Choose Feelings

4 views
Skip to first unread message

Junaid Tahir

unread,
Dec 28, 2025, 11:01:56 PM (10 days ago) 12/28/25
to



If your days seem filled with unwanted negative feelings, there is only one cure. When they come, choose them. Don't ask why, don't wonder how, don't fight them and never put yourself down for having them. But most of all never blame someone else for how you feel. If you do, it means you are still fast asleep and your choice is to be a victim.

When the feelings come, even big disturbing emotional feelings say, "I choose this feeling" and know it comes because of something you have thought or done in the past, perhaps a certain belief that you have learned or an attachment that is threatened.


Choice does not mean you want the feelings, but it does mean you are taking responsibility for them. And that is the beginning of self mastery. It is the first step to the healing and resolving of your emotions. But only the first step. Try this today and then ask yourself what the next step might be. If you are really interested to know, you will come to know!
Source: Choose Feelings

_____________________________________________________

مثبت سوچ کیسے پیدا ھوتی ھے؟

میاں  کمرے  میں  ہیں۔ سامنے  بچے  کھیل  رہے ہیں۔ خاتون گھر میں پوچھا لگا رہی ہے۔ کہ کچن میں دودہ جلنے کی بوآتی ہے۔  خاتون دوڑ کر کچن کی طرف ...




میاں  کمرے  میں  ہیں۔
سامنے  بچے  کھیل  رہے ہیں۔
خاتون گھر میں پوچھا لگا رہی ہے۔
کہ کچن میں دودہ جلنے کی بوآتی ہے۔ 
خاتون دوڑ کر کچن کی طرف جاتی ہے۔
اسی لمحے مین گیٹ پر کوئی بیل بجاتا ہے۔
میاں مین گیٹ کی طرف جانے کیلئے نکلتے ہیں اور
سامنے رکھی پوچھے کی بالٹی سے انہیں ٹھوکر لگتی ہے۔
۔ ۔ ۔      ۔ ۔ ۔      ۔ ۔ ۔     
*دو ردعمل ممکن ہیں۔*

*مثبت رد عمل:*
خاتون جلدی سے آکر پوچھتی ہے: ’’آپ کو چوٹ تو نہیں لگی، میں جلدی میں بالٹی راستے سے ہٹانی بھول گئی۔‘‘
میاں نے کہا: ’’نہیں، آپ کی غلطی نہیں ہے۔ مجھے ہی دیکھ کر چلنا چاہئے تھا۔ میں نے ہی جلد بازی میں دھیان نہیں دیا۔‘‘

*منفی رد عمل:*
میاں نے چیخ کر کہا: ’’یہ کوئی بالٹی رکھنے کی جگہ ہے۔ تمہیں کوئی عقل نہیں ـ‘‘
بیگم بھی چیخ کر کہتی ہے: ’’یہاں کچن بھی دیکھوں، پوچھا بھی لگاؤں، بچے بھی سنبھالوں وغیرہ وغیرہ۔‘‘ اور جھگڑا شروع  ہو جاتا ہے۔
 ۔ ۔ ۔     ۔ ۔ ۔     ۔ ۔ ۔     ۔ ۔ ۔     ۔ ۔ ۔    
دونوں جگہ بچے مشاہدہ کر رہے ہیں۔
ایک جگہ وہ مسکرا دیں گے، دوسری جگہ وہ سہم جائیں گے۔ 
ایک جگہ انہوں نے سیکھا غلطی مان لو تا کہ دوہرائی نہ جائے۔
دوسری جگہ کے بچوں نے سیکھا اگرغلطی ہوگئی تو ہماری شامت آجانی ہے۔ 
۔ ۔ ۔     ۔ ۔ ۔     ۔ ۔ ۔     ۔ ۔ ۔     ۔ ۔ ۔    
ایسے چھوٹے بڑے واقعات ہمارے گھروں میں اور ہماری روزمرہ  کی زندگی میں روزانہ ہی رونما ہوتے رہتے ہیں۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم انہیں مثبت انداز میں ہنڈل کریں یا منفی انداز میں۔ ہمارا مثبت رویہ خوشگوار ماحول اور امن و سکون فراہم کرتا ہے جبکہ ہمارا منفی رویہ جھگڑا برپا کرکے ماحول کی خرابی اور امن و سکون کو غارت کرنے کا باعث بنتا ہے اور ہماری زندگی کو پریشان کن بناتا ہے۔ ہم اپنی سوچ اور رویے سے اپنے ماحول کو خوشگوار یا بدبودار بناتے ہیں۔ ہم اپنے امن سکون کے خود خالق ہے 

’’اپنی غلطی کو مان لینا یا دوسروں کی غلطی  سے درگزر کرنا‘‘، دونوں ہی مثبت رویہ اور مومن کی صفات ہیں۔ 

جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: 

’’۔ ۔ ۔ جو غصہ کو پی لیتے ہیں اور لوگوں کو معاف کرتے ہیں ایسے نیک لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں۔‘‘ (134) سورة آل عمران

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بندہ معاف کر دیتا ہے اللہ اس کی عزت بڑھاتا ہے‘‘۔  (صحیح مسلم، حدیث نمبر: 6592)

اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ ’’میں جنت کے اطراف میں ایک گھر کا ضامن ہوں جو حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا چھوڑ دے‘‘۔ (سنن ابوداؤد ۔ جلد سوم ۔ ادب کا بیان ۔ حدیث 1396)

جھگڑا امن و سکون کو تباہ کرتا ہے۔ لہذا جو بندہ دوسروں کو معاف کرکے یا خود اپنی غلطی کو تسلیم کرکے یا پھر خود حق پر رہنے کے باوجود اپنا حق صرف اس لئے چھوڑ دے کہ جھگڑا نہ ہو تو وہ ماحول کو خوشگوار اور پُرامن بناتا ہے جس کے بدلے میں ایسے بندے کیلئے امن کی جگہ جنت کے اطراف میں ایک گھر کی ضمانت دی گئی ہے۔

*لہذا ہمیں دین کی ان باتوں کو سیکھنا، سمجھنا اور ان  پر عمل کرنا ضروری ہے تب ہی ہم مثبت سوچ اور مثبت رویے کے ساتھ اپنے ماحول کوخوشگوار اور اپنی زندگی کو آسان بنا سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سبھوں کو اس کی توفیق دے۔

Junaid Tahir  
Blogger, Editor, Designer
Exceediance | allgoodschools
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages