اردو کی درست املا

1,350 views
Skip to first unread message

abrar ahmed

unread,
Jun 14, 2014, 4:34:15 AM6/14/14
to bazme...@googlegroups.com

اردو کی درست املا


فیصل شہزاد

یہ اردو زبان کی وسعت قلبی ہے کہ بہت سی دوسری زبانوں کے الفاظ اپنے اندر یوں سمو لیتی ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لفظ اردو ہی کا ہے۔ اردو زبان میں عربی، فارسی اور ہندی کے الفاظ بکثرت مستعمل ہوتے ہیں، لیکن انگریزی زبان کا معاملہ ذرا مختلف ہے۔ اردو میں انگریزی الفاظ کی پیوندکاری آج تک بار نہیں پا سکی.... بات کہیں اور نکل گئی ہم اردو میں املا کی غلطیوں کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہتے تھے، آج کل اردو تحریر میں املا کی غلطیاں بہت عام ہیں کچھ لوگ تو جانتے ہی نہیں کہ وہ کہاں غلطی کررہے ہیں اور کچھ لوگ احتیاط سے کام نہیں لیتے۔ حالانکہ املا کی صحت نہایت ضروری ہے اس لئے کہ املا کی غلطی سے بعض اوقات عبارت کا مطلب کچھ کا کچھ ہوجاتا ہے۔ مثلاً ایک لفظ ہے ”خاصا“ جس کے معنی ہیں ”امراء و سلاطین کا کھانا“ اگر الف کی بجائے ”ہ“ سے لکھا جائے تو خاصہ پڑھا جائے گا جو خاصیت کے معنی میں آتا ہے۔ 

جہاں تک ممکن ہو تحریر کرتے وقت، خط لکھتے وقت قواعد املا کا لحاظ رکھنا چاہئے۔ املا کے بعض قاعدے یہ ہیں:
۱۔ دھوکا، بھروسا، چکما وغیرہ جتنے ہندی الفاظ ہیں ان سب کے آخر میں الف ہے ”ہ“ نہیں اس لئے انہیں دھوکہ، بھروسہ، چکمہ وغیرہ لکھنا غلط ہے۔
۲۔ اصل لفظ ”پروا“ ہے پرواہ نہیں، اس کے آخر میں ”ہ“ نہیں لکھنی چاہئے۔
۳۔ نون غنّہ جب لفظ کے آخر میں آئے تو اس میں نقطہ نہیں لگانا چاہئے اور اگر بیچ میں آئے تو اس پر الٹا جزم لگانا چاہئے۔
۴۔ یائے معروف کو گول (ی) لکھنا چاہئے جیسے گولی اور یائے مجہول کو لمبی (ے) سے تحریر کرنا چاہئے جیسے گولے لیکن جب کسی لفظ کے درمیان آئے تو اس سے پہلے حرف کے نیچے زیر یا زبر لگانا چاہئے جیسے تِیر، تَیرنا۔
۵۔ جو حرف واﺅ معروف سے پہلے ہو، اس پر پیش ( ُ) ضرور لگانا چاہئے جیسے طُور، حُور، نُور وغیرہ۔
۶۔ وہ عربی الفاظ جن کے آخر میں ہمزہ آتا ہے، وہ الفاظ اردو میں ہمزے کے بغیر لکھے جاتے ہیں جیسے انبیا، اولیا، ادبا، دعا وغیرہ مگر مضاف ہونے کی صورت میں ہمزہ لکھا جائے گا جیسے اولیاء کرام۔
۷۔ چودھری کو بعض لوگ چوہدری لکھتے ہیں یہ غلط ہے، صحیح املا چودھری ہے۔
۸۔ معمّا کو تقریباً سب ہی لوگ معمّہ ہی لکھتے ہیں جو غلط ہے، صحیح لفظ معمّا ہے۔
۹۔ عربی الفاظ کی تانیث عموماً آخر میں ”ہ“ بڑھانے سے بنتی ہے جو اردو میں ”ہ“ پڑھی جاتی ہے جیسے سلیم سے سلیمہ، سلطان سے سلطانہ، عاقل سے عاقلہ وغیرہ، لیکن ہندی یا فارسی الفاظ کی تانیث میں یہ قاعدہ برتنا غلط ہے جیسے خورشید سے خورشیدہ، ہمشیر سے ہمشیرہ، خورشید اور ہمشیر ہی صحیح لفظ ہیں، بعض لوگ بھاوج کو بھاوجہ بھی کہہ دیتے ہیں حالانکہ بھاوج خود مؤنث ہے

http://m.hamariweb.com/articles/detail.aspx?id=11943

Mukarram Niyaz

unread,
Jun 14, 2014, 5:21:35 AM6/14/14
to bazmeqalam
مضمون کہیں پڑھا ہوا لگتا ہے۔
ویسے اس ضمن میں رشید حسن خان کا "املا نامہ" (مرتب: گوپی چند نارنگ) بہترین مقالہ ہے۔
یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے :

http://kitaben.urdulibrary.org/Pages/ImlaNamah.html




--
پونہ میں ہندوراشٹر سینا کےغنڈوں کے ہاتھوں شہید ہونےوالا نوجوان محسن شیخ۔درجہ زیل لنک پڑھئے
http://www.siasat.com/english/news/appeal-help-shaheed-mohsin-family



--
Syed Mukarram Niyaz
www.taemeer.com|https://www.facebook.com/taemeer|http://twitter.com/taemeer|https://plus.google.com/+MukarramNiyaz|http://www.youtube.com/user/taemeer|http://www.pinterest.com/taemeer/
www.taemeernews.com : the very 1st daily Urdu News searchable web portal on the net
www.urdukidzcartoon.com : the very 1st Urdu cartoon/comics project on the net

SaLMaN FaiSaL

unread,
Jun 14, 2014, 10:27:26 AM6/14/14
to abrar ahmed, bazme...@googlegroups.com
اردو کی درست املا
یا
اردو کادرست املا

shaikh hussain

unread,
Jun 14, 2014, 10:55:22 PM6/14/14
to BAZMe...@googlegroups.com, abrar ahmed
آپ نے بر وقت تصحیح فرمائ ہے
 
Dr. Sikandar Hussain
Prof physiology and HOD, Dr. V.R.K. Women's medical college, Hyd
Ex Vice Principal, Deccan College of Medical Sciences, Hyderabad
Ex Associate Professor ,Tabriz Medical College,Islamic Republic Iran.
Ex Professor Physiology, Qaseem Medical College, Saudi Arabia

Mob: 08712737913

Mukarram Niyaz

unread,
Jun 15, 2014, 1:13:41 AM6/15/14
to bazmeqalam
لغت میں املا کو مونث ہی قرار دیا گیا ہے !!

Zubair H Shaikh

unread,
Jun 15, 2014, 5:00:03 AM6/15/14
to BAZMe...@googlegroups.com

فیصل شہزاد صاحب کا مضمون   املا پر ایک مختصر مگر عمدہ اور معلوماتی تحریر ہے- اسی طرح رشید احمد خان کا 'املا نامہ' بھی اور پروفیسر آسی ضیائی کی 'اچھی اردو" بھی،   اصلاح زبان اور قواعد کے متعلق مختصر مگر بہترین تصانیف ہیں-  خاکسار کے اس مراسلہ کا مقصد نقد و تبصرہ اور املا  و صرف و نحو  کی اہمیت سے انکار نہیں ہے بلکہ موجودہ برقی دور میں محرر کے متعلق چند اہم نقاط پرروشنی ڈالنا ہے جس سے وہ برسر پیکار  ہوتا ہے.

 

اول،  اس میں کو ئی دو رائے نہیں ہے کہ املا اور صرف و نحو کی ادب میں اہمیت مسلم ہے اور یہ بھی کہ برقی مراسلات میں اس کا وہ معیار باقی نہ رہا جو دور صریر خامہ سے خطاطی و طباعت تک نظر آتا تھا، جب افکار و قلم کے ساتھ املا اور صرف و نحو پر بھی محرر کی مکمل دسترس ہوا کرتی تھی،  تحریر کی روانی کے ساتھ ہی تصحیح کا عمل بھی جاری رہتا تھا، بلکہ طباعت میں نظر ثانی کے بھی مراحل ہوا کرتے تھے جہاں باقی ماندہ تصحیح کو ممکن بنایا جاتا تھا... اب یہ برقی نستعلیقی دور ہے!        رفتار اور مواصلاتی نظام اور  تکنیک کی اپنی پیچیدگیاں بھی ہیں، تحریر کی تکمیل سے نظر ثانی تک سب کچھ ایک ہی مرحلہ میں طے کیا جاتا ہے-  جہاں برقی دور نے محرر کے لئے بیشتر  مراعات دی ہیں ونہیں محرر کی فطری صلاحیتوں پر قدغن بھی لگایا ہے-  ایک قدرتی ماحول سے ایک مصنوعی ماحول میں منتقل ہونے کے بعد ادبی اصول و قواعد پر دسترس آتے آتے ہی آئے گی، ویسے بھی دیگر زبانوں کے مقابلے اردو زبان کے لئے برقی خطاطی، املا اور صرف و  نحو  کے ضروری لوازمات اور مناسب برقی برامج ابھی مکمل طور سے دستیاب بھی نہیں ہیں-   ایک اچھا قا ری ہونے کے ناطے  خاکسار  کی یہ گزارش ہے کہ  قارئین کرام کو برقی تحریر اور طباعت و کتابت  کے فرق کو مد نظر رکھ کر مطالعہ کے شوق کو قائم رکھنا ہوگا-     

 

دوم،  محولہ  بالا مضمون میں 'انگریزی الفاظ کی پیوند کاری" پرجو اشارہ  کیا گیا ہے  وہ ایک  ضروری  اور   بحث طلب موضوع  ہے-   اردو میں انگریزی الفاظ کی پیوند کاری حالی و شبلی کے دور سے رائج ہے اور موضوع  کی  مناسبت   کے تحت ادب میں معیوب نہیں سمجھی گئی- مولانا حالی کی تحریروں میں انگریزی  الفاظ کا 'بے ساختہ' استعمال کیا گیا ہے مثلا انکے ایک مضمون سے یہ اقتباس ملاحظہ کریں .... "پولیٹیکل اکانومی کا یہ مسلم مسئلہ ہے کہ قدرتی پیداوار کی جس قدر مانگ ہوتی جاتی ہے اسی قدر اس کے بہم پہنچانے میں زیادہ لاگت اور زیادہ محنت صرف ہو تی ہے....." مولانا کے پاس "پولیٹیکل اکانومی" کا اردو متبادل بے شک موجود ہوگا اور تحریر کے وقت ان کے افکار و قلم کی دسترس میں بھی رہا ہوگا بلکہ نظر ثانی کے دوران بھی، اور اس سے کسی بھی ذی علم کو انکار نہیں ہوگا-  عموما افکار و تحریر کی روانی،  سلاست، اسلوب اور الفاظ کی رکھ رکھائی  کے ساتھ اہل قلم سمجھوتہ کرنے میں عار محسوس کرتے ہیں،  اور وہ عام فہم اور مروجہ خارجی اصطلاحات جو ان عناصر اور موضوع سے میل کھاتی ہیں انہیں استعمال کرنا ضروری سمجھتے ہیں، اور غیر مروجہ متبادل الفاظ کا استعمال غیر ضروری سمجھتے ہیں-  یہ وہ معاملات ہیں جو ہرایک محرر بہتر سمجھ سکتا ہے اور ایک پیشہ ور تنقید نگار بھی،   جو خود ایک معیاری مصنف اور ایک بہترین قاری بھی ہوتا ہے-ضروری نہیں کہ ہر قاری اور ہر محرر ایک اچھا تنقید نگار بھی ہو- 

 

 اردو ادب کاا  یک المیہ یہ بھی  ہے کہ مغرب کی تقلید   میں    تنقید نگاری کا فن اصول و قواعد کی تنقیص اور افہام و تفہیم    تک محدود کر دیا گیا ہے اور معاشرہ پر تحریر کے منفی و مثبت اثرات و نتائج کے پہلووں پر تنقید کو شجر ممنوعہ سمجھا گیا ہے-  پیوند کاری کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اگر یہ تحریر کے لوازمات سے میل کھاتی ہے اور تحریر میں عیب پیدا نہیں کرتی ہے تو اس کی قبولیت میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے... اکثر خارجی اصطلاحات کچھ یوں رواج پا جاتی ہیں کہ  داخلی    متبادل میں وہ کشش باقی نہیں رہتی، بلکہ  داخلی متبادل تحریر کی روانی اور سلاست میں رخنہ ڈالنے کا باعث ہوسکتے   ہیں   اور عام قاری کے ادراک و فہم کو تکلیف دینے کا بھی، اور شعوری یا لا شعوری طور پر کوئی بھی محرر یہ کبھی نہیں چاہتا-  جب پیوند کاری تحریر پر بوجھ بن جاتی ہے تو تحریر کا حسن خود بخود ختم ہوجاتا ہے اور اکثر محرر کو اس کا احساس بھی ہوجاتا ہے، دوران تحریر نہیں ہوپاتا تو دوران نظرثانی ضرور ہوتا ہے اور وہ اسے تحریر سے حدف کرنے میں اک لمحہ بھی نہیں لیتا- حالی شبلی، نذیر،  آزاد، سرور سے عینی، احتشام، انتظار، عسکری اورعطا  تک بے شمار جید ادبا ہیں جنہوں نے اپنی تحریر میں انگریزی کے مناسب الفاظ اور اصطلاحات کا بر محل استعمال کیا ہے، اسی طرح انگریزی ادب میں بھی ایسے ہزاروں ادبا ہیں جنہوں نے انگریزی متبادل الفاظ کی موجودگی میں جرمن اور فرانسیسی ادب کی اصطلاحات اور الفاظ کا برمحل استعمال کرنے سے گریز نہیں کیا-  

خاکسار 

زبیر

 









--

Muhammad Zaheer Quindeel

unread,
Jun 15, 2014, 1:52:49 PM6/15/14
to BAZMe...@googlegroups.com

بہت خوب.... مگر مزید یہ یاد رہے کہ املا مذکر ہے مونٹ نہیں . چاہیے لیے لکھیے دیے دیجیے لکھنا چاہیے نہ کہ چاہئے لئے دیئے لکھئے دیجئے وغیرہ یہ تمام الفاظ غلط ہیں

abul naghmi

unread,
Jun 16, 2014, 9:05:03 AM6/16/14
to BAZMe...@googlegroups.com
AZIZ-E-MOHTARAM


Aapka mauzoo nehayat umda hae.Aapnay : URDU KI IMLA " LEKHA HAE. IMLA MOZAKKAR MOANNAS NAHIN HAE. URDU KA IMLA " DUROST HAE. 

                                                                                                                                                                                                                           DOAGO Naghmi






















shakila rafiq

unread,
Jun 22, 2014, 12:52:50 PM6/22/14
to bazme...@googlegroups.com
thanx Nghmi sb


Date: Mon, 16 Jun 2014 09:04:46 -0400
Subject: Re: [بزم قلم:36524] اردو کی درست املا
From: 786...@gmail.com
To: BAZMe...@googlegroups.com

abrar ahmed

unread,
Dec 15, 2014, 4:34:11 AM12/15/14
to bazme...@googlegroups.com

Maqsood Sheikh

unread,
Dec 15, 2014, 4:43:09 AM12/15/14
to BAZMe...@googlegroups.com
ابرار صاحب
آپ کے خط کی افادیت کو سراہتا ہوں اور تائید کرتا ہوں ۔ آپ نے بہت اچھا کیا کہ اراکیں بزم کی توجہ اس جانب منبذول کرائی ۔ میں خود اب تک بھروسہ لکھتا تھا ۔ اب بھروسا لکھوں گا ۔ شکریہ ۔
مقصود ۔
--
http://urducouncil.nic.in/E_Library/Urdu-Duniya-November-2014.pdf
www.urduaudio.com
http://hudafoundation.org/
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.




This email has been checked for viruses by Avast antivirus software.
www.avast.com


Muhammad Zaheer Quindeel

unread,
Dec 15, 2014, 9:38:04 AM12/15/14
to Bazm e Qalam
آپ نے بہت اچھی اور مفید باتیں کی ہیں لیکن لفظ املا مذکر ہے مونث نہیں

--
M.Zaheer Quindeel,
Head of Urdu Deptt.
Cadet College,Hasanabdal.
0346-5209131
057-2520477

Abdul Mateen Muniri

unread,
Dec 15, 2014, 9:49:01 AM12/15/14
to BAZMe...@googlegroups.com

ایک مفید مضمون ہے ،ایسے مضامین بزم میں شائع ہوتے رہنے چاہئیں ۔ لیکن یہ بات ذہن میں رہے کہ اردو کی ساخت کچھ ایسی بنی ہے

کہ اس میں املا کے قواعد عموما سماعی نوعیت کے ہوگئے ہیں ۔ اس کے بہت سے قواعد میں عموما استثناء پایا جاتا ہے ۔

یہ کہنا کہ جس زبان سے یہ لفظ لیا گیا ہے اردو میں بھی اسی کے مطابق لکھا جائے اردو کے ساتھ زیادتی ہے ۔

مضمون نگار نے خوبصورت انداز سے اس کی نشاندہی کی ہے ۔ گذشتہ دنوں اردو کے بعض نعت خواں حضرات

عربی قواعد تجوید کے اہتمام میں غلو سے کام لے رہے ہیں اس سے سماعت پر تصنع کا بوجھ محسوس ہوتا ہے۔

شکریہ

 

Description: Muniri Kufi Small

Abdul Mateen Muniri

www.urduaudio.com

ammu...@gmail.com

WhatsApp Group: 00919008175269

image001.jpg

Sher Suleman

unread,
Dec 15, 2014, 12:16:03 PM12/15/14
to BAZMe...@googlegroups.com
Barri imla ki darrusti hui..... Thank you. Sher Suleman

--

Shabbir Shad

unread,
Dec 15, 2014, 12:16:34 PM12/15/14
to BAZMe...@googlegroups.com
qimti malumat ke liye shukriya
--
Shabbir Shad(journalist)
Saharanpur
9897247100

Tanvir Aijaz Siddiqui

unread,
Dec 16, 2014, 2:35:55 AM12/16/14
to Bazm e Qalam
محترم  جناب  ابرار احمد  صاحب 
بہت اچھی  معلومات ہیں - شکریہ - اس پر جناب  رشید  حسن خاں یاد  آ گۓ جن کی شہرت دور دور تک پھیلی ہوئی تھی - سلسلہ جاری  رکھیں -

آپ کا 
تنویر 

--
http://urducouncil.nic.in/E_Library/Urdu-Duniya-November-2014.pdf
www.urduaudio.com
http://hudafoundation.org/
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "بزمِ قلم" group.
Visit this group at http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM.


--
Tanvir Aijaz Siddiqui
99244 00666/9979332786

Rana Humayun Rasheed

unread,
Dec 21, 2014, 2:49:44 PM12/21/14
to BAZMe...@googlegroups.com
جناب بہت عمدہ معلومات۔ یہ آپکی ماہرانہ رائے ہے یا کسی دلیل پہ مبنی ہے؟
ایک اور بات، چوہدری غالبا ایک ذات ہے اور چودہری گاؤں کے بڑے کو کہتے ہیں، اسی سے چودہراہٹ بھی ہے۔
الف اور ہ کے معاملے میں میں تھوڑی وسعت کا قائل ہوں جب تک التباس نہ ہو جیسے بچہ اور بچا، پتہ اور پتا۔ اس میں میری ایک رائے ہے کہ ہندی اور فارسی کے الفاظ آخر میں ساکن ہوتے ہیں بخلاف عربی کے، پس جس ہندی و فارسی کے آخر حرکت ہو وہاں ہ بڑھا دی جاتی ہے۔ اس رائے کا حاصل نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب حرکت کی حفاظت کیلئے ہ لگائی جائے تو یہاں ہ نہیں پڑہنی بلکہ آدھی سی زبر پڑھنی ہے اور اگر الف ہو تو پورا الف پڑہنا ہے۔ اسی سے دیکھا جا سکتا ہے کہ ماہرین اثنائے تکلم محض حرکت پر اکتفا کرتے ہیں یا پورا الف پڑھتے ہیں، مثلا چکمہ پڑھتے ہیں یا چکما، اسی سے پھر نقوش کا تعین کیا جا سکتا ہے۔
ہمایوں۔

Sent from Gmail by Outlook on Lumia

From: Abdul Mateen Muniri
Sent: ‎12/‎15/‎2014 5:48 PM
To: BAZMe...@googlegroups.com
Subject: RE: [بزم قلم:40765] Fwd: اردو کی درست املا

Humayun Rasheed

unread,
Dec 22, 2014, 9:50:06 AM12/22/14
to BAZMe...@googlegroups.com

حضرات، نہ کوئی رسید نہ جواب، غریب کی کوئی شنوائی نہیں، اتنی قیمتی معلومات پر ڈاکٹری کی اعزازی ڈگری بهی دی جا سکتی ہے، لیکن یہاں تو کوئی سن ہی نہیں رها. یقین کیجئے کل موبائل میں آده گهنٹے سے اوپر لگا یہ سب لکهنے میں.
:)
بہرحال، بات کو مزید بیان کرتا ہوں، زبر کی بات گزر چکی، اب یہ جو حروف ہیں مثلا کہ، یہ وغیرہ یہ ایک حرفی ہیں اور ان پر زیر ہے، پس یہی بتانے کیلئے کہ ان پر حرکت ہے ہ بڑها دی گئی ہے. پس جب بهی ه سے پہلے محض حرکت ہو گی تو اسے ه ہی لکهیں گے لیکن پڑهتے ہوئے حرکت پر اکتفا کریں گے ه یا الف ادا نہیں کریں گے، اور جب بعد میں پورا الف ہو تو اسے الف سے ہی لکهیں گے اور پورا پڑهیں گے. لیکن یاد رہے کہ ه کبهی لفظ کا حصہ ہو گی تب پوری ادا ہو گی مثل -میں کہ رها تها - میں ہ کو بهی ادا کریں گے. جب ماہرین الفاظ ادا کریں تو غور کریں تاکہ صحیح املا معلوم ہو.

لیکن غریب کی سنتا کون ہے
:)

Sent from Gmail on Galaxy Note 10.1

Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages