Story: The Carpenter

2 views
Skip to first unread message

Junaid Tahir

unread,
May 4, 2025, 2:02:19 AM5/4/25
to

Story: The Carpenter

A highly skilled carpenter who had grown old was ready to retire. He told his employer-contractor of his plans to leave the hou...



A highly skilled carpenter who had grown old was ready to retire. He told his employer-contractor of his plans to leave the house building business and live a more leisurely life with his family. He would miss the paycheck, but he needed to retire.

The employer was sorry to see his good worker go and asked if he could build just one more house as a personal favor. The carpenter agreed to this proposal but made sure that this will be his last project. Being in a mood to retire, the carpenter was not paying much attention to building this house. His heart was not in his work. He resorted to poor workmanship and used inferior materials. It was an unfortunate way to end his career.
When the job was done, the carpenter called his employer and showed him the house. The employer handed over some papers and the front door key to the carpenter and said "This is your house, my gift to you."

The carpenter was in a shock! What a shame! If he had only known that he was building his own house, he would have made it better than any other house that he ever built! 
Label: Short Story
_______________

ایک ہی زمین اور پانی مگر طرح طرح کے غلے اور پھل

سُوۡرَۃٌ الرَّعْد   ۔  ؛•‍━━•••◆◉ ﷽ ◉◆•••‍━━•؛ 📖 ارشاد باری تعالیٰ ﷻ : وَ فِی الۡاَرۡضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنۡ اَعۡنَابٍ ...




سُوۡرَۃٌ الرَّعْد 
 ۔  ؛•‍━━•••◆◉ ﷽ ◉◆•••‍━━•؛

📖 ارشاد باری تعالیٰ ﷻ :
وَ فِی الۡاَرۡضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنۡ اَعۡنَابٍ وَّ زَرۡعٌ وَّ نَخِیۡلٌ صِنۡوَانٌ وَّ غَیۡرُ صِنۡوَانٍ یُّسۡقٰی بِمَآءٍ وَّاحِدٍ ۟ وَ نُفَضِّلُ بَعۡضَہَا عَلٰی بَعۡضٍ فِی الۡاُکُلِ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ ﴿۴﴾

📚 ترجمہ :
اور زمین میں مختلف قطعے ہیں جو پاس پاس واقعے ہوئے ہیں ، اور انگور کے باغ اور کھیتیاں اور کھجور کے درخت ہیں ، جن میں سے کچھ دہرے تنے والے ہیں ، اور کچھ اکہرے تنے والے ۔ سب ایک ہی پانی سے سیراب ہوتے ہیں ، اور ہم ان میں سے کسی کو ذائقے میں دوسرے پر فوقیت دے دیتے ہیں ۔ یقیناً ان سب باتوں میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیں ۔

✍️ تفسیر :
یعنی ساری زمین کو اس نے یکساں بنا کر نہیں رکھ دیا ہے ، بلکہ اس میں بے شمار خطے پیدا کر دیئے ہیں ، جو متصل ہونے کے باوجود شکل میں ، رنگ میں ، مادہ ترکیب میں ، خاصیتوں میں ، قوتوں اور صلاحیتوں میں ، پیداوار اور کیمیاوی یا معدنی خزانوں میں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں ۔ ان مختلف خطوں کی پیدائش اور ان کے اندر طرح طرح کے اختلافات کی موجودگی اپنے اندر اتنی حکمتیں اور مصلحتیں رکھتی ہے کہ ان کا شمار نہیں ہو سکتا ۔ دوسری مخلوقات سے قطع نظر ، صرف ایک انسان ہی کے مفاد کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ انسان کی مختلف اغراض و مصالح اور زمین کے ان خطوں کی گونا گونی کے درمیان جو مناسبتیں اور مطابقتیں پائی جاتی ہیں ، اور ان کی بدولت انسانی تمدن کو پھلنے پھولنے کے جو مواقع بہم پہنچے ہیں ، وہ یقیناً کسی حکیم کی فکر اور اس کے سوچے سمجھے منصوبے اور اس کے دانشمندانہ ارادے کا نتیجہ ہیں ۔ اسے محض ایک اتفاقی حادثہ قرار دینے کے لئے بڑی ہٹ دھرمی درکار ہے ۔
کھجور کے درختوں میں بعض ایسے ہوتے ہیں جن کی جڑ سے ایک ہی تنا نکلتا ہے ، اور بعض میں ایک جڑ سے دو یا زیادہ تنے نکلتے ہیں ۔
اس آیت میں اللہ کی توحید اور اس کی قدرت و حکمت کے نشانات دکھانے کے علاوہ ایک اور حقیقت کی طرف بھی لطیف اشارہ کیا گیا ہے ، اور وہ یہ ہے کہ اللہ نے اس کائنات میں کہیں بھی یکسانی نہیں رکھی ہے ۔ ایک ہی زمین ہے ، مگر اس کے قطعے اپنے اپنے رنگوں ، شکلوں اور خاصیتوں میں جدا ہیں ۔ ایک ہی زمین اور ایک ہی پانی ہے مگر اس سے طرح طرح کے غلے اور پھل پیدا ہو رہے ہیں ۔ ایک ہی درخت اور اس کا ہر پھل دوسرے پھل سے نوعیت میں متحد ہونے کے باوجود شکل اور جسامت اور دوسری خصوصیات میں مختلف ہے ۔ ایک ہی جڑ ہے اور اس سے دو الگ تنے نکلتے ہیں ، جن میں سے ہر ایک اپنی الگ انفرادی خصوصیات رکھتا ہے ۔ ان باتوں پر جو شخص غور کرے گا ، وہ کبھی یہ دیکھ کر پریشان نہ ہو گا کہ انسانی طبائع اور میلانات اور مزاجوں میں اتنا اختلاف پایا جاتا ہے ۔ جیسا کہ آگے چل کر اسی سورۃ میں فرمایا گیا ہے ، اگر اللہ چاہتا تو سب انسانوں کو یکساں بنا سکتا تھا ، مگر جس حکمت پر اللہ نے اس کائنات کو پیدا کیا ہے ، وہ یکسانی کی نہیں بلکہ تنوع اور رنگا رنگی کی متقاضی ہے ۔ سب کو یکساں بنا دینے کے بعد تو یہ سارا ہنگامہ وجود ہی بے معنی ہو کر رہ جاتا ۔

اللّٰہ پاک ہمیں قرآن پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔
🔰WJS🔰

Junaid Tahir  
Blogger, Editor, Designer
Exceediance | allgoodschools
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages