بخشالوی صاحب کی تازہ خواہش کا میں احترام کرتا ہوں۔
جہاں تک کرنے کی بات ہے تو میں بتا دوں کہ گزشتہ پچیس برسوں میں کم و بیش پچیس ہزار افراد کو راست میں اردو، کمپیوٹر، سکھایا اور کیریر سے متعلق رہنمائی کی۔
اُن پچیس ہزار میں سیکڑوں ایسے بھی ہیں جنہوں نے دس سے زائد لوگوں کو سکھایا اور کام پہ لگایا۔ ہم تو لوگوں کو ایسا ہی بنانا چاہتے ہیں جواپنے ساتھ اوروں کو بھی سکھا سکیں، کام کے لائق بنا سکیں۔
الحمد للہ ، اللہ تعالیٰ نے ہمیں کامیابی عطا فرمائی۔
بہت افسوسناک پہلو بھی سامنے ہیں کہ ہماری قوم کے لوگوں کی سوچ اکثر کی وہی ہے جو آج سے پچاس سال پہلے تھی۔ مثال کے طور پر ایک تجربہ میں پیش کر رہا ہوں۔
جب کمپیوٹر میں اردو کا سافٹ آیا اور لوگوں میں چلن عام ہونے لگا خاص طور سے ’’ان پیج اردو‘‘ کے آنےکے بعد تو مجھے محسوس ہوا کہ دینی مدارس کے بچوں کو بھی اس میں شامل کیا جانا بہت ضروری ہے۔ یا اُن طلبا کو اس میں شامل کیا جانا ضروری ہے جن کے گارجین کی معاشی حالت تسلی بخش نہیں ہے۔ میں نے ڈھونڈنے کی کوشش کی تو
اندازہ کے مطابق ہندوستان میں ڈھائی لاکھ مدرسے ہیں۔ ابتدا تا فضیلت، مفتی، تخصص، وغیرہ تک
۱۔سوا لاکھ کے قریب پرائمری درجات
۲۔تقریباً پچھتّر ہزاردسویں کے سطح تک
۳۔اور تقریباً پچاس ہزار دسویں کے بعد سے اعلیٰ تعلیم تک۔(طلبا کی تعداد نہیں ہے مدارس کی تعدادہے)
تیسرے گریڈ یعنی اعلیٰ سطح کے سبھی لوگوں کو کمپیوٹر کے علم سے بہرہ ور ہونا بہت ضروری سمجھا۔
کمپیوٹر کی تعلیم کو فروغ دینے کے لئے میں نے اپنے خرچ سے ایک ماہنامہ رسالہ’’نئی شناخت ‘‘ کے نام سے جاری کیا۔ جس کا پورا کام ایک بااجرت معاون ، بیگم اور بچوں کے تعاون سے سوا سات سال جاری رکھا۔
میرا اندازہ غلط ثابت ہوا۔پچاس ہزار لوگوں میں سے دس ہزار بھی ایسے نہیں ہو سکے کہ دس روپے کا ماہنامہ خرید سکے۔ یا وہ مدرسے جن تعداد پچاس ہزار ہے، اپنی لائبریری کے لئے جاری کرا سکیں۔
اگر یہ صرف پچاس ہزار مدرسے ہی اس رسالہ کے خریدار بن جاتے تو ’’نئی شناخت‘‘ کے توسط سے پانچ سے پچیس افراد کو روزی کا ذریعہ فراہم ہو جاتا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔
ہم نے اپنی محنت کی کمائی میں سے سوا سات لاکھ روپے خرچ کر دیئے، جس میں ایک معاون کی معمولی اجرت اور پریس و پوسٹ آفس وغیرہ کا خرچ شامل ہے۔
میری ، بیگم اور بچوں کے لئے ہم نے کچھ نہیں لیا۔ یعنی اعزازی خدمت کی۔
سوا سات لاکھ
روپے
خرچ کرنے کے بدلے اپنے والدین سے اور جن کے یہاں نوکری کرتے ان سے ڈانٹ سننی پڑی۔ ’’یہ کام کرنے کی ضرورت کیا تھی؟ اور بھی کئی دوستوں نے دبے الفاظ میں کئی قسم کی باتیں کی۔
خود پریس والے شفیق بھائی نے بھی کہا۔ کیوں کہ انہوں نے ہزاروں ایڈیٹروں کو کنگال ہوتے دیکھا ہے۔ جو ان کے یہاں چھپوانے آتے تھے۔
مدرسے کے مقابلے میں سرکاری اسکول اور یونیورسٹیوں نے حوصلہ دکھایا۔ پانچ سو رسالے ان اداروں میں کھپ جاتے ہیں اور سو کے قریب مدارس میں۔ جس میں مہاراشٹر پہلے نمبر پر اور بہار دوسرے نمبر پر رہا۔ یعنی خریدار بننے میں۔
۔۔۔۔۔
تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ اخبارات میں نہ املا درست ہے اور نہ جملے۔ چند پبلشرہی معیاری مواد فراہم کرتے ہیں۔
اعلیٰ تعلیم دینے والے مدارس ابھی کمپیوٹر کی تعلیم سے نا آشنا ہیں، زیادہ سے زیادہ سو۔ ’’ہزار کی بات ہم اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ ان کے یہاں کمپیوٹر دکھاوے کے لئے ہے۔‘‘
’’ہزار کی بات ہم اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ ان کے یہاں کمپیوٹر دکھاوے کے لئے ہے۔‘‘ اس جملہ سے جن کو بھی تکلیف پہنچے براہِ راست مجھ سے رابطہ کریں۔ میں اس کا ثبوت دوں گا۔
اب آپ غور کریں آج زندگی اکثر شعبے میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ نے اپنا قدم جما لیا ہے۔ اور ہماری قوم کا المیہ یہ ہے کہ ایک ای میل تک نہیں لکھ سکتے۔ (ہندوستان میں آبادی کے لحاظ سے کمپیوٹر استعمال کرنے اردو والے ایک فیصد سے بھی کم ہیں، اس لئے میں نہیں کے کالم میں لکھا ہے) اپنے زوال اور ترقی کا خود تجزیہ کیجیے۔
بینک میں جائیے، پیسے لینا ہے تو اے ٹی ایم، پیسے جمع کرانا ہے تو بھی مشین سے، پاس بک پرنٹ کرنا ہے تو مشین سے
(بینک تو اب قرض کے لین دین سے اپنی آمدنی میں اضافہ کر رہا ہے)
ریلوے اسٹیشن جائیے، ٹکٹ وینڈنگ مشین موجود ہے،
موبائل اور انٹرنٹ سے ٹکٹ ہاتھوں ہاتھ بن جاتا ہے۔
اگر یہ بھی نہیں سیکھا تو چند دنوں میں کاونٹر بھی کم ہونے والا ہے۔ پھر ایسے لوگ جنہوں نے موجودہ تکنیک کو نہیں سیکھا تو سو سال پہلے جیسے خط دوسروں سے لکھوایا کرتے تھے، موجودہ دور میں بھی ایسے ہی محتاج رہیں گے۔
۔۔۔ چند دنوں پہلے ایک بہت ہی مؤقر ادارہ میں جانے کا موقع ملا۔ اتفاق سے ایک مولانا وہ ملے جنہوں نے وہیں سے فضیلت مکمل کی تھی جہاں سے میں نے کی۔ میں نے 1989 میں کی انہوں نے 1991 میں۔ اس کے بعد سے وہ اس ادارہ میں بحیثیت استاذ ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ شکوہ شکایتیں وہی جو اکثر مولوی حضرات کرتے ہیں۔ یا جو ہماری طالب علمی کے زمانے میں اکثر اساتذہ کو رہتی تھی۔ یا آج بھی جن لوگوں نے اپنے آپ کو موجودہ دور سے ہم آہنگ نہیں کیا۔
یا چھوٹے چھوٹے فروعی مسئلے میں الجھے ہوئے اپنی انرجی کو برباد کر رہے ہیں۔ جیسے نماز میں ٹوپی، رفع یدین، نیت وغیرہ۔ ابھی تک بہت ہی کم لوگوں میں ذہنی کشادگی آئی ہے۔ جو تھوڑے قابل ہیں وہ طلاق، حلالہ جیسے اشو پر اپنی زور آزمائی کر رہے، خوب تقریریں کر رہے ہیں، ہزاروں صفحات کالے کر کے قوم میں مسلک مسلک کھیل رہے ہیں۔ یہ لوگ اللہ اور رسول تک پہنچنے کے لئے مسلک کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ جب کہ کلمہ طیبہ کو پڑھنے اور اس عمل کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ اس کے بغیر ہمارا کوئی عمل قابل قبول نہیں ہے۔
فیروزہاشمی