بہت بھت شکریہ راشد
کچھ اس قسم کا احساس ہو رھاہے جب ہلاکو خان نے بغداد کے کتب خانے کو تباہ کیا تھا اور جب لندن جل کر راکھ ہوا تھا-نمعلوم اس راکھ سے پھر کوئی عظیم الشان کتب خانہ جنم لے سکتا ہےاور کیا اس فعل کے مجرمانکو قرار واقعی سزا ملیگی؟؟
Abida Rahmani --- On Thu, 5/31/12, Rashid Ashraf <zest...@gmail.com> wrote: |
|
From: Rashid Ashraf <zest...@gmail.com>
To: 5BAZMeQALAM <bazme...@googlegroups.com>
Cc: maqsood....@googlemail.com; andle...@gmail.com; adilh...@hotmail.com; aap...@yahoo.com; naseem...@gmail.com; rasheed...@yahoo.co.in; Abida Rahmani <abida.r...@gmail.com>; f_quadri <f_qu...@yahoo.com>
Sent: Friday, June 1, 2012 7:32 AM
Subject: {11843} فیروز سنز آتشزدگی-احباب کے مکتوبات-چند حقائق
اسی کی دہائی میں اسکول کا طالب علم تھا، والد صاحب کے ہمراہ کراچی سے لاہور و مری اسلام آباد جانا ہوا، لاہور میں فیروز سنز میں ایسے داخل ہوئے کہ گھر والوں کو زبردستی نکالنا پڑا، جیسے کسی خوابوں کی دنیا میں قدم رکھ دیا ہو، اچھی طرح یاد ہے کہ مقبول جہانگیر مرحوم کی "خوفناک کہانیاں" اور "ہوگرالی کا آدم خور" فیروز سنز، مال روڈ ہی سے خریدی تھیں اور پھر بقیہ سفر میں انہیں مزے لے لے کر اور خوف کھا کھا کر پڑھا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ جہانگیر صاحب نے کتاب کے ابتدا میں ایک ہدایت نامہ بھی جاری کیا تھا جو آج بھی نئے ایڈیشن پر موجود ہے کہ سردیوں کی راتوں میں اسے پڑھیے، ساتھ میں ایک ٹائم پیس رکھ لیں جس کی ٹک ٹک آپ کے کانوں میں پہنچتی رہے وغیرہ ------ یہ ہدایت نامہ، ہدایت نامہ خاوند سے زیادہ پر اثر تھا کہ اس پر مِن و عن عمل کرکے مری کے ہوٹل میں رات کے بارہ بجے کے بعد اس کی ایک کہانی "کاغذ کے ٹکڑے" پڑھتے وقت یوں محسوس ہورہا تھا کہ مذکورہ کہانی کی اسی پراسرار دنیا میں پہنچ گیا ہوں، پھنس گیا ہوں اور اب شاید وہاں سے واپسی ناممکن ہو۔
خدا بخشے، مقبول جہانگیر کو، دلی کے رہنے والے، لاہور کو مسکن بنایا، لاکھوں کو پڑھنا سکھایا! ۔۔۔ ۔۔ بس اک دنیا سے جانے کی جلدی تھیRashid Ashraf
| بچپن کی معصوم یادیں بہت بڑا سرمایہ ہوتی ہیں اور پھر جو جگہ آپنے دیکھی ہو اور اسکی تباہی کا سن لیں تو دکھ لازمی ہے- اللہ ہی ھمارے دکھوں کامداوا کرے ـ آمین Abida Rahmani |
--- On Fri, 6/1/12, Rashid Ashraf <zest...@gmail.com> wrote: |
جناب مخلص صاحب
وعلیکم السلام
آپ کا پیغام موصول ہوا
بہت بہت شکریہ
ساٹھ کی دہائی میں مقبول جہانگیر صاحب کے ساتھ پراسرار کہانیاں کا ترجمہ کرنے والوں میں ضیاء شاہد (خبریں اخبار والے) بھی شامل تھے۔ اس مرتبہ اتوار بازار سے ان کی ایک کتاب ملی ہے، 1968 میں شائع ہوئی تھی۔ جلس اس سے ایک دلچسپ انتخاب شامل کروں گا
راشد
جناب ابن حسن (بزم پر موجود نہیں ہیں) کا جواب ملاحظہ ہو:
فیروز سنز میں آتش زدگی کی خبر گو ٹی وی کے ذریعے مل گئی تھی لیکن یہ اندازہ نہیں تھا کہ اتنا بڑا نقصان ہوا ہو گا کہ آٹھ لاکھ کتابیں خاکستر اور دو لاکھ پانی برد ہو گئی ہوں گی۔ اس سانحے نے تو بیت الحکمت کی تباہی کی یاد تازہ کر دی جب ہلاکو خان کے ہاتھوں یہ دانش کدا خاکستر ہو گیا تھا۔مورخین کے مطابق پہلے دریائے دجلہ کا پانی انسانوں کے خون سے سرخ ہوا پھرجلائی گئی کتابوں کی راکھ سے سیاہ پڑ گیا۔
فیروز سنز کو بطور پبلشر اردو دنیا میں ایک لیجنڈری حیثیت حاصل ہوچکی ہے گو کہ اب اس ادارے کی ترجیحات اور پالیسیز میں کافی منفی تبدلیلیاں آچکی ہیں، تاہم ماضی میں اس ادارے نے اردو کے لیے بے پایاں خدمات سرانجام دی ہیں۔خصوصا تین جیحات سے فیروز سنز اپنی مثال آپ رہا ہے، ایک طرف بچوں کے لیے اس ادارے سے بہتریں کتابیں شائع ہوتی رہیں جن میں اردو کی کلاسیکل داستانوں مثلا بوستان خیال، داستان امیر حمزہ، اسی دانستان کا ایک حصہ طلسم ہوش ربا اور الف لیلہ و لیلہ کو آسان اردو میں منتقل کرنا، دنیا بھر کی لوک کہانیوں و میتھالوجی کو بچوں کے لیے پیش کرنا(اس سلسلے کی بعض کتابیں ، ایک بوند شہد ، تانبے کے تین پیسے وغیرہ تھیں) اور خود اردو میں طبع زاد کہانیاں اور ناول بچوں کے لیے لکھوانا فیروز سنز کا ایک بہت اہم کارنامہ ہے۔
فیروز سنز کا یک اور اہم کارنامہ اردو میں معتبر حوالہ جاتی کتب کی اشاعت ہے فیروز اللغات اردو جامع، فیروزاللغات فارسی اردو اور عربی اردو اور فیروز سنز اردو انسائیکلوپیڈیا کا نام اس سلسلے میں قابل ذکر ہے۔
فیروز سنز کا تیسرا کارنامہ پرنٹنگ و پبلشنگ کی دنیا میں عمدہ معیار کا برقرار رکھنا ہے، شروع شروع میں فیروز سنز جیسی عمدہ طباعتی معیار کی کتابیں اور کوئی ادارہ نہیں چھاپتا تھا، ایک زمانے میں فیروز سنز کے قریبی حریف شیخ غلام علی اینڈ سنز والے تھے( جو اب کسی قابل ذکر حیثت کے مالک نہیں) لیکن ان کی طباعت فیروز سنز کے پاسنگ بھی نہیں ہوتی تھیں۔
مقبول جہانگیر مرحوم کا ذکر راشد اشرف صاحب نے کیا، درحقیقت مقبول جہانگیر صاحب کے اردو پر احسانات میرے خیال میں ابن صفی مرحوم سے کم نہیں، اردو میں شکاری ادب، فرار کی کہانیاں،دوسری جنگ عظیم سے متعلق کہانیاں، ہارر یا ڈراونی کہانیوں کے مختلف زبانوں سے شاندار تراجم مقبول جہانگیر نے اردو میں کیے۔ بچوں کے لیے بھی بوستان خیال اور داستان امیر حمزہ کو اردو میں منتقل کیا۔ مقبول جہانگیر کی بعض مترجم کتابیوں مثلا، جہنم سے فرار، فرار ہونے کے بعد ، پیپلن کا فرار اور پیلن کی واپسی آج بھی جب میں پڑھتا ہوں لطف آجاتا ہے۔