Story: The Mountain Principle

0 views
Skip to first unread message

Junaid Tahir

unread,
Sep 3, 2026, 12:27:37 PM (2 days ago) Sep 3
to

Story: The Mountain Principle

"A son and his father were walking on the mountains. Suddenly, his son falls, hurts himself and screams: "AAAhhhhhhhhhhh!!!...




"A son and his father were walking on the mountains. Suddenly, his son falls, hurts himself and screams: "AAAhhhhhhhhhhh!!!"

To his surprise, he hears the voice repeating, somewhere in the mountain: "AAAhhhhhhhhhhh!!!" 

Curious, he yells: "Who are you?" He receives the answer: "Who are you?"; And then he screams to the mountain: "I admire you!";The voice answers: "I admire you!"

Angered at the response, he screams: "Coward!". He receives the answer: "Coward!". He looks to his father and asks: "What's going on?". The father smiles and says: "My son, pay attention." Again the man screams: "You are a champion!". The voice answers: "You are a champion!".

The boy is surprised, but does not understand. Then the father explains: "People call this ECHO, but really this is LIFE. It gives you back everything you say or do. Our life is simply a reflection of our actions. If you want more love in the world, create more love in your heart. If you want more competence in your team, improve your competence. This relationship applies to everything, in all aspects of life. Life will give you back everything you have given to it."



_______________________________



ایک مشہور مصنف نے اپنے مطالعے کے کمرےمیں قلم اٹھایا اور ایک کاغذ پر لکھا

گزشتہ سال میں، میرا آپریشن ہوا اور پتا نکال دیا گیا، بڑھاپے میں ہونے والے اس آپریشن کی وجہ سے مجھے کئی ہفتے تک بستر کا ہو کر رہنا پڑا۔

اسی سال میں ہی میری عمر ساٹھ سال ہوئی اور مجھے اپنی پسندیدہ اور اہم ترین ملازمت سے سبکدوش ہونا پرا۔ میں نے نشرو اشاعت کے اس ادارے میں اپنی زندگی کے تیس قیمتی سال گزارے تھے۔
اسی سال ہی مجھے اپنے والد صاحب کی وفات کا صدمہ اٹھانا پڑا۔
اسی سال میں ہی میرا بیٹا اپنے میڈیکل کے امتحان میں فیل ہو گیا، وجہ اس کی کار کا حادثہ تھا جس میں زخمی ہو کر اُسے کئی ماہ تک پلستر کرا کر گھر میں رہنا پڑا، کار کا تباہ ہوجانا علیحدہ سے نقصان تھا۔
صفحے کے نیچے اس نے لکھا؛
آہ، کیا ہی برا سال تھا یہ!!!

مصنف کی بیوی کمرے میں داخل ہوئی تو دیکھا کہ اُس کا خاوند غمزدہ چہرے کے ساتھ خاموش بیٹھا خلاؤں کو گُھور رہا تھا۔ اُس نے خاوند کی پشت کے پیچھے کھڑے کھڑے ہی کاغذ پر یہ سب کچھ لکھا دیکھ لیا۔ خاوند کو اُس کے حال میں چھوڑ کر خاموشی سے باہر نکل گئی۔ کچھ دیر کے بعد واپس اسی کمرے میں لوٹی تو اس نے ایک کاغذ تھام رکھا جسے لا کر اُس نے خاموشی سے خاوند کے لکھے کاغذ کے برابر میں رکھ دیا۔ خاوند نے کاغذ کو دیکھا تو اس پر لکھا تھا

اس گزشتہ سال میں آخر کار مجھے اپنے پتے کے درد سے نجات مل گئی جس سے میں سالوں کرب میں مبتلا رہا تھا۔

میں اپنی پوری صحت مندی اور سلامتی کے ساتھ ساٹھ سال کا ہو گیا۔ سالوں کی ریاضت کے بعد مجھے اپنی ملازمت سے ریٹائرمنٹ ملی ہے تو میں مکمل یکسوئی اور راحت کے ساتھ اپنے وقت کو کچھ بہتر لکھنے کیلئے استعمال کر سکوں گا۔

اسی سال ہی میرے والد صاحب پچاسی سال کی عمر میں بغیر کسی پر بوجھ بنے اور بغیر کسی بڑی تکلیف اور درد کے آرام کے ساتھ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔

اسی سال ہی اللہ تعالیٰ نے میرے بیٹے کو ایک نئی زندگی عطا فرما دی اور ایسے حادثے میں جس میں فولادی کار تباہ ہو گئی تھی مگر میرا بیٹا کسی معذوری سے بچ کر زندہ و سلامت رہا۔
آخر میں مصنف کی بیوی نے یہ فقرہ لکھ کر تحریر مکمل کی تھی کہ :

واہ ایسا سال، جسے اللہ نے رحمت بنا کر بھیجا اور بخیرو خوبی گزرا۔
.................................................
وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَشْكُرُونَ ﴿٧٣﴾
"اور بے شک تیرا رب تو لوگوں پر فضل کرتا ہے لیکن ان میں سے اکثر شکر نہیں کرتے" (سورة النمل"

Junaid Tahir
Founder, Exceediance  |  Author
👤 View my portfolio →
Exceediance  |  AllGoodSchools  |  DailyTenMinutes  |  AapKaFaida
📚 Books: My Amazon Author Page
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages