anju...@yahoo.com m iqbal anjum 92 03017737662
anjumnews media cill bahawalpur
میں ایک سینئر جرنلسٹ اور خبررساں ادارے (این این آئی ) کا ڈسٹرکٹ رپورٹر
ہوں میں ہمیشہ ظلم وجبر کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور اپنی 32سالہ صحافتی
ادوار میں ظلم وتشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا ہوں مگر حسینی ہونے کے ناطے
اپنے قلم کا سودا نہ کیا ہے آج میرے پاس اپنا زاتی مکان بھی نہ ہے
خیرپورٹامیوالی کے ایک گاؤں میں کرائے کے مکان میں اپنی زندگی کے دن گزار
رہا ہوں میں نے مشرق اور امروز سے صحافت کا آغاز کیا تھا حق وسچ لکھنے کی
پاداش میں دو نبر صحافیوں نے ہمیشہ میری مخالفت کی اور میرے مخالفین کا
ساتھ دیا میں نے یزمان میں ظلم وجبر کے خلاف آواز اٹھائی الحمدللہ انسانی
حقوق کی پامالی کے 50کیس ری اوپن کیئے جن کی ویڈیو انجم نیوزیوٹیوب پر
موجود ہیں اسی پاداش پر یزمان کی بااثرشخصیات اور مافیاء سمیت دونمبر
صحافیوں کو تکلیف پینچی انہوں وہاں کے کرپٹ ترین ڈی ایس پی عزیزاللہ خان
سے سازباز کی اور مجھے میرے ایک مہمان 70سالہ بزرگ بابا لیاقت علی قادری
سمیت گرفتار کرالیا اور میرےاوپر ایک جھوٹی ایف آئی آر817/2011اندراج
کرالی گئی جو کہ لیف ہذا ہے ایف آئی آر میں دفعات4020/468کا اندراج کیا
بعدازاں پہلے ریمانڈ میں مذید دفعات 470/170/419کا اضافہ کردیا گیا
دودنوں کے ریمانڈ کے بعد دوسرے ریمانڈ میں اور دفعات درج کر لیئے گئے جسے
مجسٹریٹ چوہدری نوید حسین نے بوگس قرار دیتے ہوئے دفعات خارج کردئے اور
ہم دونوں اسیروں کو ضمانت پر رہا کردیا گیا پولیس نے میرے گھر کے تالے
توڑے اور ڈکیتی مار کر قیمتی سامان لوٹ لیا جسے عدالت نے آدھا سامان
برآمد کردیا باقی سامان کی ریکوری کیلئے کاروائی کرنے کا حکم دیا پولیس
ڈی ایس پی کے حکم پر مجھ پر فائرنگ کردی جس سے میں بال بال بچ گیا مجھے
نقل مکانی پر مجبور کردیاگیا میں نے یزمان سے نقل مکانی کی اور اپنے
آبائی گاؤں خیرپورٹامیوالی اسرانی آگیا اس واقعہ پر عالمی میڈیا اور
جرنلسٹ فورم سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں اور پیرس فرانس جرمنی میں مقیم
پاکستان اعوامی انقلاب مومنٹ کے صدر سید آغا حسن سید جمال ٹاکو نے بھی
احتجاج کیا مزمتی بیانات بھی جاری ہوئے ڈی ایس پی جس کا ایک بھائی
ایڈیشنل سیشن جج اور دوسرا بھائی بھی ڈی ایس پی نے اپنا اثر رسوخ استمعال
کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے آنے والی تمام انکوائریاں رکوا لیں آخر میں چیف
جسٹس سپریم کورٹ سے اپیل کی سپریم کورٹ نے آئی جی پنجاب کو تحقیقات کا
حکم دیا اس ماہ 27/2/2011کو ایس ایس پی بہاول پور گوہر مشتاق بھٹہ نے
انکوائری کیلئے مجھے بلایا وہاں پر ڈی ایس پی اعزیزاللہ خان اور ان کے
متعدد حواری بھی موجود تھے میں نے ایس ایس پی کو تمام ثبوت ویڈیو دکھائی
ایس ایس پی جو کہ ڈی ایس پی کا کلاس فیلو تھا جانبدار بن چکا تھا اس نے
مجھے ہی حراساں کیا صلح پر دباؤڈالا میں نے ان حالات کے تحت ایس ایس پی
پرا عدم عتماد کردیااور اپنے بیانات ریکارڈ کرائے بغیر وہاں سے چلاگیا
ایک درخواست اسی کی چیف جسٹس سپریم کورٹ اور وزیر اعلیٰ پنجاب آئی جی
پنجاب کو فیکس کردی اور اس کی انکوائری جیوڈیشلی کرانے کی استدعا کی
بہاول پور میں اس وقت صحافیوں کے دوگرپ بن چکے ہیں جو آپس میں ایک دوسرے
کے خلاف مقدمات درج کرا چکے ہیں پریس کلب اس وقت اکھاڑہ بن چکا ہے ہرگرپ
پریس کلب کے عہدیدار ہونے کا دعویدار ہے صحافیوں کی آپس میں لڑائی جھگڑوں
سے انتظامیہ فائدہ اٹھارہی ہے صحافیوں پر دھڑادھر مقدمات درج ہورہے ہیں
صحافی ایک دوسرے کو جعلی ثابت کررہے ہیں جو کہ باعث حیرت اور افسوس کا
مقام ہے اسی طرح ایک گرپ انتظامیہ اور پولیس کی حمائیت کرہا ہے تو دوسرا
گرپ مخالفت میں ہے یے حالات لمحئہ فکریہ ہیں بہاول پور میں انتظامیہ نے
صحافیوں کی آپس میں جنگ کراکر بڑی خوش ہے اور مزے سے گلچھڑے اڑائے جارہے
ہیں کرپشن انتہاء پر ہے انصاف نام کی کوئی چیز بہاول پور میں نہ ہے پریس
کلب کے 50لاکھ کا فنڈز واپس ریفرنڈ ہوگیا ہے پریس کلب پر پولیس تعینات ہے
جو کہ باعث حیرت ہے ایم اقبال انجم جرنلسٹ بہاول پور 29/2/2012