ڈھپالی-شوکت صدیقی کی ایک یادگار تحریر

2 views
Skip to first unread message

Rashid Ashraf

unread,
Nov 26, 2012, 3:20:16 AM11/26/12
to bazme...@googlegroups.com


شوکت صدیقی

پیدائش: 20 مارچ 1923ء

انتقال: 18 دسمبر 2006ء

سن 84 میں شوکت صدیقی کے افسانوں کا مجموعہ "کیمیاگر" شائع ہوا اور اس کی پہلی کہانی "ڈھپالی" قرار پائی۔ استاد شیدی کی کہانی ۔۔۔۔۔۔ فن موسیقی سے تعلق رکھنے والے ایک استاد کی کہانی جو زمانے کی ناقدری کا شکار ہوئے تھے۔ قلم شوکت صدیقی کا ہو تو رحم کی امید نہیں رکھی جاسکتی۔ اس بے رحمانہ حقیقت پسند طرز تحریر کی بنا پر وہ افسانہ نگاری کے میدان میں ایک جداگانہ مقام رکھتے تھے۔ بائیں بازو سے تعلق رہا، کراچی کی آخری ترقی پسند شمع تو نہیں تھے کہ اس صف میں حال ہی میں اس جہان فانی سے کوچ کرنے والے انور احسن صدیقی بھی شامل ہیں۔ ان کے سوا اور بھی کئی نام ہیں۔
بقول عباس اطہر:
"
شوکت صاحب یقیناً اپنی نسل کے آخری فرد نہیں تھے بہرحال وہ اس نسل سے ضرور تعلق رکھتے ہیں جو اپنی طبعی عمر
 تقریباً پوری کر چکی ہے۔ صدیوں کے اس طویل سلسلے میں ہم سب کے سفر کا آغاز اور انجام ایک ہی ہے۔ ایک اندھیرے سے نکل کر آتے ہیں اور دوسرے اندھیرے میں گم ہو جاتے ہیں۔ ہمارے آنے سے پہلے کوئی خلاءہوتا ہے نہ جانے کے بعد بنتا ہے۔ یہی نظام حیات ہے۔
شوکت صاحب ایک عظیم ناول نگار تھے۔ وہ اپنے دور کے واحد ادیب تھے۔ جنہوں نے پورے خلوص سے ظلم کے خلاف لکھا۔ ان کی تحریریں پڑھ کر مجھے ہمیشہ یوں محسوس ہوتا رہا ہے۔ جیسے ان کے اندر ایک بھانبڑ (الاﺅ) جل رہا ہو۔ اظہار پر ان کی قدرت اتنی زبردست تھی کہ ان کی کتابوں سے سیک (تپش) آتا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ روس میں شوکت صدیقی صاحب جیسی 5 آوازیں تھیں۔ وہاں انقلاب آ گیا۔ ہمارے ہاں ان جیسی چار اور آوازیں ہوتیں تو یہاں بھی ظلم کے خلاف انقلاب آ جاتا۔ لیکن دکھ کی بات ہے کہ وہ ظلم کی بلیک اینڈ وائٹ دنیا میں پیدا ہوئے اور جب یہاں سے گئے تو یہ سفاک دنیا اتنی ملٹی کلر ہو چکی ہے کہ اسے تبدیل کرنے کے راستے بھی بھول بھلیاں بن چکے ہیں۔
 
اپنی زندگی کا آخری انٹرویو انہوں نے بی بی سے وابستہ انور سن رائے کو دیا۔ ملاحظہ کیجیے ایک سوال اور شوکت صدیقی کا طویل جواب:
 
سوال: اگر آپ سے یہ پوچھا جائے کہ شوکت صدیقی کون ہے؟
 
شوکت صدیقی: (قہقہہ) ارے بھئی، ایک ادیب اور ایک صحافی، ظاہر ہے کبھی جوان تھا اور اب دو ایک مہینے میں چوراسی سال کا ہو جاؤں گا۔ اس وقت بڑی ہنگامہ آراء زندگی گزرتی تھی۔ کافی ہاؤس میں بیٹھے ہیں، یہ کر رہے ہیں، وہ کر رہے ہیں۔ پھر اخبار کی زندگی، ٹائمز آف کراچی وغیرہ کی مصروفیت شروع ہو گئی تو اس سے علیحدہ ہو گئے۔ اس زمانے میں شطرنج کھیلتے تھے۔میں، انور (محمد انور اور کمانڈر انور کے نام سے معروف) افسانہ نگار، غلام عباس، اختر حسین رائے پوری اور ن م راشد۔ اس زمانے میں یہاں ہوتے تھے۔ رات بھر کھیلتے تھے، یعنی شام کو بیٹھے ہیں اور صبح کو اٹھ رہے ہیں۔ غلام عباس کو سنبھال کر لے جانا پڑتا تھا۔ لیکن انور تو دیوانے تھے، (شطرنج کے بعد) انہیں دنیا مافیہ کی کوئی خبر نہ رہتی تھی۔ راشد کو بھی بہت شوق تھا۔ یہاں سامنے وہسکی ملتی تھی، راشد اس زمانے میں انفارمیشن ڈائریکٹر تھے۔ ایک کتاب چھپی ہے، مرحوم کی لکھی تھی ’آئینہ خانے میں‘، صہبا لکھنوی نے ایڈٹ کی ہے۔ اس میں دس بارہ ادیبوں نے، کرشن چندر ہے، بیدی ہے، قراۃالعین حیدر ہے، میں ہوں، امرتا پریتم ہے، یہ لوگوں نے، اس میں لکھا ہے کہ آئینے ہی آئینے ہیں اور اس آئینے میں ہم کیسے نظر آتے ہیں۔ اس میں بہت دلچسپ تجزیے کیے گئے ہیں، میں اس زمانے میں، جس زمانے میں یہ لکھی گئی، ٹائمز آف کراچی میں کام کرتا تھا۔ بڑا ٹائمز آف کراچی میں کام کرتا تھا۔ بڑا قلندری وقت تھا۔ تنخواہ وقت پر نہیں ملتی تھی، کم تنخواہ تھی، بچے وچے تھے، تو پریشانی کے دن تھے...قلندری وقت تھا۔ تنخواہ وقت پر نہیں ملتی تھی، کم تنخواہ تھی، بچے وچے تھے، تو پریشانی کے دن تھے۔ اس میں ایک بات پر زور ہے کہ میرے وجود میں جو ادیب ہے اس کا کیا مسئلہ ہے۔ اس میں یہ ڈسکس کیا گیا ہے۔ مختلف کریکٹر آتے ہیں، ملتے ہیں، بات کرتے ہیں۔ اس میں ڈسکرائب کیا گیا ہے کہ میں کیا ہوں۔ اس میں کئی پارٹ ہیں بچوں کا باپ، بیوی کا شوہر، اسی میں ہے اور کسی میں نہیں ہے، ایک محاسبہ۔ اس میں ادیب بے چارہ پس رہا ہے۔ وہ اس قسم کی فینٹسی تھی کہ یہ سب مل کر اسے مارتے ہیں دباتے ہیں کہ یہ بدبخت ہماری ساری پریشانیوں کا باعث ہے۔ یہ ادیب ہے جو کچھ نہیں کرنے دیتا۔
 
جب تک لکھنؤ میں رہا تو سارے اخراجات والد اور بھائی پورے کرتے تھے۔ پاکستان آنے کے بعد روزگار کی تلاش ہوئی، سوچا تو یہ تھا کہ لکھیں گے اور جرنلسٹ بننے کا بھی خیال آیا اور جرنلزم چھوڑ دینے کا خیال بھی بہت پہلے دل میں آیا اس لیے کہ جہاں ہم کام کرتے تھے، ٹائمز آف کراچی میں تو وہاں ایک صاحب تھے پروف ریڈر ارماں خیر آبادی، اس زمانے میں بہت مشہور شاعر تھے تو میں نے ان سے ایک بار پوچھا کہ یہ آپ کیا کرتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا اور کیا کروں؟ اس کے علاوہ شعر کہتا ہوں، اس کو پوچھتا نہیں، کوئی پیسے نہیں دیتا۔ اس زمانے میں مشاعرے بھی کم ہوتے تھے۔ سال میں کوئی ایک آدھ ہو گیا تو اس سے کہاں گزارا ہوتا ہے۔ تو پیٹ پالنے کے لیے کرنا پڑتا ہے۔ اور یہ ایک واقع ہے کہ ادب کچھ دیتا
نہیں۔
 
ہمارے پاس اختر انصاری آتے تھے۔ حیدرآباد سے پرچہ نکالتے تھے ’نئی قدریں‘۔ میں اس زمانے میں بھی میں بغیر معاوضے
کے نہیں لکھتا تھا۔ تو وہ (اختر انصاری) آتا تھا اور پچاس روپے کا نوٹ دور کھڑا ہو کر لہراتا تھا اور کہتا تھا کہ کہانی لکھ دو اور لے لو۔ میں اس زمانے میں لکھنا چھوڑ چکا تھا اور اس کے پرچے میں میری بہت سی کہانیاں چھپیں ’راتوں کا شہر‘ ، ’شریف آدمی‘ اور ’ کیمیا گر‘ وغیرہ۔""
 
خیر اندیش
راشد اشرف
کراچی سے


 


dhapali-shaukat siddiqui.pdf
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages