کمرشیل شعراء اور عالمی مشاعرے

0 views
Skip to first unread message

مهتا ب قدر

unread,
Sep 22, 2012, 1:15:52 AM9/22/12
to urdugulban, bazme...@googlegroups.com, adabd...@googlegroups.com, NRIndians, Tanzeem Hum Hindustani Group, Tanzeem Hum Hindustani
تقریبا چار سال قبل سپردِ قلم کیا گیا ایک مضمون قارئین کی نذر

کمرشیل شعراء اور عالمی مشاعرے
انٹرنیشنل مشاعروں کا رواج اردو کی ترویج و اشاعت میں یقیناََ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔مشرق سے مغرب تک اور عجم سے عرب تک آج اردو مشاعروں کا انعقاد جس خوبصورت پیمانے پر کیا جارہا ہے،اس کیلئے وہ تمام محبانِ اردو جو برصغیر سے نکل کر دنیا کے کونے کونے میں جا بسے ہیں، قابلِ مبارکباد ہیں کیونکہ اِن ملکوں میں ان کا قیام ہی در اصل ان عالمی مشاعروں کی پہچان کا سبب بنا ہے۔ ورنہ کون سوچ سکتا تھا کہ کسی عرب ملک میں کوئی عالمی مشاعرہ منعقدکیاجائے یا کسی انگریزی دبستان میں عالمی اردو کانفرنس کا انعقاد ہو۔ 
ہندوستان کے شاہی درباروں میں سلطنتِ مغلیہ اور دیگر سلطنتوں میں مشاعرے دربار کا حصہ ہواکرتے تھے اور شعراء و ادباء ان کے مصاحبِ خاص میں شامل کئے جاتے تھے۔ محفلیں منعقد ہوتی تھیں اور شعراء کو انعام و اکرام سے نوازا جاتاتھا۔بہت کم ایسا ہوا کہ کوئی شاعر یا ادیب معتوب ہوا ہو۔یہ حقیقت صرف اردو کے ساتھ ہی وابستہ نہیں ہے بلکہ عربی اورفارسی کے علاوہ بعض دیگر زبانوں کا ادب بھی اس وصفِ خاص سے مزیّن رہا ہے۔ 
مشاعروں کی اپنی تاریخ ہے ۔چاہے وہ درباری مشاعرے ہوں یا عوامی ، ان مشاعروں میں تہذیب ،آداب اور زبان و بیان کے سلیقوں نے تربیت پائی اور عوام تک یہ جواہر انہی محفلوں کی بدولت پہنچے۔دربار سے وابستہ شعراء کا مقام ہمیشہ معاشرے میں درباروں کے قیام کے ساتھ منسلک رہا اور وہ درباروں کے اجڑنے تک انعامات ، القابات و خطابات سے نوازے جاتے رہے۔ جب دربار اجڑ گئے تو ان کا محاکمہ عوامی سطح پر نقادوں کے ہاتھوں میں آیا اورپھر ان کے قد و قامت کا صحیح تعین ہوا۔جو شعراء درباروں سے منسلک نہ رہے، عموماََوہ ہمیشہ مفلوک الحال اور کمزور معیشت کا شکار رہے۔ 
آج کا دور بالکل مختلف ہے۔آج کا شاعر عموماََ کمزور معیشت کا شکار نہیں ہے ۔البتہ دربار کے بجائے ہمارے اس دور میں شعراء عالمی مشاعروں کی سیج کاحصہ بن کر انعامات پا رہے ہیں۔’’لفافہ سسٹم‘‘ نے مشاعروں کی تہذیب کو اور اس کی روایتی قدروں کو پامال کر کے رکھ دیا ہے۔ یہ’’ لفافہ ‘‘صرف اُس ایک نشست کا زرِ شرکت ہوتاہے، جس کیلئے شاعر کو زحمت دی جاتی ہے۔ اگر منتظمین نے کہیں ان شعراء کی پذیرائی کے خیال سے ایک آدھ اور چھوٹی سی محفل ان کے مزید ایک دو روز قیام کے سبب سجا دی تو اس میں شرکت کیلئے الگ ’’ اورٹائم‘‘ صاف لفظوں میں بتا دیا جاتا ہے یعنی دوسرا’’ لفافہ‘‘ دینا ضروری ہو جاتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ منتظمین مشاعرہ شعراء کے انتخاب میں عموماََ مشاعرہ باز شعراء کا انتخاب کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جن کے ریٹ فلمی اداکاروں کی طرح مقرر ہیں۔ وہ باقاعدہ ’’بارگین‘‘ کرکے اپنے ریٹ پر ہی مشاعروں میں شرکت فرماتے ہیں،ورنہ معذرت کرلیتے ہیں تاکہ انکی مارکٹ خراب نہ ہو۔یہاں منجھے ہوئے ناظمینِ مشاعرہ کے بارے میں وضاحت کرنی بھی ضروری ہے کہ ان کااپنا ایک گروپ ہوتا ہے ،وہ اس گروپ کو ہی ’’پروموٹ‘‘ کرتے ہیں۔ اگرکوئی نیا شاعر کسی واسطہ یا کسی اور ذریعے سے مشاعرے میں شامل ہوجائے تو محترم ناظم مشاعرہ کی نظرِ عنایت سے وہ محروم رہتاہے اور مشاعرے میں اُسے جس طرح سے پیش کرتے ہیں،وہ اسکی حوصلہ شکنی کیلئے کافی ہوتاہے۔اس سسٹم کے سبب اچھا 
شعرکہنے والے شعراء کو صرف اسلئے مدعو نہیں کیا جاتا کہ وہ کلام پیش کرنے کیلئے اداکاری ، فلمی ترنم اور داد طلب کرنے کے پیشہ ورانہ طور طریقوں سے آراستہ نہیں ہوتے ،جو ا ن عالمی مشاعروں میں مطلوب ہوتے ہیں ۔ بعض ناظمینِ مشاعرہ آئندہ مشاعروں کی بکنگ کے پیش نظر منتظمین مشاعرہ کی تعریف میں اس قدر رطب اللسان رہتے ہیں کہ دوران مشاعرہ سامعین کو بھی اس کا احساس ہونے لگتا ہے۔چیخنا چلانا اور سامعین سے کہہ کہہ کر داد لینا بھی ان شعراء کے ایک گروپ کا وصفِ خاص ہے، جنھیں کمرشل شاعر کہنا چاہئے کہ 
کرتے ہیں صبح شام جو نیلام شاعری 
ان کی روش سے ہو گئی بدنام شاعری
مشاعروں کا انعقاد عموماََ غیر منافع بخش تنظیموں کی جانب سے کیا جاتا ہے۔ اگر مشاعرہ کروانے والا بھی کمرشل ہو تو پھر سونے پہ سہاگہ۔ شعراء اور منتظم کے درمیان رسہ کشی کچھ زیادہ ہی دیکھنے میں آتی ہے ۔ اگر منتظمین شعراء کوذریعہ بنا کر اپنی جیبیں بھررہے ہوں تو اس صورت میں شعراء کا سطح سے اتر جاناممکن ہے کہ واجبی بن جائے۔ بعض منستظمین کا کہنا ہے کہ اگر مطلوبہ یا روایتی معیار کو پیش نظر رکھ کرعالمی مشاعرے منعقد کئے جائیں تو جو ادارے مشاعروں کی آمدنی سے کوئی خاص خیراتی کام کرنا چاہتے ہوں انہیں اایسے مشاعروں سے کچھ بچے گا ہی نہیں بلکہ مالی نقصان کا بھی اندیشہ ہے۔ ایسے اداروں اور افراد سے میری درخواست ہے کہ وہ مشاعرے ہی کیوں منعقد کریں بے شک مذکورہ فنگاروں کو شرکت کی دعوت دیں جن کے نام سے جمِ غفیر آدھکتا ہو مگر اسے مشاعرے کے بجائے کسی ڈرامے کا نام دیں یا کوئی اور پرفارمینس شو کے عنوان سے معنون کریں۔ 
یاد رہے کہ بہت محترم شعراء بھی ان عالمی مشاعروں میں شرکت فرماتے ہیں اور انھیں اس کی پرواہ نہیں ہوتی کہ انھیں کیا دیا جارہا ہے۔ وہ لفظوں کی سوداگری نہیں کرتے۔ انھیں اپنا وقار اوراپنا علمی وادبی قدہمیشہ عزیزہوتا ہے۔بہرحال اپنا گھر بار چھوڑ کر آنے پر قیام و طعام کی میزبانی کے ساتھ سفر کے اخراجات اور جو ہدئیے و تحائف دئے جائیں،انھیں قبول کرناان کاحق ہوتا ہے اور وہ یہی کرتے ہیں۔ ان کے گھربھی سونے کی اینٹوں کے نہیں ہوتے ۔وہ بھی ہماری ہی بستیوں میں بستے ہیں ۔ 
  مہتاب قدر
Mahtab Qadr
 
  میں جہاں بھی رہوں سفر میں ہوں  
  میرا  اصلی   وطن   مدینہ    ہے

Mirza Muhammad Nawab Mirza

unread,
Sep 22, 2012, 5:32:44 AM9/22/12
to bazme...@googlegroups.com, Mahtab Qadr Saheb, Jeddah
Mahtab Saheb
Salam wa rahmat

 ۔چیخنا چلانا اور سامعین سے کہہ کہہ کر داد لینا
 یہ’’ لفافہ ‘‘صرف اُس ایک نشست کا زرِ شرکت ہوتاہے، جس کیلئے شاعر کو زحمت دی جاتی ہے۔ 
Khari khari batein tahreer ki hain aap ne.
Lekin شاعر کو زحمت Astaghfirullah. Kuch aur kahte to bahtar hota.
Yeh durust farmaya aap ne

یاد رہے کہ بہت محترم شعراء بھی ان عالمی مشاعروں میں شرکت فرماتے ہیں اور انھیں اس کی پرواہ نہیں ہوتی کہ انھیں کیا دیا جارہا ہے۔ وہ لفظوں کی سوداگری نہیں کرتے۔ انھیں اپنا وقار اوراپنا علمی وادبی قدہمیشہ عزیزہوتا ہے۔بہرحال اپنا گھر بار چھوڑ کر آنے پر قیام و طعام کی میزبانی کے ساتھ سفر کے اخراجات اور جو ہدئیے و تحائف دئے جائیں،انھیں قبول کرناان کاحق ہوتا ہے اور وہ یہی کرتے ہیں۔ ان کے گھربھی سونے کی اینٹوں کے نہیں ہوتے ۔وہ بھی ہماری ہی بستیوں میں بستے ہیں ۔ 
 
Qadro manzila inhi shora ki honi chahiye
Khair Andesh
Mirza

 

From: mahta...@gmail.com
Date: Sat, 22 Sep 2012 08:15:52 +0300
Subject: {14576} کمرشیل شعراء اور عالمی مشاعرے
To: UrduG...@googlegroups.com; bazme...@googlegroups.com; adabd...@googlegroups.com; nrin...@googlegroups.com; tanzeemhum...@yahoogroups.com; tanzeemhum...@yahoo.com
--
--
زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے
کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/
اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com
سہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.com
کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com
http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/
راشد اشرف کی تحریروں کے لیے
http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760
To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics
 
To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com
 
To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite
 
To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"
http://www.facebook.com/bazmeqalam.googlegroup
 
 

Hashmat Ali

unread,
Sep 22, 2012, 3:29:07 PM9/22/12
to bazme...@googlegroups.com, Mahtab Qadr Saheb, Jeddah
جناب مہتاب صاحب اور جناب نواب مرزا صاحب تسلیمات
آپ حضرات بالکل درست فرما رہے ہیں بعض مشاعرے باز شعرا جو آجکل کافی مشہور بھی ہیں سامعین سے داد بالکل بھیک کی طرح مانگتے ہیں انکے لئے ایک قطعہ ملاحظہ کیجئے
داد کی بھیک مانگنے والے
اے مرے شاعر بلند مقام
داد تو شعر خود ہی لیتا ہے
شاعری کو کریں نہ یوں بدنام
حشمت سہیل



From: Mirza Muhammad Nawab Mirza <mirza_...@hotmail.com>
To: "bazme...@googlegroups.com" <bazme...@googlegroups.com>; "Mahtab Qadr Saheb, Jeddah" <mahta...@gmail.com>
Sent: Saturday, September 22, 2012 4:32 AM
Subject: RE: {14589} کمرشیل شعراء اور عالمی مشاعرے
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages