ادب میں جاسوسی کہانی کا مقام

0 views
Skip to first unread message

abrar ahmed

unread,
Jul 3, 2014, 7:57:17 AM7/3/14
to bazme...@googlegroups.com

ادب میں جاسوسی کہانی کا مقام

عارف وقار

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور



ابنِ صفی کے پڑھنے والوں اور اُردو میں جاسوسی ادب کی تحقیق کرنے والوں کے لئے یہ کتاب ایک ناگزیر حوالے کی حیثیت رکھتی ہے

کتاب: ابنِ صفی، شخصیت اور فن

مصنف: راشد اشرف

ناشر: بزمِ تخلیق ادب پاکستان، کراچی

صفحات: 256

قیمت: 400 روپے

پاپولر ادب بمقابلہ ادبِ عالیہ کی بحث اگرچہ نئی نہیں ہے لیکن ابنِ صفی کے تناظر میں اِسے نئی جہت اس لئے مِل جاتی ہے کہ اُن کی شہرت جاسوسی ناول نگار کے طور پر سہی، لیکن وہ اُردو کے ادبِ عالیہ سے بخوبی واقف تھے اور خود بھی ایک غزل گو شاعر تھے۔

ابنِ صفی کے فن اور شخصیت پر اُن کی وفات کے بعد سے اب تک گاہے گاہے تبصرے وغیرہ شائع ہوتے رہے ہیں لیکن سوشل میڈیا کی بدولت گذشتہ تین چار برس کے دوران اُن کی ناول نگاری، غزل گوئی اور ایک انسان کے طور پر اُن کے روزمرہ برتاؤ پر بہت سا مواد سامنے آیا ہے۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ اس مواد کو کاٹ چھانٹ کر اس کا وقیع اور قابلِ مطالعہ حصّہ سنجیدہ قارئین کے لیے مرتب کیا جائے۔

جواں سال محقق اور ابنِ صفی کے شیدائی راشد اشرف نے ترتیب و تدوین کا یہ کام کرنے کے ساتھ ساتھ سنجیدہ ناقدینِ ادب کے یہاں سے جاسوسی ادب کے بارے میں مواد بھی ڈھونڈھ نکالا اور یوں پہلی بار ایک پاپولر ادیب کے بارے میں ایک سنجیدہ تنقیدی مقالہ منظرِعام پر آیا۔

راشد اشرف نے کتاب کی ابتداء ابنِ صفی کے ذاتی حالات اور خاندانی پس منظر سے کی ہے۔ الہ آباد میں اُن کے ابتدائی ایام اور تعلیم کا ذکر کرنے کے بعد اُن کی ناول نگاری کے آغاز کا تذکرہ کیا ہے کہ کس طرح الہ آباد کی ایک ادبی نشست کے دوران ہونے والی بحث میں اسرار احمد نامی ایک نوجوان نے یہ چنوتی قبول کی کہ عریانی اور فحاشی کی مدد لیے بغیر بھی مقبولِ عام فکشن تخلیق کی جا سکتی ہے۔۔۔ اور یوں 1952 میں ابنِ صفی کے قلمی نام سے اُن کا پہلا ناول’دلیر مجرم‘ منظرِ عام پر آیا۔ اُسی سال ابنِ صفی پاکستان منتقل ہو گئے اور کراچی آکر بھی اپنے جاسوسی ناولوں کے مسودے الہ آباد بھیجتے رہے۔

’1953 میں جب ان کی عمر صرف پچیس برس تھی وہ برِصغیر میں اردو پڑھنے والوں کے حواس پر چھا چکے تھے۔ لوگ بے چینی سے ہر ماہ اُن کے ناول کا انتظار کرتے اور نو (9 ) آنے قیمت کا ناول کئی گنا قیمت پر خریدنے کو تیار ہو جاتے‘۔(صفہ 51 )

ابنِ صفی کے کام کو درست تناظر میں دیکھنے کے لیے راشد اشرف نے ایک پورا باب اُردو ناول اور اردو کے جاسوسی ادب پر تحریر کیا ہے۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ ابنِ صفی سے پہلے بھی اردو کا پاپولر ادب جاسوسی قصّوں سے خالی نہیں تھا بلکہ سِرّی ادب دو واضح ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے، اوّل: ظفر عمر اور اُن کے ہم عصروں کا دور اور دوم: تیرتھ رام فیروز پوری کا دور۔ راشد اشرف کے بقول آج ہم جاسوسی ادب کے تیسرے دور میں زندہ ہیں جو کہ بِلا شک و شبہہ ابنِ صفی کا دور ہے۔

جو لوگ نوجوانی میں’آنہ لائبریری‘ سے ابنِ صفی کے ناول حاصل کرتے رہے ہیں انھیں ایک اور نام بھی یاد ہوگا: اکرم الہِ آبادی۔ حمید اور فریدی کی طرح اُن کے کردار خان اور بالے بھی بہت مقبول ہوئے۔۔۔لیکن پھر اچانک اکرم الہ آبادی منظرِ عام سے غائب ہو گئے۔ آج نصف صدی کے بعد راشد اشرف کی کتاب کے ذریعے اکرم الہ آبادی کی گمشدگی کا راز بھی فاش ہوگیا۔

وہ لکھتے ہیں کہ’اکرم الہ آبادی طباع اور ذہین تھے لیکن علمی پس منظر کی کمی اور ادب سے لگاؤ نہ ہونے کے باعث اُن کے فن میں نہ تو بلندی پیدا ہوسکی اور نہ ہی رچاؤ‘۔

راشد اشرف نے ابنِ صفی کے ہندی اور انگریزی میں ہونے والے تراجم کا جائزہ بھی لیا ہے اور مصنف کی فلمی دنیا سے مختصر وابستگی کا ذکر بھی کیا ہے۔

ابنِ صفی کے لازوال کرداروں میں عمران، فریدی اور حمید کے نام سےتو سبھی واقف ہیں لیکن راشد اشرف نے پہلی بار جوزف مگونڈا، سِنگ ہی، تھریسا اور قاسم کے کرداروں کا بھی تفصیلی تجزیہ پیش کیا ہے۔

ابنِ صفی کی شاعری اور اُن کے طنز و مزاح کے لئے مصنف نے دو الگ ابواب مختص کیے ہیں اور ابنِ صفی کے نظریہء حیات پر بھی ایک پورا باب رقم کیا ہے۔

بعد میں آنے والے محقیقین کی سہولت کے لیے راشد اشرف نے جاسوسی دنیا اور عمران سیریز کے تمام تر ناولوں کی مکمل فہرست، تاریخِ اشاعت کے ساتھ درج کر دی ہے اور کتاب کے آخر میں ابنِ صفی کے فن اور شخصیت پر ہونے والے اُس قومی سمینار کی روداد بھی ایک ضمیمے کے طور پر شامل کر لی گئی ہے جو کہ گذشتہ برس دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں چودہ سے سولہ دسمبر تک منعقد ہوا تھا۔

ابنِ صفی کے پڑھنے والوں اور اُردو میں جاسوسی ادب کی تحقیق کرنے والوں کے لیے یہ کتاب ایک ناگزیر حوالے کی حیثیت رکھتی ہے۔ تحقیق و تنقید کے جدید اصولوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے مصنف نے ہر باب کے اختتام پر مفصل کتابیات فراہم کی ہیں جس سے کتاب کی افادیت سہ چند ہو گئی ہے۔

Rana Abdul Baqi

unread,
Jul 4, 2014, 4:34:49 AM7/4/14
to bazmeqalam, abrarah...@gmail.com
Your comments on Ibne Safi have been posted in Adab O Ikhlaq segment of South Asian Pulse online, please.
Regards,
Rana Abdul Baqi,
Editor 


Ahmad Safi

unread,
Jul 4, 2014, 5:21:30 AM7/4/14
to BAZMe...@googlegroups.com, abrarah...@gmail.com
ابرار صاحب، رانا صاحب
پرستاران اور ابن صفی کے اہل خانہ کی جانب سے آپ دونوں حضرات کا شکرگذار ہوں.

خیر اندیش

احمد صفی


On Friday, July 4, 2014, Rana Abdul Baqi <rab...@sapulse.com> wrote:
> Your comments on Ibne Safi have been posted in Adab O Ikhlaq segment of South Asian Pulse online, please.
> Regards,
> Rana Abdul Baqi,
> Editor 
> www.sapulse.com 
>
> 2014-07-03 16:56 GMT+05:00 abrar ahmed <abrarah...@gmail.com>:
>>
>> ادب میں جاسوسی کہانی کا مقام
>>
>> عارف وقار
>>
>> بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
>>
>> <https://ci4.googleusercontent.com/proxy/HSxc_CkP2koPrvGkHhH0utu9THrT__AmDxylJuWPYvfl5n5yG8_YGRW6XSP6H043h7IINZOoCMUEa3RpH3JhYQqDbKOn6e_XqusCxRrrnKjxWvKifypHjFUFIwLcjQvlAr7JDYTVlqM6Oa_80rBhJ5g=s0-d-e1-ft#http://wscdn.bbc.co.uk/worldservice/assets/images/2013/04/13/130413145746_book-review01.jpg>

Rashid Ashraf

unread,
Jul 8, 2014, 3:22:14 AM7/8/14
to 5BAZMeQALAM, abrarah...@gmail.com, Rana Abdul Baqi
محترم ابرار صاحب
محترم رانا صاحب

تاخیر سے جواب کے لیے معذرت خواہ ہوں۔
بہت بہت شکریہ جناب آپ کا

براہ کرم یہ لنک بھی دیکھ لیجیے، تازہ ترین ہیں:


http://ummat.net/2014/06/25/news.php?p=idr5.gif

اور

http://ummat.net/2014/07/08/news.php?p=idr3.gif

خیر اندیش
راشد

Shazia Andleeb

unread,
Jul 8, 2014, 1:23:42 PM7/8/14
to Bazm e Qalam
wah Rashid sahab ap to barai ba kmal hain.kitab ki bohot mobarik ho .yai khan sai mil sakti hai?
ap to barai ba kmal hain
shazia 


Rashid Ashraf

unread,
Jul 9, 2014, 4:09:37 AM7/9/14
to 5BAZMeQALAM, Shazia Andleeb
شکریہ

ویلکم بک پورٹ، فضلی سنز اردو بازار کراچی اور کتاب سرائے لاہور پر دستیاب ہے

راشد



Husain Afsar

unread,
Jul 9, 2014, 4:24:36 AM7/9/14
to Aijaz .Shaheen

Syed Ahmed

unread,
Jul 9, 2014, 5:12:30 AM7/9/14
to bazme...@googlegroups.com

Mohtaram Rashid saheb salam masnoon
moin kamali ssheb ke donon mazmoon padhe bohat achchi aur sahih bat kahi hai
wassalam
syed ahmed
10-9-1435h
9-7-2014s



------------------------------
On Wed, Jul 9, 2014 4:09 AM EDT Rashid Ashraf wrote:

>*شکریہویلکم بک پورٹ، فضلی سنز اردو بازار کراچی اور کتاب سرائے لاہور پر
>دستیاب ہےراشد*
>
>
>2014-07-08 22:22 GMT+05:00 Shazia Andleeb <andle...@gmail.com>:
>
>> wah Rashid sahab ap to barai ba kmal hain.kitab ki bohot mobarik ho .yai
>> khan sai mil sakti hai?
>> ap to barai ba kmal hain
>> shazia
>>
>>
>> 2014-07-08 9:21 GMT+02:00 Rashid Ashraf <zest...@gmail.com>:
>>
>>
>>
>>
>>
>>
>>
>> *محترم ابرار صاحبمحترم رانا صاحبتاخیر سے جواب کے لیے معذرت خواہ ہوں۔بہت
>> بہت شکریہ جناب آپ کا براہ کرم یہ لنک بھی دیکھ لیجیے، تازہ ترین ہیں:*
>>
>> http://ummat.net/2014/06/25/news.php?p=idr5.gif
>>
>> *اور*
>>
>> http://ummat.net/2014/07/08/news.php?p=idr3.gif
>>
>>
>> *خیر اندیشراشد*

Sulaiman D.

unread,
Jul 11, 2014, 10:48:38 AM7/11/14
to bazme...@googlegroups.com, abrarah...@gmail.com
I SHALL BE HIGHLY OBLIGED IF ANY ONE KINDLY POST THE FOLLOWING COMPLETE  GHAZAL WITH THE NAME OF ITS POET.

"DILLI KEAY NATHEAY KUCHEAY AOURAQ-E-MUSAWWIR THEAY ......  JU SHAKL NAZAR AYE TASVEER NAZER AEY"


Date: Tue, 8 Jul 2014 12:21:56 +0500
Subject: Re: [بزم قلم:36991] ادب میں جاسوسی کہانی کا مقام
From: zest...@gmail.com
To: BAZMe...@googlegroups.com
CC: abrarah...@gmail.com; rab...@sapulse.com

Ahmad Safi

unread,
Jul 12, 2014, 10:46:23 AM7/12/14
to 5BAZMeQALAM
سلیمان دہلوی صاحب کے حسب ِ حکم میر تقی میر کی غزل یہاں پوسٹ کر رہا ہوں۔۔۔

کچھ موجِ ہوا پیچاں، اے میر! نظر آئی
شاید کہ بہار آئی، زنجیر نظر آئی

دلّی کے نہ تھے کُوچے، اوراقِ مصوّر تھے
جو شکل نظر آئی، تصویر نظر آئی


مغرور بہت تھے ہم، آنسو کی سرایت پر
سو صبح کے ہونے کو تاثیر نظر آئی

گل بار کرے ہے گا اسبابِ سفر شاید
غنچے کی طرح بلبل دل گیر نظر آئی

اس کی تو دل آزاری بے ہیچ ہی تھی یارو
کچھ تم کو ہماری بھی تقصیر نظر آئی
(میر تقی میر)​



Mohammed Ali

unread,
Jul 12, 2014, 9:29:11 PM7/12/14
to Bazmeqalam
کچھ تم کو ہماری بھی تقصیر نظر آئی

Dear Ihl-e-Qalam

Please remember Palestinian mothers and children in Gaza in your prayers. The world is abuzz with protests and demonstrations against the brutality that these innocent victims are currently subjected to, but those who have power to intervene and stop the inhuman attacks are taking a relaxing approach. How sad!

The other day a media report suggested that 121 people have been killed so far  including women and children as opposed to one Israeli women in Haifa who died of a heart attack trying to rush to a shelter. (And an Israeli Soldier who was wounded)

Those living in the Gaza area are at a stage where they mistake zanjeer with bahar.


شاید کہ بہار آئی، زنجیر نظر آئی

Faiz Ahmad Sahab marhoom was a close friend of Yasir Arafat. Even today many Urdu poets and prose writers are writing their literary pieces dedicating to Palestinian kids and women or to the cause as a whole.

Please pray that atrocities stop in the area and life gets back to "normal".

Canberra is staging a protest rally today outside the Parliament House to express solidarity with the oppressed. Yesterday Sydney had it. The whole Europe came shouting the day before.

 Shayad keh teray dil mein utar ja'ay meri baat

Kind regards
Mohammed Ali
Canberra

Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages