ آپ نے مسلمان مفسروں کو تو خوب گالیاں دیں اور برا بھلا کہا اور یہودیوں کا مقلد بتایا، مگر آپ نے خود اس زمانے کے لامذہبوں کی باتوں پر ایسا یقین کر لیا کہ ان کو مسائل محققہ صحیحہ یقینیہ قرار دے کر تمام آیتوں کو قرآن کی ماول کر دیا۔ اور لطف یہ ہے کہ آپ اسے تاویل بھی نہیں کہتے (تاویل کو تو آپ کفر سمجھتے ہیں) بلکہ صحیح تفسیر اور اصلی تفسیر قرآن کی سمجھتے ہیں۔ حال آں کہ نہ سیاق کلام، نہ الفاظِ قرآنی، نہ محاوراتِ عرب سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ اگر آپ میرے اس شبہے کو کسی طرح دور کر سکیں تو مجھے ایسی خوشی ہو کہ کسی اور چیز سے نہ ہو۔ اس لئے کہ اکثر مقامات اس کے ایسے عمدہ اور پاکیزہ اور اعلیٰ درجے کے ہیں کہ بعد قرآن و حدیث کے اگر کوئی اسے وردِ زبان کرے اور دل پر نقش تو دنیا میں عالم اور سچا مسلمان ہو اور عاقبت میں ان ثوابوں کا مستحق جو سچے مسلمانوں کے لئے خدا نے مقرر کئے ہیں۔
محسن الملک


Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages