Transform Your Looks, Habits, Personalities

0 views
Skip to first unread message

Junaid Tahir

unread,
Jan 24, 2026, 12:46:03 PM (3 days ago) Jan 24
to

Transform Your Looks, Habits, Personalities

  Transforming your looks, habits, and personality is about embracing change to become the best version of yourself. When ...




 Transforming your looks, habits, and personality is about embracing change to become the best version of yourself. When it comes to your looks, subtle changes like adopting a healthier lifestyle, enhancing your grooming routine, or even changing your style can significantly impact how you feel about yourself. Regular exercise, balanced nutrition, and self-care routines improve your appearance and boost your confidence. Personal style, including the way you dress or present yourself, can also be an expression of who you are, making you feel more aligned with the person you want to be.

Changing habits and personality traits requires inner work and commitment. Building better habits—such as time management, mindfulness, or even developing a consistent morning routine—helps shape a more disciplined and productive version of yourself. On a deeper level, transforming your personality may involve working on emotional intelligence, communication skills, and empathy. By intentionally practicing patience, positivity, and adaptability, you can cultivate a personality that resonates with your goals and values, ultimately enhancing your relationships and outlook on life.


 سورۃ العصر - زمانے کی قسم انسان خسارے میں ہے

  زمانے کی قسم انسان خسارے میں ہے سورۃ العصر قرآن مجید کی اوّلین اور مختصر ترین سورتوں میں سے ایک ہے۔ اس لیے کہ یہ کُل تین آیات پ...



 

زمانے کی قسم انسان خسارے میں ہے

سورۃ العصر قرآن مجید کی اوّلین اور مختصر ترین سورتوں میں سے ایک ہے۔ اس لیے کہ یہ کُل تین آیات پر مشتمل ہے۔ قرآن مجید میں کوئی سورۃ تین سے کم آیات پر مشتمل نہیں ہے‘ بلکہ عجیب حسنِ اتفاق ہے کہ کُل تین ہی سورتیں قرآن مجید میں ایسی ہیں جو تین تین آیات پر مشتمل ہیں۔ انہی میں سے ایک سورۃ العصر ہے ‘اور اتنی مختصر ہے کہ اس کی پہلی آیت صرف ایک لفظ پر مشتمل ہے  یعنی  والعصر

 اس سورۃ میں زمانے کی قسم اس بات پر کھائی گئی ہے کہ انسان بڑے خسارے میں ہے ، اور اس خسارے سے صرف وہی لوگ بچے ہوئے ہیں جن کے اندر چار صفتیں پائی جاتی ہیں ۔
( 1 ) ایمان
( 2 ) عمل صالح
( 3 ) ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کرنا
( 4 ) ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرنا ۔
 
اب اس کے ایک ایک جز کو الگ لے کر اس پر غور کرنا چاہیے تاکہ اس ارشاد کا پورا مطلب واضح ہوجائے ۔

 جہاں تک قسم کا تعلق ہے اس سے پہلے بارہا یہ وضاحت کی جاچکی ہے کہ اللہ تعالی نے مخلوقات میں سے کسی چیز کی قسم اس کی عظمت یا اس کے کمالات و عجائب کی بنا پر نہیں کھائی ہے ، بلکہ اس بنا پر کھائی ہے کہ وہ اس بات پر دلالت کرتی ہے جسے ثابت کرنا مقصود ہے ۔ پس زمانے کی قسم کا مطلب یہ ہے کہ زمانہ اس حقیقت پر گواہ ہے کہ انسان بڑے خسارے میں ہے سوائے ان لوگوں کے جن میں یہ چار صفتیں پائی جاتی ہوں ۔ 

زمانے کا لفظ گزرے ہوئے زمانے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے ، اور گزرتے ہوئے زمانے کے لیے بھی جس میں حال درحقیقت کسی لمبی مدت کا نام نہیں ہے ۔ ہر آن گزر کر ماضی بنتی چلی جارہی ہے ، اور ہر آن آکر مستقبل کو حال اور جاکر حال کو ماضی بنا رہی ہے ۔ گزرے ہوئے زمانے کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ انسانی تاریخ اس بات پر شہادت دے رہی ہے کہ جو لوگ بھی ان صفات سے خالی تھے وہ بالآخر خسارے میں پڑ کر رہے ۔ اور گزرتے ہوئے زمانے کی قسم کھانے کا مطلب سمجھنے کے لیے یہ بات اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ جو زمانہ اب گزر رہا ہے وہ دراصل وہ وقت ہے جو ایک ایک شخص اور ایک ایک قوم کو دنیا میں کام کرنے کے لیے دیا گیا ہے ۔

 اس کی مثال اس وقت کی سی ہے جو امتحان گاہ میں طالب علم کو پرچے حل کرنے کے لیے دیا جاتا ہے ۔ یہ وقت جس تیز رفتاری کے ساتھ گزر رہا ہے اس کا اندازہ تھوڑی دیر کے لیے اپنی گھڑی میں سیکنڈ کی سوئی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھنے سے آپ کو ہوجائے گا ۔ حالانکہ ایک سیکنڈ بھی وقت کی بہت بڑی مقدار ہے ۔ اسی ایک سیکنڈ میں روشنی ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل کا راستہ طے کرلیتی ہے ، اور خدا کی خدائی میں بہت سی چیزیں ایسی بھی ہوسکتی ہیں جو اس سے بھی زیادہ تیز رفتار ہوں خواہ وہ ابھی تک ہمارے علم میں نہ آئی ہوں ۔ تاہم اگر وقت کے گزرنے کی رفتار وہی سمجھ لی جائے جو گھڑی میں سیکنڈ کی سوئی کے چلنے سے ہم کو نظر آتی ہے ، اور اس بات پر غور کیا جائے کہ ہم جو کچھ بھی اچھا یا برا فعل کرتے ہیں اور جن کاموں میں بھی ہم مشغول رہتے ہیں ، سب کچھ اس محدود مدت عمر ہی میں وقوع پذیر ہوتا ہے جو دنیا میں کام کرنے کے لیے دی گئی ہے ، تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا اصل سرمایہ تو یہی وقت ہے جو تیزی 
سے گزر رہا ہے ۔ 

امام رازی نے کسی بزرگ کا قول نقل کیا ہے کہ میں نے سورہ عصر کا مطلب ایک برف فروش سے سمجھا جو بازار میں آواز لگا رہا تھا کہ رحم کرو اس شخص پر جس کا سرمایہ گھلا جارہا ہے ، رحم کرو اس شخص پر جس کا سرمایہ گھلا جارہا ہے ، اس کی یہ بات سن کر میں نے کہا یہ ہے وَالْعَصْرِ ۔ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِيْ خُسْرٍ ۔ کا مطلب ۔ عمر کی جو مدت انسان کو دی گئی ہے وہ برف کے گھلنے کی طرح تیزی سے گزر رہی ہے ۔ اس کو اگر ضائع کیا جائے ، یا غلط کاموں میں صرف کر ڈالا جائے تو یہی انسان کا خسارہ ہے ۔ پس گزرتے ہوئے زمانے کی قسم کھا کر جو بات اس سورہ میں کہی گئی ہے ، اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ تیز رفتار زمانہ شہادت دے رہا ہے کہ ان چار صفات سے خالی ہوکر انسان جن کاموں میں بھی اپنی مہلت عمر کو صرف کر رہا ہے وہ سب کے سب خسارے کے سودے ہیں ۔

نفع میں صرف وہ ولگ ہیں جو ان چاروں صفات سے متصف ہوکر دنیا میں کام کریں ۔ یہ ایسی ہی بات ہے جیسے ہم اس طالب علم سے جو امتحان کے مقررہ وقت کو اپنا پرچہ حل کرنے کے بجائے کسی اور کام میں گزار رہا ہو ، کمرے کے اندر لگے ہوئے گھنٹے کی طرف اشارہ کر کے کہیں کہ یہ گزرتا ہوا وقت بتا رہا ہے کہ تم اپنا نقصان کر رہے ہو ، نفع میں صرف وہ طالب علم ہے جو اس وقت کا ہر لمحہ اپنا پرچہ حل کرنے میں صرف کررہا ہے ۔ اور اس کا اطلاق افراد ، گروہوں ، اقوام ، اور پوری نوع انسانی پر یکساں ہوتا ہے ۔ پس یہ حکم کہ مذکورہ چار صفات سے جو بھی خالی ہو وہ خسارے میں ہے ، ہر حالت میں ثابت ہوگا ، خواہ ان سے خالی کوئی شخص ہو ، یا کوئی قوم ، یا دنیا بھر کے انسان ۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے ہم اگر یہ حکم لگائیں کہ زہر انسان کے لیے مہلک ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ زہر بہرحال مہلک ہے خواہ ایک فرد اس کو کھائے ، یا ایک پوری قوم ، یا ساری دنیا کے انسان مل کر اسے کھا جائیں ۔ زہر کی مہلک خاصیت اپنی جگہ اٹل ہے ، اس میں اس لحاظ سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ایک شخص نے اس کو کھایا ہے ، یا ایک قوم نے اسے کھانے کا فیصلہ کیا ہے ، یا دنیا بھر کے انسانوں کا اجماع اس پر ہوگیا ہے کہ زہر کھانا چاہیے ۔ ٹھیک اسی طرح یہ بات اپنی جگہ اٹل ہے کہ چار مذکورہ بالا صفات سے خالی ہونا انسان کے لیے خسارے کا موجب ہے ۔ اس قاعدہ کلیہ میں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی ایک شخص ان سے خالی ہو ، یا کسی قوم نے ، یا دنیا بھر کے انسانوں نے کفر ، بد عملی ، اور ایک دوسرے کو باطل کی ترغیب دینے اور بندگی نفس کی تلقین کرنے پر اتفاق کرلیا ہے ۔ 

اس کے ساتھ یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اگرچہ قرآن کہ نزدیک حقیقی فلاح آخرت میں انسان کی کامیابی ، اور حقیقی خسارہ وہاں اس کی ناکامی ہے ، لیکن اس دنیا میں بھی جس چیز کا نام لوگوں نے فلاح رکھ چھوڑا ہے وہ دراصل فلاح نہیں ہے بلکہ اس کا انجام خود اسی دنیا میں خسارہ ہے ، اور جس چیز کو لوگ خسارہ سمجھتے ہیں وہ دراصل خسارہ نہیں ہے بلکہ اس دنیا میں بھی وہی فلاح کا ذریعہ ہے ۔ اس حقیقیت کو قرآن مجید میں کئی مقامات پر بیان کیا گیا ہے ۔پس جب قرآن پورے زور اور قطعیت کے ساتھ کہتا ہے کہ درحقیقت انسان بڑے خسارے میں ہے تو اس کا مطلب دنیا اور آخرت دونوں کا خسارہ ہے ، اور جب وہ کہتا ہے کہ اس خسارے سے صرف وہ لوگ بچے ہوئے ہیں جن کے اندر حسب ذیل چار صفات پائی جاتی ہیں تو اس کا مطلب دونوں جہانوں میں خسارے سے بچنا اور فلاح پانا ہے ۔ 

Junaid Tahir  
Blogger, Editor, Designer
Exceediance | allgoodschools
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages