فیروز سنز آتشزدگی-احباب کے مکتوبات-چند حقائق

1 view
Skip to first unread message

Rashid Ashraf

unread,
Jun 1, 2012, 12:32:43 AM6/1/12
to 5BAZMeQALAM, maqsood....@googlemail.com, andle...@gmail.com, adilh...@hotmail.com, aap...@yahoo.com, naseem...@gmail.com, rasheed...@yahoo.co.in, Abida Rahmani, f_quadri
 
 
جناب مقصود الہی شیخ صاحب
جناب عادل حسن، عابدہ رحمانی صاحبہ، شاذیہ عندلیپ صاحبہ، جناب مخلص، نسیم سحر، جناب رشید انصاری، ڈاکٹر خلیل ندیم، جناب فاروق قادری (بنگلور سے)، جناب عبد المتین منیری
!
 
آپ کےجوابات موصول ہوئے۔ عابدہ صاحبہ کا قیافہ درست ہے۔ آج کی اطلاع یہی ہے کہ آتشزدگی کے اس واقعے میں تخریب کاری کا شبہ کیا جارہا ہے۔
 
فیروز سنز کے ڈائرکٹر مارکٹنگ دانیال سلام کے مطابق اس حادثے میں آٹھ لاکھ کتابیں جل کر خاکستر
ہوگئیں، ان میں دکان کے ساتھ ساتھ بیسمنٹ میں واقع گودام میں رکھی کتابیں بھی شامل تھیں۔ دو لاکھ کتابیں وہ تھیں جو آگ سے بچ گئیں لیکن آگ بجھانے کی کوششوں کے دوران پانی سے تباہ ہوگئیں۔
 
دانیال اسلام کے مطابق دس سے پندرہ کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔
 
لاہور میں واقع فیروز سنز محض ایک کتابوں کی دکان نہیں تھی بلکہ اسے شہر کی اہم لائبریری ہونے کا اعزاز بھی حاصل تھا۔ جو کتاب پورے ملک میں نہیں ملتی تھی، یہاں سے مل جاتی تھی۔ تفصیلات کے مطابق فیروز سنز میں تقسیم ہند سے قبل کی بھی کئی کتابیں موجود تھیں، معروف شاعروں اور ادیبوں کے ہاتھ کی لکھی کئی نایاب تحاریر اس پر مستزاد! ادارے کے ایم ڈی اسپین کے اعزازی کونسل  جنرل بھی ہیں اور ان کا دفتر بھی اسی عمارت میں واقع تھا۔
 
یہ ادارہ مولوی فیروز الدین نے 1894 میں قائم کیا تھا۔ مولوی صاحب کی اہم خودنوشت
"جہاد زندگانی"  1959 میں ان کے اپنے ادارے سے شائع ہوئی تھی۔ اس کا سرورق یہاں دیکھا جاسکتا ہے:
 
یہ وہی مولوی فیروز الدین ہیں جن کے پوتے عبدالوحید کی بیٹی ناصرہ (جسٹس ناصر اقبال) سے علامہ اقبال کے بیٹے جاوید اقبال کی شادی ہوئی تھی۔
 
ایک تازہ اخباری اطلاع کے مطابق فیروز سنز جوکتابیں نمونے کے طور پر بیرون ممالک بھیجتا تھا، صرف اس کی مالیت ہی سال میں دو کروڑ سے زیادہ تھی۔ ادارے کے مینیجر کے مطابق گودام میں ایک ایک کتاب کے پانچ ہزار ٹائٹل جڑے ہوئے پڑے تھے۔
 
یہ واقعہ بدھ کے روز ساڑھے دس اور گیارہ کے درمیان پیش آیا۔ آگ بیسمنٹ میں واقع اسٹور میں لگی
جہاں سرے سے بجلی کا کنکشن موجود ہی نہیں تھا۔ آگ کا شور سنتے ہی جب مینیجر موقع پر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ آگ کا شعلہ سیڑھی پر بھڑک رہا ہے جہاں  بقول اس کے آگ لگنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔ یہ جگہ ایسی تھی کے دکان کے 50 ملازمین میں سے شاذ و نادر ہی کوئی وہاں جاتا تھا۔ مالکان نے تخریب کاری کا شبہ ظاہر کیا ہے۔  
 
راشد اشرف
کراچی سے
  

Abida Rahmani

unread,
Jun 1, 2012, 12:50:34 AM6/1/12
to bazme...@googlegroups.com
بہت بھت شکریہ راشد
کچھ اس قسم کا احساس ہو رھاہے جب ہلاکو خان نے بغداد کے کتب خانے کو تباہ کیا تھا اور جب لندن جل کر راکھ ہوا تھا-نمعلوم اس راکھ سے پھر کوئی عظیم الشان کتب خانہ جنم لے سکتا ہےاور کیا اس فعل کے مجرمانکو قرار واقعی سزا ملیگی؟؟






Abida Rahmani





--- On Thu, 5/31/12, Rashid Ashraf <zest...@gmail.com> wrote:
--
زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے
کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/
اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com
سہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.com
کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com
http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/
راشد اشرف کی تحریروں کے لیے
http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760
To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics
 
To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com
 
To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite
 
To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"

aapka Mukhlis

unread,
Jun 1, 2012, 2:09:49 AM6/1/12
to bazme...@googlegroups.com
گویا انسانیت کے دشمنوں نے انسانی جانوں، علم و حکمت کی حامل عظیم شخصیتوں اور مذہبی مراکز کے ساتھ ساتھ اب علم و ادب کی اشاعت کے مراکز کوبھی نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔اللہ ہمارے اربابِ بست و کشاد کو صحیح سمت میں قدم اٹھانے کی توفیق عطافرمائے اورہماری سلامتی کے دشمنوں کی چالوں کو ان پر ہی پلٹ دے۔ آمین

From: Rashid Ashraf <zest...@gmail.com>
To: 5BAZMeQALAM <bazme...@googlegroups.com>
Cc: maqsood....@googlemail.com; andle...@gmail.com; adilh...@hotmail.com; aap...@yahoo.com; naseem...@gmail.com; rasheed...@yahoo.co.in; Abida Rahmani <abida.r...@gmail.com>; f_quadri <f_qu...@yahoo.com>
Sent: Friday, June 1, 2012 7:32 AM
Subject: {11843} فیروز سنز آتشزدگی-احباب کے مکتوبات-چند حقائق

Rashid Ashraf

unread,
Jun 1, 2012, 3:15:19 AM6/1/12
to bazme...@googlegroups.com
اسی کی دہائی میں اسکول کا طالب علم تھا، والد صاحب کے ہمراہ کراچی سے لاہور و مری اسلام آباد جانا ہوا، لاہور میں فیروز سنز میں ایسے داخل ہوئے کہ گھر والوں کو زبردستی نکالنا پڑا، جیسے کسی خوابوں کی دنیا میں قدم رکھ دیا ہو، اچھی طرح یاد ہے کہ مقبول جہانگیر مرحوم کی "خوفناک کہانیاں" اور "ہوگرالی کا آدم خور" فیروز سنز، مال روڈ ہی سے خریدی تھیں اور پھر بقیہ سفر میں انہیں مزے لے لے کر اور خوف کھا کھا کر پڑھا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ جہانگیر صاحب نے کتاب کے ابتدا میں ایک ہدایت نامہ بھی جاری کیا تھا جو آج بھی نئے ایڈیشن پر موجود ہے کہ سردیوں کی راتوں میں اسے پڑھیے، ساتھ میں ایک ٹائم پیس رکھ لیں جس کی ٹک ٹک آپ کے کانوں میں پہنچتی رہے وغیرہ ------ یہ ہدایت نامہ، ہدایت نامہ خاوند سے زیادہ پر اثر تھا کہ اس پر مِن و عن عمل کرکے مری کے ہوٹل میں رات کے بارہ بجے کے بعد اس کی ایک کہانی "کاغذ کے ٹکڑے" پڑھتے وقت یوں محسوس ہورہا تھا کہ مذکورہ کہانی کی اسی پراسرار دنیا میں پہنچ گیا ہوں، پھنس گیا ہوں اور اب شاید وہاں سے واپسی ناممکن ہو۔

خدا بخشے، مقبول جہانگیر کو، دلی کے رہنے والے، لاہور کو مسکن بنایا، لاکھوں کو پڑھنا سکھایا! ۔۔۔ ۔۔ بس اک دنیا سے جانے کی جلدی تھی
 
Rashid Ashraf



2012/6/1 aapka Mukhlis <aap...@yahoo.com>

shahnawaz shah

unread,
Jun 1, 2012, 3:20:25 AM6/1/12
to bazme...@googlegroups.com
عالیجناب حسن فرخ صاحب سلام مسنون
آپ کی غزلیں بہت اچھی لگیں
شاید یہ میر تقی میر کی زمین میں غزل کہی ہے
فقط : شاہ نواز شاہ
میر صاحب کا شعر ملاخطہ کیجئے
وضو کو مان کے پانی خجل نہ کر اے میر
وہ مفلسی کہ تیمم کو گھر میں خاک نہیں

aapka Mukhlis

unread,
Jun 1, 2012, 6:48:29 AM6/1/12
to bazme...@googlegroups.com
السلام علیکم
  امید ہے کہ خیریت سے ہوں گے۔ پوُت کے پاوں پالنے میں نظر آجاتے ہیں۔والدین سمجھ گئے ہوں گے کہ برخوردار کے تیور ٹھیک نہیں لگ رہے۔معلوم نہیں انھوں نے کیسے آپ کوصنعت و حرفت کے میدان سے منسلک رکھا۔
            یہ درست ہے کہ بچوں کے ادب کے حوالے سے فیروز سنز کی بڑی خدمات ہیں۔ وہ میعار پر سمجھوتہ نہیں کرتے تھے اگرچہ اس وجہ سے ان کی مطبوعات کی قیمت دیگر اشاعتی اداروں اور ناشرین کی نسبت زیادہ ہوتی ہیں۔
جہانگیر صاحب واقعی تحیراور تجسس سے بھرپور کہانیاں لکھنے میں کمال کا ملکہ رکھتے تھے۔جانا تو ہر ایک کو ہوتا ہے مگر بعض شخصیات کا جانا بہت شاق گزرتا ہے۔ بالخصوص جو اپنے پیچھے ایک خلا چھوڑ جاتے ہیں لیکن وہ بہر حال ایک میعار ضرور قائم کرجاتے ہیں۔
والسلام
مخلص

Abida Rahmani

unread,
Jun 1, 2012, 9:03:37 PM6/1/12
to bazme...@googlegroups.com
بچپن کی معصوم یادیں بہت بڑا سرمایہ ہوتی ہیں اور پھر جو جگہ آپنے دیکھی ہو اور اسکی تباہی کا سن لیں تو دکھ لازمی ہے- اللہ ہی ھمارے دکھوں کامداوا کرے ـ آمین






Abida Rahmani





--- On Fri, 6/1/12, Rashid Ashraf <zest...@gmail.com> wrote:

Rashid Ashraf

unread,
Jun 4, 2012, 12:42:22 AM6/4/12
to 5BAZMeQALAM, aap...@yahoo.com

جناب مخلص صاحب
وعلیکم السلام

آپ کا پیغام موصول ہوا
بہت بہت شکریہ

ساٹھ کی دہائی میں مقبول جہانگیر صاحب کے ساتھ پراسرار کہانیاں کا ترجمہ کرنے والوں میں ضیاء شاہد (خبریں اخبار والے) بھی شامل تھے۔ اس مرتبہ اتوار بازار سے ان کی ایک کتاب ملی ہے، 1968 میں شائع ہوئی تھی۔ جلس اس سے ایک دلچسپ انتخاب شامل کروں گا

راشد

2012/6/1 aapka Mukhlis <aap...@yahoo.com>

Rashid Ashraf

unread,
Jun 4, 2012, 12:57:59 AM6/4/12
to 5BAZMeQALAM, aap...@yahoo.com

جناب ابن حسن (بزم پر موجود نہیں ہیں) کا جواب ملاحظہ ہو:

فیروز سنز میں آتش زدگی کی خبر گو ٹی وی کے ذریعے مل گئی تھی لیکن یہ اندازہ نہیں تھا کہ اتنا بڑا نقصان ہوا ہو گا کہ آٹھ لاکھ کتابیں خاکستر اور دو لاکھ پانی برد ہو گئی ہوں گی۔ اس سانحے نے تو بیت الحکمت کی تباہی کی یاد تازہ کر دی جب ہلاکو خان کے ہاتھوں یہ دانش کدا خاکستر ہو گیا تھا۔مورخین کے مطابق پہلے دریائے دجلہ کا پانی انسانوں کے خون سے سرخ ہوا پھرجلائی گئی کتابوں کی راکھ سے سیاہ پڑ گیا۔

فیروز سنز کو بطور پبلشر اردو دنیا میں ایک لیجنڈری حیثیت حاصل ہوچکی ہے گو کہ اب اس ادارے کی ترجیحات اور پالیسیز میں کافی منفی تبدلیلیاں آچکی ہیں، تاہم ماضی میں اس ادارے نے اردو کے لیے بے پایاں خدمات سرانجام دی ہیں۔خصوصا تین جیحات سے فیروز سنز اپنی مثال آپ رہا ہے، ایک طرف بچوں کے لیے اس ادارے سے بہتریں کتابیں شائع ہوتی رہیں جن میں اردو کی کلاسیکل داستانوں مثلا بوستان خیال، داستان امیر حمزہ، اسی دانستان کا ایک حصہ طلسم ہوش ربا اور الف لیلہ و لیلہ کو آسان اردو میں منتقل کرنا، دنیا بھر کی لوک کہانیوں و میتھالوجی کو بچوں کے لیے پیش کرنا(اس سلسلے کی بعض کتابیں ، ایک بوند شہد ، تانبے کے تین پیسے وغیرہ تھیں) اور خود اردو میں طبع زاد کہانیاں اور ناول بچوں کے لیے لکھوانا فیروز سنز کا ایک بہت اہم کارنامہ ہے۔

فیروز سنز کا یک اور اہم کارنامہ اردو میں معتبر حوالہ جاتی کتب کی اشاعت ہے فیروز اللغات اردو جامع، فیروزاللغات فارسی اردو اور عربی اردو اور فیروز سنز اردو انسائیکلوپیڈیا کا نام اس سلسلے میں قابل ذکر ہے۔

فیروز سنز کا تیسرا کارنامہ پرنٹنگ و پبلشنگ کی دنیا میں عمدہ معیار کا برقرار رکھنا ہے، شروع شروع میں فیروز سنز جیسی عمدہ طباعتی معیار کی کتابیں اور کوئی ادارہ نہیں چھاپتا تھا، ایک زمانے میں فیروز سنز کے قریبی حریف شیخ غلام علی اینڈ سنز والے تھے( جو اب کسی قابل ذکر حیثت کے مالک نہیں) لیکن ان کی طباعت فیروز سنز کے پاسنگ بھی نہیں ہوتی تھیں۔

مقبول جہانگیر مرحوم کا ذکر راشد اشرف صاحب نے کیا، درحقیقت مقبول جہانگیر صاحب کے اردو پر احسانات میرے خیال میں ابن صفی مرحوم سے کم نہیں، اردو میں شکاری ادب، فرار کی کہانیاں،دوسری جنگ عظیم سے متعلق کہانیاں، ہارر یا ڈراونی کہانیوں کے مختلف زبانوں سے شاندار تراجم مقبول جہانگیر نے اردو میں کیے۔ بچوں کے لیے بھی بوستان خیال اور داستان امیر حمزہ کو اردو میں منتقل کیا۔ مقبول جہانگیر کی بعض مترجم کتابیوں مثلا، جہنم سے فرار، فرار ہونے کے بعد ، پیپلن کا فرار اور پیلن کی واپسی آج بھی جب میں پڑھتا ہوں لطف آجاتا ہے۔


2012/6/4 Rashid Ashraf <zest...@gmail.com>

aapka Mukhlis

unread,
Jun 4, 2012, 3:57:20 PM6/4/12
to bazme...@googlegroups.com
السلام علیکم
میں ضیاء شاہد صاحب کی کتاب کا منتظر رہوں گا
پیشگی شکریہ قبول فرمائیے
ضیاء شاہد صاحب بھی سنسنی خیزی کے بڑے شائق ہیں۔
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages