RE: {1094} اسرارالحق مجاز

0 views
Skip to first unread message

Faisal Hanif

unread,
Oct 22, 2010, 8:20:32 AM10/22/10
to guzergah...@groups.live.com, bazme...@googlegroups.com
بقول جوش صاحب "یہ کوئی مجھ سے پوچھے کہ مجاز کیا تھا، اور کیا ہو سکتا تھا- مرتے وقت تک اس کا فقط ایک ربع دماغ کھلنے پایا تھا اور اس کا یہ سارا کلام  اس ایک ربع خلوت کا کرشمہ ہے، اگر وہ بڑھاپے کی عمر تک آتا تو اپنے عہد کیا سب سے بڑاشاعر ہوتا-"

مجاز کے کلام کی وسعت اور خوبصورتی کو دیکھتے ہوئے جوش کے کلمات میں کوئی مبالغہ آرائی نظر نہیں آتی- جہاں تک فیض صاحب کی عوامی مقبولیت اور شہرت کا تعلق ہے تو اس میں جہاں فیض کے کلام کو تعلق ہے وہاں ایک بڑا حصہ  ادب میں سیاست اور پروپگنڈہ کا بھی ہے- خدا جانے کتنے اچھے شاعر اور ادیب اس سیاست کی نذر ہو گیے- فقط عوامی مقبولیت کسی شاعر یا ادیب کے عظیم ہونے کی دلیل نہیں- یہاں میں اس سیاست کی بات کر رہا ہوں جس سے محمد حسین آزاد جیسے نقاد نگاہ کا دامن بھی آلودہ ہوا ہے- آب حیات کے پہلے نسخہ میں مومن خان مومن کو نظر انداز کرنا اور پھر اپنے استاد ذوق کی تعریف میں بے حد مبالغہ آرائی- غالب کو اگرچہ نظر انداز نہیں کیا لیکن غالب سے کما حقہ انصاف بھی نہیں کیا- وقت بھرپور منصف ہے- غالب اور ذوق کا فیصلہ تو ہو چکا- لیکن بہت سے فیصلے ہونے باقی ہیں-

مزہ یہ شکوے میں آیا کہ بے مزہ ہوئے وہ
میں تلخ کام رہا لذت زبان کے لیے

خاکسار
فیصل حنیف



-------------------------------------------------------------------
فیصل حنیف


گزرگاہ خیال فورم
دوحہ - قطر
http://guzergah-e-khayal.groups.live.com/





From: bazme...@gmail.com
Date: Thu, 21 Oct 2010 19:09:03 +0400
Subject: {1094} اسرارالحق مجاز
To: BAZMe...@googlegroups.com

اسرارالحق مجاز کی آوارہ مزاجی

برقیہچھاپیے

٭ رفعت سروش
ابھی سے یہ چرچا ہے کہ 2011 ان معنوں میں بڑا ادبی سرگرمیوں کا سال ہوگا کہ اس سال کے دوران ہندی کے تین جیّد شاعروں ---- ناگارجن، کیدار ناتھ اگروال اور شمشیر بہادر کی صد سالہ سالگرہ کا جشن ہوگا۔ اردو کی حد تک پورے برصغیر میں فیض احمد فیض کی صد سالہ سالگرہ کی تیاریاں جاری ہیں۔ فیض کو جو عوامی مقبولیت حاصل ہوئی وہ اپنے آپ میں ایک تاریخ ہے۔ مگر یہ بھی یاد رکھنا چاہےے کہ فیض اس کہکشاں کا جزو تھے جو ترقی پسند ادبی تحریک نے اجاگرکی تھی۔ اس کہکشاں کے ستاروں میں ایک اہم نام اسرارالحق مجاز کا بھی ہے۔ 2011 مجاز کی صد سالہ سالگرہ کا برس بھی ہے۔
”حیات“ اس شمارے سے فیض اور مجاز پر مقالات، یادداشتوں اور دیگر متعلقہ مواد کی اشاعت کا سلسلہ شروع کررہا ہے۔ آپ سب کو اس جشن میں تحریری طور پر شرکت کی دعوت ہے۔ 
(ادارہ)

شہر کی رات اور میں ناشاد و ناکارہ پھروں
جگمگاتی جاگتی سڑکوں پہ آوارہ پھروں
غیر کی بستی ہے کب تک دربدر مارا پھروں
اے غمِ دل کیا کروں، اے وحشتِ دل کیا کروں
یہ اشعار نہ جانے ان کتنے لوگوں کے دل کی آواز ہیں جو بمبئی جےسے شہر میں تلاشِ معاش میں آتے ہیں اور اَن تھک جدوجہد کے بعد پیٹ کے لےے دو روٹی اور سر چھپانے کے لےے کوئی جھگی جھونپڑی یا کھولی حاصل کرتے ہیں۔ یہ اشعار اس شاعر کے ہیں جو کبھی علی گڑھ سے جگمگاتے شہر سے دہلی آیا تھا اور اس نے یہ لازوال نظم کہی تھی ’آوارہ‘۔ مجاز اردو شاعری کے ترقی پسند دور کا ایک لیجنڈ ہے اور اسے اس کی آوارہ مزاجی بمبئی بھی لائی تھی۔ مشاعرے پڑھنے تو وہ پہلے بھی ممبئی آیا ہوگا مگر ۶۴۹۱ءمیں وہ بمبئی آیا اور کئی ماہ رہا۔ اس کی یہ نظم فلمائی بھی گئی۔ وہ ۷۴۹۱ءمیں تقسیمِ وطن سے پہلے فسادات کے دوران بمبئی میں تھا۔ اس کی رہائش سیّد سجاد ظہیر کے گھر تھی اور دن کا زیادہ وقت گزرتا تھا سینڈھرسٹ روڈ پر واقع کمیونسٹ پارٹی کے دفتر میں۔ زمانہ بہت پُرآشوب تھا۔ مجاز نے بہت پہلے ایک نظم کہی تھی انقلاب پُرامن نہیں خونیں انقلاب مجاز نے تصور کیا تھا کہ ہر جگہ خون کی ہولی کھیلی جائے گی۔ بہت طویل نظم ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ”مسجدوں میں خوں، کلیساؤں میں خوں، مےخانوں میں خونں، شبستانوں میں خوں، کاشانوں میں خوں، گلیوں اور بازاروں میں خوں“ اور مجاز نے لکھا کہ خون کی ہولی کھیلتا ہوا۔ آخر کار۔ با ہزاراں آب و تاب۔ یخ۔
” وطن کی حریت کا آفتاب“
شاعر کا تصور حقیقت میں بدل گیا۔ اس کی پیشین گوئی صحیح ہوئی۔ لیکن قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ جس کے تصور میں اس قدر خونی منظر تھے، جب اس نے اس تصور کو حقیقت میں ہوتے دیکھا اور فسادات کے دوران کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے دفتر کے نےچے سینڈھرسٹ روڈ پر اس کی عقابی آنکھوں نے کئی لوگوں کو اپنے خون میں نہاتے اور غنڈوں کے خنجروں کا نشانہ بن کر دم توڑتے دیکھا تو اس شاعر کا نازک دل ان مناظر کی تاب نہ لاسکا۔ سردار جعفری کا بیان تھا کہ مجاز تقریباً تین روز تک بے ہوش رہے ۷۴ءکے انجمن ترقی پسند مصنّفین کے جلسوں میں مجاز باقاعدہ شریک ہوتے تھے۔ تنقیدی گفتگو میں حصہ لےتے تھے۔ کبھی کبھی جلسوں کی صدارت بھی کرتے تھے مجاز نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ ہوش اور بے ہوشی کے درمیان کی ایک عجیب کیفیت میں گزارا۔
آج اگر کہا جائے کہ مجاز نے ”پاکستان ہمارا“ قسم کا نغمہ لکھا تھا تو شاید کسی کو یقین نہ آئے کیونکہ مجاز بلاشبہ ایک قوم پرست شاعر تھے۔ اور تقسیمِ وطن کے بعد جوش ملیح آبادی جیسا شاعرِ انقلاب تو اپنی ’عاقبت سنوارنے‘ پاکستان چلا گیا تھا، مگر مجاز جس کے نامۂ اعمال میں ’پاکستان ہمارا‘ جیسا نغمہ بھی ہے، پاکستان نہ گیا بلکہ اس نے اسی شہر میں جان دی جس کے لےے اس نے کہا تھا:
کچھ دیر کا مسافر و مہماں ہوں اور کیا
کیوں بدگماں ہیں یوسفِ کنعانِ لکھنؤ
اب اس کے بعد صبح ہے اور صبحِ نو مجاز
ہم پر ہے ختم شامِ غریبانِ لکھنؤ
مگر یہ واقعہ ہے کہ یہ نغمہ مجاز کی کتاب ’شب تاب‘ میں موجود ہے اور مےرے علم میں اس کی وجہ تخلیق بھی ہے۔
یہ اوائل ۵۴۹۱ءکی بات ہے۔ یہ دور وہ تھا جب کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا نے انڈین مسلم لیگ کے مطابق پاکستان کی حمایت شروع کردی تھی اور بہت سے مسلم کمیونسٹ رکن اپنے آپ کو مسلم لیگی ظاہر کرنے لگے تھے اور سرگرمِ عمل تھے۔ میں اُن دنوں دہلی میں کسی دفتر میں ملازم تھا، تب غالباً راشننگ آفس میں تھا جس کا دفتر لڈلو کیسل (کشمیری گیٹ کے باہر) تھا۔ اُن دنوں تقریباً روزانہ مجاز سے ملاقات ہوتی تھی۔ کمیونسٹ پارٹی کی اس نئی کروٹ کا یہ اثر تھا کہ کمیونسٹ پارٹی کے ایک غیور کارکن انیس ہاشمی دہلی مسلم لیگ کے سکریٹری ہوگئے تھے۔ کشمیری گیٹ پر ان کا فرنیچر کا شوروم تھا۔ اس پر بڑا بورڈ لگا رہتا تھا ”ورما ہاشمی“ انیس ہاشمی تقسیم کے بعد پاکستان چلے گئے مگر ان کے دوسرے بھائی حنیف دہلی ہی میں رہے۔ صفدر ہاشمی، جن کو صاحب آباد میں قتل کردیا گیا تھا اور جن کی یاد میں ’سہمت‘ ادارہ وجود میں آیا، اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
اردو بازار میں ایک نہایت نستعلیق شخص اکثر شام کو نظر آتے تھے اور کامریڈ احمد کے نام سے مشہور تھے، بہت صاف ستھرے لباس میں۔ ہمےشہ شیروانی مع اسی رنگ کی ٹوپی کے پہنتے تھے۔ وہ بھی برملا کہنے لگے تھے کہ میں تو مسلم لیگی ہوں (بعد میں کامریڈ احمد علی گڑھ چلے گئے تھے)۔ یہ سب مجاز کے دوست تھے اور میں مجاز کا دوست، اس لےے مجھے بھی ان سے نیاز حاصل تھا۔
اسی زمانے کی بات ہے کہ اردو بازار (دہلی) میں مسلم لیگیوں نے جلوس نکالا۔ اس جلوس کی قیادت میں ہمارے شاعرِ شباب انقلاب اسرارالحق مجاز بھی شامل تھے اور لہک لہک کر گاتے ہوئے مارچ کررہے تھے ”پاکستان ہمارا، پاکستان ہمارا“۔ اس نغمے کے دو بند تھے اور یہ نغمہ مجاز کے مجموعۂ کلام ’شب تاب‘ میں شامل ہے۔ ’شب تاب‘ ۵۴۹۱ءمیں آغا سروش قزلباش نے اپنے مکتبہ چمنستان سے شائع کیا تھا اور اس میں تھوڑی سی ترتیب کی تبدیلی کے ساتھ ان کے پہلے مجموعۂ کلام ’آہنگ‘ کی ہی نظمیں اور غزلیں تھیں۔ اور کچھ تازہ نظم کا اضافہ کردیا گیا تھا بعد میں معلوم ہوا کہ اس نغمے کا پہلا بند مخدوم محی الدین کا تھا اور دوسرا مجاز نے کہہ کر اسے اپنالیا تھا۔ بمبئی میں اس امر کی تصدیق مجھ سے ایک ملاقات میں مخدوم نے خود کی تھی۔ کمیونسٹ پارٹی اور مسلم لیگ کا یہ نظریاتی اتحاد بعد میں بہت واضح ہوکر سامنے آگیا۔ کمیونسٹ پارٹی کے اردو ہفتہ وار ’قومی جنگ‘ میں اس موضوع پر مضامین چھپنے لگے تھے اور ہم شاعروں سے بھی کہا گیا تھا کہ الیکشن کے حوالے سے اس موضوع پر لکھو۔ چنانچہ میں نے بھی ”ووٹ کس کو دیں“ نظم کہی تھی جو پارٹی کے اخبار ’نیازمانہ‘ میں شائع ہوئی تھی۔ اس کا آخری شعر مجھے اب تک یاد ہے:
جس کے لب پر نغمۂ آزادیِ انسان ہو
نغمۂ آزاد ہندستان و پاکستان ہو
یہ نغمہ ’پاکسان کا ملّی ترانہ‘ کے عنوان سے شائع ہوا تھا۔ اس وقت مےرے سامنے صہبا لکھنوی (ایڈیٹر ’افکار‘ کراچی) کی مرتّب کتاب ’مجاز: ایک آہنگ‘ ہے اور اس کے 57 اور 58 صفحات پر یہ نغمہ چھپا ہے۔ (بحوالہ ’شب تاب‘)۔
آزادی کی دھن میں کس نے آج ہمیں للکارا
خیبر کے گردوں پر چمکا ایک ہلال اک تارا
سبز ہلالی پرچم لے کر نکلا لشکر سارا
پربت ے سےنے سے پھوٹا کیسا سرکش دھارا
سرماےے کا سوکھا جنگل اس میں سرخ شرارا
پاکستان ہمارا/ پاکستان ہمارا
پاکستان ہمارا
روک سکا ہے کوئی دشمن کب طوفان ہمارا
ہر ترک اپنا، ہر حُر اپنا، ہر افغان ہمارا
ہر شخص اک انسان یہاں ہے، ہر انسان ہمارا
ہم سب پاکستان کے غازی، پاکستان ہمارا
پاکستان ہمارا
پاکستان ہمارا
پاکستان ہمارا
اہلِ نظر ان دونوں بندوں میں لفظیات کا فرق محسوس کرسکتے ہیں۔ پہلے بند میں ’سرخ شرارا‘ مخدوم کے رنگِ سخن کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ مخدوم کی مشہور نظم ہے ’سرخ سویرا‘۔
لو سرخ سویرا آتا ہے آزادی کا آزادی کا
گگن ترانہ گاتا ہے آزادی کا آزادی کا
مخدوم کے مجموعۂ کلام کا نام ہی ’سرخ سویرا‘ ہے۔
مجاز کے یہاں تہذیبی قدروں کا احترام ہے اور مجاز کا مخصوص لفظ ’ترک‘ بھی اس بند میں موجود ہے۔ ان کے یہاں یہ لفظ بہادری کے ساتھ جمالیات کا رنگ بھی لےے ہوئے ہے:
’صبر آرا ہے غمزۂ ترکانِ لکھنؤ‘
مجاز کو اپنی شاعری سے عشق تھا۔ وہ شعر کہہ کر یہ سوچتے تھے کہ ادیبوں کے مختلف حلقوں میں اسے کس نظر سے دیکھا جائے گا۔ ایک بار مجھ سے انھوں نے کہا کہ میں عشق بھی کرتا ہوں تو اپنی شاعری کے لےے، اپنے فن کی تب و تاب کے لےے۔
ایسا نہیں ہے کہ مجاز افلاطونی عشق کرتے تھے اور بس ایک ہی محبوب کو اپنا ملجا و ماویٰ کہتے تھے۔ ٹھیک ہے، اس نے عشق کیا، چوٹ کھائی، مگر وہ اس کے لےے مجنوں بن گئے ہوں، ایسا نہیں ہے۔ وہ حسن پرست تھے اور حسن سے حظ اٹھانا اپنا پیدائشی حق سمجھتے تھے۔
بمبئی کی ایک شام یاد آرہی ہے۔ مجاز کو اپنے ایک گانے کے کچھ روپے ملے تھے۔ دل کھول کر خرچ کرنے والے تو وہ تھے ہی، ہم دونوں فلورا فاؤنٹین کے علاقے (حالیہ ہتاتما چوک) گھوم رہے تھے۔ رات کے گیارہ بجے ہوں گے۔ وہ علاقہ کافی رنگین ہے اور وہاں خاموش دیواروں کے پیچھے فلیٹوں میں رنگینیاں بھی بکتی ہیں۔ ہم دونوں کھڑے تھے۔ ایک ’بروکر‘ آیا اور اس نے ’اینگلو انڈین مال‘ دلانے کا اشارہ کیا۔ مجاز راضی ہوگئے۔ لیکن بات اٹک گئی، اونچے دام پر۔ جیب میں جو کچھ تھا وہ ہم دونوں کی کفالت نہیں کرسکتا تھا۔ بولے چلو روپے لے آتے ہیں، میرے پاس رکھے ہیں، مگر میں نے ان کی محبت شکنی کی اور وہ آئی بلا ٹل گئی۔
مجاز سراسر عشق تھے۔ حسن پرست تھے۔ بمبئی میں وقتی طور پر وہ ایک اور ’گلِ‘پُربہار کی خوشبو کے اسیر ہوگئے تھے۔ لیکن تنگیِ داماں نے انھیں محرومی سے ہی ہمکنار کیا۔
مجاز اردو شاعری کے ایک نہایت طرحدار دور کی آبرو تھے۔ وہ اپنی زندگی میں ہی لیجنڈ بن گئے تھے۔ (کتاب سے اقتباس)

urdu tahzeeb
٭٭٭


Join : http://groups.google.co.in/group/BAZMeQALAM

--
دبیٔ کے سمندر میں کشتی پر 4 نومبر کو ایک مزاحیہ مشاعرہ
عالمی مشاعروں کے معروف شاعر شوکت جمال کے اعزاز میں منعقد ہوگا
پچیس اردو شعری مجموعوں کے خالق عرب شہری اور اردو کے سینٔر شاعر ڈاکٹر زبیر فاروق صدارت کریں گے۔
پروگرام میں ڈنر،مشاعرہ اور سمندر کی سیر شامل ہے
Contact for invitation Card : +971-50-3031025


Go to group website
Remove me from the group mailing list
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages