92 03017737662 media cill ihrcpj
www.ihrcpj.com29/1/2012
انٹرنیشنل ہئومن رائٹس کمیشن(پاکستان)جاپان نے جنوبی پنجاب میں صحافیوں
پر ظللم وتشدد کے فہرست جاری کردی
بہاول پور( )انٹرنیشنل ہئومن رائٹس کمیشن(پاکستان)جاپان کےمیڈیا
سیل سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق جنوب پنجاب پاکستان میں حکومت
پنجاب نے پولیس کو منہ زور گھوڑے کی طرح اتنے وسیع اختیارات دیے ہیں کہ
وہ جہاں چاہتی ہے گھس جاتی ہے اور جسے چاہتی ہے گرفتار کر لیتی ہے اور ان
پر بے بنیاد مقدمات درج کر دیے جاتے ہیں یا جھوٹے پولیس مقابلے بنا کر
انہیں پھڑکا دیاجاتا ہے جنوبی پنجاب میں حق وسچ لکھنے والے صحافیوں کو ہی
ظلم وتشدد وبربریت کا نشانہ بنایا جارہا ہے بہاول پور کی پولیس کو ریجنل
پولیس آفیسر نے حق وسچ لکھنے والے صحافیوں کے پیچھے لگا دیا ہے درجنوں
صحافی پولیس تشدد اور جھوٹے مقدموں کاشکار ہیں پولیس منہ زور گھوڑے کی
طرح اپنے اختیارات سے تجاوز کر چکی ہے سروے رپورٹ کے مطابق بہاول پور
ڈویثرن میں درجنوں صحافی پولیس گردی کا شکار ہوئے ہیں جن میں سینئر صحافی
غلام رسول خان کو ڈی ایس پی عزیز اللہ خان نے عالیٰ افسران کے حکم سے
گرفتار کیا اور ایک ماہ تک سنٹرل جیل میں نظربند رکھا گیا اسے فورشیڈول
میں شامل کرکے تھانوں میں حاضری کا پابند کر دیا گیا اسی طرح سینئر صحافی
پریس کلب خیرپورٹامیوالی کے نائب صدر ایم اقبال انجم کو یزمان میں ظلم
وزیادتی اور پولیس گردی کے واقعات کا پردہ چاک کرنے پر گرفتار کرکے ایک
جھوٹے مقدمہ میں حوالات میں ڈی ایس پی عزیز اللہ خان نے رکھا گھر میں
پولیس نے ڈکیتی ڈالی قیمتی سامان لوٹ لیا جسے عدالت نے ضمانت پر رہا کیا
ایک اور صحافی نمانئندہ نیادور شاہد کوپولیس نے تشدد کا نشانہ بنایا اور
کیمرے چھین لیئے اسی طرح صحافی یٰسین انصاری سمیت متعدد صحافیوں کو بھی
پولیس کی سرپرستی میں غندہ عناصر مافیاء نے تشدد کا نشانہ بنایا اور
خبریں کے جنرل رپورٹر اختر شاہد پر بھی یزمان اور رحیم یارخان میں جھوٹے
مقدمات درج کیئے گئے اور اسے بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اسی طرح
خیرپورٹامیوالی پریس کلب کے صدر محمد اسحاق انجم پر بھی چار جھوٹے مقدمات
تھانہ خیرپورٹامیوالی میں درج کیئے گئے ہیں حاصلپور قائم پور چشتیاں
بہاولنگر فورٹ عباس میں بھی متعدد صحافی پولیس گردی کا شکار ہوچکے ہیں
رحیم یارخان صادق آباد خان پور لیاقت پور اور احمد پورشرقیہ میں بھی
درجنوں صحافی پولیس گردی کا شکار ہیں جنوبی پنجاب میں متعدد صحافی شہید
بھی ہوچکے ہیں جن کے خاندان اپنے پیاروں کی راہ دیکھ رہے ہیں آج تک ان کے
ورثاء کو انصاف نہ ملا ہے پولیس کے اعلیٰ حکام اپنی پولیس کو زیادہ سے
زیادہ معطلی کا حکم جاری کرکے کیسوں کو داخل دفتر کردیتے ہیں جنوبی پنجاب
میں انصاف نام کی کوئی چیز نہ ہے یہاں پر حق لکھنا اور سچ بولنا جرم
سمجھا جاتا ہے