اُردو کے ممتاز سینئر شاعر و ادیب، براڈکاسٹر
اور فلمی نغمہ نگاراحمد وصیؔ رِحلت کر گئے
ممبئی :13جنوری(ندیم صدیقی) اُردوکے ممتاز سینئر شاعر و ادیب ،براڈکاسٹر اور فلمی نغمہ نگار (83سالہ)احمدوصی(رضوی) جن کا ایک شعر ( وہ کرے بات تو ہر لفظ سے خوشبو آئے ÷ایسی بولی وہی بولے جسے اُردو آئے)ایک دُنیا میں زباں زدِ عام ہے، احمد وصی ایک مدت سے ذیابیطس (شوگر) جیسے موذی مرض کے گِرِفت میں تھے، گزشتہ شب آکسیجن کی سطح کم ہونے کے سبب انتقال کر گئے۔
سید احمد وصی رضوی اسکولی سرٹیفیکٹ کے مطابق 8اکتوبر 1943 ع کو (یوپی کےسیتاپورکے محلّے قضیارے ) میں پیدا ہوئے تھے، اُن کے والد سید محمد اطہر رضوی زائر ؔسیتا پوری ایک اچھے شاعر کے طور پر اپنے دیار سے باہر بھی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے ، زائر سیتا پوری اپنے زمانے کے شعرا میں امتیازی حیثیت رکھتے تھے وہ نہ صرف مرثیہ گو تھے بلکہ وہ ایک قدیم طرزِ مجلس جسے نثّاری ‘ کہا جاتا ہے ، اس میں انھیں کمال حاصل تھا ۔
احمد وصی کے ایک چچا نادؔم سیتا پوری بھی مشہور تھے، اگر ہمارا حافظہ خطا نہیں کرتا تو نادم صاحب ماہنامہ’ شمع‘ دہلی میں تواتر سے لکھتے رہے ہیں۔
احمد وصی کی ابتدائی تعلیم سیتا پور کے گورنمنٹ کالج اورراجہ کالج میں ہوئی بعدہٗ انھوں نے جامعہ لکھنؤ(لکھنؤ یونیورسٹی) سے وکالت کی ڈگری لی اور ساتھ ہی ساتھ’لٹریسی ہاؤس‘ (لکھنؤ) سے ’رائٹرس کورس‘ بھی کیا، انھیں ڈراموں سے بھی شغف رہا، سیتا پور میں ان کا خاندان ایک علمی تشخص رکھتا تھا ان کے گھر پر ایک اچھی خاصی لائبریری ہوتی تھی ، سیتا پور کی گھر گھر کی مجلسوں نے ان کے ہاں مذہبی میلان کے ساتھ ساتھ ان کے ذہن و قلب میں شعر و ادب کے رجحان کو بڑی کمک پہنچائی اور وہ ابتدائے عمری ہی میں موزو ں طبع ہوگئے تھے۔ ادارۂ’ شمع‘(دہلی ) سے شائع ہونے والے بچوں کے جریدے ’ کھلونا‘ سےانہوں نے اپنا قلمی سفر شروع کیا، ان ہی دنوں انہوں نے بچوں کے لیے اپنا اوّلین ڈرامہ’ ڈارلنگ‘ لکھا ، جسے مقبولیت ملی اس طرح ان کی حوصلہ افزائی ہوتی رہی اور وہ لکھنؤ کے مشہور بچوں کے رسالے’ ٹافی‘ میں بھی لکھنے لکھانے کے ساتھ لکھنؤ کی ادبی مجلسوں اور محفلوں سے بھی اپنی ذہنی آبیاری کرتے رہے، اُردو کے مشہور اُستاد اور ناقد احتشام حسین کی صحبت سے بھی انہوں نے بہت کچھ حاصل کیا۔
والد محترم کی رِحلت کے بعد احمد وصی تلاش معاش کے لیے ممبئی میں اپنے چچا محمد حیدر رضوی کے پاس آگئے ۔
ممبئی میں اُس وقت کے مشہور اُردو ہفت روزہ’ بِلِٹز‘ کے ایڈیٹر اختر حسن نے انھیں کتابوں پر تبصرے لکھنے کا کام دِیا، اسی دوران آل انڈیا ریڈیو پر بھی اُن کی رسائی ہوگئی، آل انڈیا ریڈیو پر اُس دَور میں مختار احمد اور ممتاز بصیر جیسے شفیق حضرات بھی تھے جو نئے لکھنے والوں کے لیے ایک زینہ ہوا کرتے تھے، مختار احمد نے مشہور و مقبول ریڈیوپروگرام ’ ہَوا محل‘ کےلیے ڈرامہ ’ خالی مکان‘ لکھوایا، اس طرح احمد وصی نے ریڈیو کے پہلے پائیدان پر قدم رکھا، جیسا کہ اوپر بتایا گیا کہ اُس دَور میں آل انڈیا ریڈیو پر ممتاز بصیر اور روشن علی مولجی جیسے مخلصین موجود تھے، انہوں نے احمد وصی کے لیے ریڈیو کی ملازمت کا راستہ ہموار کیا، اس طرح احمد وصی آل انڈیا ریڈیو کے ’’وِوِدھ بھارتی‘‘ کے شعبے سے(1963 میں) وابستہ ہوئے ، جو پرانے لوگ ہیں انھیں ’’ وِوِدھ بھارتی‘‘ کے دو پروگرام (چھایا گیت اور رجنی گندھا) یاد ہونگے، جو فلمی گانوں پر مشتمل ہوتے تھے جسے احمد وصی ہی نشر کرتے تھے، جس میں اُنہوں نے اُردو کے کلاسک لہجے و لفظیات کو خوب صورتی سے نہیں ’بڑی خوبی‘ سے برتنے کا سلسلہ شروع کیا اس پروگرام میں احمد وصی کا لہجہ گونجتا تھا، ہر چند کہ اُس دَور کے ریڈیو افسران اور رفیقانِ کار نے اُن کی نہ صرف حوصلہ شکنی کی بلکہ مخالفت بھی کی مگر اُن کے دونوں پروگرام(چھایا گیت اور رجنی گندھا)کی عوامی مقبولیت نے اُن کے حوصلوں کو مہمیز دِی اور یہ دونوں پروگرام ایک طویل مدت تک وِوِدھ بھارتی سے نشر ہوتے رہے، یہ وہی زمانہ ہے جب وِوِدھ بھارتی پر مشہور براڈکاسٹر اور پلے بیک سنگر کبّن مرزا کی آواز اور ان کا پروگرام بھی لوگ بڑی توجہ اورچاؤ سے سنتے تھے۔
احمد وصیؔ نے وِوِدھ بھارتی سے اہم شخصیات کے انٹرویوز بھی نشر کیے جس میں وہ چھوٹے بڑے کا امتیاز نہیں رکھتے تھے ہماری ناقص یادداشت کے مطابق کئی اُبھرتی ہوئی صلاحیتوں کو بھی انہوں نےوِوِدھ بھارتی کے ذریعے متعارف کروایا، جن میں راقم الحروف بھی شامل ہے۔
ریڈیو کے پروگراموں کے سبب وہ ادبی حلقوں میں تو اپنا تشخص بنا ہی چکے تھے، اس تشخص نے فلمی دُنیا میں ان کے داخلے کو آسان کر دِیا ، اُس دور کے مشہور موسیقارسردار مَلِک( انّو مَلِک کے والد) نے فلم میں احمد وصی کی راہ کو روشن کیا ، مشہور ِ زمانہ موسیقار اوپی نیّر کے ساتھ انہوں نے(1974 کی) مشہور فلم ’ پران جائے پر وچن نہ جائے‘ سے اپنا فلمی سفرشروع کیا، یہ فلم ممتاز اسکرپٹ رائٹر علی رضا نے ڈائریکٹ کی تھی، جس میں کلیدی کردار سنیل دت اور ریکھا نے ادا کیا تھا۔ (1979 میں)شترو گھن سنہا کی مشہور فلم ’ ہیرا موتی‘ میں بھی احمد وصی نے اپنے شعری افکار کے جوہر پیش کیے۔
احمد وصی کا اوّلین شعری مجموعہ’ بہتا پانی‘ لکھنؤ کے علوی پبلشر نے(1983 میں) شائع کیا، جسے مقبولیت ملی اور ملک کی کئی اُردو اکادمیز نے انھیں انعام سے بھی نوازا، اُن کی غزلوں کا مجموعہ ( بادلوں کے شہر) ہندی رسم الخط میں’ جیون پربھات پبلیشرز کے زیرِ اہتمام اور اُن کی نظموں کا مراٹھی ترجمہ بھی کتاب کی صورت میں شائع ہوا، موصوف کا دوسرا شعری مجموعہ الیاس شوقی کے مشہورقلم پبلی کیشنز(ممبئی) سے’ جگنو میرے ساتھ ساتھ‘‘ کے عنوان سے(2004 میں) پریس سے باہر آیا، بچوں کےلیے بھی احمد وصی نے اپنے شعری مجموعے(’ تتلیاں‘ اور’ گُلدان‘) شائع کیے، احمد وصی کے مختلف کلام کئی گلوکاروں کی آواز میں کیسٹوں اور سی ڈیزکی شکل میں بھی منظر عام پر آکر عوام و خواص میں مقبول ہوئے۔ انہوں نے ٹی وی سیریلز کے لیے بھی لکھا،چلڈرن فلم سو سائٹی کی فلم
(The Tiger & Paintal Priest)
میں ہندی مکالمے بھی لکھے۔
انہوں نے اپنے والد ِمرحوم زائر سیتا پوری کی رثائی شاعری کی ایک کتاب’’ کربلا‘‘ مرتب کرکے اسے شائع کیا، احمد وصی کی شہرت ندی نالوں کے شورشرابے جیسی نہیں بلکہ سَمُندر کے گہرے سکوت جیسی تھی۔
احمد وصیؔ علم و ادب کے کام سے ایک باوقار زندگی گزار کے رُخصت ہوئے، اُن کی شاعری اور شخصیت پر مناظرعاشق ہر گانوی نے ایک کتاب بھی مرتب کی، احمد وصی کو اپنے وطن سیتا پور سے بڑا اُنس تھا، وہ ہفتے بھر پہلےہی سیتا پور سے ممبئی لوٹے تھے، جہاں انہوں نے گزشتہ شب آخری سانس لی، ان کی نعش ممبئی سے وطنِ مالوف لے جائی گئی جہاں13 جنوری کو سیتا پورکی مردم خیز سرزمین نے اپنے سپوت کےلیے سینہ کھول دیا اور اُن کے جسدِ خاکی کو سپردِ لحد کیا گیا، احمد وصی کے پسماندگان میں بیوہ اِرمؔ سلطان اور دو بیٹے حسین زائر پیکر اور عقیل زائر نیّر شامل ہیں۔
