یہ فیصلہ پولیس کو مضبوط اور عام شہریوں کی آزادی کو کمزور کرتا ہے: عبد الواحد شیخ

3 views
Skip to first unread message

Nehal Sagheer

unread,
Jan 19, 2026, 4:16:44 AM (5 days ago) Jan 19
to

یہ فیصلہ پولیس کو مضبوط اور عام شہریوں کی آزادی کو کمزور کرتا ہے: عبد الواحد شیخ

نو سال جیل میں گزارنے والے عبد الواحد شیخ نے عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت نہ دینے کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر گفتگو کی

 

نشٹھا سود

soodni...@gmail.com

عبد الواحد شیخ نے غلط قید و بند کے برسوں کی خاموش اذیت کو جھیلا ہے۔ ممبئی کے ایک سابق پرائمری اسکول ٹیچر، شیخ 2006 کے ممبئی لوکل ٹرین بم دھماکوں کے معاملے میں ملزم بنائے گئے 13 افراد میں شامل تھے۔ انہوں نے نو برس ہائی سکیورٹی جیل میں گزارے، اس سے پہلے کہ 2015 میں انہیں تمام الزامات سے بری کر دیا جائے۔ وہ ان 13 میں پہلے شخص تھے جنہیں رہائی ملی، جبکہ باقی 12 کو بھی ایک دہائی بعد بری کیا گیا۔ رہائی کے بعد، انہوں نے اپنے تجربے کو انصاف کی جدوجہد میں بدل دیا، اردو میں جیل ادب پر پی ایچ ڈی مکمل کی اور غلط طور پر قید کیے گئے افراد کی آواز بن کر ابھرے۔

اس گفتگو میں، شیخ 2020 کے دہلی فسادات سازش کیس میں سپریم کورٹ کے حالیہ حکم پر بات کرتے ہیں۔ اگرچہ پانچ ملزمان کو ضمانت دی گئی، مگر کارکنان عمر خالد اور شرجیل امام کو راحت نہیں ملی۔ شیخ اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عدالت نے ذاتی آزادی کے بنیادی حق پر ریاستی قومی سلامتی کے بیانیے کو ترجیح دی ہے۔

سوال:  آپ نے نو برس جیل میں گزارے، اور آخرکار بری ہوئے۔ نظام کو اندر سے دیکھنے کے بعد، دہلی فسادات کیس میں پانچ ملزمان کو دی گئی “آزادی” کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں، خاص طور پر جب ضمانت کی شرائط اتنی سخت ہوں؟

میں اسے جیل کی چار دیواری کے باہر کی جیل کہتا ہوں۔ میران حیدر، گلفشاں فاطمہ، شفا الرحمٰن، محمد سلیم خان اور شاداب احمد کو دی گئی ضمانت سخت اور محدود ہے۔ وہ دہلی سے باہر نہیں جا سکتے، انہیں ہفتے میں دو بار پولیس اسٹیشن جا کر حاضری لگانی ہوگی، اور پاسپورٹ جمع کرانا یا حلف نامہ دینا ہوگا۔ وہ بظاہر آزاد ہیں، مگر حقیقت میں یہ آزادی ایک فریب ہے۔

سوال : عمر خالد کے معاملے میں سپریم کورٹ نے پولیس کی چارج شیٹ پر بہت زیادہ انحصار کیا ہے۔ آپ اس بنیاد پر ضمانت مسترد کیے جانے کو کس طرح دیکھتے ہیں؟

یہ انتہائی افسوسناک ہے۔ پورے حکم میں عدالت بار بار چارج شیٹ کو اس طرح دہراتی ہے گویا وہ آسمانی سچ ہو۔ جبکہ مقدمہ ابھی شروع بھی نہیں ہوا، عدالت کو ان الزامات کو حقیقت کے طور پر قبول نہیں کرنا چاہیے تھا۔ ایک طرف چارج شیٹ خود تسلیم کرتی ہے کہ عمر خالد کا فسادات میں  براہ راست کوئی کردار نہیں تھا، اور دوسری طرف “محفوظ گواہوں” کی بنیاد پر سازش کا الزام لگاتی ہے، جو دراصل پولیس کے مخبر ہوتے ہیں۔ ان گواہوں کی مشکوک ساکھ کے باوجود، سپریم کورٹ نے انہی بیانات کی بنیاد پر ضمانت مسترد کر دی۔

