چندر بھان خیال کی منظوم سیرت’’ لولاک‘‘ کے ہندی ایڈیشن کا اجرا

8 views
Skip to first unread message

Musa Raza

unread,
May 21, 2012, 1:09:36 AM5/21/12
to Adabdotcom, bazme...@googlegroups.com

چندر بھان خیال کی منظوم سیرت’’ لولاک‘‘ کے ہندی ایڈیشن کا اجرا

لولاک کے مطالعہ سے اسلام اور جہاد کا صحیح مطلب معلوم ہوا: وشوناتھ تیواری
لولاک میں چندر بھان خیال سنگلاخ وادیوں سے بڑی سبک روی سے گزر گئے ہیں: مولانا عبید اللہ اعظمی



نئی دہلی ۔ ساہتیہ اکادمی میں منعقدہ ایک پروقار تقریب میں اکادمی کے نائب صدر وشو ناتھ پرساد تیواری اور سابق ممبر پارلیمنٹ مولانا عبیداللہ خاں اعظمی نے ملک کے معروف شاعر اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے سابق وائس چیئرمین چندر بھان خیال کی منظوم سیرت ’’لولاک‘‘ کے ہندی ایڈیشن کی رسم اجرا انجام دی۔
اس موقع پر اپنے صدارتی خطاب میں وشو ناتھ پرساد تیواری نے کہا کہ انھوں نے لولاک کا پورا مطالعہ کیا ہے اور یہ بات بے جھجک کہہ سکتے ہیں کہ اس کتاب سے اسلام اور جہاد کا صحیح مفہوم معلوم ہوا ہے۔ اس کو پڑھ کر ایسا محسوس ہوا کہ جیسے یہ ہمارے زمانے کی باتیں ہیں اور آج ہم جن حالات سے دوچار ہیں انہی جیسے حالات کا ذکر اس کتاب میں بھی ہے۔ ساہتیہ اکادمی کے نائب صدر نے مزید کہا کہ یہ کتاب صرف محمد
کی سیرت نگاری ہی نہیں ہے بلکہ اس میں زبردست شاعری بھی پڑھنے کو ملتی ہے۔ پہلے بند سے ہی شاعری اپنا مزا دینے لگتی ہے۔ اس کتاب میں جو بحریں استعمال کی گئی ہیں وہ بھی بہت انوکھی ہیں اور ایک بند سے دوسرے بند تک پہنچنے میں ان بحروں نے بڑا دلچسپ سماں باندھ دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ادب اور مذہب کا آپس میں بڑا گہرا ربط ہے۔ آزادی اور مساوات فرانسیسی انقلاب نے نہیں دیے ہیں بلکہ مذاہب نے دیے ہیں۔ پوری دنیا میں انسان کو تعلیم یافتہ بنانے میں مذاہب نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔انھوں نے لولاک جیسی منظوم سیرت نگاری پر چندر بھان خیال کو اور اسے ہندی میں شائع کرنے پر سوراج پرکاشن کو مبارکباد دی۔


’لولاک‘ کا ہندی ترجمہ ساہتیہ اکادمی کے اہم کارکن محمد موسیٰ انصاری (عرف محمد موسیٰ رضا) نے بڑی خوبصورتی سے کیا ہے اور اس کے ہندی ایڈیشن کی اشاعت سوراج پرکاشن نے کی ہے۔


مہمان خصوصی، سابق رکن پارلیمنٹ مولانا عبید اللہ خاں اعظمی نے سیرت رسول پر جامع تقریر کی اور اس حوالے سے چندر بھان خیال کی لولاک کے ہندی ایڈیشن کی اشاعت پر ان کو مبارکباد پیش کی۔ انھو ں نے حضور اکرم

کی دنیا میں تشریف آوری او راس کے بعد کے حالات پر بھرپور روشنی ڈالی اور کہا کہ تاریخ انسانیت پر سب سے برا وقت چھٹی صدی عیسوی میں پڑا تھا۔ اس وقت اللہ کے رسول نے دنیا کو امن وانسانیت کا پاٹھ پڑھایا۔ انھوں نے جو کچھ کہا اسے کر کے دکھا دیا۔ یہ انسان کی زندگی کے عمل کا سب سے اونچا مقام ہے کہ وہ جو کہے اس کو کر کے دکھائے۔ دنیا میں انسان کہیں کا بھی ہو، کسی بھی مذہب کا ہو، کسی بھی نسل کا ہو یا کسی بھی ملک کا ہو، اس کی افضلیت اور اچھائی بحیثیت انسان اللہ سے ڈرنا، عدل وانصاف قائم کرنا، لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا اور مساوات قائم کرنا ہے۔ مولانا عبید اللہ خاں نے مزید کہا کہ اللہ کے رسول نے ۱۲ فروری ۶۱۰ عیسوی کو بحیثیت پیغمبر اپنی زبان کھولی۔ انھوں نے پہلا پیغام علم اور تعلیم کا دیا۔ وہ ایک امی تھے لیکن آج جو شخص اس امی کو پڑھ لے وہ عالم بن جاتا ہے۔ جو ان کی سیرت نگاری کر دے وہ لولاک ہو جاتی ہے۔ چھٹی صدی عیسوی میں دنیا جہان کی انفرادی خرابیاں اجتماعی قوت کے ساتھ انسانیت کی پشت پر کوڑے برسا رہی تھیں۔ ظلم کے ساتھ احساس ظلم مٹ گیا تھا۔ گناہ کرنے پر کوئی شرمندہ نہیں ہوتا تھا۔ ظلم کرنے پر لوگوں کو فخر محسوس ہوتا تھا۔ ایسے حالات میں پیغمبر اسلام کی آمد ہوئی۔ آپ کے آنے سے قبل انسانیت کھلی ہوئی گمراہی میں تھی۔ لیکن آپ نے دنیائے انسانیت کو نیا سبق پڑھایا۔ بدووں کو عالم بنایا، بد معاشوں کو انسان بنایا اور درندوں کو انسانیت کا ہمدرد بنا دیا۔ آپ کی زندگی کا ایک ایک لمحہ تاریخ میں محفوظ ہو گیا ہے اور دنیا کا ایسا کوئی دوسرا انسان نہیں ہے جس کی زندگی کا ایک ایک لمحہ تاریخ میں محفوظ ہو گیا ہو۔ چندر بھان خیال نے لولاک لکھ کر یہ ثابت کیا ہے کہ انھیں علم وعمل کی دولت حاصل ہو گئی ہے۔


ساہتیہ اکادمی کے سکریٹری اے کرشنا مورتی نے لولاک کے ہندی ایڈیشن کی اشاعت پر چندر بھان خیال اور محمد موسیٰ انصاری کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ انھیں اس کتاب کو دیکھ کر متعدد مصنفوں اور شاعروں کی کتابیں یاد آگئیں۔ اس کتاب کے موضوع نے انہیں بہت متاثر کیا ہے۔


دہلی اردو اکادمی کے وائس چیئرمین اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے سربراہ پروفیسر اختر الواسع نے بھی ادب اور مذہب کے باہمی رشتے پر روشنی ڈالی اور کہا کہ بڑی بڑی تخلیقات خواہ وہ مسلمانوں کی ہوں یا غیر مسلموں کی، ان میں مذہب کہاں شروع ہوتا ہے اور کہاں ختم ہوتا ہے پتہ ہی نہیں چلتا۔ چندر بھان خیال کی منظوم سیرت لولاک کی بھی یہی خوبی ہے۔ یہ پہلے ہندو نہیں ہیں جنھو ں نے نعت رسول کہی ہے۔ ایسے لوگوں کی تعداد بہت ہے۔ لیکن خیال کی منظوم سیرت کو ایک اہم مقام حاصل ہے۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ جب تک ایسے ’’کافر‘‘ موجود ہیں ہم مومنوں کو شرم آنی چاہیے۔ چندر بھان خیال کی یہ کوشش لائق تحسین ہے۔ اس کا گجراتی میں بھی ترجمہ ہو گیا ہے او رامید ہے کہ وہ جلد ہی منظر عام پر آئے گا۔


ڈاکٹر مولا بخش نے کہا کہ ہندوستان میں قومی یک جہتی کی ایک شاندار روایت رہی ہے۔ پہلے جب کوئی ہندو کتاب لکھتا تھا تو اس کا آغاز بسم اللہ سے ہوتا تھا اور بہت سے مسلمانوں کی کتابوں کی شروعات شری گنیشائے نمہ سے ہوتی تھی۔ یہ ہندوستانی روایت ہے اور چندر بھان خیال اس روایت کے امین کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ انھوں نے رسول اللہ کو ہندوستانی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ ا س حساب سے ان کا رشتہ میر انیس سے جا کر مل جاتا ہے۔ اس کتاب میں ہندوستانی تشبیہیں اور علامتیں استعمال ہوئی ہیں اور اس کتاب میں شاعری بھی بہت غضب کی دیکھنے کو ملتی ہے۔
ساہتیہ اکادمی میں پروگرام آفیسر ڈاکٹر مشتاق صدف نے متعدد احادیث کے حوالے سے اللہ کے رسول کی سیرت کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی اور خیال کی کتاب لولاک کے بارے میں اظہار خیال کیا۔ انھوں نے کہا کہ چندر بھان خیال نے بارہ برسو ں میں اس کتاب کو مکمل کیا اور اس تعلق سے انھوں نے رسول اللہ کی سیرت کا بہت گہرا مطالعہ کیا تب جا کر یہ کتاب منظر عام پر آسکی ہے۔
ہندی کے شاعر اور ادیب جانکی پرشاد شرما نے انتہائی معلوماتی تقریر میں ہندوستانی تہذیب وثقافت پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ چندر بھان خیال کی یہ کتاب اسی ہندوستانی ثقافت کی ایک اعلی مثال ہے۔ انھوں نے کہا کہ انھیں اس کتاب کے مطالعہ سے دو کتابوں کی بے ساختہ یاد آگئی۔ ایک مولانا حالی کی مسدس حالی اور دوسری جے شنکر پرساد کی کاماینی۔ انھوں نے مزید کہا کہ چندر بھان خیال نعت لکھنے والے پہلے ہندو شاعر نہیں ہیں اور نہ ہی سیرت پر کسی ہندو کی یہ پہلی کتاب ہے۔ پنڈت بھارتیندو ہریش چندر نے سب سے پہلے ’’مہاتما محمد‘‘ کے نام سے سیرت کی کتاب لکھی تھی۔ وہ شاعری بھی کرتے تھے او ران کا تخلص رسا تھا۔ جانکی پرساد نے سر سید کی خطبات احمدیہ اور شبلی نعمانی کی سیرۃ النبی کے حوالے سے بھی لولاک کا جائزہ لیا۔
صاحب کتاب چندر بھان خیال نے کتاب کے کچھ بند پڑھ کر سنائے۔


اس تقریب میں اردو اور ہندی ادب وصحافت کے چنندہ لوگوں نے شرکت کی۔ جن میں عزیز برنی، نصرت ظہیر، انجم عثمانی، سہیل انجم، معصوم مرادآبادی، ڈاکٹر سید احمد خاں، عظیم اختر، پرویز شہر یار، سید تنویر حسین، شاہینہ تبسم، علاء الدین خاں، محمد ہادی، ڈاکٹر سجاد عثمانی، مہہ جبیں اختر، اشفاق عارفی، ابوظہیر ربانی، کے ایس راؤ،آر سی ورما ساحل قابل ذکر ہیں۔

 

 

Laulak Release Photo.jpgDSC_0936.JPG

DSC_0928.JPG

DSC_0927.JPG

DSC_0929.JPGDSC_0940.JPG

DSC_0951.JPGDSC_0946.JPGDSC_0938.JPGDSC_0949.JPGDSC_0922.JPGDSC_0934.JPGDSC_0921.JPGDSC_0925.JPGDSC_0945.JPGDSC_0923.JPGDSC_0950.JPGDSC_0942.JPGDSC_0943.JPGDSC_0947.JPGDSC_0935.JPGDSC_0924.JPGDSC_0944.JPGDSC_0941.JPG

M Musa Raza
Sahitya Akademi
New Delhi.

 

image001.jpg
image010.jpg
image011.jpg
image012.jpg
image013.jpg
image014.jpg
image015.jpg
image016.jpg
image017.jpg
image018.jpg
image019.jpg
image002.jpg
image020.jpg
image021.jpg
image022.jpg
image023.jpg
image024.jpg
image003.jpg
image004.jpg
image005.jpg
image006.jpg
image007.jpg
image008.jpg
image009.jpg

baig ehsas

unread,
May 28, 2012, 6:21:39 AM5/28/12
to bazme...@googlegroups.com
ASAK, received photos and reporting.  Thank u.
 

مخلص        

 ڈاکٹر بیگ احساس



From: Musa Raza <raz...@yahoo.co.in>
To: Adabdotcom <adabd...@googlegroups.com>
Cc: bazme...@googlegroups.com
Sent: Monday, 21 May 2012 10:39 AM
Subject: {11552} چندر بھان خیال کی منظوم سیرت’’ لولاک‘‘ کے ہندی ایڈیشن کا اجرا

--
زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے
کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/
اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com
سہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.com
کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com
http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/
راشد اشرف کی تحریروں کے لیے
http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760
To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics
 
To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com
 
To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite
 
To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"


image001.jpg
image010.jpg
image011.jpg
image012.jpg
image013.jpg
image014.jpg
image015.jpg
image016.jpg
image017.jpg
image018.jpg
image019.jpg
image002.jpg
image020.jpg
image021.jpg
image022.jpg
image023.jpg
image024.jpg
image003.jpg
image004.jpg
image005.jpg
image006.jpg
image007.jpg
image008.jpg
image009.jpg
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages