You Deserve To Be Happy

6 views
Skip to first unread message

Junaid Tahir

unread,
Sep 8, 2026, 5:44:45 AMSep 8
to

You Deserve To Be Happy

Your Happiness, Your Measure How do you know you're living well? Not by money, titles, or applause. The truest measure is simple:...





Your Happiness, Your Measure

How do you know you're living well? Not by money, titles, or applause. The truest measure is simple: Are you happy?

Achieving your own happiness—not chasing someone else's—tells you more about your life and relationships than any external scorecard.

Everyone is different. Happiness is like a buffet. One person's plate overflows with family and quiet evenings. Another's is filled with adventure and ambition. Neither is wrong. Your unique mix is yours alone. Don't copy someone else's plate.

Your mix changes. What made you happy last year might not work today. Listen to your heart—hour by hour. Only you know what feels right for a job, a relationship, or a decision.

Be true to yourself. That inner voice—what Emerson called the "still, small voice within"—is your compass. Following it takes courage. But pretending to want what others want is a shortcut to emptiness.

There are no limits. Do you believe you deserve happiness? Many don't. Accept this truth: You deserve every bit of joy your honest efforts can earn. Self-respect unlocks happiness. Happiness then builds more self-respect.

Make happiness your key measure. Before any choice—big or small—ask: Will this make me happier or unhappier? You'll be surprised how many problems vanish when happiness becomes your filter.

Pay the price. Yes, small unpleasant tasks come with the deal. Waking early. Grinding through boring steps. Call it "paying your dues." The temporary discomfort is nothing compared to the lasting joy on the other side.

Three quick actions today:

  1. Believe you deserve happiness—fully, without guilt.

  2. Let happiness be your daily compass, not just a distant dream.

  3. Work hard, go the extra mile, and trust that the price you pay now will return as joy later.

Happiness isn't selfish. It's wisdom. Make it your measure.


_______________

پچھلے دنوں ایک مسجد میں نئے امام کی تلاش جاری تھی۔ چند کمیٹی ممبران ایک مفتی صاحب کے پاس چلےگئے۔ رسمی سلام و دعا کے بعد مفتی صاحب نے آن...



پچھلے دنوں ایک مسجد میں نئے امام کی تلاش جاری تھی۔ چند کمیٹی ممبران ایک مفتی صاحب کے پاس چلےگئے۔ رسمی سلام و دعا کے بعد مفتی صاحب نے آنے والوں سے آنے کا مدعا پوچھا :کیسے آنا ہوا؟

 

مسجدکمیٹی: بس آپ کی زیارت کے لیے حاضر ہوئے تھے،آپ جیسے بزرگوں کی صحبت نصیب ہونا بھی سعادت کی بات ہے

 

🌹مفتی صاحب:ماشاء اللہ! اللہ خوش رکھے۔ پھر بھی اگر کوئی کام ہے تو بتا دیں کیونکہ مجھے کسی کام سے باہر جانا ہے۔

 

مسجدکمیٹی:جی بس آپ سے ملنا بھی تھا اور ایک عرصے سے ہمارا آپ کے ہاں آنا جانا ہے تو ہم نےچاہا کہ ہم اپنی مسجد کےلیے امام صاحب بھی آپ ہی کے پاس سے لے جائیں۔ 

 

🌹مفتی صاحب: پہلے امام صاحب کہاں ہیں؟

مسجدکمیٹی:انہیں فارغ کر دیا ہے۔

 

🌹مفتی صاحب:کیوں؟

مسجدکمیٹی: ٹائم نہیں دیتے تھے؟

 

🌹مفتی صاحب: کیا مطلب؟

مسجدکمیٹی: جی وہ نماز کے لیے ٹائم پر نہیں آتے تھے اور چھٹیاں بھی بہت کرتے تھے؟

 

🌹مفتی صاحب:ٹائم پر کیوں نہیں آتے تھے؟

مسجدکمیٹی: جی وہ اِدھر اُدھر ٹیوشن پڑھانے نکل جاتے تھے پھر نماز پہ کبھی ایک منٹ رہتا تو پہنچتے اور کبھی بالکل عین جماعت کےٹائم پر پہنچتے تھے اور کبھی پہنچتے ہی نہیں تھےروز کسی نہ کسی نماز کی چھٹی کر لیتے تھے۔

 

🌹مفتی صاحب:وظیفہ کیا دیتے ہیں؟

مسجدکمیٹی:جی ان کو آٹھ ہزار (8000)دیتے تھے اور اب آپ کے امام صاحب کو دس ہزار دیں گے۔

 

🌹مفتی صاحب:امام صاحب فیملی کے ساتھ رہتے تھے؟

مسجدکمیٹی:نہیں اکیلے تھے ،ہمارے پاس فیملی رہائش کی سہولت نہیں ہے، اب کوشش کر رہے ہیں۔

 

🌹مفتی صاحب:آپ جانتے ہیں کہ اس منصب کی ابتدا سید المرسلینﷺ نے کی اور خلفائے راشدین نے اسے پروان چڑھایا۔خلفائے راشدین بَیَکْ وقت حاکم بھی تھے اور امام بھی۔ ان کے بعد منصبِ امامت والے انہی کے نائبین کہلاتے ہیں۔اسی لیے مصلائے امامت کو مصلائے رسول اور منبرِ مسجد کو منبرِ رسول بھی کہتےہیں۔اب خود ہی سوچیں کہ یہ کتنا مقدس منصب ہے اور اس کی کتنی قدر ہونی چاہیے۔ آج کل لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ امام صاحب چوبیس گھنٹے مسجد میں موجود رہیں اور ہم جو بھی کہیں امام صاحب وہی کریں لیکن دوسری طرف لوگوں کی حالت یہ ہے کہ انہیں اتنا بھی وظیفہ نہیں دیتے جس سے ان کی ضروریات پوری ہو سکیں۔آج اس دور میں سرکاری طور پر ایک مزدور کا وظیفہ بھی چودہ ہزار (14000)مقرر ہے لیکن لوگوں کی کم ظرفی تو دیکھیں کہ جس منصب کا رتبہ ملک کے صدر و وزیر اعظم سے بھی اعلیٰ ہے اسے ایک مزدور کے برابر بھی اہمیت نہیں دیتے،

 

ارے میرے نزدیک تو امام و قرآن کی قدر یہ ہے کہ امام صاحب جوصرف نمازِ فجر میں ہمیں قرآن سناتے ہیں اگر صرف ایک نماز پر انہیں ہم ایک لاکھ روپے وظیفہ دیں تو یہ بھی کم ہے

 اور یہاں اس مقام کی قدر یہ هے کہ لوگ سات آٹھ ہزار دے کر سمجھتے ہیں کہ ہم ان پر بڑا احسان کرتے ہیں اوراگر ان کا اپنا بیٹا 30 ،40 ہزار بھی کماتا ہو پھر بھی انہیں کم نظر آتا هے اور انہی امام صاحب سے دعا کرائیں گے کہ بچے کی کوئی اچھی جاب لگ جائے، حیرت و افسوس کا مقام ہے

 

لوگوں کا خیال ہے کہ امام صاحب اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے نہ ٹیوشن پڑھائیں نہ کچھ اور کام کریں صرف ان کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے رہیں۔

کیا وہ انسان نہیں ہیں؟

 کیا ان کے بیوی بچوں کی ضروریات نہیں ہیں؟

 کیا وہ اپنے بیوی بچوں کو خوشیاں دینے کے مستحق نہیں ہیں؟

 آج لوگوں کو امام نہیں ایک نوکر اور غلام کی تلاش ہے، مہربانی فرما کر تشریف لے جائیں اور دوبارہ میرے پاس آنے کی ضرورت نہیں

یہ کہہ کر مفتی صاحب چل دیۓ اور کمیٹی ممبران دیکھتے رہ گئے.

۔


Junaid Tahir
Founder, Exceediance  |  Author
👤 View my portfolio →
Exceediance  |  AllGoodSchools  |  DailyTenMinutes  |  AapKaFaida
📚 Books: My Amazon Author Page
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages