جی ہاں، میری گاڑی کی ڈِگی ایسی ہی ہے۔
میری گاڑی کی ڈِگی میں صرف ٹائر یا ٹولز نہیں — بلکہ کپڑے، پرفیومز، جائے نمازیں، اور چھوٹے تحفے رکھے ہوتے ہیں۔ یہ چیزیں میرے لیے نہیں ہوتیں۔ یہ ان لوگوں کے لیے ہوتی ہیں جنہیں میں شاید آج پہلی بار دیکھوں گا۔
دفتر سے واپسی پر، میں اکثر کسی تعمیراتی سائٹ، مزدوروں کے علاقوں یا کم آمدنی والے محلوں کے پاس رُکتا ہوں۔ وہاں جا کر میں کسی کی زندگی میں 2 منٹ کی بہتری لانے کی کوشش کرتا ہوں۔
یہ سب کچھ اکیلا نہیں کرتا۔ اکثر ویک اینڈ پر اپنے بچوں کو ساتھ لے جاتا ہوں۔ ہم صرف 30 منٹ نکالتے ہیں — اور نچلے طبقے کے علاقوں میں جا کر چھوٹے چھوٹے تحفے بانٹتے ہیں۔
کبھی بسکٹ کا پیکٹ، کبھی کھلونا، کبھی صرف ایک محبت بھرا جملہ۔
یہ آدھا گھنٹہ میرے بچوں کے لیے سو سبقوں سے زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے۔ وہ دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ نیکی صرف بولنے کی چیز نہیں، عمل کی بھی چیز ہے۔
اکثر لوگ کہتے ہیں:
"میرے پاس دینے کے لیے کچھ خاص نہیں""اتنا کم دوں گا تو کیا فائدہ؟""کوئی فرق نہیں پڑے گا"
چاہے آپ کسی بچے کی فیس ادا کریں، کسی مزدور کے لیے چائے خریدیں، یا صرف مسکرا کر بات کریں — یہ سب نیکی ہے۔
شاید اب وقت ہے کہ ہم سب یہ سوال خود سے کریں۔
ہم اپنی زندگی کی رفتار میں اتنے مصروف ہو جاتے ہیں کہ دوسروں کی ضروریات پر دھیان دینا بھول جاتے ہیں۔
کیونکہ اگر آپ صرف ایک زندگی میں بہتری لا سکیں — تو یہ کافی ہے