ڈاکٹر کلیم احمدعاجزعلیہ الرحمہ ایک پیکر اخلاق ووفانہ رہا

0 views
Skip to first unread message

Suhail Anjum

unread,
Feb 15, 2015, 5:37:40 AM2/15/15
to bazme qalam, bazme qalam
ڈاکٹر کلیم احمدعاجزعلیہ الرحمہ
ایک پیکر اخلاق ووفانہ رہا
ضیاءالحق خیرآبادی،مدرس مدرسہ سراج العلوم چھپرہ،ضلع مﺅ (یوپی)
آج (۵۱فروری اتوار)دوپہر میں ایک خبر ملی کہ ”ڈاکٹرکلیم عاجزصاحب کا صبح ۸بجے انتقال ہوگیا۔“ یہ سن کر میں سناٹے میں آگیا، کچھ دیر تو سکتے کی سی کیفیت طاری رہی،میں نے بے یقینی کی کیفیت میں ان کے موبائل نمبرپرکال کی تو ان کے خادم نے اس کی تصدیق کردی تو رہی سہی امید دم توڑگئی اور زبان دیر تک تلقین ربانی اناﷲ کا وردکرتی رہی اور ان کے لئے دعائے مغفرت کے کلمات زبان پر جاری رہے۔ابھی دوتین روز پہلے ان سے فون پر بات ہوئی تھی۔ وہ حرمین شریفین اور امریکہ کے ساڑھے چارماہ کے طویل دورے کے بعدابھی ۴۲جنوری کو واپس آئے تھے، میں نے کہا کہ میں ۴۱فروری کو دہلی جارہاہوں واپسی کا ٹکٹ ۸۱فروری کا بنواکے جمعرات کی صبح آپ کے دردولت پر حاضر ہوتا ہوں۔ کہنے لگے کہ ٹھیک ہے میں ہزاری باغ اور دھنباد جارہاہوں میں بھی جمعرات کی صبح آجاوں گا۔ان کے خادم سے اتنا معلوم ہوا کہ ابھی دھنباد نہیں جاسکے تھے ہزاری باغ ہی میں طبیعت خراب ہوئی اور انتقال فرماگئے۔اﷲ تعالیٰ ان کی بال بال مغفرت فرمائے۔
ڈاکٹر صاحب کے تعارف میں استاذمحترم حضرت مولانااعجازاحمد صاحب اعظمی نے ان شخصیت کی مکمل عکاسی کی ہے:
”ڈاکٹر کلیم عاجز صاحب اس دور میں متاعِ درد وغم ، سرو رعشق ومحبت ، جذبہ ¿ خلوص وبے نفسی اور انسانیت وشرافت کی ایک روشن علامت ہیں ۔ بہار کا یہ مظلوم انسان جس نے ابتداءجوانی میں فسادیوں ، رہزنوں اور قاتلوں کے ہاتھوں اپنے پورے خاندان ، اپنی پوری بستی بلکہ ایک خطے کے خطے کو برباد ہوتے دیکھا ۔ درد وغم کی اَنی دل میں اتری اور ٹوٹ کر رہ گئی ، اس درد کی کسک کو انھوں نے شعر وادب کا پیکر عطا کرکے دنیا والوں کے سامنے تحفہ کے طور پر پیش کیا ، خاموش مگر نہایت گہری سوچ والے ، یکسو مگر کام کی ہر چیز پر وسیع نگاہ رکھنے والے ، ان کی کتاب ” جہاں خوشبو ہی خوشبو تھی “ سے تعارف ہوا، وہی ذریعہ ¿ ملاقات بنی ، ان کی غزلوں کے مجموعہ ” وہ جو شاعری کا سبب ہوا“ نے ان کے دل کی ترجمانی کی ،بس وہ اپنے اس شعر کے ہوبہو مصداق ہیں 
کیسے کیسے دکھ نہیں جھیلے ، کیا کیا چوٹ نہ کھائے
 پھر بھی پیار نہ چھوٹا ہم سے عادت بری بلائے 
دنیا کا اپنے انداز کا نرالاالبیلا انسان، نہایت دیندار، بہت ہی پُرسوز ، ان کا البیلاپن ، ان کا جذبہ ¿ بیداری اور ان کا سوزِ دروں ،جب الفاظ کے پیکر میں جلوہ گر ہوتا ہے تو ادب وانشاءکا ایک نیا اُسلوب جنت نگاہ بنتا ہے۔“
حضرت مولانا ایک خط میں لکھتے ہیں:
”میرے سامنے ایک شخصیت ہے ، بچپن اس کا محبت کی معصوم فضاو ¿ں میں گذرا ۔ جوانی آئی تو گردشِ زمانہ نے سخت ٹھوکر لگائی ، مگر سنبھالنے والا اسے سنبھالے رہا ۔ اب اس کا بڑھاپاہے ، آفتابِ عمر لب بام آگیا ہے ، اب کوئی دم ہے کہ کانوں میں یَا ا ¿َیَّتُھَا النَّف ±سُ ال ±مُط ±مَئِنَّةُ Êِر ±جِعِی ± Êِلیٰ رَبِّکِ رَاضِیَةً مَّر ±ضِیَّةً (اے نفس مطمئنہ! اب اپنے رب کے حضور لوٹ چل ، اس حال میں لوٹ چل کہ تو بھی راضی اور وہ بھی راضی ) کی صدائے دلنواز گونجنے والی ہے ، اور وہ فَاد ±خُلِی ± فِی ± عِبَادِی ± (میرے خاص بندوں میں شامل ہوجا )کی رہنمائی میں انھیں لوگوں کے جھرمٹ میں جاپہونچے گی ، جس کی یاد میں اس نے آنسو دریا دریا بہائے ہیں ، زندگی تڑپ تڑپ کر بسر کی ہے ، اور سب کے ساتھ مل کر وَاد ±خُلِی ± جَنَّتِی ± (میری جنت داخل ہوجا ) کا روح پرور نغمہ سنتے ہوئے جنت میں جاداخل ہوگی ، جہاں ناقدری کی شکایت نہ ہوگی ! ایسی شخصیت کو بھلا یہاں کے ناقدروں سے کیا شکوہ؟اس نے سب کے ساتھ پیار کیا ہے اور کئے جارہا ہے ، اس نے دشمن کو گلے لگایا ہے ، اس نے کانٹوں کو پھول سمجھ کر اٹھایا ہے ، اس نے زخموں سے بھی پیار کیا ہے ، اور زخم دینے والے ہاتھوں کوبھی بوسہ دیا ہے ،“
حضرت مولانا کی وساطت سے ان سے خط وکتابت شروع ہوئی ،اور آج سے ۲۲سال پہلے۳۹۹۱ءمیںان کی محبت مجھے کھینچ کر ان کے آستانے پر پٹنہ لے گئی،یہ اس وقت کی بات ہے جب میں درجہ فارسی میں پڑھ رہا تھااور ان کی خود نواشت سوانح جہاں خوشبو ہی خوشبو تھی اور ان کا سفرنامہ حج ”یہاں سے کعبہ کعبہ سے مدینہ“ پڑھ چکا تھا۔اور ان سے حددرجہ ان کی نثر اور اشعار دونوں نے مجھے اپنا بنارکھاتھا۔ کسی شاعر کا کلام اور نثری تحریریں جتنی میں کلیم عاجز صاحب کی پڑھی ہیں کسی کی نہیں پڑھی ہیں ، پہلی ملاقات کے بعد یہ محبت نہایت تعلقات میں بدل گئی ، پھر تو نہ جانے کتنی بار محض ان سے ملنے پٹنہ گیا ، ان کی شرافت وانسانیت، محبت ومروت ، تواضع وخاکساری ،اعلیٰ درجہ کا اخلاق ان سب چیزوں نے مجھے ہمیشہ ان کا اسیر بنائے رکھا اور میں نے ان کا پیغام محبت عام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، ان کی ذرہ نوازی اور قدرافزائی کا حال یہ تھا کہ میں نے ایک مرتبہ جب وہ دہلی سے پٹنہ واپس آرہے تھے، تو درخواست کی کہ آپ میرے وطن خیرآباد اور ہمارے مدرسہ شیخوپور آئیے۔ انھوں نے بغیر کسی تامل کے یہ درخواست منظورکی، اور دونوں جگہوں پر تشریف لائے اور دونوں جگہ ان کے پروگرام ہوئے، پھر میں ان کو رخصت کرنے ان کے گھرپٹنہ تک ساتھ گیا۔اب تو ہرسال یہ معمول بن گیا تھا کہ ایک دوبار ملاقات کے لئے پٹنہ پہونچ جاتاتھا ،اسی سلسلے کی ایک کڑی بدھ کا سفرپٹنہ تھا، لیکن افسوس کہ اب وہ نہ مل سکیں گے تو چل کر قبر پر حاضری دے لیں ان کی یاد میں کچھ آنسو بہالیں ، ان کے لئے دعائے مغفرت کا سلسلہ تو انشاءاﷲ تاحیات جاری رہے گا۔ ان کی یادیں تو مسلسل درِ دل پر دستک دیتی رہیں گی اور ان کی غیر معمولی شفقت ومحبت اور قدرافزائی خون کے آنسو رلاتی رہے گی۔
ڈاکٹر صاحب اکتوبر ۵۲۹۱ءمیں عظیم آباد(پٹنہ) کے ایک دیہات ”تیلہاڑہ “ میں پیدا ہوئے، ابتداءہی میں مطالعہ کا ایسا ذوق پیدا ہوا کہ دس سال کی عمر میں فسانہ عجائب طلسم ہوش ربا اور نہ جانے کون کون سی ادبی کتابیں اور رسالے پڑھے ہی نہیں بلکہ چاٹ ڈالے، اسی زمانے میں کچھ اشعار بھی کہے ، ہائی اسکول انھوں نے امتیازی شان کے ساتھ پاس کیا ، لیکن اسی دوران کچھ خانگی پریشانیاں والد کا انتقال اور پھر ۶۴۹۱ءکے فسادکا دلسوزوالمناک سانحہ جس نے ان کو زیروزبر کرڈالا ، ۶۴۹۱ءمیں عین بقرعید کے دن ان کی ماں اور بہن سمیت خاندان کے ۲۲افراداور گاوں کے تقریباً ۰۰۸افراد فسادیوں درندوں اور جنونیوں کے ہاتھوں شہید ہوگئے، اس حادثے نے ان پر کیا کیفیت پیدا کی اسے ان کی خودنوشت سوانح ”جہاں خوشبوہی خوشبوتھی“ میں پڑھئے ۔اس غم والم کو انھوں نے شعر وادب کا پیکر عطا کیا،وہ کہتے:
غم نے گانابجانا سکھایا جان دیدیں گے گاتے بجاتے
اس سانحے کے کئی سال کے بعد انھوں نے تعلیمی سلسلہ دوبارہ شروع کیا ، اور ایم اے پی ایچ ڈی کرنے کے بعد پٹنہ یونیورسٹی میں پروفیسرہوئے اور اخیر میںشعبہ اردو کے صدر شعبہ کی حیثیت سے ۴۸۹۱ءسے سبکدوش ہوئے۔اس کے بعد انھوں نے بقیہ زندگی دین کی اشاعت اور پیغام محبت وانسانیت کو عام کرنے میں بتادی، وہ بہار تبلیغی جماعت کے گزشتہ کئی دہائیوں سے امیررہے۔ مرکز کے تمام اکابرین سے ان کے نہایت گہرے مراسم رہے ، امیرجماعت تبلیغ مولانا انعام الحسن صاحب پر ان کا مرثیہ جواردو ادب کاشاہکارہے ان کی نظموں کے مجموعہ ”کوچہ ¿ جاناں جاناں“ میں ہے ۔ ان کی وفات سے ایک عہد کا خاتمہ ہوگیا۔
ان کی تصانیف درج ذیل ہیں:
۱۔ وہ جو شاعری کا سبب ہوا(پہلا مجموعہ کلام)
۲۔جب فصل بہاراں آئی تھی(دوسرا مجموعہ کلام)
۳۔پھر ایسانظارہ نہیں ہوگا(مجموعہ کلام)
۴۔جہاں خوشبو ہی خوشبو تھی (خود نوشت سوانح)
۵۔ابھی سن لو مجھ سے(خود نوشت سوانح)
۶۔کوچہ ¿ جاناں جاناں!(نظموں اور نعتوں کا مجموعہ)
۷۔مجلس ادب( شعری نشستوں کی ایک روداد)
۸۔دیوانے دو(خطوط کا مجموعہ)
۹۔میری زبان میرا قلم(مجموعہ مضامین دوجلد میں)
۰۱۔دفتر گم گشتہ (پی ایچ ڈی کا مقالہ)
۱۱۔یہاں سے کعبہ کعبہ سے مدینہ (سفرنامہ حج)
۲۱۔ ایک دیس اک بدیسی (سفرنامہ امریکہ)
اس کے علاوہ ان کی بھانجی نے ان کے نام خطوط کا مجموعہ اکٹھاکیا جسے خدا بخش لائبریری نے شائع کیا ہے، نام ذہن میں نہیں آرہا ہے، سفر کی حالت میں بالکل قلم برداشتہ یہ چند سطریں لکھ دی ہیں انشاءاﷲ اطمینان سے تفصیلی مضمون لکھوں گا۔
 
 

Wadood Sajid

unread,
Feb 15, 2015, 5:50:57 AM2/15/15
to BAZMe...@googlegroups.com

Inna lillahi wa inna ilaihi rajioon

--
http://urducouncil.nic.in/E_Library/Urdu-Duniya-January-2015.pdf
http://www.urducouncil.nic.in/E_Library/urdu_Duniya.html
http://hudafoundation.org/
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.

Ansari Nafees

unread,
Feb 15, 2015, 6:12:36 AM2/15/15
to BAZMe...@googlegroups.com
اِنّا للہ وَ اِنّا اِلیہ راجِعونْ۔ 
اللہ مرحوم کی کروٹ کروٹ مغفرت فرمائے۔۔۔۔۔۔۔(آمین)

موت اسکی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس
ورنہ دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کے لئے

Tanwir Phool

unread,
Feb 15, 2015, 6:15:42 AM2/15/15
to Aijaz Shaheen
انا للہ و انا الیہ راجعون
اللہ تعالیٰ اُن کی ، تمام مرحومین کی اور ہم سب کی مغفرت فرمائے ، آمین
آج 15 فروری غالب کا یومِ وفات ہے اور آج ہی کلیم عاجز صاحب بھی دنیا سے چلے گئے ؎
      فروری   کی  پندرہ ، غالب  کی   تاریخِ وفات
      پھولؔ!اِسی تاریخ کوعاجزجہاں سے چل بسے
      تھا تخلص اُن کا عاجز   ،  نام تھا اُن کا  کلیم
      بیس سو اور پندرہ آیا  تو  وہ  رخصت ہوئے
آپ کی تحریر بہت پُر اثر ہے ۔ دعاؤں میں یاد رکھئے، والسلام
                                              تنویرپھولؔ http://duckduckgo.com/Tanwir_Phool
 TW-KalimAjiz.gif

Javed Akhtar

unread,
Feb 15, 2015, 7:32:35 AM2/15/15
to BAZMe...@googlegroups.com

عظیم شاعر کلیم عاجزکا انتقال
پٹنہ، 15 فروری (یو این آئی) کلاسیکی لب و لہجہ کے عالمی شہرت یافتہ شاعر کلیم عاجز کا آج صبح جھارکھنڈ کے شہر ہزاری باغ میں انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر 95 برس تھی۔ان کی آخری رسومات بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں ادا کی جائے گی۔
عہد حاضر میں میر تقی میر کی روایت کے امین ڈاکٹر کلیم احمد عاجز بہار کے نالندہ ضلع کے تلہارا گاوں میں 1920میں پیدا ہوئے۔انہوں نے پٹنہ کالج سے گولڈ میڈل کے ساتھ بی اے کیا اور پھر پٹنہ یونیورسٹی سے اردو میں ماسٹرس کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے بہار میں اردو ادب کا ارتقاء کے موضوع پر پٹنہ یونیورسٹی سے ہی ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔انہوں نے پٹنہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں ایک عرصے تک پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دیں۔
کلیم عاجز کلاسیکی لب و لہجہ کی شاعری کے لئے جانے جاتے ہیں۔ مشہور شاعر فراق گورکھ پوری بھی ان کے قدردانوں میں شامل تھے۔ فراق نے کلیم عاجز کے پہلے مجموعہ کلام جب فصل بہاراں آئی تھی کے رسم اجراء کے موقع پر اپنے آڈیو پیغام میں کہا تھا کہ کلیم عاجز جس سادگی سے اپنے خیالات کو اشعار کے قلب میں ڈھال دیتے ہیں اسے دیکھ کر انہیں ان کے کلام پر رشک آتا ہے۔فراق نے جو ان دنوں بستر علالت پر تھے ، اپنے پیغام میں مزید کہا تھا کہ وہ جب بھی کلیم عاجز کو کلام پڑھتے ہوئے دیکھتے ہیں تو وہ خود اپنا کلام بھول جاتے ہیں۔
َخیال رہے کہ کلیم عاجز کے پہلے مجموعہ کلام کا اجراء 1976 میں راشٹرپتی بھون میں ہوا تھا۔
کلیم عاجز کو ان کی ادبی خدمات کے لئے 1989میں حکومت ہند نے باوقار پدم شری ایوارڈ سے نوازا تھا۔ اس کے علاوہ بھی انہیں متعدد ایوارڈ اور اعزازات مل چکے ہیں۔ ان میں امتیاز میر ایوارڈلکھنؤ، مولانا مظرالحق ایوارڈحکومت بہار اور بہار اردو اکاڈمی ایوارڈ شامل ہیں۔ انہیں امریکہ کے اوکلاہوما ریاست کی اعزازی شہریت بھی دی گئی تھی۔
کلیم عاجز ایک عرصے تک دنیا بھر میں ہونے والے مشاعروں میں شرکت کرتے رہے تاہم گذشتہ دس پندرہ برس سے انہوں نے مشاعروں میں شرکت کرنا چھوڑ دیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود وہ دنیا بھر کا سفر کرتے رہتے تھے۔وہ بہار میں تبلیغی جماعت کے امیر بھی تھے۔
وہ جو شاعری کا سبب ہوا نام سے انہوں نے اپنی مختصر سوانح حیات لکھی ہے جس میں مختلف واقعات و حادثات کا ذکر ہے۔انہوں نے لکھا ہے کہ 1946کے فرقہ وارانہ فسادات میں انہیں اپنی والدہ ، چھوٹی بہن اور متعدد رشتہ داروں کے قتل کا غم جھیلنا پڑا۔وہ لکھتے ہیں کہ انہوں نے 26 اکتوبر 1946کو اپنی والدہ اور چھوٹی بہن سے آخری بار ملاقات کی تھی اور اس کے صرف دس دنوں بعد5 نومبر 1946 کو عیدالاضحی کے روز ان دونوں کا قتل کردیا گیا ۔
ڈاکٹر کلیم عاجز کی حیات و خدمات پرمتعدد کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں اور ایک درجن سے زائد ریسرچ اسکالر ان پر تحقیق کررہے ہیں۔
ان کی تخلیقات کے نام درج ذیل ہیں۔

وہ جو شاعری کا سبب ہوا
جب فصل بہاراں آئی تھی
پھر ایسا نظارہ نہیں ہوگا

جہاں خوشبو ہی خوشبو تھی
ابھی سن لو مجھ سے
کوچہ جانان جاناں
مجلس ادب
دیوانے دو
میری زبان میرا قلم
دفتر گم گشتہ

یہاں سے کعبہ، کعبہ سے مدینہ
ایک دیس ایک بدیسی

یو این آئی ج ا۔

On Sun, Feb 15, 2015 at 4:41 PM, Ansari Nafees <nafi...@gmail.com> wrote:
Boxbe This message is eligible for Automatic Cleanup! (nafi...@gmail.com) Add cleanup rule | More info

اِنّا للہ وَ اِنّا اِلیہ راجِعونْ۔ 
اللہ مرحوم کی کروٹ کروٹ مغفرت فرمائے۔۔۔۔۔۔۔(آمین)

موت اسکی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس
ورنہ دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کے لئے
2015-02-15 16:19 GMT+05:30 Wadood Sajid <wadoo...@gmail.com>:

Mukarram Niyaz

unread,
Feb 15, 2015, 7:33:37 AM2/15/15
to bazmeqalam
ڈاکٹر کلیم احمد عاجز - ایک پیکر اخلاق و وفا نہ رہا
از: ضیاءالحق خیرآبادی ، مدرس مدرسہ سراج العلوم چھپرہ، ضلع مؤ (یوپی)۔

http://www.taemeernews.com/2015/02/Demise-of-renown-poet-Dr-Kalim-Ajiz.html

--
Syed Mukarram Niyaz
www.taemeer.com|https://www.facebook.com/taemeer|http://twitter.com/taemeer|https://plus.google.com/+MukarramNiyaz|http://www.youtube.com/user/taemeer|http://www.pinterest.com/taemeer/
www.taemeernews.com : the very 1st daily Urdu News searchable web portal on the net
www.urdukidzcartoon.com : the very 1st Urdu cartoon/comics project on the net

Mukarram Niyaz

unread,
Feb 15, 2015, 8:18:54 AM2/15/15
to bazmeqalam
ضیاءالحق خیرآبادی نے سال پیدائش 1925 لکھا ہے جبکہ جاوید اختر صاحب یو۔این۔آئی کی خبر میں 1920 بتا رہے ہیں۔
درست سال پیدائش کون سا ہے؟

Rashid Ashraf

unread,
Feb 17, 2015, 10:59:04 PM2/17/15
to 5BAZMeQALAM, Mukarram Niyaz, Nadeem Siddiqui


بھائی مکرم

دل چسپ بات یہ ہے کہ کلیم صاحب مرحوم نے اپنی دونوں خودنشتوں "جہاں خوشبو ہی خوشبو تھی‘‘ اور ‘ابھی سن لو مجھ سے‘‘ میں تاریخ و سن پیدائش نہیں لکھی۔

یہ تفصیلات ان کی کتاب "وہ جو شاعری کا سبب ہوا" میں ملتی ہیں جس میں وہ لکھتے ہیں:

"میں اپنی والدہ کی لکھائی ہوئی ایک یادداشت کے مطابق 11 اکتوبر 1926 کو تیلہاڑہ (پٹنہ کے نواح میں واقع ایک بستی) پیدا ہوا۔"


راشد اشرف
کراچی سے

Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages