کیا واقعی ملک میںایمرجنسی کے امکانات ہیں
لال کرشن اڈوانی ایک منجھے ہوئےسیاستداں ہیں اگروہ اپنی ہی پارٹی کے دوراقتدارمیں اس طرح کے سنگین خدشہ کا اظہارکررہےہیں تو
اس پر سنجیدہ حلقوںمیں بے چینی پیداہونا فطری ہے
صابررضارہبر
بی جے پی کے سینئرلیڈرلال کرشن اڈوانی نے ملک میںایمرجنسی کے خدشات کا اظہارکرکے ان لاکھوںافرادکوزبان دےدی ہے جو مودی حکومت کے طریقہ کاراورملک کے سیاسی منظرنامہ پرگہری نظررکھتے ہیں حالاںکہ اس کا احساس ان لوگوںکوبہت پہلےسے تھاجومودی کے ڈکیٹیٹرانہ رویہ سے واقف ہیں ورنہ ایک طویل عرصہ تک سیاسی بساط پربڑے بڑوںکومات دینے والے این ڈی اے کےسابق پی ایم امیدوار لال کرشن اڈوانی کووزرات عظمیٰ کےعہدہ کے امیدوارسے درکنا کرنا بڑامشکل تھااورسیاسی ماہرین اسے مودی کی پہلی جیت سے تعبیرکررہےتھے۔لال کرشن اڈوانی ایک منجھے ہوئےسیاستداں ہیں اگروہ اپنی ہی پارٹی کے دوراقتدارمیں اس طرح کے سنگین خدشہ کا اظہارکررہےہیں توا س پر سنجیدہ حلقوںمیں بے چینی پیداہونا فطری ہے ۔
انڈین ایکسپریس کو دیئے انٹرویو میں اڈوانی نے کہا ہےکہ مستقبل میں شہری آزادی کےسلب کئے جانے کے خدشہ سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ایمرجنسی کو اندرا گاندھی اور ان کی حکومت کا جرم بتاتے ہوئے اڈوانی نے کہاکہ یہ پھر ہو سکتا ہے بھلے ہی ملک کو آئینی تحفظ حاصل ہےمگر۲۰۱۵ء میں بھی تحفظاتی انتظامات کافی نہیں ہیں، میں نہیں سمجھتا کہ ایمرجنسی کے دور کے بعد ایسا کچھ کیا گیا ہو جس سے مجھے یہ یقین ہو سکے کہ شہری آزادی سے پھرکبھی چھیڑچھاڑنہیں کی جاسکتی حالانکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ کوئی آسانی سے نہیں کر سکتا لیکن یہ پھر بھی یہ ناممکن نہیں ہے ۔میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ اصل حقوق اورشہری آزادی میں پھر سے کٹوتی کر دی گئی ہے۔اگرچہ اڈوانی نے کہا کہ یہ ممکن ہے کہ ایک ایمرجنسی ہندوستان کو دوسرے ایمرجنسی سے بچا سکتی ہے۔ جرمنی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہٹلر کی حکومت کی وجہ سے آج جرمنی میں شاید برطانیہ سے بھی زیادہ جمہوری حقوق کے تئیں بیداری ہے۔ ہندوستان میںایمرجنسی کے بعد انتخاب ہوا اور اس میں جس پارٹی نے ایمرجنسی تھوپی تھی اس کی بری طرح سے ہار ہوئی اور یہ مستقبل کے حکمرانوں کے لئے ڈرانے والا ثابت ہوا کہ اسے دوہرایا گیا تو منہ کی کھانی پڑے گی۔ انہوں نےمیڈیا کوانتہائی طاقتور بتاتےہوئے کہاکہ یہ جمہوریت اور شہری حقوق کی حفاظت اوربحالی کیلئے بھی پر عزم ہے اس کا مجھے پتہ نہیں اس لئے اس کی جانچ ہونی چاہئے۔
لال کرشن اڈوانی کےذریعہ اپنے انٹرومیں ظاہر کئے گئے خدشات کے بعد سوشل میڈیا اورسیاسی حلقوںمیں گرماگرم بچت شروع ہوگئی ۔بی جے پی کے ترجمان ایم جے اکبرنے اڈوانی کے بیان پر ردعمل کا ظہارکرتےہوئے کہاکہ’ اڈوانی کسی شخص کا نہیں بلکہ اداروں کی بات کر رہے تھے۔وہ کسی ادارے کی طرف اشارہ کر رہے تھے ان کا اشارہ کسی شخص کی طرف نہیں تھا ،میں نہیں سمجھتا کہ ملک میں ایمرجنسی جیسی کسی صورت کا کوئی امکان ہے۔لیکن مخالف جماعتیں بی جے پی کی صفائی سے مطمئن نہیں ہیں اور وہ اڈوانی کے انٹرویو کو مودی اور ان کی حکومت سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں جوحقیقت ہے ۔دہلی کے وزیراعلیٰ اروندکیجریوال نے اڈوانی کے بیان کی حمایت کرتےہوئے دہلی حکومت اورمرکزکے ٹکرائوکوایمرجنسی کی ابتداسے تعبیرکیاجبکہ عام آدمی پارٹی کےترجمان آشوتوش نے کہا کہ اڈوانی کا انٹرویو مودی کی سیاست پر پہلا کلنک ہے ،وہ یہ کہہ رہے ہیں مودی کی قیادت میں جمہوریت محفوظ نہیں ہے جس کی وجہ سے ایمرجنسی زیادہ دور نہیں ہے۔ ایک ٹویٹ میں آشوتوش نے کہا کہ جب مودی کو وزیر اعظم کے عہدے کاامیدواربنایا جا رہا تھا تو اڈوانی نے اپنے بلاگ میں مسولنی اور ہٹلر کا ذکر کیا تھا۔ اڈوانی نے اس وقت کہا تھا کہ بی جے پی مکھرجی، اٹل، دین دیال اپادھیائے کے آدرشوں سے دور ہٹ گئی ہےجبکہ نتیش کمار نے کہا کہ اڈوانی ملک کے سب سے سینئر رہنماؤں میں سے ایک ہیں اگر انہوںنے اس سنگین خدشہ کااظہارکیاہے تو سب کو اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہےہم لوگ تو جھیل ہی رہے ہیںاورکے سی تیاگی نے ملک میں ایمرجنسی کے امکانات موجودہونے کا دعویٰ کرتےہوئے کہاکہ جن وجوہات کی بنا پر ایمرجنسی لگی تھی وہ اب بھی ختم نہیں ہوئے ہیں۔بہرحال اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک کی موجودہ صورتحال جمہوری پیمانے پرکھری نہیں اتررہی ہے ۔شخصی آزادی کی پامالی کے ساتھ ساتھ قومی یکجہتی کی اجتماعی قوت کو بے دردی کے ساتھ کچلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔بے گناہوںکے خون سے دامن رنگنے والے افرادعدالت سے رہاہوہےہیں اورانہیں عہدہ پر براجمان کیاجارہاہے۔ ملک کے کسانوںکوخدااورکارپوریٹ سیکٹرکے حوالے کیاجارہاہے۔مذہب کی بنیادپر کھینچی جانے والی نفرت کی لکیرکی اتنی موٹی ہوگئی ہے کہ مسلمانوں کونوکری دینے سے بھی اعلانیہ گریزکیاجانے لگاہے ۔کیایہ وہی عوامل نہیں ہیں جس کی بنیادپرکسی ملک کی جمہوریت کمزورہوجاتی ہے وہاں ایمرجنسی جیسے حالات پیداہوتےہیں۔
ملک کے اقتدارپرنریندرمودی کے قابض ہوتےہی جیسے گنگاجمنی تہذیب کونظربدلگ گئی ۔بی جے پی کے چھوٹے بڑے نیتا بے لگام ہوگئے پھربیان بازی کا ایساسلسلہ دارز ہواکہ ہندوستانی جمہوریت کا اثاثہ سمجھی جانے والی کثرت میں وحدت کی تاریخ دھندلی پڑنے لگی ۔مسجدوںاورکلیساؤں پر حملے ہونے لگے اوران کی بے حرمتی کی جانے لگی ۔یوپی اے کے دوراقتدارمیں بدعنوانی سے پریشان عوام اچھے دنوںکی آس لگائے بیٹھے تھے لیکن یہ کیا اقتدارکاچسکالگتے ہی ملکی ترقی ،جمہوری اقداراورعوامی فلاح وبہبودکی بجائے مودی حکومت کی پوری ٹیم کی توجہ عوام کے جمہوری حقوق کوسلب کرنےاورایک مخصوص نظریات کوتھوپنے پرمرکوز ہوگئی ۔بی جے پی کےایم پی یوگی ناتھ آدتیہ ،شاکشی مہاراج اور سادھوی پراچی اور دوسرے لیڈروںکے زہرمیں بجھے ہوئے بیانات ابھی عوام کے ذہن سے محونہیں ہوئے ہوںگے ۔کل تک کانگریس کے دوراقتدارمیں عوامی حقوق کوغصب کرنے اور ملکی مفاد سے سمجھوتہ سمیت کسانوںکی بھلائی کیلئے کچھ نہ کرنے کا سنگین الزام لگاکراقتدارکی کرسی پربراجمان ہونے والی این ڈی اے حکومت کی ایک سالہ کارگردگی کا جائزہ لینے کے بعد مایوسی کی افسوسناک تصویرسامنے آتی ہے۔ دومرتبہ تحویل اراضی بل لاکرکسانوں کی زمین کوکارپوریٹ گھرانوںکے حوالے کرنے کاجوکھیل کھیلاجارہاہے اسے ماہرین نے کسانوںکوخودکشی پرمجبورکرنے والا اقدام قراردیاہے خودمودی حکومت کے لیڈران بھی کچھ دبے لفظوں میں اورتوکچھ نے واضح طورپراس کی مخالفت کرنے کی جرأت کی ہے لیکن اسے مودی حکومت کےپس پردہ کام کرنے والی لابی نے نقارخانے میں طوطی کی آواز ثابت کردیا،اس کے پردہ عوام کے بارے میں ماہرین کئی سنگین خدشات کا عندیہ ظاہرکررہےہیں۔ مودی حکومت اوران کے وزراء کویہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ہندوستان ایک کثیرالمذاہب آبادی کاملک ہے اورکثرت میں وحدت ہی اس کی اصل خوبصورتی ہے ۔اگراسے نقصان پہنچاتوہندوستان میںجوکچھ بچے گا اس میں صرف نفرت ،عداوت اوررشہ کشی ہوگی پھر اس کا لازمی نتیجہ خانہ جنگی کی صورت میں سامنے آئے گا۔وزیراعظم نریندرمودی کوہرحال میں یہ یادرکھنا ہوگاکہ وہ آرایس ایس کے پرچارک بعدمیں ہیں پہلے ہندوستان کے وزیراعظم ہیں اس لئے انہیںملکی اقدارکی حفاظت ،شہری آزادی اور عوامی حقوق کاتحفظ بہرحال مقدم رکھنا ہوگا۔بڑی خدالگتی بات اپنے دورۂ ہندوستان کے موقع پر امریکی صدرباراک اوبامہ نے کہی تھی۔ابامہ کی اس نصیحت کوبھلانا ہندوستان کی جمہوریت کیلئے نقصان دہ ثابت ہوگا ۔