چارج شیٹ کے مطابق، عمر خالد نے احتجاج میں شرکت کی اور چکہ جام کی اپیل کی، مگر ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کیا گیا کہ وہ فسادات میں شامل نہیں تھے۔ اس کے باوجود، اسی چارج شیٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ ان میٹنگز کا حصہ تھے جہاں مرچ پاؤڈر، پتھر اور چاقو جمع کرنے کی بات ہوئی۔ یہ اندرونی تضاد بالکل واضح ہے۔ عمر خالد خود کو گاندھی وادی اور آئین پر یقین رکھنے والا شخص بتاتے رہے ہیں؛ وہ نہ تشدد کے حامی ہیں اور نہ کبھی انہوں نے اس کا سہارا لیا ہے۔

فیصلے کے پیراگراف 207 میں، سپریم کورٹ تقریباً لفظ بہ لفظ چارج شیٹ نقل کرتی ہے، اور لکھتی ہے کہ مسلم مظاہرین نے تشدد کا آغاز کیا اور مخلوط ہندو-مسلم علاقوں میں ہندوؤں پر پتھروں، چاقوؤں، تیزاب اور پٹرول بموں سے حملہ کیا۔ عدالت یہ سب محض پولیس کے الزامات کی بنیاد پر درج کرتی ہے، اور یہ نتیجہ اخذ کرتی ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد گوریلا جنگ چھیڑنا اور بالآخر حکومت کو گرانا تھا۔ یہ تمام دعوے مکمل طور پر پولیس کے بیانیے سے ماخوذ ہیں۔

سوال: فیصلے میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ عمر خالد تشدد کی جگہ پر موجود نہیں تھے، پھر بھی ضمانت مسترد کی گئی۔ یہ آپ کو کیا بتاتا ہے؟

یہ قائم شدہ قانونی اصولوں کو یکسر الٹ دیتا ہے۔ عدالت کو ان کی عدم موجودگی کا فائدہ دینا چاہیے تھا، مگر اس کے بجائے پولیس کے اس مؤقف کو قبول کیا گیا کہ وہ دور بیٹھ کر منصوبہ بنانے والا “ماسٹر مائنڈ” تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص جو جائے وقوعہ پر موجود بھی نہ ہو، اسے محض “مخبروں” پر مبنی بیانیے کے ذریعے غیر معینہ مدت تک جیل میں رکھا جا سکتا ہے۔ مخبر کی شناخت کے تحفظ کے نام پر، پولیس جھوٹے مقدمات کے ذریعے زندگیاں تباہ کر سکتی ہے، اور ہماری عدالتیں، حتیٰ کہ سپریم کورٹ بھی، اس مواد کو بغیر سوال کیے قبول کر لیتی ہیں۔

سوال: کیا آپ عدالت کے پولیس بیانیے پر انحصار کے بارے میں مزید وضاحت کر سکتے ہیں؟

پیراگراف 213 میں، سپریم کورٹ ایک محفوظ گواہ کے بیان کا حوالہ دیتی ہے جس کے مطابق عمر خالد نے دھرنے اور چکہ جام کے فرق کی وضاحت کی، ٹیم کے ارکان کے نام لیے، اور ایک مناسب وقت پر منصوبہ نافذ کرنے کی بات کی۔ عدالت خود تسلیم کرتی ہے کہ اس گواہ کا بیان مکمل طور پر قابلِ اعتماد نہیں اور اسے من و عن قبول نہیں کیا جانا چاہیے، مگر اس کے باوجود، اسی بیان کو خالد کو مبینہ ماسٹر مائنڈ ثابت کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔

خالد مسلسل کہتے رہے ہیں کہ وہ دہلی فسادات کے مقام پر موجود نہیں تھے۔ عدالت اس بات کو رعایت کے طور پر دیکھنے کے بجائے، یہ نوٹ کرتی ہے کہ دہلی پولیس بھی ان کی موجودگی کا دعویٰ نہیں کرتی، مگر پھر بھی پولیس کے اس الزام کو پوری طرح قبول کر لیتی ہے کہ انہوں نے تشدد کی منصوبہ بندی اور ترغیب دی۔ یہ طرزِ فکر بے گناہی کے مفروضے جیسے بنیادی قانونی اصولوں کو کمزور کرتی ہے۔

مجموعی بیانیہ بڑی حد تک پولیس مخبروں پر منحصر ہے، جن کے بیانات بغیر آزادانہ تصدیق کے ایف آئی آر اور گرفتاریوں کی بنیاد بن جاتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسے طریقوں کا استعمال اختلافِ رائے کو جرم بنانے کے لیے کیا جاتا رہا ہے، جیسا کہ صحافی رویش کمار نے بھی اجاگر کیا ہے۔

چارج شیٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ خالد نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ ہند کے دوران احتجاج کا اعلان کیا۔ اگر یہ بات درست بھی ہو، تو کسی غیر ملکی رہنما کے دورے کے موقع پر پُرامن احتجاج کی اپیل کرنا کوئی جرم نہیں۔ اختلافِ رائے کو جرم بنانا قانونی جواز سے محرومی ہے، اور اگر اس اصول کو وسیع پیمانے پر نافذ کیا جائے تو بھارت میں ہونے والے بے شمار آئینی اور پُرامن احتجاجات پر بھی مقدمات درج ہونے چاہئیں تھے۔

سوال: فیصلے میں آئین کے آرٹیکل 21 اور یو اے پی اے کی دفعہ 43D(5) کے درمیان ایک واضح تناؤ نظر آتا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عدالت بنیادی حقوق اور انسدادِ دہشت گردی قوانین کے درمیان توازن قائم کرنے میں کس قدر مشکل محسوس کر رہی ہے۔

جواب: پیراگراف نمبر 33 میں سپریم کورٹ کے جج خود طویل قید اور اس کے نتیجے میں ذاتی آزادی سے محرومی پر سوال اٹھاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ لمبی حراست کو الگ تھلگ دیکھنے کے بجائے تمام متعلقہ عوامل کے ساتھ پرکھا جانا چاہیے، اور یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آیا اس مسئلے کو اس زاویے سے دیکھا جانا چاہیے کہ کہیں آرٹیکل 21 کو ہی غیر مؤثر تو نہیں بنایا جا رہا، بجائے اس کے کہ اسے دفعہ 43D(5) کے اوپر یا نیچے رکھا جائے۔

آئینی نقطۂ نظر سے آرٹیکل 21، جو بنیادی حقوق کا ضامن ہے، سب سے اعلیٰ مقام رکھتا ہے، جبکہ یو اے پی اے جیسے قوانین اور ان میں بعد کی ترامیم، بشمول دفعہ 43D(5)، جو بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد نافذ ہوئیں، آئین کے مساوی نہیں ہو سکتیں اور ان کا درجہ لازماً کم ہونا چاہیے۔ اس تناظر میں فیصلے میں آرٹیکل 21 کو یو اے پی اے کے برابر رکھنا سمجھ سے بالاتر ہے۔

فیصلے میں یہ بھی درج ہے کہ پارلیمان نے کہا ہے کہ قومی سلامتی کے معاملات میں آرٹیکل 21 کا اطلاق احتیاط کے ساتھ ہونا چاہیے۔ یہ وہی مانوس بیانیہ ہے جسے اقتدار میں موجود حلقے اکثر جعلی مخبروں یا جھوٹے الزامات کے ذریعے گرفتاریوں کو جائز ٹھہرانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ایسے معاملات میں جہاں قومی سلامتی کو کوئی واضح خطرہ نظر نہیں آتا، عدالت کا پارلیمان کے موقف پر انحصار کرنا اور آزاد عدالتی جانچ نہ کرنا نہایت تشویشناک ہے۔

پیراگراف نمبر 51 میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 21 صرف ذاتی آزادی ہی نہیں بلکہ شہریوں کی آزادی اور قومی سلامتی دونوں کو محیط ہے۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ قومی سلامتی—جو اس مرحلے پر محض ایک الزام ہے—کو اس فرد کی آزادی پر ترجیح دی جا رہی ہے جو پانچ برس سے جیل میں قید ہے۔ عدالت قید فرد کی حالت پر بہت کم توجہ دیتی ہے، جبکہ ان لوگوں کی سلامتی پر زیادہ زور دیتی ہے جو پہلے ہی آزاد ہیں۔

یہ طرزِ فکر آرٹیکل 21 کو کمزور اور دفعہ 43D کو مضبوط کرتی ہے۔ اگرچہ عدالت پیراگراف 53 میں اس کی تردید کرتی ہے، مگر عملی نتیجہ بالکل واضح ہے: عمر خالد اور شرجیل امام کو طویل قید کے باوجود ضمانت نہیں دی گئی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بنیادی حقوق کو انسدادِ دہشت گردی قانون کے ماتحت کر دیا گیا ہے۔

سوال:  عدالت نے ضمانت کے بجائے “تیز رفتار سماعت” (Expedited Trial) کی بات کی، مگر کوئی واضح مدت مقرر نہیں کی۔ آپ کے تجربے میں ٹرائل کورٹس میں اس کا عملی نتیجہ کیا نکلتا ہے؟

جواب:  میرے تجربے میں ایسی ہدایات محض ایک فریب ہوتی ہیں۔ ٹرائل کورٹس عموماً یہ کہہ کر پلہ جھاڑ لیتی ہیں کہ ان پر مقدمات کا بوجھ بہت زیادہ ہے اور وہ کسی ایک کیس کی روزانہ بنیاد پر سماعت نہیں کر سکتیں۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر ایک سال میں ٹرائل مکمل نہ ہو تو عمر خالد دوبارہ ضمانت کے لیے درخواست دے سکتے ہیں، مگر یہ کھوکھلے وعدے ہیں، کیونکہ ضمانت کسی صورت یقینی نہیں ہوتی۔

اسی دوران استغاثہ اکثر گواہوں کی تفصیلات آخری لمحے تک چھپائے رکھتا ہے، جس سے مؤثر جرح تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ عدالت یہ کہتی ہے کہ قومی سلامتی اس حقیقت سے زیادہ اہم ہے کہ ایک فرد پانچ برس سے جیل میں ہے۔ یعنی وہ ان لوگوں کی سلامتی پر تشویش ظاہر کر رہی ہے جو پہلے ہی آزاد ہیں، جبکہ اس شخص کی آزادی کو نظر انداز کر رہی ہے جس کی آزادی پہلے ہی سلب کی جا چکی ہے۔ ہر شہری کے ذہن میں یہ بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر “کتنی مدت بہت زیادہ” کہلائے گی؟

پیراگراف نمبر 432 میں جج نے عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت دینے سے انکار کیا، حالانکہ بظاہر ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ قبل از سماعت قید اور طویل حراست کو برداشت نہیں کیا جانا چاہیے اور یہ کہ آرٹیکل 21، دفعہ 43 کے ساتھ ساتھ موجود ہے۔ عدالت کہتی ہے کہ اگر کوئی محفوظ گواہ بیان دے یا ایک سال گزر جائے تو ملزم دوبارہ ضمانت کی درخواست دے سکتا ہے، مگر کوئی ٹھوس وقت کی حد مقرر نہیں کی گئی۔ عمر خالد کے معاملے میں قید پہلے ہی چھ برس سے زائد ہو چکی ہے، اور یہ واضح نہیں کہ دفعہ 43 کب تک لاگو رہے گی۔

عدالت نے ٹرائل کورٹ کو تیز رفتار سماعت کی ہدایت دی، مگر کوئی لازمی ڈیڈ لائن مقرر نہیں کی۔ حتیٰ کہ اگر ایک یا دو سال کی حد مقرر بھی کی جاتی، تب بھی اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ پولیس اس مدت میں ٹرائل مکمل کرے گی۔ واضح وقت کی حد کے بغیر، حکام کو کارروائی کو غیر معینہ مدت تک طول دینے کی آزادی حاصل ہو جاتی ہے۔ یو اے پی اے اور دفعہ 43 کی موجودگی میں یہ صورت حال دراصل ان دفعات کو بالادست اور آرٹیکل 21 کو کمزور کر دیتی ہے، جس کے نتیجے میں طویل قبل از سماعت قید معمول بن جاتی ہے۔ یہ فیصلہ شہریوں کو ان کے حقوق کے بارے میں غیر یقینی میں مبتلا کرتا ہے اور سیاسی کارکنوں اور اختلافِ رائے رکھنے والوں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے ایک خطرناک مثال قائم کرتا ہے۔

سوال:  یو اے پی اے کے تحت دہشت گردی کی تعریف کو، خاص طور پر شہری احتجاج کے تناظر میں، عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے وسیع انداز میں تشریح کرنے سے ذاتی آزادی اور ضمانت کے حق پر کیا اثر پڑتا ہے؟

جواب:  پیراگراف نمبر 87 میں عدالت یو اے پی اے کی دفعہ 15 کے تحت دہشت گردانہ فعل کی تعریف کا جائزہ لیتی ہے اور نشاندہی کرتی ہے کہ پارلیمان نے زبان مبہم رکھی ہے، جیسے “کسی بھی ذریعے سے” اور “کسی اور شکل یا نوعیت میں”، جن کی واضح حد بندی نہیں کی گئی۔ قانون کو اس کے مطلوبہ دائرے تک محدود کرنے کے بجائے، عدالت نے اس کی تشریح کو وسیع کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں وہ تمام اعمال دہشت گردی کے زمرے میں آ سکتے ہیں جو حکمران طبقے یا پولیس کی نظر میں عوامی نظم یا ملک کو متاثر کریں۔

یہ نہایت خطرناک رجحان ہے، کیونکہ اس سے عام احتجاج کو بھی جرم بنا دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں گرفتاریاں اور برسوں کی قید ہوتی ہے۔ عمر خالد کے معاملے میں نہ کوئی بم دھماکہ ہوا، نہ ہتھیار برآمد ہوئے۔ فسادات کو ہندو–مسلم بیانیے میں فٹ کیا گیا اور مسلم مظاہرین کو خطرہ بنا کر پیش کیا گیا۔ اسے ایک سماجی و برادری مسئلہ سمجھنے اور ضمانت دینے کے بجائے، عدالت نے دفعہ 15 کی تشریح کو وسعت دے کر ذاتی آزادی کو نقصان پہنچایا۔

پیراگراف نمبر 88 میں مزید کہا گیا ہے کہ کوئی بھی عمل جو شہری زندگی یا سماجی نظام میں خلل ڈالے، قومی سلامتی کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قوانین یا سرکاری پالیسیوں کے خلاف پُرامن احتجاج، اگر روزمرہ زندگی میں رکاوٹ بنے، تو اسے دہشت گردی قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ تشریح جمہوری حقِ اختلاف کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔

عدالت نے دفعہ 15 میں موجود مبہم جملے “کسی اور شکل یا نوعیت میں” کی تشریح کرتے ہوئے چکہ جام، دھرنوں اور منصوبہ بند احتجاجی رکاوٹوں کو دہشت گردی کے دائرے میں شامل کر لیا ہے۔ یہ صورتحال مکوکا (MCOCA) سے متعلق ایک قانونی مسئلے سے ملتی جلتی ہے، جہاں ایک دفعہ کے تحت اگر کسی شخص پر مکوکا لگ جائے تو دیگر تمام مقدمات اس وقت تک مؤخر ہو جاتے ہیں جب تک مکوکا کا ٹرائل مکمل نہ ہو جائے۔ عملی طور پر اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ٹرائل میں تاخیر ہوئی اور ملزمین برسوں تک جیل میں رہے، حتیٰ کہ بعض اوقات مکوکا کیس میں بری ہونے کے باوجود۔

جسٹس ٹھپسے نے قانون سازوں کی نیت کو واضح کرتے ہوئے کہا تھا کہ مقصد شہریوں کو سزا دینا نہیں بلکہ مکوکا کے مقدمے کو ترجیح دے کر جلد مکمل کرنا تھا، اور دیگر مقدمات کو بلا وجہ روکنا نہیں تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ تاخیر کے باعث قید کو طول نہیں دینا چاہیے۔

یہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ مبہم قانونی زبان کی تشریح عدالت کے ہاتھ میں ہوتی ہے، اور یہی تشریح طے کرتی ہے کہ قانون شہریوں کے حق میں جائے گا یا ان کے خلاف۔ یو اے پی اے کے معاملے میں عدالت “کسی اور شکل” کی ایسی تشریح کر سکتی تھی جس میں پُرامن شہری احتجاج کو خارج رکھا جاتا، مگر اس کے بجائے منفی تشریح اختیار کی گئی اور حقوق کے دفاع میں کیے جانے والے احتجاج کو دہشت گردی قرار دے دیا گیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ دفعہ 15 کا دائرہ اور اس کا ذاتی آزادی پر اثر مکمل طور پر عدالتی صوابدید پر منحصر ہے، اور اس معاملے میں یہ صوابدید شہری آزادیوں کے خلاف استعمال ہوئی ہے۔

سوال:  عدالت کا پولیس کے بیانات پر انحصار کرتے ہوئے، بغیر شواہد کی تصدیق یا عدم تشدد کے ارادے کا جائزہ لیے، عمر خالد کے احتجاج کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دینا، یو اے پی اے کے تحت جائز اختلافِ رائے کی تشریح کو کیسے متاثر کرتا ہے؟

جواب:  پیراگراف نمبر 227 میں عدالت یہ وضاحت کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ ہر احتجاج خطرناک نہیں ہوتا اور نہ ہی ہر احتجاج یو اے پی اے کے دائرے میں آتا ہے، مگر وہ احتجاج جو مبینہ طور پر قومی سلامتی کے لیے خطرہ بنے، اس قانون کے تحت آ سکتا ہے۔ اسی بنیاد پر عمر خالد کے اقدامات کو اس زمرے میں رکھا گیا ہے۔ مگر یہ پورا بیانیہ پولیس سے آیا ہے۔ خالد نے بارہا، بشمول امراؤتی کی تقریر میں، واضح کیا ہے کہ وہ عدم تشدد کے راستے پر چلیں گے اور آئین کی پاسداری کریں گے۔ جب کوئی شخص کھلے عام عدم تشدد کا عہد کرتا ہے تو اسے قوم کے لیے خطرہ قرار دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ عدالت کا یہ رویہ یا تو اس فرق کو مسخ کرتا ہے یا پولیس کے دعوؤں کو بلا تحقیق قبول کرتا ہے۔

پیراگراف نمبر 228 میں عدالت چکہ جام، یعنی سڑکوں کی بندش کی اپیل کو “انتہائی خطرناک” قرار دیتی ہے اور کہتی ہے کہ دارالحکومت کی کئی سڑکیں بند ہو گئیں۔ تاہم استغاثہ نے کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے—مثلاً کتنی ایمرجنسی سروسز متاثر ہوئیں، کیا ایمبولینس یا ادویات کی ترسیل میں رکاوٹ آئی، یا کسی جان کو خطرہ لاحق ہوا۔ محض یہ کہنا کہ شہری زندگی متاثر ہوئی، کافی نہیں ہونا چاہیے۔ پولیس کے دعوؤں کو بغیر تصدیق قبول کرنا عدالتی جانچ کو کمزور کرتا ہے۔

پیراگراف نمبر 229 میں مزید کہا گیا ہے کہ احتجاج کو جان بوجھ کر مرکزی مقامات پر منتقل کیا گیا تاکہ پورے شہر کو متاثر کیا جا سکے۔ ایسے دعوؤں کو ثابت کرنے کے لیے عدالت کو احتجاجی مقامات کا تفصیلی نقشہ طلب کرنا چاہیے تھا۔ ان شواہد کو نظر انداز کرنا اس خطرے کو بڑھاتا ہے کہ محض غیر جانچے گئے الزامات کی بنیاد پر جائز اختلافِ رائے کو جرم بنا دیا جائے۔

سوال:  یو اے پی اے مقدمات میں برآمدگیوں اور مبینہ سازشی ملاقاتوں کے بارے میں عدالت کے رویے سے ثبوت کا بوجھ کس طرح منتقل ہوتا ہے اور کس طرح اس سے سرگرمی (Activism) اور اختلافِ رائے کو مجرمانہ بنا دینے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے؟

جواب:  پیراگراف نمبر 215 میں عدالت یہ مشاہدہ کرتی ہے کہ یو اے پی اے جیسے خصوصی قوانین کے تحت برآمدگیوں کی وہ اہمیت نہیں رہتی جو عام تعزیراتِ ہند (IPC) کے تحت ہوتی ہے۔ اس کا عملی مطلب یہ ہے کہ اگر کسی شخص پر سازش کا الزام لگا دیا جائے تو محض الزام ہی اس کی مسلسل گرفتاری کو جائز ٹھہرانے کے لیے کافی سمجھا جاتا ہے، چاہے اس کے پاس سے کوئی قابلِ اعتراض مواد برآمد نہ ہو۔ روایتی طور پر برآمدگی کا نہ ہونا ملزم کے حق میں جاتا تھا، لیکن اس فیصلے نے اس اصول کو الٹ دیا ہے۔

اب، حتیٰ کہ بغیر کسی گھڑے ہوئے ثبوت یا جعلی برآمدگی کے بھی، محض پولیس کا الزام طویل قید کو برقرار رکھنے کے لیے کافی ہو سکتا ہے، جس سے خصوصی قوانین کے تحت گرفتاری کی حد بہت نیچی ہو جاتی ہے۔

پیراگراف نمبر 217 اس رجحان کو مزید مضبوط کرتا ہے، جہاں ملاقاتوں کے تسلسل کو عمر خالد کے مبینہ سازش میں ابتدا سے انتہا تک شامل ہونے کا ثبوت مان لیا گیا ہے۔ یہ تعبیر پولیس کے بیانیے کو مضبوط کرتی ہے، حالانکہ جن ملاقاتوں کا ذکر ہے وہ احتجاجات سے متعلق تھیں، نہ کہ کسی خفیہ سازش سے۔ یہ فیصلہ ایک خطرناک نظیر قائم کرتا ہے: سرگرمی، اختلافِ رائے اور عوامی اجلاس میں شرکت کو سازش قرار دیا جا سکتا ہے، جس سے ریاست کے لیے ضمانت سے انکار کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ اس تناظر میں عمر خالد قانونی اختلافِ رائے کو لاحق ایک وسیع تر خطرے کی علامت بن کر سامنے آتے ہیں، اور اس امر کی ضرورت اجاگر ہوتی ہے کہ ایسے عدالتی نظریات کو چیلنج کیا جائے تاکہ جمہوری آزادیوں کا تحفظ ہو سکے۔

سوال:  سپریم کورٹ کی جانب سے عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت نہ دینے کے وسیع تر اثرات کیا ہیں، اور یہ فیصلہ اختلافِ رائے، طویل قید اور مستقبل کے یو اے پی اے مقدمات کو کس طرح متاثر کرتا ہے؟

جواب:  عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستوں کا مسترد کیا جانا نہایت تشویشناک ہے۔ یہ فیصلہ دہشت گردی کی تعریف کو غیر معمولی حد تک پھیلا دیتا ہے، ان کے عدم تشدد اور آئینی موقف کو نظرانداز کرتا ہے، اور محض الزامات کو طویل قید کے لیے کافی قرار دیتا ہے۔ وہ دہلی فسادات کے وقت موقع پر موجود نہیں تھے، اس کے باوجود عدالت نے کہا کہ مبینہ سازش کرنے والوں کے لیے جسمانی موجودگی ضروری نہیں۔

ان کے پاس سے کسی قسم کی برآمدگی نہ ہونے کو بھی اس منطق کے تحت مسترد کر دیا گیا کہ جن افراد نے ان کی ہدایات پر عمل کیا، ممکن ہے وہی مواد ان کے پاس ہو۔ حتیٰ کہ عمر خالد کے عوامی طور پر عدم تشدد کے عزم کو بھی خفیہ منصوبہ بندی کا پردہ قرار دے دیا گیا۔

یہ طرزِ فکر ہندوستان میں اختلافِ رائے کے لیے نہایت خطرناک ہے، کیونکہ اس سے سیاسی سرگرمی یا حکومتی مخالفت کو محض تعلق یا نیت کی بنیاد پر مجرمانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ضمانت سے انکار یو اے پی اے اور دفعہ 43D کے تحت طویل قید کو محدود کرنے کے کسی ممکنہ عدالتی نظیر کو بھی ختم کر دیتا ہے۔

اگرچہ چند نسبتاً چھوٹے کرداروں کو راحت دی گئی، لیکن انہیں محض ایسے مہرے قرار دیا گیا جو خالد اور امام کی ہدایات پر عمل کر رہے تھے، جبکہ خالد اور امام کو مرکزی سازشی قرار دیا گیا۔ یہ ماضی کے بعض مقدمات، جیسے 1993 کے بمبئی بم دھماکوں، کی یاد دلاتا ہے جہاں عمل کرنے والوں اور مبینہ ماسٹر مائنڈز کے درمیان مختلف سلوک کیا گیا، جو انصاف اور تناسب پر سوال کھڑا کرتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ فیصلہ عدالتی آزادی سے زیادہ ایک سیاسی بیانیے کے نفاذ کا تاثر دیتا ہے، جو انصاف اور عدلیہ پر عوامی اعتماد دونوں کو کمزور کرتا ہے۔

سوال:  سپریم کورٹ کی جانب سے احتجاجات کو ممکنہ طور پر “پرامن سے آگے” قرار دینے سے قانونی اختلافِ رائے اور دہشت گردی کے درمیان فرق کس طرح متاثر ہوتا ہے؟

جواب:  عدالت نے کہا ہے کہ جمہوریت میں احتجاج کی گنجائش ہے، لیکن منصوبہ بند تباہی کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم، عدالت نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ پرامن اور تباہ کن احتجاج کے درمیان فرق کیسے کرتی ہے۔ سی اے اے اور این آر سی کے خلاف تمام احتجاجات، بشمول شاہین باغ، پُرامن تھے: مظاہرین نے قومی پرچم لہرایا، آزادی کے مجاہدین کی تصاویر آویزاں کیں، قومی ترانہ گایا اور آئین کی بالادستی پر زور دیا۔ مقصد تشدد پھیلانا نہیں بلکہ اختلافِ رائے کو نمایاں کرنا اور حکومت کو سننے پر مجبور کرنا تھا۔

اس کے باوجود عدالت نے احتجاجات کو اس بنیاد پر ممکنہ طور پر “پرامن سے آگے” قرار دیا کہ وہ طویل تھے، ان میں متعدد ملاقاتیں، ہم آہنگی، تقاریر اور مختلف مقامات پر نقل و حرکت شامل تھی۔ اس تناظر میں عدالت نے بڑے پیمانے پر محفوظ (Protected) گواہوں کے بیانات پر انحصار کیا، جن کی شناخت اور ساکھ کی تصدیق نہیں ہو سکی، اور جن کے بیانات پر پولیس دباؤ کا شبہ موجود ہے۔ آر ٹی آئی درخواستیں روکی گئیں اور مختلف مراحل پر گواہوں کے بیانات کو خفیہ رکھا گیا، اس کے باوجود انہیں حرفِ آخر مان لیا گیا۔

یہ رویہ عملی طور پر مقدمے سے پہلے سزا دینے کے مترادف ہے اور قانونی اختلافِ رائے اور دہشت گردی کے درمیان لکیر کو مٹا دیتا ہے، جو انصاف اور جمہوری حقِ احتجاج دونوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔

چکّا جام کو دہشت گردانہ عمل نہیں کہا جا سکتا۔ یہ ایک ایسا اقدام تھا جو اقلیتوں نے ان اقدامات کے خلاف کیا جو ان کے حقوق کے لیے خطرہ تھے؛ وہ اپنی شناخت اور شہریت چھینے جانے، اور حراستی مراکز و جیلوں میں بھیجے جانے کے خدشات کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ اسے دہشت گردی کیسے کہا جا سکتا ہے؟ عدالت اس کی مثبت تعبیر کر سکتی تھی، لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ حتیٰ کہ جن چیزوں کو پارلیمان نے جان بوجھ کر قانون میں شامل نہیں کیا، جج نے انہیں بھی شامل کرنے کی کوشش کی، جو نہایت افسوسناک ہے۔

سوال:  ایک ایسے شخص کے طور پر جو خود دہشت گردی کے قوانین کے تحت قید رہ چکا ہے، عمر خالد اور شرجیل امام سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کو پڑھ کر آپ نے کیا محسوس کیا؟

جواب:  ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ قانون ہمیں نہیں چھوئے گا، لیکن دہشت گردی کے قوانین کے تحت نو سال جیل میں گزارنے اور یہ جاننے کے بعد کہ بعض لوگ انیس سال تک قید رہے، اس قانون کے اثرات کو ہم گہرائی سے محسوس کرتے ہیں۔ مجھے امید تھی کہ عدالت یو اے پی اے یا دفعہ 43 کو نرم کرے گی، لیکن اس فیصلے نے پولیس کو مزید طاقتور اور عام شہری کی آزادیوں کو مزید کمزور کر دیا ہے۔

یہ فیصلہ پڑھتے ہوئے میں خوفزدہ، جذباتی، تھکا ہوا اور بعض اوقات شدید طور پر مشتعل محسوس کر رہا تھا؛ ان کی دوغلی پالیسی واضح تھی۔ وہ ایک طرف آرٹیکل 21 کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف ضمانت دینے سے انکار کر دیتے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ پانچ لوگوں کو ضمانت ملی، لیکن ان پر عائد کی گئی شرائط اب بھی ناانصافی پر مبنی ہیں۔ ایک متاثرہ شخص کے طور پر، یہ فیصلہ مجھے یہ دکھاتا ہے کہ عدالت شہری حقوق کے تحفظ کے بجائے ریاستی طاقت کو مزید مستحکم کر رہی ہے۔

(بشکریہ فرنٹ لائن میگزین)


--
Wahid Shaikh Interview.docx
Nishta Sood.jpeg
Abdul Wahid Shakh.jpeg
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages