حضرت عائشہ صدیقہ
ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر ان کی گود میں تھا اچانک ان کے آنسو آپ کے چہرہ مبارک پر گرے،پوچھا کیا ہوا عائشہ؟؟
بولیں مجھے دوزخ یاد آرہی ہے۔۔
کیا پچھلے ایک برس میں ایک بار بھی دوزخ ایسے یاد آئی کہ خوف سے آنسو چھلک پڑے ہوں؟
حالانکہ ہمارے اور ان کے اعمال کا کیا مقابلہ؟رونا تو ہمیں چاہیے کہ کل کے لیے کیا ہی کیا یے؟؟
سچی بات ہے ہر محبوب کو تنہائی درکار ہوتی ہے۔.
ہماری تنہائیوں کا محبوب یہ موبائل یے۔
اگر دن کے اڑتالیس گھنٹے ہوں وہ بھی کم ہیں ان آڈیوز اور ویڈیوز کے لیے۔
کرونا نے کتنے دکھ دئے، دل چھلنی ہوگیا۔
مگر بدلا کچھ ایک فیصد بھی نہیں۔۔ نہ دل کی دنیا میں نہ گھر کی دنیا۔۔
رمضان آرہا ہے چلا بھی جائے گا۔سحروافطار کے ہنگامے،کچھ نوافل،کچھ صدقات،کچھ ختم قرآن۔۔ روزوں کا حاصل۔
سوچتی ہوں جادوگران فرعون کو کیسے لمحہ بھر میں رب کی معرفت مل گئی دل کی دنیا پلٹ گئی۔
ایسا نہ ہو کہ
اللہ تعالیٰ ہمارے پلٹنے کے منتظر ہوں۔اسی لیے یہ ایک اور رمضان عطا کردیا۔
اگر اللہ نے روز حشر شکوہ کیا کہ۔۔۔
"اتنا مصروف رہتی تھیں تم مجھ سے ملنے کی فرصت ہی نہ تھی…
نہ نماز میں ہمیں سمجھ آتا ہے کیا کہہ رہے ہیں ،نہ قرآن کو پڑھتے ہوئے کبھی آنسو آئے یا لرزہ طاری ہوا۔۔
اس کی نعمتوں سے جھولیاں بھر رہے ہیں مگر
اس سے ملنے کا وقت ہی نہیں۔
کہ
کار جہاں دراز ہے میرا انتظار کر۔۔
12/4/21