The Toilet Of Top Management

2 views
Skip to first unread message

Junaid Tahir

unread,
May 6, 2025, 2:02:51 AM5/6/25
to

The Toilet Of Top Management

Chairman, TATA Steel was holding a weekly meeting with Tata Steel staff in Jamshedpur. A worker took up a serious issue. He said the quali...





Chairman, TATA Steel was holding a weekly meeting with Tata Steel staff in Jamshedpur.

A worker took up a serious issue. He said the quality and hygiene of toilets for the workers were very bad. Whereas, he pointed that the cleanliness and the hygiene of executive toilets were always very good.

Chairman asked his top executive how much time he needs to set it right. The executive asked for a month to set it right.

Chairman said "I would rather do it in a day. Send me a carpenter."

Next day, when the carpenter came, *he ordered the sign boards to be swapped*.

The sign board on the workers' toilet displayed "Executives" and the Executives' toilet displayed "Workers".

Chairman then instructed this sign to be changed every fortnight.

The quality of both the toilets came at par in the next three days.

Leaders listen with lots of patience and give solutions without wasting time.

"The Leadership is something much more than being an Executive"_*
*Learning from this message :*
Problem identification requires critical thinking. But solutions require creative thinking.



بچے روزانہ چوبیش گھنٹے کس مصروفیت میں گذارتے ہیں؟

میں نے تدر یسی فرائض کے دوران ایک کلاس میں سرسری طور پر سوال کیا کہ کشمیر کا کیا مسئلہ ہے بھئی؟ ہلکے پھلکے لہجے میں کیا ہوا یہ سوال کلاس...


میں نے تدر یسی فرائض کے دوران ایک کلاس میں سرسری طور پر سوال کیا کہ کشمیر کا کیا مسئلہ ہے بھئی؟ ہلکے پھلکے لہجے میں کیا ہوا یہ سوال کلاس میں موجود ہر طالب علم کے چہرے پر مسکراہٹ لے آیا۔ ہنستے ہوئے ایک   نٹ  کھٹ طالبعلم      نے فرمایا کہ دودھ مانگو گے کھیر دیں گے کشمیر مانگو گے تو چیر دیں گے۔

میں نے کہا کہ جناب وہ مانگ تھوڑی رہے ہیں۔ وہ تو چھین رہے ہیں پھر بھی آپ ان کو کھیر دے رہے ہیں۔ بچے حیران ہو کر میرا منھ تکنے لگے۔ اس وقت مجھے احساس ہوا کہ پچھلے برس کی دہم کلاس اور اس دہم کلاس کی سیاسی معلومات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

میں نے سنجیدہ ہو کر پوچھا کہ کس کس کو معلوم ہے کشمیر کا مسئلہ؟ کوئی جواب نہیں آیا۔۔۔ مجھے جو افسوس ہوا وہ اپنی جگہ لیکن ہزاروں سوال میرے اپنے دماغ میں کلبلانے لگے۔ پھر پوچھا کہ کشمیر تو چھوڑو یہ بتاؤ کہ پاکستان کیوں بنایا تھا؟ جواب آیا کہ ہندو مسلمانوں پر ظلم کرتے تھے۔ پوچھا کہ کیا ظلم کرتے تھے؟ خاموشی۔۔۔!

پوچھا کہ ہندو کب بھارت میں آئے تھے؟ خاموشی۔۔۔!
پوچھا کہ مسلمان تو عرب میں تھے تو بھارت آنے کی ضرورت کیوں پڑی؟ خاموشی۔۔۔!
پوچھا کہ مسلمان کب بھارت آئے؟ خاموشی۔۔۔!
پوچھا کہ باب الاسلام کس کو کہتے ہیں؟ خاموشی۔۔۔!
آج کے کون کون سے ملک اس وقت بھارت کہلاتے تھے؟ سب چُپ۔۔۔!
بر صغیر کیا تھا؟ سب خاموش۔۔۔!
راجہ داہر کون تھا؟ موت کا سا سناٹا۔۔۔!
اشوک کی تہذیب کیا تھی؟ سب کے منھ لٹکے ہوئے۔۔۔!
ذات پات کا نظام کس نے نافذ کیا؟ منھ نیچے۔۔۔!
مسلمان بادشاہت کب شروع ہوئی؟ سب چُپ۔۔۔!
کسی مسلمان بادشاہ کا نام؟ سب چُپ۔۔۔!
انگریز کیوں انڈیا آئے؟ سب چُپ۔۔۔!
حاکم کیسے بنے؟ سب چُپ۔۔۔!
ایسٹ انڈیا کمپنی کیا تھی؟ سمندری قزاق کس نے بنائے؟ پہلا وائسرائے کون تھا؟
 ارے۔۔۔!!!! وائسرائے ہوتا کیا ہے؟؟؟ نہیں معلوم؟ شاباش۔۔۔ ٹیپو سلطان کون تھے؟ سراج الدولہ؟ حیدر علی؟ اورنگزیب عالمگیر؟ انڈیا کی سیاسی تنظیم کون سی بنائی گئی؟ کب؟ کیوں؟ سب منھ کھولے سوالات سنتے رہے۔
پلاسی کی جنگ کیا تھی؟ میسور کی اہمیت؟ الفانسو کون تھا؟ میر جعفر کا کیا کردار تھا؟ میر مدن؟ میر صادق؟ ارے غداروں کو بھی نہیں جانتے؟؟؟ اچھا چلو آسان سوال پوچھتا ہوں۔

علامہ اقبال کون تھے؟ سب بول پڑے۔۔۔ شاعر مشرق!!! اب تو میرا منھ کھلا رہ گیا۔ پوچھا کہ شاعر کے علاوہ کیا تھے؟ اب کی بار بچوں کا منھ کھل گیا۔۔۔۔۔ شاید اب تک آپ کا منھ بھی کھل گیا ہو کہ آخر میں لکھنا کیا چاہتا ہوں۔۔۔!

اب لکھنے کو رہ کیا گیا ہے۔ سوال تو شاید یہ بنتا ہے کہ یہ بچے روزانہ چوبیش گھنٹے کس مصروفیت میں گذارتے ہیں؟ ان کے ماں باپ ان کو کیا بتاتے ہیں؟ کیا سکھاتے ہیں؟ تاریخ کا علم ماں باپ کو ہے بھی یا نہیں؟ کس ماحول میں دن رات بسر ہوتے ہیں ان طلبہ کے کہ بنیادی معلومات تک ان کے کانوں میں کبھی نہیں پڑی؟ اور اس حالت پر جب کوئی کہے کہ کشمیر مانگو گے تو چیر دیں گے۔۔۔ تو مجھے بتائیے کہ میں زور زور سے پیٹ پکڑ کر ہنسوں۔۔۔۔ یا سر پکڑ کر پھوٹ پھوٹ کر روؤں  ؟ منقول



شمیر کا علاقہ 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد سے ہی بھارت اور پاکستان کے درمیان تنازعہ کا مرکزی نقطہ رہا ہے۔ تقسیم کے وقت، جموں و کشمیر کی ریاست، جس کی آبادی کی اکثریت مسلمان تھی، متنازعہ حالات میں بھارت سے الحاق کر گئی۔ اس واقعے نے بھارت اور پاکستان کے درمیان پہلی جنگ کو جنم دیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کا باعث بنا، جن میں کشمیری عوام کو آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کا حق دینے پر زور دیا گیا — ایک وعدہ جو آج تک پورا نہیں ہو سکا۔ دہائیوں سے کشمیری عوام آزادی اور خودمختاری کے اپنے حق کا مطالبہ کر رہے ہیں اور اس جدوجہد میں انہیں شدید عسکری دباؤ، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سیاسی جبر کا سامنا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دیا جائے، جیسا کہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں میں تسلیم شدہ ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے مذاکرات پر زور دیتا ہے اور اس بات کی وکالت کرتا ہے کہ کشمیری عوام کی خواہشات کا احترام کیا جانا چاہیے۔ اگست 2019 میں بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 کے خاتمے اور کشمیر کی خودمختاری چھیننے کے اقدام نے حالات کو مزید سنگین کر دیا، جسے پاکستان اور متعدد عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید مذمت کا نشانہ بنایا۔ پاکستان عالمی فورمز پر اس مسئلے کو اجاگر کرتا رہتا ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ انصاف، آزادی اور انسانی وقار کے اصولوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کردار ادا کرے۔



Junaid Tahir  
Blogger, Editor, Designer
Exceediance | allgoodschools
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages