کوہ حرا !! اس کے اندر وہ غار ہے جہاں نبی کریم ﷺبعثت سے قبل عبادت کیا کرتے تھے ۔یہیں پہلی وحی نازل ہوئی جبل حرا دامن میں کچھ پھیلاﺅ رکھتا ہے پھر اس کے بعد قریباً سیدھا اوپر کو اُٹھتا چلا گیا ہے تاہم اس کی چوٹی نوکیلی نہیں سارا پہاڑ چٹیل یعنی پتھر ہی پتھر ہے اسے جبل نور بھی کہتے ہیں ۔جبل نور مکہ کے مشرق میں تقریباً ساڑھے چارکلومیٹر دور ہے ۔پہاڑ کے دامن میں نصف کلومیٹر تک راستہ ہموار ہے اور آگے چڑھائی شروع ہوجاتی ہے اوپر چڑھنے کا راستہ مشرقی سمت سے ہے اور چکر کھاتے ہوئے اوپر جاتا ہے ۔جبل حرا اور جبل ثبیر ایک دوسرے کے بالمقابل واقع ہیں تاہم کوہ حرا نسبتاً زیادہ بلند ہے کوہ حرا کی چوٹی پر ایک سیاہ رنگ کی جھنڈی نصب ہے ۔
غار ِحرا: یہ غار پہاڑ کی چوٹی پر نہیں بلکہ اس تک پہنچنے کیلئے ساٹھ ستر میٹر نیچے مغرب کی سمت جانا پڑتا ہے ۔نشیب میں اُتر کر راستہ پھر بلندی کی طرف جاتا ہے جہاں غار ِحرا ہے غار سے چند قدم پہلے چٹانی تختوں نے راستہ تقریباً بند کر رکھا ہے یہاں پہاڑ85درجے کا زاویہ بناتا ہے اور دبلا پتلا آدمی بھی گھسٹے بغیر آگے غار میں نہیں جاسکتا ۔غار پہاڑ کے اندر نہیں بلکہ اس کے پہلو میں قریباً خیمے کی شکل میں اور ذرا باہر کو ہٹ کر ہے ۔کم وبیش نصف میٹر موٹے ،پونے دو میٹر تک چوڑے اور تین چار میٹر لمبے چٹانی تختے پہاڑ کےساتھ اس طرح ٹکے ہوئے ہیں کہ متساوی الساقین مثلث جیسے منہ والا غار بن گیا ہے ۔جس کا ہر ضلع اڑھائی میٹر لمبا اور قاعدہ قریباً ایک میٹر ہے ۔غار کی لمبائی دو سوا دو میٹر ہے اور اس کی اونچائی آگے کو بتدریج کم ہوتی گئی ہے ۔پچھلے حصے کی طرح سامنے کا حصہ بھی کھلا ہے ۔غار کا رخ ایسا ہے کہ سارے دن میں سورج اندر نہیں جھانک سکتاچنانچہ دہانے سے اندر کو تاریکی ہے جس کے حجاب کو چیر کر آنکھ آگے نہیں دیکھ سکتی ۔
پہلی وحی : حضور ﷺجب چالیس سال کے ہوئے تو آپ چند روز کی خوراک ساتھ لے کر کوہ حرا پر آتے اور اس غار میں غور وفکر اور عبادت فرماتے تھے یہیں ایک روز جبریل امین نمودار ہوئے اور نبیﷺپر سب سے پہلی وحی نازل کی جس کے ذریعے باری تعالیٰ نے آپ کو نبی آخرالزماں مبعوث کیا پہلی دفعہ جب نبی ﷺنے جبریل کو آسمان کے مشرقی کنارے بالائی افق پر معلق دیکھا تو ان کے چھ سو بازو تھے اور ہر بازو اتنا بڑا تھا کہ افق پر چھایا ہوا تھا پھر جبریل قریب آئے تھے حتیٰ کہ دوکمانوں کے برابر یا اس کم فاصلہ رہ گیا ۔تب انہوں نے آپ کے جسم کو بھینچ کرکہا پڑھیئے آپ نے کہا میں پڑھا ہوا نہیں ۔فرشتے نے آپ کو دوبارہ بھینچا اور پھر پڑھنے کو کہا آپ نے پھر وہی جواب دیا جبریل نے تیسری بار بھینچ کر کہا پڑھئےے تو آپ نے اس کیساتھ ساتھ پڑھنا شروع کر دیا یہ ابتدائی وحی سورئہ علق کی پہلی پانچ آیات پر مشتمل تھی ۔
نبیﷺحرا سے کانپتے لرزتے ہوئے گھر پہنچے اور حضرت خدیجہ ؓ سے کمبل اور رضائی اوڑھانے کو کہا پھر سارا واقعہ سنا کر فرمایا ۔مجھے اپنی جان کا ڈر ہے ۔خدیجہ ؓاپنے عم زادہ ورقہ بن نوفل کو بلالائیں جو مسیحی ہونے کے باعث تورات اور انجیل کے عالم تھے ۔ورقہ نے آپ کی بات سن کر کہا یہ تو وہی ناموس (فرشتہ )تھا جو موسیٰ ؑپر نازل ہوا تھا کاش!میں اس وقت تک زندہ رہوں جب آپ کی قوم آپ کو مکہ سے نکال دے گی آپ نے حیرت سے پوچھا کیا اس کلام کی وجہ سے میری قوم کے لوگ مجھے نکال دےں گے ؟ورقہ نے کہا ہاں آپ جیسا کلام جو بھی لایا اس کےساتھ ایسا ہی سلوک کیا گیا ۔
ایک دفعہ موسم حج کے موقع پر ولید بن مغیرہ نے مجلس قائم کی اور کہنے لگا ۔اے فرشتو!موسم ِحج آگیا ہے ۔تمام عرب سے لوگ تمہارے پاس آئیں گے ظاہر ہے وہ تمہارے اس نبی کے بارے میں سن چکے ہوں گے اس لےے تم صلاح مشورے سے ایک بات طے کر لو اور سب سے وہی بات کہو ۔ایسا نہ ہو کہ کوئی کچھ کہے اور کوئی کچھ ۔اس سے ایک دوسرے کی تردید ہوگی ۔قریش نے کہا اے ابوعبد شمس!آپ ہی کوئی مشورہ دیجئے ۔ہم اس پر عمل کریں گے اس نے کہا نہیں !تم تجویز پیش کرو میں تمہاری بات سنتا ہوں ۔وہ بولے ہم کہیں گے یہ کاہن ہے وہ کہنے لگا نہیں !اللہ کی قسم!وہ کاہن نہیں ۔ہم نے بڑے کاہن دیکھے ہیں اس کی بات کاہنوں کی چیستاں جیسی نہیں اور نہ اس جیسی تُک بندی ہے وہ بولے اچھا!ہم کہیں گے یہ پاگل ہے اس نے کہا نہیں یہ پاگل بھی نہیں ۔ہم نے بڑے پاگل دیکھے ہیں اور ہم پاگل پن کو بخوبی جانتے ہیں اس کی باتوں میں نہ تو ان جیسی بے ترتیبی ہے نہ تو ہمات اور وسوسے وہ گویا ہوئے اچھا ہم کہیں گے وہ شاعر ہے وہ کہنے لگا یہ شاعر بھی نہیں ہم ہر قسم کے اشعار،رجز،ہزج،قریض،مقبوض اور مبسوط وغیرہ کو بخوبی جانتے ہیں اللہ کی قسم !اس کا کلام شعر نہیں آخر کار انہوں نے کہا چلو ہم کہیں گے وہ جادوگر ہے وہ کہنے لگا وہ جادوگر بھی نہیں ہم نے جادوگر بھی دیکھے ہیں اور ان کا جادوبھی ،یہ ان کی طرح گر ہیں دیتا ہے نہ پھونکیں مارتاہے (جادوگر دھاگے کو گرہیں لگاتے اور اس پر پھونکیں مارتے ہیں )وہ زچ ہو کر بولے آخر ہم کہیں کیا اے ابو عبد شمس ؟وہ گویا ہوا اللہ کی قسم!اس کی باتوں میںعجب مٹھاس ہے یوں لگتا ہے کہ قرآن کی جڑ پائیدار اوراس کی شاخ پھلدار ہے (اس نے قرآن کو عمدہ شاخوں والے کھجور کے درخت سے تشبیہ دی )تم اس کے بارے میں جو بھی کہوگے اس کا بطلان واضح ہوگا ہاں اگر ضرور ہی کچھ کہنا ہے تواس کی شاخ پھلدار ہے (اس نے قرآن کو عمدہ شاخوں والے کھجور کے درخت سے تشبیہ دی )تم اس کے بارے میں جو بھی کہوگے اس کا بطلان واضح ہوگا ہاں اگر ضرور ہی کچھ کہنا ہے تو جادوگر کہہ دو کیونکہ یہ ایسی تعلیم لایا ہے جس نے جادو کی طرح باپ اور بیٹے بھائی اور بھائی ،خاوند اور بیوی،آدمی اور اس کے قبیلے میں تفریق ڈال دی ہے ۔یہ مشورہ کرکے مجلس برخواست ہوگئی وہ مکہ آنے والوں کے راستوں میں بیٹھ جاتے اور وہاں سے ہر گزر نے والے کو آپﷺ کے خطرے سے آگاہ کرتے اور آپ کے متعلق تفصیلات بتاتے اللہ تعالیٰ نے ولید بن مغیرہ کے بارے میں حسب ذیل آیات نازل فرمائیں ۔
ترجمہ : © چھوڑ و مجھے اس شخص سے نمٹ لینے دو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا پھر اس کو وسیع مال دیا کثیر بیٹے دئےے اور اس کیلئے تمام راستے ہموار کےے(لیکن وہ ناشکر ارہا )اب وہ یہ اُمید رکھتا ہے کہ اسے اور دوں گا ہرگز نہیں !وہ تو ہماری آیات سے دشمنی رکھنے والا ہے ۔(المدثر)