فیصل شہزاد
|
یہ اردو زبان کی وسعت قلبی ہے کہ بہت سی دوسری زبانوں کے الفاظ اپنے اندر یوں سمو لیتی ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لفظ اردو ہی کا ہے۔ اردو زبان میں عربی، فارسی اور ہندی کے الفاظ بکثرت مستعمل ہوتے ہیں، لیکن انگریزی زبان کا معاملہ ذرا مختلف ہے۔ اردو میں انگریزی الفاظ کی پیوندکاری آج تک بار نہیں پا سکی.... بات کہیں اور نکل گئی ہم اردو میں املا کی غلطیوں کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہتے تھے، آج کل اردو تحریر میں املا کی غلطیاں بہت عام ہیں کچھ لوگ تو جانتے ہی نہیں کہ وہ کہاں غلطی کررہے ہیں اور کچھ لوگ احتیاط سے کام نہیں لیتے۔ حالانکہ املا کی صحت نہایت ضروری ہے اس لئے کہ املا کی غلطی سے بعض اوقات عبارت کا مطلب کچھ کا کچھ ہوجاتا ہے۔ مثلاً ایک لفظ ہے ”خاصا“ جس کے معنی ہیں ”امراء و سلاطین کا کھانا“ اگر الف کی بجائے ”ہ“ سے لکھا جائے تو خاصہ پڑھا جائے گا جو خاصیت کے معنی میں آتا ہے۔ |
--
پونہ میں ہندوراشٹر سینا کےغنڈوں کے ہاتھوں شہید ہونےوالا نوجوان محسن شیخ۔درجہ زیل لنک پڑھئے
http://www.siasat.com/english/news/appeal-help-shaheed-mohsin-family
|
|
|
|
|
فیصل شہزاد صاحب کا مضمون املا پر ایک مختصر مگر عمدہ اور معلوماتی تحریر ہے- اسی طرح رشید احمد خان کا 'املا نامہ' بھی اور پروفیسر آسی ضیائی کی 'اچھی اردو" بھی، اصلاح زبان اور قواعد کے متعلق مختصر مگر بہترین تصانیف ہیں- خاکسار کے اس مراسلہ کا مقصد نقد و تبصرہ اور املا و صرف و نحو کی اہمیت سے انکار نہیں ہے بلکہ موجودہ برقی دور میں محرر کے متعلق چند اہم نقاط پرروشنی ڈالنا ہے جس سے وہ برسر پیکار ہوتا ہے.
اول، اس میں کو ئی دو رائے نہیں ہے کہ املا اور صرف و نحو کی ادب میں اہمیت مسلم ہے اور یہ بھی کہ برقی مراسلات میں اس کا وہ معیار باقی نہ رہا جو دور صریر خامہ سے خطاطی و طباعت تک نظر آتا تھا، جب افکار و قلم کے ساتھ املا اور صرف و نحو پر بھی محرر کی مکمل دسترس ہوا کرتی تھی، تحریر کی روانی کے ساتھ ہی تصحیح کا عمل بھی جاری رہتا تھا، بلکہ طباعت میں نظر ثانی کے بھی مراحل ہوا کرتے تھے جہاں باقی ماندہ تصحیح کو ممکن بنایا جاتا تھا... اب یہ برقی نستعلیقی دور ہے! رفتار اور مواصلاتی نظام اور تکنیک کی اپنی پیچیدگیاں بھی ہیں، تحریر کی تکمیل سے نظر ثانی تک سب کچھ ایک ہی مرحلہ میں طے کیا جاتا ہے- جہاں برقی دور نے محرر کے لئے بیشتر مراعات دی ہیں ونہیں محرر کی فطری صلاحیتوں پر قدغن بھی لگایا ہے- ایک قدرتی ماحول سے ایک مصنوعی ماحول میں منتقل ہونے کے بعد ادبی اصول و قواعد پر دسترس آتے آتے ہی آئے گی، ویسے بھی دیگر زبانوں کے مقابلے اردو زبان کے لئے برقی خطاطی، املا اور صرف و نحو کے ضروری لوازمات اور مناسب برقی برامج ابھی مکمل طور سے دستیاب بھی نہیں ہیں- ایک اچھا قا ری ہونے کے ناطے خاکسار کی یہ گزارش ہے کہ قارئین کرام کو برقی تحریر اور طباعت و کتابت کے فرق کو مد نظر رکھ کر مطالعہ کے شوق کو قائم رکھنا ہوگا-
دوم، محولہ بالا مضمون میں 'انگریزی الفاظ کی پیوند کاری" پرجو اشارہ کیا گیا ہے وہ ایک ضروری اور بحث طلب موضوع ہے- اردو میں انگریزی الفاظ کی پیوند کاری حالی و شبلی کے دور سے رائج ہے اور موضوع کی مناسبت کے تحت ادب میں معیوب نہیں سمجھی گئی- مولانا حالی کی تحریروں میں انگریزی الفاظ کا 'بے ساختہ' استعمال کیا گیا ہے مثلا انکے ایک مضمون سے یہ اقتباس ملاحظہ کریں .... "پولیٹیکل اکانومی کا یہ مسلم مسئلہ ہے کہ قدرتی پیداوار کی جس قدر مانگ ہوتی جاتی ہے اسی قدر اس کے بہم پہنچانے میں زیادہ لاگت اور زیادہ محنت صرف ہو تی ہے....." مولانا کے پاس "پولیٹیکل اکانومی" کا اردو متبادل بے شک موجود ہوگا اور تحریر کے وقت ان کے افکار و قلم کی دسترس میں بھی رہا ہوگا بلکہ نظر ثانی کے دوران بھی، اور اس سے کسی بھی ذی علم کو انکار نہیں ہوگا- عموما افکار و تحریر کی روانی، سلاست، اسلوب اور الفاظ کی رکھ رکھائی کے ساتھ اہل قلم سمجھوتہ کرنے میں عار محسوس کرتے ہیں، اور وہ عام فہم اور مروجہ خارجی اصطلاحات جو ان عناصر اور موضوع سے میل کھاتی ہیں انہیں استعمال کرنا ضروری سمجھتے ہیں، اور غیر مروجہ متبادل الفاظ کا استعمال غیر ضروری سمجھتے ہیں- یہ وہ معاملات ہیں جو ہرایک محرر بہتر سمجھ سکتا ہے اور ایک پیشہ ور تنقید نگار بھی، جو خود ایک معیاری مصنف اور ایک بہترین قاری بھی ہوتا ہے-ضروری نہیں کہ ہر قاری اور ہر محرر ایک اچھا تنقید نگار بھی ہو-
اردو ادب کاا یک المیہ یہ بھی ہے کہ مغرب کی تقلید میں تنقید نگاری کا فن اصول و قواعد کی تنقیص اور افہام و تفہیم تک محدود کر دیا گیا ہے اور معاشرہ پر تحریر کے منفی و مثبت اثرات و نتائج کے پہلووں پر تنقید کو شجر ممنوعہ سمجھا گیا ہے- پیوند کاری کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اگر یہ تحریر کے لوازمات سے میل کھاتی ہے اور تحریر میں عیب پیدا نہیں کرتی ہے تو اس کی قبولیت میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے... اکثر خارجی اصطلاحات کچھ یوں رواج پا جاتی ہیں کہ داخلی متبادل میں وہ کشش باقی نہیں رہتی، بلکہ داخلی متبادل تحریر کی روانی اور سلاست میں رخنہ ڈالنے کا باعث ہوسکتے ہیں اور عام قاری کے ادراک و فہم کو تکلیف دینے کا بھی، اور شعوری یا لا شعوری طور پر کوئی بھی محرر یہ کبھی نہیں چاہتا- جب پیوند کاری تحریر پر بوجھ بن جاتی ہے تو تحریر کا حسن خود بخود ختم ہوجاتا ہے اور اکثر محرر کو اس کا احساس بھی ہوجاتا ہے، دوران تحریر نہیں ہوپاتا تو دوران نظرثانی ضرور ہوتا ہے اور وہ اسے تحریر سے حدف کرنے میں اک لمحہ بھی نہیں لیتا- حالی شبلی، نذیر، آزاد، سرور سے عینی، احتشام، انتظار، عسکری اورعطا تک بے شمار جید ادبا ہیں جنہوں نے اپنی تحریر میں انگریزی کے مناسب الفاظ اور اصطلاحات کا بر محل استعمال کیا ہے، اسی طرح انگریزی ادب میں بھی ایسے ہزاروں ادبا ہیں جنہوں نے انگریزی متبادل الفاظ کی موجودگی میں جرمن اور فرانسیسی ادب کی اصطلاحات اور الفاظ کا برمحل استعمال کرنے سے گریز نہیں کیا-
خاکسار
زبیر
--
بہت خوب.... مگر مزید یہ یاد رہے کہ املا مذکر ہے مونٹ نہیں . چاہیے لیے لکھیے دیے دیجیے لکھنا چاہیے نہ کہ چاہئے لئے دیئے لکھئے دیجئے وغیرہ یہ تمام الفاظ غلط ہیں
--
http://urducouncil.nic.in/E_Library/Urdu-Duniya-November-2014.pdf
www.urduaudio.com
http://hudafoundation.org/
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.
|
This email has been checked for viruses by Avast antivirus software.
|
ایک مفید مضمون ہے ،ایسے مضامین بزم میں شائع ہوتے رہنے چاہئیں ۔ لیکن یہ بات ذہن میں رہے کہ اردو کی ساخت کچھ ایسی بنی ہے
کہ اس میں املا کے قواعد عموما سماعی نوعیت کے ہوگئے ہیں ۔ اس کے بہت سے قواعد میں عموما استثناء پایا جاتا ہے ۔
یہ کہنا کہ جس زبان سے یہ لفظ لیا گیا ہے اردو میں بھی اسی کے مطابق لکھا جائے اردو کے ساتھ زیادتی ہے ۔
مضمون نگار نے خوبصورت انداز سے اس کی نشاندہی کی ہے ۔ گذشتہ دنوں اردو کے بعض نعت خواں حضرات
عربی قواعد تجوید کے اہتمام میں غلو سے کام لے رہے ہیں اس سے سماعت پر تصنع کا بوجھ محسوس ہوتا ہے۔
شکریہ

Abdul Mateen Muniri
WhatsApp Group: 00919008175269
--
--
http://urducouncil.nic.in/E_Library/Urdu-Duniya-November-2014.pdf
www.urduaudio.com
http://hudafoundation.org/
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.
حضرات، نہ کوئی رسید نہ جواب، غریب کی کوئی شنوائی نہیں، اتنی قیمتی معلومات پر ڈاکٹری کی اعزازی ڈگری بهی دی جا سکتی ہے، لیکن یہاں تو کوئی سن ہی نہیں رها. یقین کیجئے کل موبائل میں آده گهنٹے سے اوپر لگا یہ سب لکهنے میں.
:)
بہرحال، بات کو مزید بیان کرتا ہوں، زبر کی بات گزر چکی، اب یہ جو حروف ہیں مثلا کہ، یہ وغیرہ یہ ایک حرفی ہیں اور ان پر زیر ہے، پس یہی بتانے کیلئے کہ ان پر حرکت ہے ہ بڑها دی گئی ہے. پس جب بهی ه سے پہلے محض حرکت ہو گی تو اسے ه ہی لکهیں گے لیکن پڑهتے ہوئے حرکت پر اکتفا کریں گے ه یا الف ادا نہیں کریں گے، اور جب بعد میں پورا الف ہو تو اسے الف سے ہی لکهیں گے اور پورا پڑهیں گے. لیکن یاد رہے کہ ه کبهی لفظ کا حصہ ہو گی تب پوری ادا ہو گی مثل -میں کہ رها تها - میں ہ کو بهی ادا کریں گے. جب ماہرین الفاظ ادا کریں تو غور کریں تاکہ صحیح املا معلوم ہو.
لیکن غریب کی سنتا کون ہے
:)
Sent from Gmail on Galaxy Note 10.1