پسِ آئینہ: سہیل انجم
اسے مسلمانوں کے خلاف نفرت کی انتہا کہا جائے یا سیاسی مجبوری یا دماغی خلل یا پھر باہمی مقابلہ آرائی۔ بی جے پی کے تین وزرائے اعلیٰ اترپردیش کے یوگی آدتیہ ناتھ، آسام کے ہیمنت بسوا سرما اور اترااکھنڈ کے پشکر سنگھ دھامی کے بیانات اور اقدامات کو کس خانے میں رکھا جائے۔ اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ان کے بیانات و اقدامات ملک کے مفاد میں ہیں یا ان سے ملک کی سلامتی، قومی یکجہتی اور فرقہ وارانہ یگانگت کو کوئی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اترپردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت کے قیام کے بعد سے مسلمانوں، ان کے مدارس، ان کی عبادت گاہوں اور ان کے مذہبی مقامات کے خلاف جو اقدامات مسلسل ہو رہے ہیں ان پر ردعمل بھی ہو رہا ہے اور بہت کچھ لکھا اور پڑھا بھی جا رہا ہے۔ آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسواسرما اور اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کے بارے میں بھی کچھ نہ کچھ بلکہ بہت کچھ سامنے آتا رہتا ہے۔
لیکن اب آسام بی جے پی کے آفیشل ہینڈل سے جو متنازع، اشتعال انگیز اور قابل اعتراض ویڈیو جاری کی گئی تھی اور جسے اب ڈلیٹ کر دیا گیا ہے، اسے ہیٹ اسپیچ کی انتہا سمجھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ویڈیو آسام کے مسلمانوں کی مجوزہ نسل کشی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ قارئین اس بات سے واقف ہیں کہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کی گئی اس ویڈیو میں ہیمنت بسوا سرما کو دو مسلمانوں پر رائفل سے فائرنگ کرتے اور رائفل سے نکلی گولی ان کو لگتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔ اس ویڈیو پر زبردست احتجاج ہو رہا ہے۔ حالانکہ ٹی وی چینلوں پر بی جے پی کے ترجمان اس کا بالواسطہ دفاع کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے حیدر آباد کے ایک تھانے میں سرما کے خلاف شکایت درج کرائی ہے تو سول سوسائٹی کے ارکان کی جانب سے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا ہے۔ حالانکہ اس کی امید کم ہے کہ اس کا کوئی مثبت نتیجہ برآمد ہوگا اور سپریم کورٹ نے کوئی سخت تبصرہ کیا بھی یا کوئی ہدایت دی بھی تو اس کا کوئی اثر ہوگا۔ لیکن انسانی حقوق کے کارکنوں کا خیال ہے کہ کوئی مثبت نتیجہ نکلے یا نہ نکلے ایسے اقدامات و بیانات کے خلاف پولیس تھانوں میں رپورٹ درج کرائے جانے اور سپریم کورٹ میں عذرداری داخل کیے جانے کی ضرورت ہے۔ سرما کی مذکورہ ویڈیو سے قبل ’میاں‘ یعنی بنگلہ بھاشی مسلمانوں کے خلاف ان کے بیانات سرخیوں میں رہے ہیں۔ بالخصوص اس بیان پر کہ میاں لوگوں کو اتنا ستاو کہ وہ ریاست سے بھاگ جانے پر مجبور ہو جائیں اور اگر کوئی میاں رکشہ والا کرائے کے پانچ روپے مانگے تو اسے چار روپے دو، کافی ردعمل آچکا ہے۔ یاد رہے کہ سرما حکومت میں سیکڑوں مدارس کا یا تو انہدام ہو چکا ہے یا انھیں اسکولوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ مسلمانوں کے خلاف وہ یومیہ کوئی نہ کوئی بیان دیتے اور کوئی نہ کوئی آرڈر جاری کرتے رہتے ہیں۔ انھوں نے مسلمانوں پر لینڈ جہاد، لو جہاد، فرٹیلائزر جہاد اور سیلاب جہاد وغیرہ بے بنیاد الزامات لگائے ہیں۔
مذکورہ ویڈیو کے بارے میں جس کے تعلق سے سرما لا علمی کا اظہار کرتے ہیں، قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا خیال ہے کہ ویڈیو ڈلیٹ کیے جانے اور سرما کے لاعلمی کے اظہار کے باوجود یہ معاملہ ختم نہیں ہو جاتا۔ سوشل میڈیا پر جس طرح اس کی ترسیل و تشہیر ہوئی ہے اس سے ویڈیو تیار کرنے والوں کا مقصد حاصل ہو گیا۔ یہ ویڈیو دراصل ہیٹ اسپیچ کے زمرے میں آتی ہے لہٰذا سرما کے خلاف قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔ ویڈیو تیار کرنے والوں کی بھی شناخت اور ان کے خلاف کارروائی کی ضرورت ہے۔ ہیٹ اسپیچ کے زمرے میں صرف کسی انفرادی شخص کے اشتعال انگیز اور قابل اعتراض بیانات ہی نہیں آتے بلکہ جب کوئی وزیر اعلیٰ ایسا کرتا ہے اور میڈیا اس کی تشہیر کرتا ہے تو وہ معاملہ اور سنگین ہو جاتا ہے۔ اس سے آئین کی روح پر حملہ اور مساوات، عزت نفس اور فرقہ وارانہ یگانگت کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ آسام میں اسی سال اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ بی جے پی کو توقع ہے کہ وہ مسلسل تیسری بار حکومت بنائے گی۔ لیکن سرما صرف بی جے پی مخالف ووٹروں کے بکھراو ¿ پر ہی انحصار کرنا نہیں چاہتے بلکہ وہ مبینہ طور پر اقلیتوں کے ذہنوں میں خوف پیدا کرکے ریاست کے سماجی ماحول کو غیر یقینی بنانا چاہتے ہیں تاکہ ووٹوں کو اس انداز میں غول بند کیا جائے کہ وہ پھر کامیاب ہو کر وزیر اعلیٰ بن جائیں۔ سرما کے بیانات و اقدامات کا یہ ایک سیاسی پہلو ہے۔ اس کا آئینی، انتظامی، و قانونی پہلو بھی ہے۔ سپریم کورٹ اس قسم کے اقدامات کے خلاف سخت تبصرے کرتا بلکہ حکم بھی صادر کرتا رہا ہے۔ اس نے ہیٹ اسپیچ کو آئین پر حملے اور ایک فرقے کو الگ تھلگ کرنے سے تعبیر کیا ہے۔ اس نے اکتوبر 2022 میں ہیٹ اسپیچ کے خلاف سخت آرڈر جاری کیا تھا او رپولیس انتظامیہ کو ہدایت دی تھی کہ وہ ایسے معاملات میں باضابطہ شکایت کے انتظار کیے بغیر از خود رپورٹ درج کرے۔ ناکامی کی صورت میں اسے توہین عدالت سمجھا جائے گا۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ اور اس پر حیرت بھی نہیں ہونی چاہیے کہ پولیس انتظامیہ نے عدالت عظمیٰ کے اس حکم کو اِس کان سے سنا اور اُس کان سے نکال دیا۔ کیا بی جے پی کی حکومتوں میں کسی پولیس اہل کار میں اتنی جرات ہے کہ وہ وزرائے اعلیٰ کے خلاف رپورٹ درج کرے۔ وزرائے اعلیٰ کو تو چھوڑیے بجرنگ دل جیسی تنظیموں کے کارکنوں کی ہنگامہ آرائی اور اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے اقدامات کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔ از خود کارروائی تو بہت دور کی بات ہے اگر کوئی ان کے خلاف رپورٹ بھی درج کرانا چاہے تو پہلے آناکانی کی جاتی ہے اور اگر کسی دباو کی وجہ سے درج بھی کر لی جاتی ہے تو اسے ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا جاتا ہے، کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔
جہاں تک پشکر سنگھ دھامی کا معاملہ ہے تو وہ بھی لو جہاد اور لینڈ جہاد وغیرہ کی باتیں کرتے ہیں۔ ان کے ساڑھے چار سالہ دور حکومت میں سیکڑوں مدارس، مساجد اور مزار منہدم کیے جا چکے ہیں۔ دھامی حکومت کہتی ہے کہ یہ سب سرکاری زمین پر ناجائز قبضہ کرکے بنائے گئے تھے۔ دھامی نے گزشتہ دنوں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ لینڈ جہاد کے خلاف لڑائی جاری رکھیں گے۔ انھوں نے چمپاوت ضلع کے ٹنک پور قصبے میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہم کسی کو بھی اس کی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ اتراکھنڈ کی دیو بھومی میں آبادی کا تناسب بگاڑے۔ ہم نے250 غیر قانونی مدرسے سیل کیے اور 500غیر قانونی تعمیرات بلڈوز کی ہیں۔ میں نے سرکاری زمین کے 11 ہزار ایکڑ کو تجاوزات سے پاک کیا ہے۔ پشکر سنگھ دھامی کو بی جے پی کے حلقوں میں یوگی آدتیہ ناتھ کے مقابلے میں زمینی سطح پر ہندوتو کے ایجنڈے کو نافذ کرنے والے زیادہ سرگرم سیاست داں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ دھامی حکومت تبدیلی مذہب مخالف قانون اور یکساں سول کوڈ کے نفاذ کا قانون پہلے ہی منظور کر چکی ہے۔ گزشتہ دنوں کوٹ دوار میں جو واقعہ ہوا تھا اس میں شرپسندوں کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کے بجائے خود دیپک کمار کے خلاف رپورٹ درج کی جا چکی ہے جنھوں نے بجرنگ دل کے کارکنوں کی ہنگامہ آرائی کی مخالفت کی تھی۔ دھامی نے دیپک کے ذریعے اپنے نام کے آگے محمد لگانے کی بھی مخالفت کی اور اس قسم کے واقعات کے لیے کانگریس پارٹی کو ذمہ دار قرار دیا۔ وہ بھی مسلمانوں کے خلاف اکثر و بیشتر بیانات دیتے رہتے ہیں۔ اتراکھنڈ میں جس طرح مسلمانوں کے خلاف ماحول بنا دیا گیا ہے وہ انتہائی تشویشناک اور وہاں کے مسلمانوں کے لیے خطرناک ہے۔ حالانکہ وہاں غیر مسلموں کا ایک طبقہ ایسا ہے جو مسلم مخالف مہم کے خلاف ہے لیکن ان کی آواز سننے والا کوئی نہیں ہے۔
موبائل: 9818195929