ایک سینئر صحافی کی جانب سے صحافتی برادی کو کھلا خط

3 views
Skip to first unread message

BBC NEWS

unread,
Feb 11, 2012, 3:44:15 PM2/11/12
to presspakistan, presspakistan, media-tribe, anjumnews, aghahassansyed, Anjum News

کھلا خط
محترم جناب صحافی صاحبان صحافت ایک مقدس پیشہ جو صیحفہ کی شکل میں آسمان
سےزمین پر اتری ہے اس مقدس پیشے کواگرایمانداری سے پورا کیا جائے تو
انسان کو اللہ تعالیٰ بھی بغیر کسی حساب کے جنت میں داخل کردے گا اگر اس
پیشے سے ہی بد دیانتی کی جائے تو پھر جہنم انسان کا مقدر بن جاتی ہے
جناب عالیٰ صحافی ایک ایسا انسان ہے جو بڑی مشکل تگ ودو اور محنت سے
خبریں ڈھونڈتا ہے اور اپنے ادارے سے وفاداری نبھاتے ہوئے اس کو خبریں
ارسال کرتا ہے مگر جب اسی صحافی پر کوئی مشکل یا مصیبت آتی ہے تو ادارے
اس کی کوئی مدد نہیں کرتے اور نہ اس کیلئے کوئی جدوجہد کی جاتی ہے اس
مشکل ک گھڑی میں وہی صحافی اکیلا کھڑا ہوتا ہے جی ہاں یے صحافت ہمارے
پیارے پاکستان کی ہے جہاں پر سیکڑوں صحافی اپنے فرائض نبھاتے ہوئے شہید
ہوگئے مگر مالکان نے ان کی کوئی مدد نہ کی اور سیکڑوں صحافیوں پرناجائز
مقدمات درج ہوئے انہیں جیلوں کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں مگر کسی نے اس
کی مدد نہ کی پاکستان کے اندر قائم ہونے والی جمہوری حکومتوں نے ہمیشہ
کالی وردی کی مدد سے عوام پر حکمرانی کیاور سچ لکھنے والے صحافیوں کو
زیرعتاب لایاگیا میں بھی ایک صحافی ہوں جو عرصہ32سالوں سے متعدد اداروں
سے منسلک ہوکر صحافتی فرائض سرانجام دے رہا ہوں میں نے ہمیشہ حق وسچ لکھا
ہے اور اسی پاداش میں اپنا سب کھچ گنوا بیٹھا ہوں آج میرا زاتی مکان بھی
نہ ہے میں اس مقدس پیشے کی خاطر کرایہ کے مکان میں بیٹھا ہوں میری کوئی
اولاد نرینہ بھی نہ ہے میں نے صحافت کا آغاز مشرق اور امروز سے کیا ہے
میرے والدین ایک چھوٹا بھائی اور جواں سالہ بیٹی بھی فوت ہوچکے ہیں میری
دو بیٹیا ہیں ایک کی شادی کردی ہے دوسری جو تعلیم حاصل کر ہی تھی بعض کسی
وجوہات کی وجہ سے مزید تعلیم حاصل نہ کرسکی ہے وہ اب صحافت ہی سیکھ رہی
ہے میں نے ہمیشہ ظلم وجبر کے خلاف آواز اٹھائی ہے جس کی پاداش میں مجھے
سخت حراساں کیاگیا اور ایجنسیوں حکومتی اداروں کے ذریہ جھوٹے بے بنیاد
مقدمات درج کرائے گئے الحمدللہ کے میں نے صحافت کے مقدس پیشے کو بدنام
نہیں ہونے دیا اور ہمیشہ بلیک میلنگ پر لعنت بھیجی ہے وگرنہ اس شعبہ میں
بعض لوگوں نے داخل ہوکر دولت اور پلاٹ بنائے ہیں جس طرح بہاول پور میں
امین عباسی کو دیکھ لیں جو کل کا غریب آج کا میرترین آدمی ہے جس نے صحافت
کے اندر گھس کر لوٹ مار کی اگر اس آدمی کے بارے میں چھان بین کی جائے تو
مکمل حقائق سامنے آجائیں گے اس کالی بھیڑ نے ہمیشہ انتظامیہ کی خوشامد کی
اور حقائق لکھنے والے صحافیوں پر ناجاز مقدمات بنوانے میں اس شخص نے اہم
کردار ادا کیا بہاول پور میں حق وسچ لکھنے والے صحافیوں پر ناجاز مقدمات
بنائے گئے غلام رسول خان ایک سینئر صحافی ہیں جنہوں نے ہمیشہ حق وسچ کو
فروغ دیا انہیں انتظامیہ نے گرفتار کرکے جیل میں رکھا اور بعد ازاں کالی
بھیڑوں کے تعاون سے اس سچے اور کھرے صحافی کو فور شیڈول میں رکھتے ہوئے
اسے دہشت گرد بنادیاگیا اسی طرح میں نے یزمان میں میڈیا سیل قائم کیا اور
وہاں پر ہونےوالی ظلم وزیادتی پر حق وسچ لکھا جس کی پاداش میں وہاں کی
کالی بھیڑوں کےتعاون سےکرپٹ ترین ڈی ایس پی عزیزاللہ خان نے مجھے گرفتار
کرلیا اور میرا گھر میں ڈکتی ڈالی گئی پولیس نے میرا قیمتی سامان بھی لوٹ
لیا مجھ پر جھوٹا بے بنیاد قسم کا 817/2011کامقدمہ درج کرلیا گیا میرے
اوپرزمین تنگ کردی گئی عدالت نے مقدمہ جھوٹا ثابت کرتے ہوئے مجھے رہا
کردیا کرپٹ ڈی ایس پی میرے اوپ فائرنگ کردی میں بال بال بچ گیا میں نے
وہاں سے نقل مکانی کی اور واپس خیرپورٹامیوالی آگیا اس وقت بھی اسی کالی
بھیڑ امین عباسی نے ڈی ایس پی سے تعاون کرتے ہوئے ایک جھوٹی رپورٹ میرے
خلاف جاری کردی اور مجھے جعلی صحافی لکھ دیا حالانکہ میں اس وقت بھی
خبررساں ادارا (این این آئی) سمیت بہاول پور میں متعدداداروں کا نامہ
نگار ہوں میں خریں بی بی سی میں بھی شائع ہوتی ہیں الحمدللہ کے میں ایک
سو دس ممالک کو انجم نیوز کے نام سے اپنی خریں ارسال کرتا ہوں میں کرپٹ
ترین ڈی ایس پی کے خلاف آواز اوٹھائی مگر آج تک اس کی کسی بھی پولیس افسر
نے انکوائری نہ کی ہے بلکہ بہاول پور کے ریجنل پولیس آفیسر نے اس کرپٹ
ترین ڈی ایس پی کی پشت پناہی ہی کی ہے اعلیٰ حکام سے آنے والے تمام
احکامات دبادیئے گئے ہیں مجھے اس جمہوری ادوار میں کوئی انصاف نہ ملا ہے
کرپٹ ترین ڈی ایس پی نے احمد پور شرقیہ میں عزیز پلازہ بنالیا ہے جو
کروڑوں روپئے مالیت کا ہے جس کی چھان بین ہوا بہت ضروری ہے اسی طرح اس
کرپٹ ڈی ایس پی کے بارے میں یے بات بھی مشہور ہے بہاولپور میں ایک منشیات
فروشوں کی پارٹی سے ساڑہے تین من چرس برآمد ہوئی ریجنل پولیس آفیسر نے
اسی ڈی ایس پی کوحکم دیا کے مشیات فروشوں کوبے گناہ کرے انہیں رہا کردیا
جائے اور چرس ضائع کردی جائے ڈی ایس پی عزیزاللہ نے اس پارٹی سے موٹی رقم
لی اور انہیں بے گناہ کردیا اسی ڈی ایس پی کے بارے میں کرپشن کی بڑی
باتیں منظرعام پر ہیں مگر اس خلاف کوئی کاروائی نہ ہونا یے کوئی اچھنبے
کی بات نہ ہے بلکہ یے اپنے افسران کا کماؤپوت ہے جو اپنے اعلٰ افسران کی
بیگمات کے میک اپ کاخرچہ بھی پورا کرتا ہے اس لیئے اس کرپشن پر اعلیٰ
افسران پردہ ڈالتے ہیں میں اپنے صحافی بھائیوں کو دعوت دیتا ہوں کہ میرے
بارے میں اور کرپٹ ترین ڈی ایس پی سمیت امین عباسی کی چھان بین کریں دودہ
کادودہ اور پانی کاپانی سامنے آجایئگا اگر ہم صحافی اپنے آپ کو انصاف
نہیں دلاسکتے تو کسی اور کوانصاف کیسے دلائیں گے یے بات ہرصحافی کیلئے
لمحئہ فکرئیہ ہے
ایم اقبال انجم جرنلسٹ 03017737662
anju...@yahoo.com
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages