Story: The Business Tycoon Died

3 views
Skip to first unread message

Junaid Tahir

unread,
Jun 13, 2026, 1:34:41 AM (10 days ago) Jun 13
to

Story: The Business Tycoon Died

A business tycoon passed away. He left for his widow 1 Billion  USD in the bank. The widow remarried one of her husband's you...




business tycoon passed away. He left for his widow 1 Billion 
USD in the bank. The widow remarried one of her husband's young employees. The employee said, "All this while I thought I was working for my boss. I now realize that my boss was all the time working for me!" 
 
 

Moral of the Story:
It is more important to live longer than to have more wealth.
  • Strive to have a strong and healthy body.
  • In an expensive cell phone, 75% of the functions are useless.
  • In an expensive car, 75% of the speed is not needed.
  • In a big luxurious house, 75% of the space remains unoccupied or unutilized.
  • In a whole wardrobe of clothes, 75% of them are rarely worn.
  • Out of whole life's earnings, 75% stays behind for other people to use.
  • In every human being, 75% of the talent is not utilized So, how to make full use of our 25%?
  • Go for medical check-up even when you feel fit.
  • Drink more water even if you're not thirsty.
  • Let go your ego, whenever you can.
  • Give in even if you are right. 
  • Be humble even if you are very powerful.
  • Be contented even if you are not rich. Have a Great Life !  


______________________

سپاہیوں کی کہانی



ناکے پر کھڑا سپاہی


میں نے ناکے پر کھڑے سپاہی سے سوال کیا۔
" سنا ہے بہت کما لیتے ہو ۔۔ !! "
ایک تلخ مسکراہٹ لمحہ بھر کے لئے اس کے چہرے پر آئی اور پھر دم توڑ گئی۔ عجیب سی یاسیت اس کے لہجہ میں در آئی۔ کہنے لگا ؛
"صاحب ! میں اپنے باپ کی جگہ بھرتی ہوا ہوں۔ میرا باپ تم لوگوں کی حفاظت کے لئے ناکے پر کھڑا تھا، تمہارے جیسے کسی صاحب کے دشمن نے اسی ناکے پر رکنے کی بجائے میرے باپ کو گولیوں سے چھلنی کر دیا تھا۔ اسے تو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ اس کے قاتل کون ہیں۔ وہ پہلی بار ان قاتلوں سے ملا تھا۔ یہیں کہیں اسے پہلی گولی لگی اور اس نے بھاگنے کی بجائے ڈاکوؤں کی طرف اپنی پستول کا رخ کر دیا۔ اس جرم کی سزا یہ ملی کہ اس پر پورا برسٹ فائر ہوا۔ اخبار میں ایک خبر اور دو تعزیتی بیان چھپے اور پھر میں اسی ناکے پر آ گیا۔ میرے گھر جانے تک میری ماں اور بیوی یہی سوچتی رہتی ہیں کہ جانے آج بھی زندہ لوٹوں گا یا اپنے باپ کی طرح کسی اجنبی کی گولیوں کا نشانہ بن جاؤں گا۔ میرے بچوں کو خبر نہیں وہ کب یتیم کہلانے لگیں ۔۔۔


سپاہی دم لینے کو رکا اور پھر عجیب سے انداز میں کہنے لگا : صاحب ! پیسے کمانے ہوتے تو اور بھی کئی راستے تھے۔ تم ایک دن اسی جگہ، اسی ناکے پر کھڑے ہو کر ڈیوٹی دے لو۔ شاید تمہیں خبر نہیں کہ ایک سپاہی دن بھر میں کتنا دھواں اپنے پھیپھڑوں میں اتارتا ہے، شاید تمہیں اس گرمی اور دھوپ کا اندازہ نہیں ہے، تم ٹھنڈی گاڑیوں میں آنے والوں کو تو یہ بھی علم نہیں کہ ہر دو منٹ بعد لوگوں سے بحث کرنے والے کا سر کیسے چکرانے لگتا ہے۔ تم تو عید کی نماز کے بعد بھی ہم پردیسیوں سے گلے ملنا گوارا نہیں کرتے۔ ساری باتیں چھوڑو اور ایک کام کرو ۔۔۔ صرف آدھا دن اس احساس کے ساتھ میری جگہ کھڑے ہو جاؤ کہ کسی بھی لمحے کوئی تمہیں گولی مار دے گا، آدھے دن بعد ایک لاکھ بھی ملے تو نہیں رک پاؤ گے ۔۔۔


صاحب ! جان سب کو پیاری ہوتی ہے، لیکن ہم سپاہیوں کی کہانی الگ ہے۔ ہم اپنے گھر والوں کو اس لئے تنہا چھوڑ آتے ہیں کہ تمہارے گھر والے محفوظ رہیں ۔۔۔


سنو ! کچھ سال بعد اسی ناکے پر آنا، شاید تب تک میں بھی اپنے باپ کی طرح مارا جا چکا ہوں اور میری جگہ میرا بیٹا بھرتی ہو کر تمہیں اسی ناکے پر ملے۔ یہ کہانی ہر سپاہی کی ہے لیکن چند کالی بھیڑوں کی وجہ سے تم ہم سب پر انگلیاں اٹھاتے ہو ۔۔۔
اجازت ہو تو اتنا بتاتے جانا، کیا تمھارے سٹیٹس میں سب فرشتے ہیں؟؟
تم لوگوں میں بھی کالی بھیڑیں ہوتی ہیں۔ کیا میں سبھی کو ایک جیسا کہہ سکتا ہوں؟؟؟
تم سے پوچھ سکتا ہوں کہ کتنے پیسے کما لیتے ہو ؟؟
بولو صاحب ؟؟؟


Junaid Tahir  
Blogger, Editor, Designer
Exceediance | allgoodschools
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages