اردو زبا ن کا زوال: ذمہ دارکون؟

90 views
Skip to first unread message

Gul Bakhshalvi

unread,
Jul 20, 2018, 1:51:41 AM7/20/18
to Aijaz .Shaheen, Deepak Budki
اردو زبا ن کا زوال: ذمہ دارکون؟

یہ ہماری پیدائش سے بہت پہلے کی بات ہے جب مدرسہ کو اسکول بنا دیا گیا تھا، لیکن انگریزی زبان کی اصطلاحات دورانِ تعلیم استعمال نہیں ہوتی تھیں۔
صرف چند انگریزی کے الفاظ مستعمل تھے، مثلا" 
ہیڈ ماسٹر، فِیس، فیل، پاس اور جمعرات کو لاسٹ ورکنگ ڈے (کیونکہ ا ±ن دِنوں اتوار کی بجائے جمعہ کے دن سرکاری چھٹی ہوتی تھی) کہا جاتا تھا اس دن آدھی چھٹی یعنی ہاف ڈے ہوتا تھا۔ انگلش میڈیم اسکول میں پیپر اور سرکاری سکول میں پرچہ کہا جاتا تھاپھر استاد کو سر کہا جانے لگا- سارے اساتذہ ٹیچرز بن گئے۔ 
پھر عام بول چال میں غیر محسوس طریقے سے اردو کا جو زوال شروع ہوا وہ اب تک جاری ہے۔
اب تو یاد بھی نہیں کہ کب جماعت، کلاس میں تبدیل ہوگئی- اور جو ہم جماعت تھے وہ کب کلاس فیلوز بن گئے۔ ہمیں بخوبی یاد ہے کہ اول، دوم، سوم، چہارم، پنجم، ششم، ہفتم، ہشتم، نہم، دہم، جماعتیں ہوتی تھیں، اور کمروں کے باہر لگی تختیوں پر اسی طرح لکھا ہوتا تھا۔ پھر ان کمروں نے کلاس روم کا لباس اوڑھ لیا-اور فرسٹ سے ٹینتھ کلاس کی نیم پلیٹس لگ گئیں۔ تفریح کی جگہ ریسیس اور بریک کے الفاظ استعمال ہونے لگے۔
گرمیوں کی چھٹیوں اور سردیوں کی چھٹیوں کی جگہ سمر ویکیشن اور وِنٹر ویکیشن آگئیں۔ چھٹیوں کا کام چھٹیوں کا کام نہ رہا بلکہ ہولیڈے ہوم ورک ہو گیا۔ 
پہلے پرچے شروع ہونے کی تاریخ آتی تھی اب پیپرز کی ڈیٹ شیٹ آنے لگی۔ امتحانات کی جگہ ایگزامز ہونے لگے-ششماہی اور سالانہ امتحانات کی جگہ مڈٹرم اور فائینل ایگزامز کی اصطلاحات آگئیں- اب طلباء امتحان دینے کیلیے امتحانی مرکز نہیں جاتے بلکہ سٹوڈنٹس ایگزام کیلیے ایگزامینیشن سینٹر جاتے ہیں۔
قلم، دوات، سیاہی، تختی، اورسلیٹ جیسی اشیاءگویا میوزیم میں رکھ دی گئیں ان کی جگہ لَیڈ پنسل اور بال پین آگئے- کاپیوں پر نوٹ بکس کا قبضہ ہوگیا-
نصاب کو کورس کہا جانے لگا اور اس کورس کی ساری کتابیں بیگ میں رکھ دی گئیں۔ریاضی کو میتھس کہا جانے لگا۔ اسلامیات اسلامک سٹڈی بن گئی-انگریزی کی کتاب انگلش بک بن گئی-اسی طرح طبیعات فزکس، معاشیات اکنامکس،سماجی علوم سوشل سائنس میں تبدیل ہوگئیں- پہلے طلبہ پڑھائی کرتے تھے اب اسٹوڈنٹس سٹڈی کرنے لگے۔پہاڑے یاد کرنے والوں کی اولادیں ٹیبل یاد کرنے لگیں۔اساتذہ کیلیے میز اور کرسیاں لگانے والے، ٹیچرز کے لیے ٹیبل اور چئیرز لگانے لگے۔داخلوں کی بجائے ایڈمشنز ہونے لگے۔ اول، دوم، سوم اور آنے والے طلبہ فرسٹ، سیکنڈ، اور تھرڈ آنے والے سٹوڈنٹ بن گئے۔پہلے انعام ملا کرتے تھے پھر پرائز ملنے لگے۔ بچے تالیاں پیٹنے کی جگہ چیئرز کرنے لگے۔یہ سب کچھ سرکاری سکولوں میں ہوا ہے۔ 
باقی رہے پرائیویٹ سکول، ان کا تو پوچھیے ہی مت۔ ان کاروباری مراکز کیلیے کچھ عرصہ پہلے ایک شعر کہا گیا تھا،مکتب نہیں دکان ہے یہ خام مال کیمقصد یہاں پہ علم نہیں روزگار ہے اور تعلیمی اداروں کا رونا ہی کیوں رویا جائے،ہمارے گھروں میں بھی اردو کو یتیم اولاد کی طرح ایک کونے میں ڈال دیا گیا ہے۔زنان خانہ اور مردانہ تو کب کے ختم ہو گئے۔ خواب گاہ کی البتہ موجودگی لازمی ہے تو اسے ہم نے بیڈ روم کا نام دے دیا۔ باورچی خانہ کچن بن گیا اور اس میں پڑے برتن کراکری۔ غسل خانہ پہلے باتھ روم ہوا پھر ترقی کر کے واش روم بن گیا۔ مہمان خانہ یا بیٹھک کو اب ڈرائنگ روم کہتے ہوئے فخر محسوس کیا جاتا ہے۔
پہلی منزل کو گراونڈ فلور کا نام دے دیا گیا اور دوسری منزل کو فرسٹ فلور۔ دروازہ ڈور کہلایا جانے لگا اور پہلے گھنٹی بجتی تھی اب ڈور بیل بجنے لگی کمرے روم بن گئے۔کپڑے الماری کی بجائے کیبنٹ میں رکھے جانے لگے۔ ابو جی" یا "ابا" جیسا پیارا اور ادب سے بھرپور تخاطب دقیانوسی لگنے لگا،اور ہر طرف پاپا، پاپا کی گردان لگ گئی حالانکہ پہلے تو پاپے صرف کھانے کے لئے ہوا کرتے تھے اور اب بھی کھائے ہی جاتے ہیں- اسی طرح شہد کی طرح میٹھا لفظ "امی" یا امی جان "ممی" میں تبدیل ہو گیا۔ سب سے زیادہ نقصان رشتوں کی پہچان کا ہوا۔ چچا چچی، تایا تائی ماموں ممانی، پھوپھا پھوپو، خالو خالہ سب کے سب ایک غیر ادبی اور بے احترام سے لفظ "انکل اور آنٹی" میں تبدیل ہوگئے۔ بچوں کے لیے ریڑھی والے سے لے کر سگے رشتہ دار تک سب انکل بن گئے یعنی محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے۔ ساری عورتیں آنٹیاں۔ چچا زاد، ماموں زاد، خالہ زاد بہنیں و بھائی سب کے سب کزنس میں تبدیل ہوگئے نہ رشتے کی پہچان رہی اور نہ ہی جنس کی۔ بس ایک نام تبدیلی کے زد سے بچ گیا، کام کرنے والی پہلے بھی ماسی تھی اب بھی ماسی ہے۔گھر اور سکول میں اتنی زیادہ تبدیلیوں کے بعد بازار انگریزی کی زد سے کیسے محفوظ رہتا۔ دکانیں شاپس میں تبدیل ہو گئیں اور ان پر گاہکوں کی بجائے کسٹمرز آنے لگے آخر کیوں نہ ہوتا کہ دکان دار بھی تو سیلز مین بن گئے جس کی وجہ سے لوگوں نے خریداری چھوڑ دی اور شاپنگ کرنے لگے۔ سڑکیں روڈ بن گئیں۔ کپڑے کا بازار کلاتھ مارکیٹ بن گئی یعنی 'اس نے کس ڈھب سے مذکر کو مونث بنادیا'۔ 
کریانے کی دکان نے جنرل اسٹور کا روپ دھار لیا اور نائی نے باربر بن کر حمام بند کردیا ( جہاں شان سے حمام گرم ہے کی تختی آویزاں رہتی تھی) اور ہیئر کٹنگ سیلون کھول لیا۔
ایسے ماحول میں دفاتر بھلا کہاں بچتے۔ پہلے ہمارا دفتر ہوتا تھا جہاں مہینے کے مہینے تنخواہ ملا کرتی تھی اب آفس بن گیا اور منتھ ٹو منتھ سیلری ملنے لگی۔ جو صاحب تھے وہ باس بن گئے۔ بابو کلرک اور چپڑاسی پِیَن بن گئے۔ پہلے دفتر کے نظام الاوقات لکھے ہوتے تھے اب آفس ٹائمنگ کا بورڈ لگ گیا-سود جیسے قبیح فعل کو انٹرسٹ کہا جانے لگا۔ طوائفیں آرٹسٹ بن گئیں اور محبت کو 'لَوّ' کا نام دے کر محبت کی ساری چاشنی اور تقدس ہی چھین لیا گیا۔ محبوب بوائے فرینڈ اور محبوبہ گرل فرینڈ بن گئی۔ صحافی رپورٹر بن گئے اور خبروں کی جگہ ہم نیوز سننے لگے۔ کس کس کا اور کہاں کہاں کا رونا رویا جائے۔ اردو زبان کے زوال کی صرف حکومت ہی ذمہ دار نہیں، عام آدمی تک نے اس میں حدالمقدور حصہ لیا ہے-اور دکھ تو اس بات کا ہے کہ ہمیں اس بات کا احساس تک نہیں کہ ہم نے اپنی خوبصورت زبان اردو کا حلیہ مغرب سے مرعوب ہو کر کیسے بگاڑ لیا۔ وہ الفاظ جو اردو زبان میں پہلے سے موجود ہیں اور مستعمل بھی ہیں ان کو چھوڑ کر انگریزی زبان کے الفاظ کو استعمال کرنے میں فخر محسوس کرنے لگے ہیں
وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا 
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
ہم کہاں سے کہاں آگئے اورکہاں جارہے ہیں؟دوسروں کا کیا رونا روئیں،ہم خود ہی اس کے ذمہ دار ہیں،دوسرا اور کون ہوسکتا ہے؟


--
Warm regards,
 
Gul Bakhshalvi
Chief Editor Kharian Gazette
Cell: +92 302 589 2786

Zubair H Shaikh

unread,
Jul 20, 2018, 2:23:06 AM7/20/18
to BAZMe...@googlegroups.com
گل بھائی جزاک اللہ، اردو زبان و ادب کے متعلق ایک  سچی اور بے حد اچھی تحریر ہے- 
دعاگو 
زبیر  

Sent from my iPhone

Gul Bakhshalvi

unread,
Jul 20, 2018, 7:34:41 AM7/20/18
to Aijaz .Shaheen
زبیر بھائی اردو سے محبت میں دوستوں کو پرھتا ہوں جوتحریر اچھی لگتی ہے شیئر کر دیا کرتا ھوں ۔۔ھمت افزائی کا شکریہ

Imran

unread,
Jul 20, 2018, 7:46:30 AM7/20/18
to BAZMe...@googlegroups.com
گل بخشالوی صاحب، السلام علیکم
آپکی یہ تحریر بہت پسند آئی، جی چاہتا ہے کہ اس کا (معذرت کے ساتھ) آڈیو بنا کر احباب سے شیئر کروں۔
 ہمارے ماحول میں ہر وہ چیز جو مغربی تمدن سے مشابہت اختیار کرلے اسے ترقی سمجھا جاتا ہے لہٰٰذا اسکو اردو زبان کا ارتقا کہنا بجا لگتا ہے۔ 

Regards,
-Imran

Sent from my iPhone
--

Khadim Ali Hashmi

unread,
Jul 20, 2018, 2:01:41 PM7/20/18
to 'Imran' via بزمِ قلم
عزیزم گل بخشالوی سلمہ
آپ نے جس دردمندی سے اردو کا مقدمہ پیش کیا ہے، وہ قابل داد ہے۔ ہمارے لوگ احساس کمتری کا شکار ہیں۔ انگریزی کو چھوڑیے، کچھ دیر کے لیے مقامی زبانوں کو لیجیے۔ پشتو، پنجابی، سرائیکی، براہوی، سندھی اور دوسری قومی زبانوں کے ساتھ ہمارا سلوک کیسا ہے۔ دور دراز کے دیہاتوں میں بھی غیر تعلیم یافتہ افراد دوسری زبان بولنے والوں کے سامنے ٹوٹی پھوٹی اردو میں بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس   کے مقابلے میں جب پہلے پہل انگریز برصغیر میں آئے تو ان کے مرتب کردہ گزیٹیئر
میں آپ کو مقامی حالات کے بارے میں ایسی باتیں ملتی ہیں جو اُس علاقے کی اکثریت نہیں جانتی۔ ان لوگوں نے  مقامی افراد کی معاشرت،زبان اور معیشت کا اس قدر گہرائی میں مطالعہ کیا کہ ان پر حکمرانی کرنے کا اسلوب مرتب کرنے میں آسانی ہو گئی۔ اس کے برعکس ہم نے اپنے ہی ملک میں مختلف علاقوں میں رہنے والوں سے ربط قائم کرنے کی کوئی کوشش نہ کی۔ البتہ انہیں مرعوب کرنے کے لیے غلط سلط انگریزی بول کر برتری قائم کرنے کی کوشش کی۔ اس ضمن میں ہمارے عاقبت نااندیش اور جاہل حکمرانوں نے یہ سمجھ لیا کہ ہر وہ شخص جو انگریزی زبان ٹیڑھا منہ کر کے بول لے وہ دانش ور اورتعلیم یافتہ ہے۔
انہیں یہ نہیں معلوم کہ برطانیہ میں انگلینڈ، سکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ میں لاکھوں ایسے افراد ہیں جو جاہل مطلق ہیں، گرچہ ان کے وہاں ثانوی سطح تک تعلیم لازمی ہے، مگر یہ بچے جب جبری طور پر سکول میں رہتے ہیں تو تعلیم حاصل کرنے کی بجائے تخریبی کارروائیوں کی تربیت حاصل کرتے ہیں اور تعلیم سے کورے سکول سے نکلتے ہیں۔ ہمارے یہاں انگریزی زبان کا جاننا ہی سب کچھ سمجھ لیا گیا ہے، اس لیے جماعت اول سے انگریزی لازمی قرار دے دی گئی ہے۔ تمام تحقیقات یہ بتاتی ہیں کہ بچے کو اس کی مادری زبان یا ماحول میں مستعمل زبان میں ابتدائی تعلیم دی جائے۔ مگر یہاں تو تعلیم دینا مقصد ہی نہیں ہے۔
اس سلسلے میں چار دہائیاں قبل کا ایک جملہ مجھے اکثر پریشان کرتا ہے۔ میں برطانیہ کی ایک یونیورسٹی میں زیرتعلیم تھا وہان سے ایک مکتوب پاکستان میں اپنے محکمے کو ارسال کیا۔ یہ مکتوب یونیورسٹی کی ایک سیکرٹری سے ٹائپ کرایا۔ جب وہ لڑکی ٹائپ شدہ خط مجھے دینے آئی تو اُس نے بے ساختہ کہا:
You communicate with your people in our language; Don't you have any language of your own?
خادم علی ہاشمی 

Khadim Ali Hashmi

unread,
Jul 20, 2018, 2:08:32 PM7/20/18
to bazme...@googlegroups.com

Yaqub Assy

unread,
Jul 20, 2018, 4:17:04 PM7/20/18
to bazme...@googlegroups.com, 'Khadim Ali Hashmi' via بزمِ قلم‎
کسی کے خلاف چارج شیٹ جاری کرنے سے بہتر کیا یہ نہیں ہو گا؟ کہ ۔۔۔۔۔۔۔ 
میں اور آپ اپنی بہترین صلاحیتوں کو کام میں لاتے ہوئے، اصلاحِ احوال کی کوشش کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!! ۔
توجہ فرمائیے گا۔

Firoz Hashmi

unread,
Jul 20, 2018, 11:13:33 PM7/20/18
to Bazm E Qalam Groups
انگریزی زبان جاہلوں پر دھونس جمانے کا ایک اچھا ذریعہ ہے خاص طور سے ہندو پاک میں۔
خود ہمارے دہلی میں اردو کے کسی موضوع پر اگر کسی وضاحت کی ضرورت پڑتی ہے، جب وہ میرے سوال کا جواب نہیں دے پاتے تو وہ انگریزی میں بول کر مجھے مرعوب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
جب لینگویج کے پروفیسر ز میں بھی خود اعتمادی کی کمی ہو اور رعونت زیادہ ہو تو زبان اور ادب اور کلچر کو کون جاری رکھے گا؟
مثال دیکھ لیجیے اِسی بزم میں میرے کئی سوالات ابھی بھی تشنہ ہیں۔
ہم وضاحت کے لئے آمد و رفت میں تین گھنٹے اور کبھی کبھی پورا دن خرچ کرنے کو تیار ہیں۔  اور کیا ہے۔ لیکن پروفیسرز جو دس منٹ دینے کا وعدہ کرتے ہیں، پہنچنے پر کہتے کہ فرصت میں ملیے گا۔
کیا مطلب ہے؟ ایسے لوگوں کو کسی خانے میں ڈالا جائے؟ سب سے زیادہ وقت کی قدر کرنے والے وہی ہیں کیا؟ جو وعدہ کی قدر نہیں کر سکتے ہیں وہ وقت کی کیا قدر کریں گے؟
ان کی کتابیں پڑھوں؟ ان کی تقریریں سنوں؟ یا ان پر لعنت بھیجوں؟
ایسے لوگ جب ہمارے رہنما اور رہبر ہوں گے تو کس سے شکایت کریں؟ کون حالات کو سنبھالے گا؟
بنے ہیں اہلِ ہوس مدعی بھی منصف بھی
کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں  ؟؟؟
فیروزہاشمی
Mohammad Firoz Alam 
Health & Nutrition Consultant
......................................................
Calligraphist, Journalist, Author, Writer
Editor Urdu I.T. Monthly "Nai Shanakht" New Delhi
.............................................................
Resi.  Shanti Vihar, Mangal Bazar, 
          Chipiyana Khurd Urf Tigri, 
          Gautam Budh Nagar (UP) 201307 INDIA

Mobile: 91-98117 42537
Google Talk : firoz...@gmail.com
WebSite       : https://foreverliving.com/
                    : www.inpage.com



Gul Bakhshalvi

unread,
Jul 20, 2018, 11:37:57 PM7/20/18
to Aijaz .Shaheen
You communicate with your people in our language; Don't you have any language of your own?  
جناب خادم علی صاحب ۔کاش ہم اس حقیقت کو تسلیم کر لیں ۔۔۔۔ ہم صرف بولتے لیکن خود بھی عمل نہیں کرتے ۔  آپ نے جس محبت سے محسوس کیا ۔اس کے لئے شکریہ ۔۔۔۔۔۔ بخشالوی

Gul Bakhshalvi

unread,
Jul 20, 2018, 11:40:40 PM7/20/18
to Aijaz .Shaheen
ہم تو اپنی کوشش کر رہے ہیں آپ کو کس نے روکا ہے ۔اردو کی اس سے بڑی خدمت اور کیا ہو سکتی ہے  ،،،، بخشالوی

Gul Bakhshalvi

unread,
Jul 20, 2018, 11:44:06 PM7/20/18
to Aijaz .Shaheen
فیروز ہاشمی صاحب آپ کی سوچ سے مکمل اتفاق کرتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   بخشالوی

Imtiaz Ali Faheem

unread,
Jul 21, 2018, 12:49:53 AM7/21/18
to BAZMe...@googlegroups.com
اُردو کی خوبصورتی

بیگم صاحِبہ ۔۔ کیا کر رہے ہو ؟ 

نواب صاحب ۔۔ عِزّت کی ڈور کو ، اُلجھنوں کی جکڑ اور کشمکش سے آذاد کر رہا ہوں۔

بیگم صاحِبہ ۔ مطلب ؟؟

نواب صاحب۔۔۔ پائجامہ کے ناڑے میں گانٹھ پڑ گئی ہے ، کھول رہا ہوں 

Sent from my iPhone
Imtiaz Ali Faheem

Yaqub Assy

unread,
Jul 21, 2018, 4:03:45 PM7/21/18
to BAZMe...@googlegroups.com
ان کی کتابیں پڑھوں؟ ان کی تقریریں سنوں؟ یا ان پر لعنت بھیجوں؟۔

جناب ہاشمی صاحب!۔ 
یہ آخری والا کام پہلے کریں، اور ۔۔۔ زبان کے حوالے اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے جس میدان میں بہتری لا سکتے ہیں لائیں۔ جو کچھ بھی کریں، زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں۔
بہت آداب
فقط ۔۔۔۔۔۔۔ محمد یعقوب آسیؔ

--
Mohammad Firoz Alam 
Health & Nutrition Consultant
......................................................
Calligraphist, Journalist, Author, Writer
Editor Urdu I.T. Monthly "Nai Shanakht" New Delhi
.............................................................
Resi.  Shanti Vihar, Mangal Bazar, 
          Chipiyana Khurd Urf Tigri, 
          Gautam Budh Nagar (UP) 201307 INDIA

Mobile: 91-98117 42537
Google Talk : firoz...@gmail.com
WebSite       : https://foreverliving.com/
                    : www.inpage.com



urdu_...@yahoo.com

unread,
Jul 21, 2018, 7:34:35 PM7/21/18
to BAZMe...@googlegroups.com
لعنت بھیجنے کا لفظ درست نہیں، ان کی اصلاح کے لیے دعا کریں 

Gul Bakhshalvi

unread,
Jul 22, 2018, 2:07:03 AM7/22/18
to Aijaz .Shaheen
میری خواہش ہے کہ ہم اردو سے پیار کرنے والے ایسے مضامین لکھیں 'کسی کو نشانہ بنانے یا کسی پر تنقید سے کچھ حاصل نہ ہو گا اردو پیغامِ محبت ہے اس پیغام کی آبیاری خلوص نیت سے جاری رکھیں یہ ہی اردو کی خدمت ہے
                                                                                          بخشالوی

Firoz Hashmi

unread,
Jul 22, 2018, 4:21:59 AM7/22/18
to Bazm E Qalam Groups
بخشالوی صاحب کی تازہ خواہش کا میں احترام کرتا ہوں۔
جہاں تک کرنے کی بات ہے تو میں بتا دوں کہ گزشتہ پچیس برسوں میں کم و بیش پچیس ہزار افراد کو راست میں اردو، کمپیوٹر، سکھایا اور کیریر سے متعلق رہنمائی کی۔
اُن پچیس ہزار میں سیکڑوں ایسے بھی ہیں جنہوں نے دس سے زائد لوگوں کو سکھایا اور کام پہ لگایا۔ ہم تو لوگوں کو ایسا ہی بنانا چاہتے ہیں جواپنے ساتھ اوروں کو بھی سکھا سکیں، کام کے لائق بنا سکیں۔
الحمد للہ ، اللہ تعالیٰ نے ہمیں کامیابی عطا فرمائی۔
بہت افسوسناک پہلو بھی سامنے ہیں کہ ہماری قوم کے لوگوں کی سوچ اکثر کی وہی ہے جو آج سے پچاس سال پہلے تھی۔ مثال کے طور پر ایک تجربہ میں پیش کر رہا ہوں۔
جب کمپیوٹر میں اردو کا سافٹ آیا اور لوگوں میں چلن عام ہونے لگا خاص طور سے ’’ان پیج اردو‘‘ کے آنےکے بعد تو مجھے محسوس ہوا کہ دینی مدارس کے بچوں کو بھی اس میں شامل کیا جانا بہت ضروری ہے۔ یا اُن طلبا کو اس میں شامل کیا جانا ضروری ہے جن کے گارجین کی معاشی حالت تسلی بخش نہیں ہے۔  میں نے ڈھونڈنے کی کوشش کی تو 
اندازہ کے مطابق ہندوستان میں ڈھائی لاکھ مدرسے ہیں۔ ابتدا تا  فضیلت، مفتی، تخصص، وغیرہ تک
۱۔سوا لاکھ کے قریب پرائمری درجات
۲۔تقریباً پچھتّر ہزاردسویں کے سطح تک
۳۔اور تقریباً پچاس ہزار دسویں کے بعد سے اعلیٰ تعلیم تک۔(طلبا کی تعداد نہیں ہے مدارس کی تعدادہے)
تیسرے گریڈ یعنی اعلیٰ سطح کے سبھی لوگوں کو کمپیوٹر کے علم سے بہرہ ور ہونا بہت ضروری سمجھا۔
کمپیوٹر کی تعلیم کو فروغ دینے کے لئے میں نے اپنے خرچ سے ایک ماہنامہ رسالہ’’نئی شناخت ‘‘ کے نام سے جاری کیا۔ جس کا پورا کام ایک بااجرت معاون ، بیگم اور بچوں کے تعاون سے سوا سات سال جاری رکھا۔
میرا اندازہ غلط ثابت ہوا۔پچاس ہزار لوگوں میں سے دس ہزار بھی ایسے نہیں ہو سکے کہ دس روپے کا ماہنامہ خرید سکے۔ یا وہ مدرسے جن تعداد پچاس ہزار ہے، اپنی لائبریری کے لئے جاری کرا سکیں۔
اگر یہ صرف پچاس ہزار مدرسے ہی اس رسالہ کے خریدار بن جاتے تو  ’’نئی شناخت‘‘ کے توسط سے پانچ سے پچیس افراد کو روزی کا ذریعہ فراہم ہو جاتا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔
ہم نے اپنی محنت کی کمائی میں سے  سوا سات لاکھ روپے خرچ کر دیئے، جس میں ایک معاون کی معمولی اجرت اور پریس و پوسٹ آفس وغیرہ کا خرچ شامل ہے۔
میری ، بیگم اور بچوں کے لئے ہم نے کچھ نہیں لیا۔ یعنی اعزازی خدمت کی۔
سوا سات لاکھ روپے  خرچ کرنے کے بدلے اپنے والدین سے اور جن کے یہاں نوکری کرتے ان سے ڈانٹ سننی پڑی۔ ’’یہ کام کرنے کی ضرورت کیا تھی؟ اور بھی کئی دوستوں نے دبے الفاظ میں کئی قسم کی باتیں کی۔
 خود پریس والے شفیق بھائی نے بھی کہا۔ کیوں کہ انہوں نے ہزاروں ایڈیٹروں کو کنگال ہوتے دیکھا ہے۔ جو ان کے یہاں چھپوانے آتے تھے۔
مدرسے کے مقابلے میں سرکاری اسکول اور یونیورسٹیوں نے حوصلہ دکھایا۔ پانچ سو رسالے ان اداروں میں کھپ جاتے ہیں اور سو کے قریب مدارس میں۔ جس میں مہاراشٹر پہلے نمبر پر اور بہار دوسرے نمبر پر رہا۔ یعنی خریدار بننے میں۔
۔۔۔۔۔
تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ اخبارات میں نہ املا درست ہے اور نہ جملے۔ چند پبلشرہی معیاری مواد فراہم کرتے ہیں۔
اعلیٰ تعلیم دینے والے مدارس  ابھی کمپیوٹر کی تعلیم سے نا آشنا ہیں، زیادہ سے زیادہ سو۔ ’’ہزار کی بات ہم اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ ان کے یہاں کمپیوٹر  دکھاوے کے لئے ہے۔‘‘
 ’’ہزار کی بات ہم اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ ان کے یہاں کمپیوٹر  دکھاوے کے لئے ہے۔‘‘  اس جملہ سے جن کو بھی تکلیف پہنچے براہِ راست مجھ سے رابطہ کریں۔ میں اس کا ثبوت دوں گا۔
اب آپ غور کریں آج زندگی اکثر شعبے میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ نے اپنا قدم جما لیا ہے۔ اور ہماری قوم کا المیہ یہ ہے کہ ایک ای میل تک نہیں لکھ سکتے۔ (ہندوستان میں آبادی کے لحاظ سے کمپیوٹر استعمال کرنے اردو والے ایک فیصد سے بھی کم ہیں، اس لئے میں نہیں کے کالم میں لکھا ہے) اپنے زوال اور ترقی کا خود تجزیہ کیجیے۔
بینک میں جائیے، پیسے لینا ہے تو اے ٹی ایم، پیسے جمع کرانا ہے تو بھی مشین سے، پاس بک پرنٹ کرنا ہے تو مشین سے
(بینک تو اب قرض کے لین دین سے اپنی آمدنی میں اضافہ کر رہا ہے)
ریلوے اسٹیشن جائیے، ٹکٹ وینڈنگ مشین موجود ہے، موبائل اور انٹرنٹ سے ٹکٹ ہاتھوں ہاتھ بن جاتا ہے۔ اگر یہ بھی نہیں سیکھا تو چند دنوں میں کاونٹر بھی کم ہونے والا ہے۔  پھر ایسے لوگ جنہوں نے موجودہ تکنیک کو نہیں سیکھا تو سو سال پہلے جیسے خط دوسروں سے لکھوایا کرتے تھے، موجودہ دور میں بھی ایسے ہی محتاج رہیں گے۔
۔۔۔ چند دنوں پہلے ایک بہت ہی مؤقر ادارہ میں جانے کا موقع ملا۔ اتفاق سے ایک مولانا وہ ملے جنہوں نے وہیں سے فضیلت مکمل کی تھی جہاں سے میں نے کی۔ میں نے 1989 میں کی انہوں نے  1991 میں۔ اس کے بعد سے وہ اس ادارہ میں بحیثیت استاذ ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ شکوہ شکایتیں وہی جو اکثر مولوی حضرات کرتے ہیں۔ یا جو ہماری طالب علمی کے زمانے میں اکثر اساتذہ کو رہتی تھی۔ یا آج بھی جن لوگوں نے اپنے آپ کو  موجودہ دور سے ہم آہنگ نہیں کیا۔
یا چھوٹے چھوٹے فروعی مسئلے میں الجھے ہوئے اپنی انرجی کو برباد کر رہے ہیں۔ جیسے نماز میں ٹوپی، رفع یدین، نیت وغیرہ۔ ابھی تک بہت ہی کم لوگوں میں ذہنی کشادگی آئی ہے۔ جو تھوڑے قابل ہیں وہ طلاق، حلالہ جیسے اشو پر اپنی زور آزمائی کر رہے، خوب تقریریں کر رہے ہیں، ہزاروں صفحات کالے کر کے قوم میں مسلک مسلک کھیل رہے ہیں۔ یہ لوگ اللہ اور رسول تک پہنچنے کے لئے مسلک کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ جب کہ کلمہ طیبہ کو پڑھنے اور اس عمل کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ اس کے بغیر ہمارا کوئی عمل قابل قبول نہیں ہے۔
فیروزہاشمی


Gul Bakhshalvi

unread,
Jul 22, 2018, 7:46:11 AM7/22/18
to Aijaz .Shaheen
فیروز ہاشمی صاحب آپ کی اس محبت کا شکریہ ۔۔۔ آپ سے گزارش ہے اپنی ایک تصویرعنایت فرما دیں ، بہت شکریہ

Shazia Andleeb

unread,
Jul 22, 2018, 8:25:54 AM7/22/18
to Bazm e Qalam
AOA
 Gul sahab ap nai bohot acha swal othaya hai or sab logon ki ara bhi bohot achi hai.yeh bazm mai ek sehtmand rojhaan hai k sab isai itna serious ley rhain hain.
afsos ki bat hai k mai nai khod thik sai urdu likhni parhni Norway high school sai sikhi.is liyai mai bhi koi expert nhi magar merai pas bhi tjawiz hain jo jald pesh kron gi.
Firoz sahab ki khidmat waqii qable qadr hain.inki jitni qadr ki jaey kam hai aisai log bohot moshkil sai miltai hain.
Shukriya

Gul Bakhshalvi

unread,
Jul 23, 2018, 2:54:40 AM7/23/18
to Aijaz .Shaheen
شازیہ عندلیب صاحبہ آپ نے بھی اردو کا درد محسوس کیا ،آپ ناروے میں اردو پڑھتی رہی ہیں اور میں تو پختون ہوں ،بات اردو سے محبت کی ہے اوروہ ہم کر رہے ہیں فیروز ہاشمہ کی خدمات قابلِ تحسین ہیں ایسے  اردو دوستوں کو سلام کیا جانا چاہیے ،یاد آوری کا شکریہ
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages