تم نے کہا کہ یہ ڈیڑھ گز کا کپڑے کا ٹکڑا حجاب ہے ۔۔۔
اچھا یہ بتاو تم کیک بہت اچھا بناتی ہو کبھی اسے بیک کر کے کھلا چھوڑ کہ دیکھنا کہ کس قدر مکھیوں کا جھمگٹا اس پر چمٹا ہوگا ۔۔۔!!
قصور کس کا ہوگا تمہارا یا ان مکھیوں کا ؟؟؟ ان کا تو کام یہی ہے۔۔۔ اس لیے قصور بھی تمہارا ہوا نا تمہیں اسے ڈھانپ کہ رکھنا چاہیے تھا ناکہ تک اب مکھیوں سے جھگڑنا شروع کردو ۔۔
بس ایسے ہی اگر ہم بے ہودہ فیشن زدہ لباس میں ملبوس باہر نکلیں گے تو ہم کسی کی نگاہوں پر پابندی لگانے کے مجاز نہیں ہیں کہ کسی نے ہمیں کس نگاہ سے کیوں دیکھا پھر آپ نے خود کو بپلک کے لیے اوپن کردیا اب انکی حرکتوں پر چیغ و پکار کیسی ؟؟؟
اچھا یہ بتاو کبھی تم نے آرٹیفیشل جیولری کو دیکھا ہے جو ہر دوکان پر بلکل سامنے ہی پڑی ہوتی ہے
جس نے نہیں خریدنی ہوتی وہ بھی چھوتا جاتا ہے بس یونہی گزرتے گزرتے اس لیے کے وہ سامنے ہی پڑی ہوتی ہے ہر ایک کی پہنچ میں ہوتی ہے۔۔۔
مگر کیا کبھی گولڈ اور ڈائمنڈ کی شاپ پر دیکھا کہ ہر ایک جا کر وہاں سے کچھ اٹھا لے کسی چیز کو چھو لے ؟؟
نہیں بلکہ وہاں صرف وہ جاتا ہے جو اس کا حقییقی حقدار اور لینے والا ہوتا ہے
کیا تم نے دیکھا ہے گولڈ اور ڈائمنڈ جس میں رکھا جاتا ہے وہ غلاف کیسا ہو تا ہے ؟؟ْ
۔۔۔۔۔ کس قدر نرم و ملائم!
اچھا یہ بتاو تم اپنی قیمتی چیزوں کو کہاں رکھتی ہو ؟؟
کیا تم انہیں سبنھال کر کسی محفوظ جگہ میں نہیں رکھتیں ؟؟
اسی لیے نہ تاکہ باہر کی گرد و غبار انہیں میلا نہ کردے ۔۔۔
مگر بات صرف ڈیرھ گز کے حجاب اور چار گز کےعبایا کے اس ٹکڑے کی نہیں ۔۔۔
بات تو اس محبت کی ہے جو تمہارے رب کو تم سے ہے،
بات تو اس فکر کی ہے جو وہ پیارا رب تمہارے لیے کرتا ہے ،اور اسی وجہ سے اس نے اس حجاب کو تمہارے لیے چنا
اور بات تو اس احسان کی ہے جو اس عظمتوں والے رب نے تم پر کیا
اور تمہیں ایک محفوظ حصار عطا کردیا اور اس کی محبتوں کا ذرا سا تصور اس کی اس ایک بات سے لگاو کہ وہ یہ نہیں کہتا کہ تم قید ہوجاو بلکہ وہ تو کہتا ہے کہ میں نے اس حجاب کو تمہاری پہچان بنادیا ہے اب لوگ تمہیں دور سے پہچان لیا کریں گے اور پھر تم ستائی نہیں جاوگی ۔