انتقاماَ ہنس رہا ہوں خوب رونے کے لیئے،
وہ قریب آنے لگے ہیں دور ہونے کے لیئے
کوئی مانے یا نہ مانے ہم نے جانا ہے یہی،
دل تڑپنے کے لیئے ہے آنکھ رونے کے لیئے
کیا قیامت ہے مسیحا وار کر کے چل دیا،
اور قاتل آگیا ہے زخم دھونے کے لیئے
آج تک یہ بھی نہ سوچا کیوں ہوئے ہم دربدر،
تجھ کو پانے کے لیئے یا خود کو کھونے کے لیئے
میری دنیا دور ہی سے دیکھنے کی چیز تھی،
آپ ناحق آگئے مغموم ہونے کے لیئے