Story: Bank Account

3 views
Skip to first unread message

Junaid Tahir

unread,
Jun 16, 2026, 1:35:52 AM (7 days ago) Jun 16
to

Story: Bank Account

A 92-year-old, petite, well-poised and proud man, who is fully dressed each morning by eight o'clock, with his hair fashionably combed...




A 92-year-old, petite, well-poised and proud man, who is fully dressed each morning by eight o'clock, with his hair fashionably combed, even though he is legally blind, moved to a nursing home today.

His wife of 70 years recently passed away, making the move necessary. After many hours of waiting patiently in the lobby of the nursing home, he smiled sweetly when told his room was ready.

As he maneuvered his walker to the elevator, I provided a visual description of his tiny room, including the eyelet sheets that had been hung on his window. I love it,' he stated with the enthusiasm of an eight-year-old having just been presented with a new puppy.

Mr. Jones, you haven't seen the room; just wait.'

'That doesn't have anything to do with it,' he replied.

Happiness is something you decide on ahead of time.

Whether I like my room or not doesn't depend on how the furniture is arranged ... it's how I arrange my mind. I already decided to love it.

'It's a decision I make every morning when I wake up. I have a choice; I can spend the day in bed recounting the difficulty I have with the parts of my body that no longer work, or get out of bed and be thankful for the ones that do.

Each day is a gift, and as long as my eyes open, I'll focus on the new day and all the happy memories I've stored away.. Just for this time in my life.

Old age is like a bank account. You withdraw from what you've put in.

__________________________

کڑهائی کھاتے ہیں

ایک دن میں اپنے امی ابو کے ساتھ رسٹورنٹ کهانا کهانے گیا، وہاں ہمارے علاوه ایک جوان زوج اور ایک ستر اسی ساله میاں بیوی بیٹے تھے۔ ہم سب نے...




ایک دن میں اپنے امی ابو کے ساتھ رسٹورنٹ کهانا کهانے گیا، وہاں ہمارے علاوه ایک جوان زوج اور ایک ستر اسی ساله میاں بیوی بیٹے تھے۔ ہم سب نے اپنے اپنے کھانوں کا آرڈر دے دیا اور کهانے کا انتظار کر رہے تھے که ایک اور صاحب رسٹورنٹ میں داخل ہوئے۔ تهوڑی دیر میں اس صاحب کا فون بجا اور زور زور سے باتیں کرنے لگا، اس کے فون کی آواز اتنی آہسته تھی کہ مجھے سنائی تک نہ دی۔ وه فون بند کر کے زور زور سے کہنے لگا که آج آٹھ سال کے بعد میرے گھر بیٹا ہوا ہے اور اس خوشی میں، میں سب کو کڑهائی کلاونگا۔ میں اپنی جگہ سے اٹها اور آگے جا کر اسے مبارک باد دی اور کہا کہ ہم نے اپنے کھانوں کا آرڈر دے دیا ہے، یہ سنتے ہی اس نے کہا اچها چلو میں تمہارے کهانوں کا بل بھرونگا، اور بل بھر کر اپنا کھانا پیک کرکے چلا گیا۔
چند دن بعد میں اپنے دوستوں کے ہمراه


گیا، کہ اچانک میری نظر اسی شخص پر پڑھی جو ایک پانچ سال کے بچے کے ساتھ ٹکٹ لے رہا تھا، میں اپنے دوستوں سے کچھ لمحے کے لئے دور ہوا اور اس شخص کے پاس پہنچا، جونہی اس نے مجھے دیکھا اس کے چہرے پر میں نے عجیب تاثر کا احساس کیا، بہرحال سلام دعا کے بعد میں نے کہا کہ ماشاالله اپکا بیٹا چند دنوں میں اتنا بڑا ہوگیا. جونہی اس نے یہ الفاظ سنے کہا چھوڑو ان باتوں کو، جب اس نے یہ کہا تو میرا تجسس اور بڑھ گیا اور میں نے اصرار کیا کہ وه مجهے حقیقت بتائے، بہت اصرار پر اس نے بتایا کہ اس دن جب وه رسٹورنٹ میں داخل تو میرے ہاتھ گندھے تھے، میں ہاتھ دھونے کے لئے گیا، اور ہاتھ دھوتے وقت میں نے اس بوڑهے اور بڑهیا کی آوراز سنی کہ بڑهیا کہہ رہی تھی کڑهائی کھاتے ہیں تو اس پر بوڑھے نے کہا کہ پورے مہینے کے لئے میرے پاس صرف ہزار روپے ہیں اگر کڑهائی کهائیں گے تو پورے مہینے گزارا کیسے ہوگا؟ آج بھی صرف تمہاری وجہ سے ہوٹل آئیں ہیں۔ اس نے کہا کہ اسی وجہ سے میں نے یہ ڈراما کیا۔ میں نے سوال کیا کہ صرف انہی کے پیسے دے دیتے، تو اس نے جواب دیا میں انکی بے عزتی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ یہ سن کر اس سے خداحافظی کر لی


Junaid Tahir  
Blogger, Editor, Designer
Exceediance | allgoodschools
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages