Stop Doubting, Start Living

5 views
Skip to first unread message

Junaid Tahir

unread,
Jun 20, 2026, 1:35:53 AM (3 days ago) Jun 20
to

Stop Doubting, Start Living

  Stop Doubting, Start Living Doubt begins as a useful tool. It makes you pause, recheck, and avoid costly mistakes. “When in doubt, doubt a...

 


Stop Doubting, Start Living

Doubt begins as a useful tool. It makes you pause, recheck, and avoid costly mistakes. “When in doubt, doubt again” works for safety checks or big decisions. But left unchecked, doubt stops being a tool and becomes a trap.

The real problem? Doubt turns into a habit. Once you train your brain to question everything—your colleague’s intention, a harmless comment in a meeting, your own ability—you stop seeing reality clearly. You see threats everywhere. This repeated doubt doesn’t protect you; it erodes trust, kills collaboration, and slowly poisons your personality. People stop feeling safe around you. Worse, you stop feeling safe in your own skin.

So how do you break the cycle? Ask one simple question before every doubt: Does this genuinely matter?

If a colleague’s phrasing is slightly off but the project is fine—let it go. If a meeting remark isn’t perfectly accurate but harmless—move on. Reserve your doubt for what truly impacts results, ethics, or safety. Everything else? Assume good intent. Trust first.

Doubt is natural. But habitual doubt is a choice. Choose to doubt less. You’ll be lighter, faster, and far more pleasant to work with. And your peace of mind? That matters most.


____________________________

مثبت سوچ کیسے پیدا ھوتی ھے؟

میاں  کمرے  میں  ہیں۔ سامنے  بچے  کھیل  رہے ہیں۔ خاتون گھر میں پوچھا لگا رہی ہے۔ کہ کچن میں دودہ جلنے کی بوآتی ہے۔  خاتون دوڑ کر کچن کی طرف ...




میاں  کمرے  میں  ہیں۔
سامنے  بچے  کھیل  رہے ہیں۔
خاتون گھر میں پوچھا لگا رہی ہے۔
کہ کچن میں دودہ جلنے کی بوآتی ہے۔ 
خاتون دوڑ کر کچن کی طرف جاتی ہے۔
اسی لمحے مین گیٹ پر کوئی بیل بجاتا ہے۔
میاں مین گیٹ کی طرف جانے کیلئے نکلتے ہیں اور
سامنے رکھی پوچھے کی بالٹی سے انہیں ٹھوکر لگتی ہے۔
۔ ۔ ۔      ۔ ۔ ۔      ۔ ۔ ۔     
*دو ردعمل ممکن ہیں۔*

*مثبت رد عمل:*
خاتون جلدی سے آکر پوچھتی ہے: ’’آپ کو چوٹ تو نہیں لگی، میں جلدی میں بالٹی راستے سے ہٹانی بھول گئی۔‘‘
میاں نے کہا: ’’نہیں، آپ کی غلطی نہیں ہے۔ مجھے ہی دیکھ کر چلنا چاہئے تھا۔ میں نے ہی جلد بازی میں دھیان نہیں دیا۔‘‘

*منفی رد عمل:*
میاں نے چیخ کر کہا: ’’یہ کوئی بالٹی رکھنے کی جگہ ہے۔ تمہیں کوئی عقل نہیں ـ‘‘
بیگم بھی چیخ کر کہتی ہے: ’’یہاں کچن بھی دیکھوں، پوچھا بھی لگاؤں، بچے بھی سنبھالوں وغیرہ وغیرہ۔‘‘ اور جھگڑا شروع  ہو جاتا ہے۔
 ۔ ۔ ۔     ۔ ۔ ۔     ۔ ۔ ۔     ۔ ۔ ۔     ۔ ۔ ۔    
دونوں جگہ بچے مشاہدہ کر رہے ہیں۔
ایک جگہ وہ مسکرا دیں گے، دوسری جگہ وہ سہم جائیں گے۔ 
ایک جگہ انہوں نے سیکھا غلطی مان لو تا کہ دوہرائی نہ جائے۔
دوسری جگہ کے بچوں نے سیکھا اگرغلطی ہوگئی تو ہماری شامت آجانی ہے۔ 
۔ ۔ ۔     ۔ ۔ ۔     ۔ ۔ ۔     ۔ ۔ ۔     ۔ ۔ ۔    
ایسے چھوٹے بڑے واقعات ہمارے گھروں میں اور ہماری روزمرہ  کی زندگی میں روزانہ ہی رونما ہوتے رہتے ہیں۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم انہیں مثبت انداز میں ہنڈل کریں یا منفی انداز میں۔ ہمارا مثبت رویہ خوشگوار ماحول اور امن و سکون فراہم کرتا ہے جبکہ ہمارا منفی رویہ جھگڑا برپا کرکے ماحول کی خرابی اور امن و سکون کو غارت کرنے کا باعث بنتا ہے اور ہماری زندگی کو پریشان کن بناتا ہے۔ ہم اپنی سوچ اور رویے سے اپنے ماحول کو خوشگوار یا بدبودار بناتے ہیں۔ ہم اپنے امن سکون کے خود خالق ہے 

’’اپنی غلطی کو مان لینا یا دوسروں کی غلطی  سے درگزر کرنا‘‘، دونوں ہی مثبت رویہ اور مومن کی صفات ہیں۔ 

جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: 

’’۔ ۔ ۔ جو غصہ کو پی لیتے ہیں اور لوگوں کو معاف کرتے ہیں ایسے نیک لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں۔‘‘ (134) سورة آل عمران

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بندہ معاف کر دیتا ہے اللہ اس کی عزت بڑھاتا ہے‘‘۔  (صحیح مسلم، حدیث نمبر: 6592)

اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ ’’میں جنت کے اطراف میں ایک گھر کا ضامن ہوں جو حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا چھوڑ دے‘‘۔ (سنن ابوداؤد ۔ جلد سوم ۔ ادب کا بیان ۔ حدیث 1396)

Junaid Tahir  
Blogger, Editor, Designer
Exceediance | allgoodschools
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages