How Can I Improve the standard of my Thoughts:

2 views
Skip to first unread message

Junaid Tahir

unread,
May 9, 2025, 2:04:02 AM5/9/25
to

How Can I Improve the standard of my Thoughts:

a)    Avoid thinking about unnecessary things specially related to others. Mind your own business. Possess a focused mind. b)    Stop compar...




a)    Avoid thinking about unnecessary things specially related to others. Mind your own business. Possess a focused mind.
b)    Stop comparing yourself to others. It's an insult to yourself. You are a unique soul and you are independent of your living, your decisions and your destiny.
c)    Don't think of monetary gains too much. Excessive love for money and assets is the root of most stress.
d)    Develop the habit of forgiving and letting things go off. If you are keeping the grudge in your brains for longer durations, you are killing yourself. Stress is a slow poison which deepens its roots in your brain and destroys your physical and mental health.
e)    Read quality quotes or articles on positivity and try to absorb the message. This will kill the germs of negativity.
f)    Practice the habit of gratitude. Stop complaining, criticizing and blaming. When a negative thought comes in, convert it to positive by looking at the positive side of the issue.
g)    Instead of thinking about your 'wants' too much, think about your needs. This will reduce the magnitude of your focus because usually needs are limited but wants are too many. Adapt simple lifestyle as it reduces unnecessary socio-economic issues



__________________________



میں نے پوچھا کون سی ڈگری لی ہے ؟

  میں نے پوچھا کون سی ڈگری لی ہے ؟ بولا ایم ایس سی کی مین نے کہا کتنےبرس لگے ؟ وہ بولا سولہ سترہ برس؟ کیوں کیا ایم ایس سی؟ وہ بولا ...

 
میں نے پوچھا کون سی ڈگری لی ہے ؟
بولا ایم ایس سی کی
مین نے کہا کتنےبرس لگے ؟
وہ بولا سولہ سترہ برس؟
کیوں کیا ایم ایس سی؟
وہ بولا جاب کرنے ،پیسے کمانے ، زندگی گزارنے کے لئے
لیکن آپ یہ سب کیوں پوچھ رہے ہیں؟
میں نے کہاپہلے ایک سوال کا اور جواب دو،
پاکستان مین ایوریج عمر کتنی ہے؟
بولا یہی کوئی ساٹھ برس
میں نے پوچھااور تمہاری عمر ؟
بولا تیس برس!
اسے الجھن ہو رہی تھی
میں نے پیار سے اسکے کان کی لو پکڑ لی اور کہا
میرے پیارے
جس دنیا میں ساٹھ برس رہنا ہے اس کے لئے سولہ برس پڑھائی اور اس ساٹھ مین  سے بھی باقی صرف تیس کیش ان ھینڈ ،اور جہاں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہنا ہے وہاں کے لئے گائیڈ بک قران پڑھنے کے لئے ایک سال بھی نہیں نکال سکتے ؟
وہ شرما گیا 


بولا نہیں ۔۔۔وہ ۔۔۔۔بس ۔۔۔۔مصروفیت ذرا۔۔۔۔
مین نے کہا پیارے پورا سال بھی مت دو سال بھر بس روز ایک گھنٹہ نکال لو قران سمجھ کر پڑھ لو۔۔۔پلیز؟
میں تمہیں ریکویسٹ کرتا ہوں؟
تمہارے محسن رب کا اتنا بھی حق نہیں تم پر؟
دیکھو اگر مین تمہارے سامنے کھڑا ہو کر چائنیز مین تقریر شروع کر دون تو تم بور ہو جاو گے ،اٹھ کر چل دو گے کہ بھائی یہ کیا ہے کچھ سمجھ نہیں آ رہا مین نہیں سن رہا ،لیکن کتنے دکھ کی بات ہے برسوں سے روز امام کے پیچھے کھڑے ہو کر وہ زبان سنتے ہو جس کا ایک لفظ نہیں معلوم؟ کچھ سمجھ نہیں آتا
اور پھر کلام بھی اس کا جو کہتا ہے کامیابی کا پیمانہ ہی بس یہ ہے کہ جو میرے پاس حاضری کے لمحہ ایسے پہنچا کہ جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت مین داخل کر دیا گیا وہ کامیاب ہو گیا اور میں اور تم ایم ایس سی میں فرسٹ ڈویژن ،جاب ،گھر ،گاڑی کو کامیابی سمجھ بیٹھے ہیں؟


وہ پرجوش ہو کربولا
میں تیار ہوں بس بتائیں کرنا کیا ہے؟
میں نے کہا کچھ بھی نہیں  نیٹ پر ہی سرچ کر لو بہت سے طریقے دستیاب ہیں  اور کچھ نہیں تو تفہیم القران لو اور روز باقاعدگی سے پڑھنا شروع کر لو۔۔۔
وہ تو مان گیا !
کوئی اور بھائی بہن بیٹی؟
اللہ کریم ان راتوں میں اپنے گمشدہ بندوں کی تلاش میں ہے
تحریر کو لائیک یا کمنٹ بیشک نہ کریں شئیر کر دیں ۔۔
ممکن ہے اللہ کو اس کے کچھ گمشدہ بندے مل جائیں۔۔
پلیز۔۔۔!
#خود کلامی۔۔۔زبیر منصوری
تئیسویں شب ،۳:۳۰

Junaid Tahir  
Blogger, Editor, Designer
Exceediance | allgoodschools
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages