ایک طرف تو نظیر صدیقی یہ اعتراف کرتے ہیں کہ وہ انگریزی شاعری پر رائے دینے کے اہل نہیں ہیں، دوسری طرف یہ رائے بھی دیتے ہیں کہ ساقی کی انگریزی نظم نہ صرف بڑی زوردار ہے بلکہ اتنا زور ان کی کسی اردو نظم میں بھی نہیں ہے۔ واضح رہے کہ ساقی فاروقی نے اپنی انگریزی نظم نظیر صدیقی کو خاصی زوردار آواز میں سنائی تھی، موصوف آواز کی بجائے نظم کو زوردار سمجھ بیٹھے۔ ساقی فاروقی نے لندن کی ایک ادبی محفل میں نظیر صدیقی سے شکایت کی کہ آپ نے پروین شاکر پر پچاس صفحوں کا مضمون لکھا لیکن مجھ پر پانچ صفحے بھی نہیں لکھے۔ اوپر کی پانچ سطروں میں نظیر صدیقی نے اس شکایت کا بخوبی ازالہ کردیا ہے۔ اب منظر علی خاں منظر کے ایک مضمون کا اقتباس دیکھیں جو مشفق خواجہ کے متعلق ہے:۔ معلوم ہوا خواجہ صاحب منوں نہیں بلکہ ٹنوں کے حساب سے کتابیں لے کر آئے ہیں۔ چونکہ کسٹم والوں کے لئے یہ نرالی سوغات تھی لہذا انہیں سمجھانے میں چار پانچ روز نکل گئے۔ ان کتابوں کا وزن چونکہ زیادہ ہو گیا تھا لہذا پتہ چلا کہ اپنی بہت سی چیزیں وہیں چھوڑ آئے۔ میں نے گھبرا کر پوچھا کہ بھابی جان تو ساتھ آئی ہیں کہ وہ بھی وہیں رہ گئیں۔ معلوم ہوا کہ ترقی پسند شعراء کے مجموعہ ہائے کلام کے عوض جو وہاں چھوڑ دئے گئےوہ آسکی ہیں اور یہ قسم کھاکر بیٹھی ہیں کہ یا تو آئندہ کتابیں آئیں گی یا وہ ہندوستان جائیں گی۔ کہہ رہی تھیں غضب خدا کا آخری وقت تک دھڑ کا لگا رہتا ہے کہ دیکھو کتابیں جہاز پر سوار ہوتی ہیں یا وہ خود قدم رکھتی ہیں (مطبوعہ "اوراق" لاہور) ۔ بہر نوع، میرا مقصد صرف یہ عرض کرنا تھا کہ منظر علی خاں منظر اپنے طور کے ایک ہی شخص تھے۔ ان کی تحریر، تقریر اور عام گفتگو بھی دلچسپ ہوتی تھی۔ افسوس کی ان کی ناوقت موت نے ایک قابل قدر ادیب کو ہم سے جدا کر دیا۔
موضوع سے ہٹ کر ایک الگ بات۔ راشد اشرف صاحب، آپ کے افسانے"خودکُش" کا آخری جملہ کہ حضرت! براہ کرم امیر المومنین تک یہ درخواست پہنچادیں کہ خودکُش جرسی میں بارود ذرا کم ڈالا کریں ۔۔۔ میں جنت سے پچاس کلومیٹر آگے نکل گیا ہوں وحدتِ تاثر کومزاح سے بھی ہمکنار کر گیا ہے۔ آصف فرخی یہاں کینیڈا آئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے گذشتہ اتوار, یعنی ۱۱ ستمبر کو, مجھے دو مطبوعات عنایت کیں جن میں سے ایک دنیازاد کا شمارہ ۳۱ تھا میں نے آپ کا یہ افسانہ اسی رسالے میں پڑھا۔
شاہین
آٹوا۔ کینیڈا
|
|
www.urduaudio.com www.bhatkaltv.com
Audio And Video Collection Managed By
Abdul Mateen Muniri
شاہین صاحب!آداب
سب سے پہلے تو آپ کے تبصرے پر شکریہ ادا کرنا چاہوں گا، اسے پڑھ کر یہ تقویت ملی کہ مشفق خواجہ مرحوم کی تحریروں کے مختلف النوع پہلووں سے آپ بخوبی واقف ہیں
منظر علی خاں منظر کی کتاب "چھپائے نہ بنے" کے تذکرے کے بعد ان کی تصنیفات کی قدر و قیمت کو مشکوک قرار دینے کا تاثر ہرگز نہیں دینا چاہ رہا تھا، مقصد صرف اور صرف خواجہ صاحب کے شگفتہ اسلوب کے چند حوالے پیش کرنا تھا، بلکہ سچ پوچھیے تو مذکورہ کتاب ( چھپائے نہ بنے) کے مطالعے کے بعد معاملہ اس کے برعکس نکلا۔ مشفق خواجہ پر خاں صاحب کا مضمون مجھے پسند آیا (آپ نے بھی اسی کا ایک اقتباس درج کیا ہے)، اسی طرح خاں صاحب نے پٹنہ کے سفر کا جو احوال لکھا ہے وہ بھی خاصہ دلچسپ ہے۔
گزشتہ پوسٹ میں، میرا تبصرہ یہ تھا:
"یہ وہی منظر
علی خان منظر ہیں جن کے لتے مشفق خواجہ نے اپنے کالمز میں خوب لیے تھے لیکن خاں
صاحب بے مزہ نہ ہوئے، کتابوں کے ڈھیر لگاتے چلے گئے حتی کہ زیر نظر کتاب کی اشاعت
پر خواجہ صاحب نے کالم کا آغاز یہ کہہ کر کیا کہ " آخر وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا،
منظر علی خان منظر کی پانچویں تصنیف لطیف بھی شائع ہوگئی
جیسا کہ آپ نے فرمایا (اور میں نے اپنے زیر تکمیل مضمون میں بھی لکھا ہے) کہ حضرت نظیر صدیقی، جوش ملیح آبادی، منظر علی خاں منظر، باقر مہدی، انور سدید، استاد اختر انصاری اکبر آبادی، مظہر امام وغیرہ ان لوگوں میں شامل ہیں جن کو خواجہ صاحب نے سب سے زیادہ تختہ مشق بنایا۔
آپ نے خوب کہا کہ "غالب کی طرح مشفق خواجہ بھی جس پر مرتے ہیں اسے مار رکھتے ہیں۔
"
اردو دنیا میں ان کا کالم بڑے ذوق و شوق سے پڑھا جاتا تھا، کسی کی تحقیر ان کا مقصد کبھی نہ رہا، بقول شخصے ایک طرح سے وہ ادب کی دنیا کے محتسب اعلی تھے۔ اور بقول ڈاکٹر خلیق انجم "" خامہ بگوش نے جس ہندوستانی شاعر کے مجموعہ کلام پر تبصرہ کیا، اسے ساہیتہ اکیڈمی ایوارڈ مل گیا
استاد اختر انصاری اکبر آبادی کا ذکر تو اس طور کیا جاتا تھا کہ پڑھنے والوں کو آج تک یاد ہے۔ لیکن پھر یہ بھی ہوا کہ مشفق خواجہ نے ان کے انتقال پر 6 ستمبر 1986 کو ایک ایسا تعزیتی کالم لکھا جو پڑھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ کالم پڑھ کر یہ بات واضح ہوائی کہ استاد مرحوم نے اپنی ساری زندگی اردو کی خدمت میں گزاری۔
استاد بہاولپور کے ایک ہوٹل میں مردہ پائے گئے تھے، وہ بہاولپور اپنے رسالے کے خصوصی نمبر کی اشاعت کے سلسلے میں چند اہل قلم حضرات سے ان کی تخلیقات کے حصول کے لیے گئے تھے!
ہاں ، البتہ منظر صاحب کی شاعری چونکہ ابھی تک نظر سے نہیں گزری (اور شاید اس بارے میں خواجہ صاحب کے کالمز پڑھنے کے بعد خواہش بھی نہ رہی) ، لہذا کوئی رائے دینے کی اہلیت نہیں رکھتا۔
آپ نے لکھا:
"منظر علی خاں منظر کےمداحوں میں ڈاکٹر وزیرآغا، ڈاکٹر حنیف فوق، ڈاکٹر جمیل جالبی،اور ڈاکٹر اسلم فرخی جیسے مشاہیر ادب شامل ہیں۔
"
یہ مداحوں کا معاملہ بھی عجیب ہے، خواجہ صاحب پر اپنے زیر تکمیل مضمون (اقتباسات سمیت) کے سلسلے میں ان کے سینکڑوں کالمز کا مطالعہ کرچکا ہوں، کئی مثالیں ایسی ملتی ہیں جن میں نثر یا شاعری پر مشتمل کسی نوآزمودہ مصنف کی تحریر کردہ کتاب کے بارے میں اردو ادب کی کسی جید شخصیت/شخصیات کی فلیپ پر درج آراء کے جواب میں مشفق خواجہ کا تبصرہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے - آپ تو جانتے ہی ہیں کہ ایسے موقعوں پر ان کے قلم کی کاٹ کس طرح کی ہوتی تھی۔ اس سلسلے میں بھی کبھی چند دلچسپ مثالیں پیش کروں گا
!
اس موقع پر منظر علی خاں منظر صاحب سے متعلق ایک دلچسپ تبصرہ ملاحظہ ہو -- مشفق خواجہ رقم طراز ہیں:
"ڈاکٹر شاہد الوری کی کتاب ’چراغ سے چراغ‘ میں انہوں نے غالب کے مصرعوں پر مصرعے لگائے ہیں، مثلا:
نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پرواہ
گر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی، نہ سہی (غالب)
آپ سے تو نہیں میں داد کا خواہاں بخدا
نہ سہی، شاعر خوش گو، بہت اچھا، نہ سہی
سن کے اشعار مرے جھوم تو جاتے ہیں عوام
گر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی، نہ سہی (شاہد الوری
یہ کتاب جن ’مشاہیر‘ کی آراء سے مزین ہیں ان میں ہمارے کرم
فرما منظر علی خاں منظر بھی شامل ہیں۔ انہوں نے یہ نکتہ نکالا ہے کہ: ’’ غالب کے
چراغ پر شاہد الوری کا حق یوں بنتا ہے کہ الور، شاہد کی جائے پیدائش ہے اور غالب کے
والد کی جائے وفات۔‘‘
اگر منظر صاحب مزید تحقیق فرماتے تو انہیں غالب کی جائے
وفات نہ سہی، سبب وفات اسی کتاب میں مل جاتا۔"
سچ تو یہ ہے کہ خواجہ صاحب کی وفات کے بعد اس شہر کا حافظہ ہی چھن گیا ہے
!
آپ نے لکھا کہ "منظر علی خاں، نظیر
صدیقی، اور مشفق خواجہ سے میری دیرینہ ارادت اور نیازمندی تھی۔ ساقی فاروقی کو اللہ رکھے وہ ہنوز مجھے یاد رکھتے ہیں۔
"
خدا آپ کو سلامت رکھے، ان شخصیات سے مراسم کے تعلق سے اپنی
یادوں کو قلم بند ضرور کیجیے گا۔ یہ بھی فرمائیے کہ منظر علی خاں منظر صاحب کی وفات
کیسے ہوئی کہ وفیات اہل قلم سے مجھے محض ان کی تاریخ وفات ہی کا علم ہوا ہے۔
افسانہ آپ کو پسند آیا، آپ کی عنایت ہے
حیدرآباد دکن سے جناب ابن صفی پر
ادارہ قومی زبان نے پہلی مرتبہ خصوصی نمبر نکالا ہے، کچھ کام ان کے لیے کیا تھا،
پرچہ شائع ہوچکا ہے اور اس کے نگراں کار مجھ ہی سے پوچھ رہے تھے کہ اب اسے کراچی
مجھ تک کیسے پہنچایا جائے -- - - دہلی میں مقیم ایک کرم فرما نے داد رسی کی اور اب
امید ہے کہ یہاں پہنچ جائے گا ۔ ۔ ۔ ۔ تفصیل پیش کروں گا!
خیر
اندیش
راشد اشرف
اتنی تیزی سے تو کسی کو رسوائی بھی نہیں ملتی جتنی تیزی سے منظر علی خان منظر کو شہرت ملی ہے۔ ابھی کل کی بات ہے کہ ان کا مجموعہ کلام ’کرب آگہی‘ کے نام سے شائع ہوا تھا جس میں ’آگہی‘ تو آٹے میں نمک کے برابر تھی اور باقی کرب ہی کرب تھا، اور وہ بھی مصنف کا نہیں، پڑھنے والوں کا۔اب مصنف کی تیسری تصنیف ’مکررکہے بغیر‘ شائع ہوئی ہے جس پر ہم یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتے کہ تین سال کے مختصر عرصے میں تین کتابوں کا مصنف بن جانا اس بات کی دلیل ہے کہ ہمارے ملک میں کاغذ کی قلت کی جو شکایت پائی جاتی ہے وہ بلا سبب نہیں ۔ اگر منظر صاحب اسی رفتار سے کتابیں چھاپتے رہے تو وہ دن دور نہیں کہ دوبارہ کاغذ کی جگہ بھوج پتر کے استعمال کا رواج ہوجائے گا۔
لوگوں کو منظر صاحب کا مجموعہ نثر ’مکررکہے بغیر‘ ضرور پڑھنا چاہیے۔ یہ اتنا دلچسپ ہے کہ اگر شروع کردیا جائے تو قاری اسے ختم کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہ الگ بات ہے کہ دوران مطالعہ قاری خود ہی ختم ہوجائے۔
دوم:
آخر وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا۔ جناب منظر علی خان منظر کی پانچویں تصنیف لطیف بھی شائع ہوگئی۔ یہ جملہ لکھنے کے بعد ایک اور اندیشہ پیدا ہوا ہے کہ کہیں کاتب صاحب لفظ ’لطیف‘ کو لطیفہ نہ لکھ دیں۔کیاتب پر فلیپ لکھنے والوں میں مشہور شاعر سلطان رشک بھی شامل ہیں۔وہ جیسی غزلیں لکھتے ہیں، ویسا ہی فلیپ لکھا ہے۔ فرماتے ہیں: ’’منظر علی خاں عنوانات کے انتخاب، الفاظ کے چناؤ اور جزئیات نگاری میں بے حد منفرد اور محتاط ہیں ۔ اچھی غزل کے مطلع کی طرح ان کا سرنامہ یا عنوان نہایت پر معنی اور ظرافت کا لحاف اوڑھے ہوئے ہوتا ہے۔ ‘‘
اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ الفاظ کے چناؤ میں منظر صاحب محتاط ہیں لیکن خود جناب رشک نے احتیاط سے کام نہیں لیا۔۔ ابھی تو سردی پوری طرح شروع بھی نہیں ہوئی کہ انہوں نے منظر صاحب کو لحاف اوڑھا دیا ہے۔ لحاف نہ ہوا، انشائیہ ہوگیا کہ جب چاہا اور جیسے چاہا اوڑھ لیا۔"
ہاشمی صاحب! آداب
آپ نے ایک سکوت کے بعد خامشی کو توڑا اور ایسا کہ ْوہ بیان
کرے اور پڑھا کرے کوئیْ
کسی نا آشنا پر لکھنا بہ بذاتِ خود ایک تخلیقی کاروائی
کے زمرے میں آ جاتا ہے۔ نئی نسل استاد سے بھلا کہاں واقف ہوگی۔
محمد آباد، تحصیل صادق آباد پنجاب میں مقیم جناب سید انیس شاہ جیلانی نے درویش شاعر حیرت شملوی کا احوال بیان کیا ہے، اسے پڑھ کر بھی دل دکھ سے بھر آتا ہے۔ حیرت شملوی ہندوستان سے افراتفری و کسمپرسی کے عالم میں پاکستان پہنچے، کلفٹن کراچی میں واقع عبداللہ شاہ غازی کی درگاہ پر دم لیا اور دیا بھی!
آپ نے حیدرآباد کا ذکر کیا، ان دنوں پانی میں ڈوبے حیدرآباد سندھ سے ایک تعلق خاطر رہا ہے، وہاں اٹھائیس برس بسر کیے اور 4 برس قبل، بادل نخواستہ شہر کو خیر باد کہا، مستقل بنیادوں پر کراچی منتقل ہوا
استاد اختر انصاری اکبر آبادی کو اللہ تعالی غریق رحمت کرے اور آپ کو خوش باش رکھے کہ کا ذکر خیر کرکے آپ نے ہم ایسوں کو خوش کردیا۔
حیدرآباد کے مشاعرے میں استاد کی برجستگی بھی خوب تھی، عشقی صاحب بے مزہ نہ ہوئے ہوں گے
استاد اختر انصاری سے متعلق آخری پیراگراف میں لکھی باتیں حسب حال اور حقیقت پر مبنی ہیں
مشفق خواجہ صاحب کا استاد پر تعزیتی کالم بزم قلم پر پیش کروں گا، حیدرآباد سندھ مبں مقیم صابر وسیم ان کے بڑے معتقد تھے، استاد کے ناگہانی انتقال پر ان کے اہل خانہ کی تلاش میں پہلے کراچی گئے اور پھر وہاں سے میت لینے بہاولپور پہنچے، حیدرآباد میں تدفین کا مکمل بندوبست بھی صابر وسیم ہی نے کیا تھا۔ اللہ تعالی انہیں خوش رکھے!
میرا ایمان ہے کہ دل کی گہرائیوں سے کسی کے لیے کی گئی دعا ضرور قبول ہوتی ہے، آج 25 برس بعد اس شخص کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کرتا ہوں جو استاد اختر انصاری اکبر آبادی کہلاتے تھے
خیر اندیش
راشد
کراچی سے
Hazrat Asslam o Alikum,
main jo tar cherta hoon aap un per koi tawajjoh nahin fermatey.
ham bhi tu parey hain rahoon main
khadim ka khadim
sultan
1212-2 Hanover Road
Brampton Ontario Canada
L6S4H9 --- On Thu, 9/15/11, Khadim Ali Hashmi <alikhad...@yahoo.com> wrote: |