A Teenage Girl in Jail

2 views
Skip to first unread message

Junaid Tahir

unread,
Sep 10, 2026, 5:45:27 AMSep 10
to

A Teenage Girl in Jail

  This is a poem written by a teenage girl in jail  who ignored the advice and guidance of her parents and brother. Instead of taking their ...

 


This is a poem written by a teenage girl in jail who ignored the advice and guidance of her parents and brother. Instead of taking their warnings, she chose a path of wrongdoing.  getting lost in social media and chasing a flashy yet dangerous lifestyle, which ultimately led to her downfall and failure. Share it with your loved ones 

________________

Oh, Father, dear Father, the bars are so cold,
Each day stretches long, a story untold.

I miss your warm smile, your hand in my hair,
This prison, a cage, filled with silent despair.

You taught me of good, and you taught me of bad,
But I chose the path that made everyone sad.

Your wisdom, a beacon, I foolishly strayed,
Now in this dark cell, my future's betrayed.

To Mother, who nurtured with love and with grace,
I hang my head low, in this desolate place.

Your sleepless nights, your gentle advice,
I cast them aside, paid a terrible price.

Forgive me, dear Mom, for all of my scorn,
For leaving your guidance, so lost and forlorn.

And Brother, my elder, with words wise and true,
You spoke of hard work, and what I should do.

Of books and of learning, a future so bright,
With money and comfort, and love's guiding light.

A handsome young husband, a life full of joy,
But I chased the shadows, a foolish young boy.

I brushed off your counsel, with laughter and jest,
Now loneliness fills me, and puts me to test.

My siblings, my playmates, through sunshine and rain,
We shared so much laughter, now only this pain.

I dragged your good names through the mud and the mire,
Consumed by desires, fueled by a false fire.

I chose the wrong path, with no thought or care,
Leaving you wounded, with burdens to bear.

To all of you young ones, with futures ahead,
Heed my solemn warning, from this lonely bed.

Don't chase fleeting fancies, or social media's gleam,
Don't let empty glamour destroy every dream.

Focus on studies, let knowledge ignite,
For bad deeds and choices will steal all your light.

Your future's a canvas, paint it with care,
Lest you end up like me, consumed by despair.


__________________


آج سے تقریبا 25 سال پہلے اسلام آباد میں تبلیغی اجتماع ھو رھا تھا جس میں تبلیغی جماعت کے ایک بہت بڑے عالم اور بزرگ شخصیت حضرت مولانا محمد احم...



آج سے تقریبا 25 سال پہلے اسلام آباد میں تبلیغی اجتماع ھو رھا تھا جس میں تبلیغی جماعت کے ایک بہت بڑے عالم اور بزرگ شخصیت حضرت مولانا محمد احمد بہاولپوری صاحب رح نے ایک واقعہ سنایا تھا 
کہ میرا کوئی عزیز میرے پاس آیا کہ حضرت مجھے اسلام آباد میں معیشت کے بارے میں کے بارے ایک کانفرنس میں مدعو کیا گیا ھے اور مجھے اس کانفرنس میں معیشت کے بارے میں اسلام نے جو ھدایات دی ہیں اس پر روشنی ڈالنے کو کہا گیا ھے 
لہذا اس بارے میں آپکی رہنمائی درکار ھے 
تو حضرت نے فرمایا کہ میں نے کہا کہ اسلامی معیشت کا خلاصہ تو میں بتا دوں گا اور انتہائی مختصر انداز صرف 3 ہی جملوں میں ہی ساری اسلامی معیشت سمجھا دوں گا 
لیکن خیال کرنا میری یہ باتیں سن کر وہاں پر موجود اشرافیہ کی طرف سے کہیں جوتے نہ پڑ جائیں آپ کو 
اس نے کہا کہ حضرت ان کے جوتوں سے خود کو کسی طرح بچا لوں گا لیکن فی الحال آپ میری مدد فرمائیں 

تو مولانا نے فرمایا کہ چلو ٹھیک ھے تو پھر لکھ لو 

اسلامی معیشت کا سب سے پہلا اصول یہ ھے کہ ملک کا سب سے بڑھیا آدمی معاشی اعتبار سے سب سے سادہ زندگی گزارے 
جیسے کہ خلفائے راشدین عملا ایسا کرتے تھے 
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں مدینہ منورہ میں مفلسین مساکین کی ایک فہرست تیار کی گئی اور ان کی درجہ بندی کی گئی۔ اور جب فہرست تیار ھو گئی تو سب سے پہلے نمبر پر جو نام آیا جو سب سے زیادہ مفلس تھا وہ خود خلیفہ وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا نام تھا 
اس کا فائدہ یہ ھوتا ھے کہ عوام اپنے بڑوں کو دیکھ کر ان کے طرز زندگی کو اپنانے کی کوشش کرتے ہیں اور ان سے برابری کی کوشش کرتے ہیں کیوں کہ وہ اسی کو معیار بناتے ہیں جس سے عوام میں حرص لالچ بڑھتی ھے پیسہ جمع کرنے کی ھوس بڑھتی ہے جس کے نتیجے میں حلال و حرام جائز ناجائز کی تمیز ختم ھو جاتی ھے اور معاشرے میں جھوٹ فراڈ رشوت سود خوری ذخیرہ اندوزی وغیرہ وغیرہ ساری مصیبتیں در آتی ہیں 
اور جب سب سے بڑھیا لوگ یعنی حکمران وغیرہ سب سے نیچے والا معیار زندگی اپنائیں گے تو پھر کسی بھی شخص غربت 
افلاس وغیرہ پر کوئی شرمندگی اور احساس محرومی نہیں ھوتا۔

دوسرا اصول اسلامی معیشت کا یہ ھے کہ دولت کو بالکل بھی کسی بھی طرح جمنے نہ دو کہ وہ کسی ایک جگہ پر جم کر رہ
 جائے بلکہ اس کو توڑتے رھو تاکہ ملکی دولت پر چند اشخاص کا قبضہ نہ رھے لہذا سب سے پہلے موجودہ بنکی نظام کو ختم کرنا ھوگا 
اس کا فائدہ یہ ھوگا کہ لوگ بنکوں میں پڑا سارا پیسہ باہر نکال کر مارکیٹ میں لائیں گے کاروبار کریں گے کارخانے لگائیں گے جس سے ایک تو بیروزگاری ختم ھوگی دوسری طرف مقابلے کی فضا قائم ھوگی جس سے ہر کوئی اپنی چیز بہتر سے بہتر اور سستی سے سستی بنانے کی کوشش کرے گا اور اس سے عالمی سطح پر تمھاری پیداوار سب سے سستی بھی ھوگی اور معیاری بھی 
یہ دو کام حکومت اور حکمران طبقہ کے کرنے کے ہیں 

تیسرا اصول اسلامی معیشت کا یہ ھے کہ ضرورت سے زائد چیزیں پیسہ اپنے پاس نہ رکھو بلکہ اسے اللہ تعالٰی کی راہ میں اس کی مخلوق پر خرچ کرتے رھو اپنے رشتہ داروں ماتحتوں نوکروں پڑوسیوں پر خرچ کرتے رھو 
جس کے نتیجے میں وہ بھی پورے اخلاص کے ساتھ آپ کے کام کاروبار میں مدد بھی کریں گے اور اس کے بڑھنے کی تمنا بھی کریں گے اور دعائیں بھی دیں 
بجائے اس کے کہ وہ تم سے حسد کرے اور تم کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں تم سے چوری کرے ڈاکہ ڈالے اور تم سے مال چھینیں.



Junaid Tahir
Founder, Exceediance  |  Author
👤 View my portfolio →
Exceediance  |  AllGoodSchools  |  DailyTenMinutes  |  AapKaFaida
📚 Books: My Amazon Author Page
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages