Fwd: وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور اسکے ساتھی اعلیٰ کرپٹ افسران کے خلاف چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب ) اسلام آباد کو ریفرنس بھجوادیا گیا

3 views
Skip to first unread message

BBC NEWS

unread,
Mar 17, 2012, 12:50:56 PM3/17/12
to
---------- Forwarded message ----------
From: AWAMI AHTISAB PARTY <new...@gmail.com>
Date: Sat, 17 Mar 2012 21:46:15 +0500
Subject: وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور اسکے ساتھی اعلیٰ کرپٹ
افسران کے خلاف چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب ) اسلام آباد کو ریفرنس
بھجوادیا گیا
To: bbcnewsurdu <bbcne...@gmail.com>
Cc: bbconenews <bbcon...@yahoo.com>, bbcnewsurduuk <bbcnew...@gmail.com>

بہاولپور03007806347

بہاولپور ( ) وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور اسکے ساتھی اعلیٰ
کرپٹ افسران کے خلاف چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب ) اسلام آباد کو
ریفرنس بھجوادیا گیا کرپشن کے چمپیئن بگلہ بھگت وزیر اعلیٰ پنجاب میاں
شہباز شریف کی کرپشن ثابت ہوگئی حکومت پنجاب اورڈنمارک کے تعاون سے بنائے
جانیوالے دانش سکولوں کی تعمیر میں اربوں روپے کی کرپشن کا ڈی سی اوز کو
ٹاسک دیئے جانے کا انکشاف ابتدائی طور پر دانش سکول حاصل پور چشتیاں اور
رحیم یار خان کی تعمیر میں 80کروڑ روپے سے زائد کرپشن کی گئی ڈی سی اوز
کو دانش سکول سسٹم کا بورڈ آف گورنرز کا چیئرمین بناکر قومی خزانے کی لوٹ
مار کا نیا سٹائل اپنایا گیا زرداری اینڈ کمپنی کرپشن کرتی ہے تو ایکسپوز
ہوجاتی ہے مگر وزیر اعلیٰ پنجاب اپنی ٹیم کے ذریعہ ٹیکنیکل طور پر اربوں
روپے کی کرپشن کرتے ہیں تو پارسا کہلاتے ہیں جبکہ ملک سے کرپشن کے خاتمے
کو اولین ترجیح قرار دینے والے بھی مصلحت کے تحت خاموشی اختیار کرلیتے
ہیں پنجاب حکومت کی کرپشن پر کوئی بھی ادارہ کاروائی کرنے کیلئے تیار
نہیں سینئر صحافی و چیئرمین پاکستان عوامی احتساب پارٹی غلام رسول خان نے
3دانش سکولز کے ٹھیکے ڈیڑھ ارب میں دیئے جانے کے بعد 3ارب کی ادائیگی
کرنے پر وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف سمیت سابق کمشنر ملک
مشتاق احمد حال تعینات بطور سیکریٹری زراعت پنجاب لاہور ڈی سی او
بہاولپور ڈاکٹر نعیم رؤف چیف سیکریٹری پنجاب نا صر محمود کھوسہ سمیت
25اعلیٰ آفیسران اور ٹھیکیداروں کنسلٹنٹ فرم کے خلاف چیئرمین قومی احتساب
بیورو ہیڈ کوارٹر اسلام آباد کو کرپشن کے ٹھوس ثبوت کے ساتھ ریفرنس بھیجا
ہے ریفرنس بعنوان
غلام رسول خان ولد حسین بخش خان بنام 1۔ میاں محمد شہباز شریف وزیر اعلیٰ
پنجاب لاہور
چیئرمین پاکستان عوامی احتساب پارٹی 2۔ نا صر محمود کھوسہ چیف سیکریٹری
حکومت پنجاب لاہور
کچی آبادی حسین آباد بہاولپور 3۔ متعلقہ چیف انجینئر ورکس اینڈ پلاننگ
حکومت پنجاب لاہور
4۔متعلقہ سیکریٹری فنانس اینڈ پلاننگ حکومت پنجاب لاہور
5۔ڈاکٹر نعیم رؤف ڈی سی او /چیئرمین بورڈ آف گورنرز
دانش سکول حاصل پور ضلع بہاولپور
6۔ سابق ڈی سی او /چیئرمین بورڈ آف گورنر چشتیاں ضلع بہاولنگر
7۔ متعلقہ ڈی سی او /چیئرمین بورڈ آف گورنرز دانش سکول
ضلع رحیم یار خان
8۔ متعلقہ ای ڈی او فنانس دانش سکولز سسٹم ڈویژن بہاولپور
9۔قاضی اللہ یار SEمحکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈویژن
بہاولپور
10۔نزیر چغتائی XENمحکمہ PHEDبہاولپور
11۔مشتاق طارق SEپرونشل بلڈنگز ڈویژن بہاولپور
12۔آصف اقبال سہو XENپرونشل بلڈنگز بہاولپور
13۔خالد شاہ گورنمنٹ کنٹریکٹر دانش سکول حاصل پور
14۔نزیر رحمانی گورنمنٹ کنٹریکٹر دانش سکول حاصل پور
15۔چوہدری پرویز اختر گورنمنٹ کنٹریکٹر دانش سکول حاصلپور
16۔چوہدری رشید /عدنان رشید صداقت بلڈرز دانش سکول
حاصل پور ضلع بہاولپور
17۔محمد اکرم سابقEDOفنانس اینڈ پلاننگ ضلع بہاولپور
18۔شفقت اسسٹنٹ EDOای ڈی او فنانس اینڈ پلاننگ
ضلع بہاولپور
19۔ متعلقہ EDOفنانس اینڈ پلاننگ ضلع بہاولنگر
20۔متعلقہ EDOفنانس اینڈ پلاننگ ضلع رحیم یار خان
21۔دیگر 10/15 نامعلوم الا سم ٹھیکیداران دانش سکولز حاصل
پور /چشتیاں /رحیم یار خان
22۔انجینئر محمد اکبر خان چیف ایگزیکٹیو M/S ACE
آرٹس لاہور بذریعہ ڈی سی او ضلع بہاولپور
23۔چیف ایگزیکٹیو ز کنسلٹنٹ فرم بذریعہ کمشنر بہاولپور
24۔ناصر محمود کھوسہ چیف سیکریٹری حکومت پنجاب لاہور


درخواست بر خلاف میاں محمد شہباز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب وغیرہ زیر نیب آرڈیننس

جناب عالی ! حسب ذیل عرض ہے۔

1۔ یہ کہ پٹیشنر نے مورخہ 12اپریل 2011کو ایک درخواست بر خلاف ڈاکٹر نعیم
رؤف ڈی سی او /چیئرمین بورڈ آف گورنرز دانش سکول حاصل پور ضلع بہاولپور
وغیرہ ڈائریکٹر انٹی کرپشن ریجن بہاولپور کودی درخواست بطور
CC.NO.355/2011درج رجسٹرڈ کی گئی ۔ دانش سکول سسٹم حاصل پور وغیرہ کی
تعمیراتی کاموں میں کروڑوں روپے کی کرپشن بارے تھی۔ڈائریکٹر انٹی کرپشن
بہاولپور نے انکوائری کی اجازت کیلئے ڈائریکٹر جنرل انٹی کرپشن پنجاب اور
انہوں نے ڈائریکٹ یا بذریعہ چیف سیکریٹری حکومت پنجاب لاہور میاں محمد
شہباز شریف رسپانڈنٹ نمبر1سے انکوائری کی اجازت لینے کی غرض سے لیٹر لکھا
مگر رسپانڈنٹس نمبر1اور2نے دیگر الزام علیہان کی کرپشن پر پردہ پوشی
کیلئے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے انکوائری کی اجازت ہی نہیں
دی کیونکہ تمام کرپشن ان کے نوٹس میں تھی اور وہ خود کسی نہ کسی طرح دانش
سکولز سسٹم کرپشن کے ذمہ دار تھے۔انکوائری کی اجازت نہ ملنے پر ڈائریکٹر
انٹی کرپشن ریجن بہاولپور نے کمپلینٹ داخل دفتر کردی۔نقل درخواست لف ہے۔

2۔یہ کہ پٹیشنر نے دانش سکولز سسٹم حاصل پور چشتیاں اور رحیم یار خان کی
کرپشن بارے کاروائی اور مقدمہ کے اندراج کیلئے بعدالت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن
جج صاحب با اختیار جسٹس آف پیس ضلع بہاولپور پٹیشن زیر دفعہ 22-Aدائر کی
۔رسپانڈنٹ ڈائریکٹر انٹی کرپشن بہاولپور سے کمنٹس اور رپورٹ طلب کی گئی
تو انہوں نے جواب دیا کہcompetentاتھارٹی سے انکوائری کی اجازت کیلئے
لیٹر بھیجا ہوا ہے بعد ازاں معزز جسٹس آف پیس نے پٹیشن pre-matureقرار
دیتے ہوئے dispose off فرمادی۔ پٹیشن dispose ہونے سے قبل ہی
competentاتھارٹی نے دانش سکولز سسٹم کرپشن کمپلینٹ داخل کردی تھی چنانچہ
پٹیشنر نے دوبارہ بعدالت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج صاحب با اختیارجسٹس آف پیس
صاحب بہاولپور میں پٹیشن دائر کی جسکی سماعت بعدالت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ
سیشن جج صاحب جسٹس آف پیس ضلع بہاولپور نے کی اور حدود اختیار نہ ہونے کی
بابت حکم فرماکر پٹیشن خارج کردی ۔ نقول پٹیشن معہ حکم لف ہیں۔


3۔ یہ کہ الزام علیہان کے خلاف دانش سکولز حاصل پور /چشتیاں اور رحیم یار
خان کے تعمیری منصوبہ میں ناقص میٹریل کے استعمال اور ڈیڑھ ارب تخمینہ
لگائے جانے کے بعد دو ارب روپے سے ذائد رقم کی خلاف قانون ادائیگی کرتے
ہوئے قومی خزانہ کو نقصان پہنچانے پر مقدمہ درج کیا جائے۔

4۔ یہ کہ مفاد سرکار و عوام الناس بغرض کاروائی بر خلاف الزام علیہان
وغیرہ عرض ہے کہ حکومت پنجاب اور ڈنمارک کے باہمی اشتراک سے پنجاب بھر
میں غریب طلباء طالبات کی اعلیٰ تعلیم کے لئے تقریباً58 ’’ دانش سکولز ‘‘
کی تعمیر شروع ہوئی تو ابتدائی طور پر تعمیر دانش سکولز حاصل پور ،چشتیاں
اور رحیم یار خان کے لئے تخمینہ فی سکول مبلغ پچاس کروڑ روپے مجموعی طور
پر ڈیڑھ ارب روپے کا تخمینہ لگایاگیا ۔بہاولپور ڈویژن کے تینوں ڈی سی او
زجو کہ دانش سکولز کے چیئرمین بورڈ آف گورنرز بھی ہیں اور ان کی ڈیوٹی
میں یہ بات شامل تھی کہ وہ اپنے اپنے علاقہ میں تعمیر ہونے والے دانش
سکولز کی تعمیر میں استعمال ہونے والے ناقص میٹریل پر نظر رکھیں اور اسکی
جانچ پڑتال کروائیں ۔ناقص میٹریل استعمال کرنے والی فرم کے خلاف کاروائی
کروائیں اور منصوبہ 9ماہ میں مکمل کر وانے کے لئے کنسلٹیشن کے لئے مقرر
کی گئی فرم جس کوتقریباً7/8لاکھ روپے ماہانہ فی سکول بھاری رقم بطور
معاوضہ/فیس کنسلٹیشن ادا کی گئی کی ناقص کارکردگی بارے سخت کاروائی کریں
اور منصوبہ بر وقت مکمل نہ ہونے کی بدولت کروڑوں روپے کی اضافی ادائیگی
کا ذمہ دار ٹہراتے ہوئے کنسلٹیشن شرائط کے مطابق ادا شدہ رقم کی واپسی مع
ادا شدہ اضافی رقم کا بھی ذمہ دار ٹہراتے ہوئے سرکاری نقصان وصول کرتے ۔
کمشنر مشتاق احمد ،ڈی سی او ڈاکٹر نعیم رؤف ،EDO(F&P) بہاولپور سمیت دیگر
ذمہ داران حکومت پنجاب نے آپس میں ملی بھگت کرتے ہوئے سوچے سمجھے منصوبے
کے تحت دانش سکول حاصل پور کی تعمیر کے لئے ناقص منصوبہ بندی کرتے ہوئے
ٹیکنیکل /فزیبلٹی پلان مفاد سرکار میں بنانے یا بنوانے کی بجائے بھاری
کرپشن کی نیت سے ہموار بنجر زمین کی بجائے دانستہ طور پر ریت کے ٹیلوں پر
مشتمل ا راضی کا انتخاب کیا تاکہ ٹھیکیداروں سے جگہ ہموار کروانے کے نام
پر کروڑوں روپے کی ادائیگی کرکے اپنا حصہ وصول کر سکیں ۔ حالانکہ تحصیل
حاصل پور میں ہمواربنجر سرکاری اراضی موجود تھی اتنی ہموار بنجر اراضی کی
قیمت نہیں ہوگی جتنی کروڑوں روپے کی رقم ریت کے ٹیلے اور مٹی ہموار
کروانے کی مد میں ملی بھگت کرتے ہوئے اداکردی گئی ہے دانش سکولز حاصل پور
،چشتیاں اور رحیم یار خان میں نہ صرف ناقص میٹریل استعمال کیا گیا بلکہ
کنسلٹیشن فیس کی مد میں اضافی طور پر 4/5ماہ کی خلاف قانون ادائیگی کی
گئی ۔ تینوں سکولز کی تعمیر کا منصوبہ ستمبر2010ء تک مکمل ہونا لازمی تھا
۔منصوبہ مکمل نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ ڈی سی او ز نے بد نیتی کی بناء
پر از خود یا حکومت پنجاب کی کسی اعلیٰ شخصیت کے ایماء پر خلاف قانون
کروڑوں روپے کی ادائیگیاں کیں اور تینوں سکولز منصوبہ کی ٹیکنیکل سینکشن
TS)) خلاف رولز کرتے یا کرواتے رہے اس بناء پر تینوں سکولوں کی تعمیر میں
ناقص منصوبہ بندی کی بدولت تقریباً50کروڑ روپے سے ذائد رقم اضافی ادائیگی
کے نام پرخورد بورد کی گئی ۔تینوں اضلاع کے متعلقہ ڈی سی اوز نے متعلقہ
EDO(F&P)اور سابق کمشنر بہاولپور ڈویژن ملک مشتاق احمد اور وزیر اعلیٰ
پنجاب میاں محمد شہباز شریف وغیرہ کی پشت پناہی اوران کی ملی بھگت سے
ٹھیکیداروں اور کنسلٹیشن فرم کو براہ راست ادائیگیاں کیں ٹھیکہ شرائط کے
برعکس اینٹیں اور دیگر آئیٹم میں کرپشن کی گئی جبکہ متعدد بار وزیر اعلیٰ
پنجاب کے افتتاح کرنے کے پروگرام ملتوی ہونے کی بناء پر لاکھوں روپے کی
رقم اخراجات کے نام پر ادائیگی ظاہر کرتے ہوئے خورد بورد کی گئی ۔حاصل
پور دانش سکول کی تعمیر کا منصوبہ مکمل کرنے کے لئے اگرچہ ٹھیکیداروں کو
ٹھیکے دیئے گئے تھے لیکن جب منصوبہ میں بار بار تاخیر ہوتی رہی اور بار
بار وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کو افتتاح کاٹائم دینے کے
باوجود منصوبہ کے نا مکمل ہونے کی بناء پر افتتاح نہ کروا سکے تو کمشنر
ملک مشتاق احمد اور ڈی سی او ڈاکٹر نعیم رؤف، ای ڈی او فنانس اور پلاننگ
محمد اکرم اور اسسٹنٹ شفقت سمیت دیگر اعلیٰ افسران نے ٹھیکیداروں سے
بھاری رشوت وصول کرتے ہوئے ڈویژن بھر سے تمام سرکاری دفاتر کے ٹیکنیکل
اور نان ٹیکینکل آفیسران اور عملے کو مع سرکاری مشینری بلڈوزر وغیرہ دانش
سکول حاصل پور کے منصوبے کو مکمل کروانے کے لئے جھونک دیا۔مختلف تعمیراتی
محکموں بلخصوص ہائی وے روڈز ، پرونشل بنڈنگز ،زرعی ترقیاتی اداروں نے
اپنے طور پر سڑکیں اور دیگر کام مکمل کئے ہیں کروڑوں روپے کے بل وغیرہ کی
ادائیگی کسی نہ کسی ہیڈ یا سکیم سے چارج کی جائیگی یا ڈی سی او وغیرہ
براہ راست ادائیگی کریں گے یا کردی گئی ہے ؟ یہ تمام معاملات خلاف قانون
اور غیر قانونی ہیں ڈی سی او /چیئرمین بورڈز آف گورنرز مذکور نے اپنا اور
دیگر افسران کا جرم اور نا اہلی پر پردہ پوشی کے لئے محض کاروائی ڈا لتے
ہوئے ناقص میٹریل کے استعمال کو تسلیم کرتے ہوئے ایک reminderلیٹر
EDO(F&P)/BWP/2-24/2010 Dated 21-12-2010 بنام انجینئر محمد اکبر خان چیف
ایگزیکٹیو ایم ایس ACE(آرٹس ) لاہور جاری کرتے ہوئے دانش سکول حاصل پور
کی تعمیر میں استعمال ہونے والے ناقص میٹریل بلخصوص ناقص اینٹوں اور انکی
نگرانی میں تعمیراتی کام کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے
کنسلٹینسی کلاز کی خلاف ورزی پر سخت ایکشن لینے اور تمام تر نقصان کا ذمہ
دار مکتوب علیہ کو ٹہراتے ہوئے مالی نقصان وصول کرنے کا لکھا تھا لیکن
بعد ازاں ملی بھگت کرتے ہوئے ذاتی مالی مفاد کی غرض سے قانونی کاروائی
نہیں کی گئی ۔ ڈی سی او مذکور کی صوابدید پر اوپن فنڈز تھے خوب لوٹ مار
کی گئی بھاری بل بنتے گئے اور ڈی سی او / چیئرمین بورڈ آف گورنرز ڈاکٹر
نعیم رؤف آنکھیں بند کرکے غیر قانونی ادائیگیہاں کیں ۔

5۔ یہ کہ الزام علیہان نے فنانشل رولز اور پاکستان انجینئرنگ کونسل کی
تعمیرات کے حوالہ سے بنائے گئے رولز کی خلاف ورزی کی اور سابق کمشنر
بہاولپور مذکور نے دانش سکول حاصل پور کو بروقت مکمل نہ کئے جانے پر
ڈویژن بھر کے سرکاری محکموں بلخصوص تعمیراتی محکمہ جات ،ٹی ایم ایز لوکل
گورنمنٹ اور بہاولپور ضلع کے انتظامیہ کے افسران اور عملہ معہ ٹرانسپورٹ
مشینری سرکاری خزانہ پر اضافی اور غیر قانونی بوجھ ڈالتے ہوئے استعمال
کروائی جو کہ سراسر کرپشن کے زمرے میں آتی ہے دانش سکول حاصل پور کی
تعمیر میں سرکاری وسائل جھونکے جانے کے ٹھوس ثبوت یہ ہیں سال کے دیگر
مہینوں کی نسبت 2/3ماہ کے ڈیزل پٹرول کے بلوں کی مد میں بھاری رقوم
نکلوائی گئیں بل بھی بہت زیادہ مالیت کے تھے آنکھیں بند کرکے قومی خزانے
سے ادائیگیاں کرتے گئے ۔کھلی کرپشن کی انتہا کردی گئی ۔ قانونی طور پر
متعلقہ افسران اپنے افسران بالا کے غیر قانونی احکامات ماننے کے پابند
نہیں تھے۔بعض اخبارات میں دانش سکول منصوبہ میں کروڑوں روپے کے نقصان اور
منصوبے کی ناقص اور غیر ذمہ دارانہ فزیبلٹی رپورٹس /ٹیکنیکل سینکشن بارے
رپورٹس بھی شائع ہوئیں۔ تمام متعلقہ ریکارڈ بر آمد کیا جائے ۔نقل لیٹر
DCO بہاولپور/نقول تراشہ جات لف ہیں۔

بحالات بالا استدعا ہے کہ الزام علیہان کے خلاف نیب آر ڈیننس کے تحت
کاروائی فرماکر کروڑوں روپے کے نقصان کی ریکوری فرمائی جائے۔

عرضے
غلام رسول خان ولد حسین بخش خان چیئرمین پاکستان عوامی احتساب پارٹی سکنہ
کچی آبادی حسین آباد شاہدرہ روڈ بہاولپور

--
anjum

GHULAM RASOOL KHAN PHOTO.JPG
DANISH SCHOOL NAB CASE.inp
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages