آجاو کہ اب خلوتِ غم خلوتِ غم ہے
اب دل کے دھڑکنے کی بھی آواز نہیں ہے
ثاقب علی
http://bit.ly/اردو
سب سے پہلے آپ کو آداب عرض کر کے یہ کہنا چاہوں گا کہ اس شعر کا دوسرا لفظ بجائے "جاو" کے۔۔۔ "جاؤ" درج ہو گا تو مناسب رہے گا (واؤ پر ہمزہ)۔ آپ تو یقینی طور سے "خلوت" کے معنٰوں سے واقف ہی ہوں گے پھر بھی با اجازت انتا بتاتا چلوں کہ یہ دونوں جسمانی و نفسیّاتی سطح پر غیروں سے علیٰحِدَگی اور تنہائی کا احساس کرنے کا مقام ہے خواہ یہ مقام گوشہ میں بیٹھنے میں ظاہر ہو جائے خواہ تنہائی اختیار کرنے سے وابستہ ہو۔ اس بات کا بھی ذکر ہو جائے کہ خلوت لفظ کے معٰنی ضروری نہیں کہ محض ایسی جگہ یا ایسے حال سے متعلق ہو جہاں کوئی دوسرا نہ ہو، اس کے بر عکس، خلوت میں آپ تنہائی میں دوسرے ثخص کے ساتھ قربت میں رہ سکتے ہیں۔ جگر مراد آبادی کے شعر میں "خلوتِ غم" مستعمَل ہوئی ہے جسے یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ غم کی خلوت ہے، یعنی کہ غم کھانے کے لیے خلوت اختیار کی گئی تھی جبکہ اب کے تو یہ کہہ لیجئے معمولی "خلوتِ غم" جو ہوا کرتی تھی نہیں رہی اب یہ اصلی خلوت ہے جس میں میں اور میرا غم بستا ہے اور سوائے ہمارے اور کچھ نہیں۔ اب تو تم جب آؤ گے تو اس میری خلوت کو دیکھتے تمھیں غم ہو گا۔
ایک سی ترکیب دہرانے سے ایک بات کے مختلف پہلو نمایاں ہوئے ہیں۔ گستاخی معاف، والدعا، مریش
سب سے پہلے سلام کا شکریہ اور بعد میں تحریری غلطیوں کی معافی چاہتا ہوں. میں افضل صاحب کی تشریح سے بالکل متفق ہوں۔ اول تو شاعر کہتا ہی تھا جیسے شعراء کہتے ہی ہیں ْْخلوتِ غم ہے" مگر اب کہتا ہے اب پکی خلوت ہے اور کوئی نہیں ہے دھڑکن بھی نہیں ہے آ جاؤ اب کوئی اور نہیں ہے۔
For those who can't read Ùrdu yet: sab se pahle salaam kaa shukriyah aur ba3d meN taHriirii GhalatiyoN kii mu3aafii chaahtaa huuN. maiN afzal SaaHib kii tashriiH se bi-l-kul muttafiq huuN. awwal to shaa3ir kahtaa hii thaa jaise shu3araa2 kahte hii haiN xalwat -e-Gham , magar ab kahtaa hai pakkii xalwat hai aur ko'ii nahiiN hai, dhaRkan bhii nahiiN hai, aa jaa'o ab ko'íi aur nahiiN hai.