کشمیر : ابھی ہیں پھول فسردہ، اداس ہیں کلیاں
ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی
کشمیر ابھی تک مکمل ریاستی درجے کا منتظر ہے۔ پانچ اگست ۲۰۱۹ کو ڈ رامائی انداز میں حکومت نے راجیہ سبھا میں جموں کشمیر کے آرٹیکل 370 اور 35 Aکو ختم کر کےریاست کو مرکز کے زیر انتظام دو علاقوں میں تقسیم کر دیا ۔اس سےقبل دو اگست کو وہاں فوجی اور نیم فوجی دستوں کی اضافی ٹکڑیاں تعینات کی گئیں ، کئی علاقوں میں کرفیو نافذ کیا گیا، امرناتھ یاترا کو اچانک روک کر یاتریوں کواسپیشل بسوں میں واپس بھیجا گیا ،بہت سے سیاستدانوں، صحافیوں اور سماجی کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا ،ملک میں خوف اور سنسنی کی ایک لہر دوڑ گئی،کشمیر بھی سہم گیا، اندازہ کیا گیا کہ کچھ بڑا ہونے والا ہے ۔گو کہ سیاسی اور صحافیانہ حلقوں کو یہ اندازہ ہو گیاکہ کشمیر میں 370 کے تعلق سے ہی کچھ ہونے والا ہے۔ پانچ اگست ،پیر کی صبح جیسے ہی پارلیمانی اجلاس شروع ہوا ،راجیہ سبھا میں جموں کشمیر ریاستی تنظیم نو کا بل پیش کیا گیا اور اسی روز اس پہ بحث کروا کے شام تک پاس بھی کروا لیا گیا ۔اگلے ہی دن یہ بل لوک سبھا میں بھی پیش کیا گیا اور دو دن کے اندر وہاں بھی پاس کروا کے نو اگست تک صدر جمہوریہ نے اس پر دستخط کر کے قانون کا درجہ دے دیا۔ اگرچہ اس بل کا راجیہ سبھا سے منظور ہونا اس وقت تقریبا ناممکن تھا کیونکہ حکمرا ں جماعت راجیہ سبھامیں اقلیت میں تھی ۔لیکن حزب اختلاف کی اکثرمبینہ سیکولر جماعتوں نے سیاسی منافقت کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے ارکان کو وہپ جاری نہیں کیا ،جس کی وجہ سے ان کے بہت سے ممبران نے بل کی حمایت میں وہ ٹ کیا۔ کانگریس ان میں سر فہرست تھی، جبکہ ترنمول کانگریس اور جدیو نے واک آوٹ کر کے بل پاس ہونے کی راہ ہموار کر دی ۔کانگریس کے کئی ارکان پارلیمنٹ نے بل کی حمایت میں تقریریں بھی کیں، جن میں جناردھن دویدی ، جیوترآدتیہ سندھیا،ملندڈیوڑا، دیپنیدر ہدا، اور بھونیشور کالیتا وغیرہ شامل ر ہے۔
کشمیر کے بارے میں آر ایس ایس آزادی کے وقت سے ہی ایک مخصوص نظریہ رکھتی ہے ۔اسکی سیاسی جماعتیں بھی ہمیشہ اسی پرعمل پیرا رہی ہیں۔ وہ ہر قیمت پر کشمیر تو چاہتی ہیں مگر وہاں مسلم اکثریتی آبادی انہیں پسند نہیں ہے ۔ان کی سیاسی بالادستی بھی قبول نہیں ہے، بلکہ وہ ڈوگڑا یا کشمیری پنڈتوں کا وزیر اعلی چاہتی ہیں۔ کئی مواقع پر اس کا برملا اظہار بھی کر چکی ہیں۔ اب جب کہ وہ مرکز میں برسر اقتدار ہیں تو وہ اپنی اس دیرینہ خواہش کی تکمیل کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں۔
حکمران جماعت نے پارلیمنٹ میں کشمیر کی تعلیمی واقتصادی ترقی میں سب کو یکساں مواقع دینے اور ایک مناسب وقت پر دوبارہ مکمل ریاست کا درجہ دینے کا وعدہ کیا تھا۔ جس زمانے میں یہ بل منظور ہوا ، اس کے چند ماہ قبل تک وہاں بی جے پی اور پی ڈی پی کی مخلوط سرکار تھی جس کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی تھیں ، جو چار سال قائم رہی۔بی جے پی کی حمایت واپس لینے کی وجہ سے 2018 میں سرکار گر گئی اور صدر راج نافذ ہوا۔ بی جے پی وہاں اقتدار میں برابر شریک رہ کر بیوروکریسی اور نظم و نسق میں شامل رہی اور زمین ہموار کرتی رہی۔ پتہ نہیں اس زمانے میں محبوبہ مفتی کو اس کا احساس ہوا تھا یا نہیں ۔
جموں کشمیر کے 20 میں سے 16 ضلعوں میں مسلمان اکثریت میں ہیں کل 1.38 کروڑ آبادی کا 70 فیصد مسلمان ہیں ،جن میں کشمیر کے خطے کی 95 فیصد ابٓادی مسلم ہے جبکہ جموں خطے کی 39 فیصد آبادی مسلم ہے۔ اس اکثریتی آبادی کے علا وہ کشمیر کی ایک مخصوص تہذیب ،ثقافت اور زبان ہے ،ایک مخصوص جغرافیہ ہے ،جس پر بلا لحاظ مذہب و ملت ہر کشمیری جان چھڑکتا ہے ۔وہ اپنی روایات پر فخر کرتے ہیں۔ کشمیر بنیادی طور پر صوفی ازم کا مسکن رہا ہے درگاہ حضرت بل ہو یا ویشنو دیوی مندر دونوں کامشترکہ تقدس ہے۔ حتی کہ امرناتھ یاترا اورویشنو دیوی مندر کے انتظام و انتظام میں کلیدی رول مسلمان ہی ادا کرتے ہیں ۔ لیکن ایک مخصوص سیاسی نظریے کو یہ مشترکہ اقدار ایک آنکھ نہیں بھاتیں اسی لیے ہمیشہ و ہاں ایک بڑی سیاسی تبدیلی کے خواہاں رہتے ہیں ۔لیکن آبادی کا یہ تناسب ان کی راہ میں رکاوٹ رہا ہے ،جسے بدلنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ اسی لیے مسلمانوں کی تعلیمی اور اقتصادی ترقی کو روکنے کی بھی ہر ممکن کوشش کی جاتی رہی ہے ،لیکن وہ بھی ابھی تک ناکام ہے۔ 2019 میں جب یہ بل لایا گیا اس وقت تعلیمی اور تجارتی اعتبار سے ملک کی 28 ریاستوں میں کشمیر ساتویں نمبر پر تھا اور بی جے پی کے زیر حکومت بہت سے ریاستیں کشمیر سے بہت پیچھے تھیں، لیکن 2019 میں دفعہ70 3 ختم کرنے کے بعد یہ صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔
گزشتہ ماہ ملک کے ’’متفکر شہریوں کے گروپ ‘‘نے جموں کشمیر کا دورہ کر کے تازہ صورتحال پر مبنی اپنی رپورٹ پر وہاں کے حالات پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔اس گروپ میں سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا، ایک تھنک ٹینک کی سیکرٹری جنرل محترمہ سوشوبھا ڈے،ریٹائرڈ ائزرایئر مارشل کپل کاک اور معروف صحافی بھارت بھوشن شامل تھے۔ 28-31 اکتوبر 2025 میں کیے گئے اس دورے کی رپورٹ 10 دسمبر 2025 کو منظر عام پر آئی۔ 2016 میں قائم اس گروپ کا یہ گیارہواں دورہ تھا۔ وہاں کے وزیراعلی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے ذمہ داران، صحافیوں ،تاجروں ،طلباء اور سماجی تنظیموں کے نمائندوں سے تین روزہ دورے میں ملاقاتیں کرنے کے بعد اپنی رپورٹ میں وفد نےکہا کہ وہاںایک تشویش ناک خاموشی ہے جو کسی طوفان کی آمد کا پیش خیمہ لگتی ہے۔ عوام ریاستی اور مرکزی دونوں حکمرانوں کے بیچ پھنسے ہوئے ہیں، ایک طرف وزیراعلی کہتے ہیں کہ وہ بے دست و پا اور مجبور حکمران ہیں دوسری جانب سیاسی رہنماؤں کا خیال ہے کہ مرکزی حکومت اپنی مطلق العنانیت کا اظہار کر رہی ہے، صحافی شکایت کرتے ہیں کہ ان کو مشکوک سمجھا جاتا ہے اور سرکاری پریس کانفرنس تک میں شرکت کی اجازت نہیں ملتی ،تاجروں کا کہنا ہے کہ تجارتی راہداریاں مخدوش ہو چکی ہیں اور ان کی فصلیں بازار تک بھی نہیں پہنچ پاتیں، جس سے اسی سال ان کود ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ طلباء کا کہنا ہے کہ محض ایک ہفتے کے اندر ملک کے مختلف مقامات پر کشمیری طلباء اور تاجروں کو زدو کوب کرنے کے دو درجن سے زائد واقعات ہوئے ہیں ،سماجی تنظیموں کی شکایت ہے کہ ریاست میں کشمیری تہذیب و ثقافت کو ختم کرنے کی دانستہ کوشش کی جا رہی ہے، ضلعی سطح کے بڑے افسران کی تعیناتی میں کشمیریوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور دوسری ریاستوں سے آئے افسران کو تعینات کیا جا رہا ہے جو کشمیری زبان بھی نہیں جانتے جس سے روزمرہ کے کام کاج میں دقت پیش ا ٓرہی ہے۔ 2019 کے بعد سے اب تک ہزاروں نوجوان کشمیریوں کو ریاست سے باہرمختلف ریاستی جیلوں میں بند کر دیا گیا ہے جن کی کوئی سنوائی بھی نہیں کی جا رہی اور ان کے لواحقین کےلئےاتنی دور جا کر ان سے ملاقات بھی ممکن نہیں ہو پا رہی۔ ہر طرف ایک خوف کا سایہ اور ایک پراسرار خاموشی ہے ۔تمام اختیارات لیفٹیننٹ گورنر کے ہاتھ میں ہیں پولیس اور فوج بھی انہی کے زیر حکم ہے۔ اس پر مستزاد کشمیری نوجوانوں کو منشیات کا عادی بنانے کی دانستہ کوشش کی جا رہی ہے ۔حریت کانفرنس کے صدر میر واعظ مولوی فاروق نے وفد سے شکایت کی کہ ان کو آزادانہ خطبے دینے کی اجازت نہیں ہے ،نہ ہی سرکاری اجازت کے بغیر کہیں نکاح پڑھانے جا سکتے ہیں، ان کی مستقل نگرانی کی جاتی ہے اور حکومت جب چاہے سری نگر جامع مسجد کو بند کر کے جمعہ کی نماز روک دیتی ہے ،رپورٹ کے آخر میں وفد کے ارکان نے کہا کہ ہم نے پایا کہ’’ کشمیر کی زمینی صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے جودلی کی حکومت اور میڈیا کے ذریعے پیش کی جاتی ہے‘‘۔
واضح رہے کہ ملک کی کل فوج کا تقریبا آدھاحصہ تنہا کشمیر میں تعینات ہے۔ بی ایس ایف ،سی آر پی ایف اور ریاستی پولیس کی تعیناتی اس کے علاوہ ہے۔ اس طرح کل ملا کر تقریبا نو لاکھ وردی پوشوں کی سنگینوں کے سائے میں 90 لاکھ عوام گزشتہ 35 سال سے جینے پر مجبور ہیں۔ ایفسپا قانون کے ذریعے فوج کو لامتناہی اختیارات بھی دیے گئے ہیں ۔کشمیری خاموش ہیں مگر سرحد پار دہشت گردی پھر بھی رکنے کانام نہیں لے رہی ۔پہلگام حملہ اس کا منہ بولتا ثبوت ہے جس نے سیاحت پر مبنی کشمیریوں سے روزگار کے مواقع بھی چھین لیے۔ زخموں سے چھلنی جس ریاست کو محبت کے مرہم کی ضرورت تھی ان کو حکمرانوں کی شعلہ بار جنبش ابرو کی تابعداری پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ انہیں حالات میں وادی کے نوجوانوں میں نشے کی لت بڑھتی جا رہی ہے۔ پنجاب میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھی نشے کا ایسا ہی بے دریغ استعمال کیا گیا تھا کہ دنیا اسے ’’اڑتا پنجاب ‘‘کہنے لگی تھی۔ اب وادی کشمیر میں بھی یہی ہو رہا ہے ،ممکن ہے کل کشمیر کو بھی’’ اڑتا کشمیر‘‘کہا جائے، مگر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ نشے نے پنجاب میں علیحدگی پسندی کے رجحان کو کم تو کیا لیکن ختم نہیں کیا ۔کشمیر تو پنجاب سے بہت مختلف ہے، وہاں کی تہذیب و روایات بہت دیر اس نشے کی لت کو بھی پنپنے نہیں دیں گے۔ نیز یہ مسئلے کا حل بھی نہیں ہے۔
ملک میں ہندوتو کےنظریہ کوکشمیری اور کشمیریت پسند نہیں ہے۔ اس کے برعکس کشمیری اپنی کشمیریت کی قیمت پر کچھ بھی قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔ گزشتہ تقریبا نصف صدی سے مسئلہ کشمیر کی اصل یہی ہے۔ 2019 کے بعد مرکزی حکومت کے رویے نے کشمیریوں کو مایوس کیا ہے۔ مذکورہ رپورٹ بتاتی ہے کہ ایک بار پھر علیحدگی پسندی کے رجحانات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت یہ دعوی کرتے نہیں تھکتی کہ کشمیر میں سب کچھ نارمل ہے، تو پھر کشمیر کو ملک کی دیگر ریاستوں کی طرح با اختیار مکمل یاست کا درجہ دینے میں کیا قباحت ہے؟دیگر ۱۱ ریاستوں کی طرح آرٹیکل 371 میں کشمیر کو بھی شامل کرکے کشمیریت کو تحفظ دینے میں کیا حرج ہے ؟ اپنےانٹخابی منشور میں کشمیری پنڈتوں کی کشمیر واپسی کے دیرینہ وعدے کے باوجود اس پرعمل درآمد کیوں نہیں ہوا؟ عام کشمیری کے ذہن میں مرکزی سرکار کے تئیں اعتماد کیوں بحال نہیں ہورہا؟ ہندوتو اوادی تنظیموں کو یاد رکھنا چاہئیے کہ کشمیر سمیت ملک کی کسی بھی ریاست میں عمرانی و ثقافتی تبدیلی کی کوشش بد امنی اور انتشار تو پیدا کرسکتی ہے لیکن پر اعتماد، بقائے باہم کے اصول کے تحت پائیدار ترقی کی ضامن کبھی نہیں ہو سکتی۔ کشمیریت کے بغیر کشمیر کا تصورخام خیالی ہے۔
--
عالمی انعامی مقابلہ غزل کی تفصیل درجہ ذیل لنک میں
https://mail.google.com/mail/u/4/#sent/QgrcJHsNjCMDktBfcrqXBctvVwqJPbdTpql
www.bhatkallys.com
-------------------------------------------------
To post in this group send email to bazme...@googlegroups.com
To can read all the material in this group https://groups.google.com/forum/#!forum/bazmeqalam
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to BAZMeQALAM+...@googlegroups.com.
To view this discussion visit https://groups.google.com/d/msgid/BAZMeQALAM/CAEwr9etU5JPEk607cJan4gtuun3GnbRS%3D41n5z18ZMAmpCOvqw%40mail.gmail.com.