اے آئی کے محور پر لڑی جانے والی جنگ

6 views
Skip to first unread message

Suhail Anjum

unread,
Apr 1, 2026, 2:16:55 AM (5 days ago) Apr 1
to bazme qalam
اے آئی کے محور پر لڑی جانے والی جنگ
سہیل انجم
اے آئی یعنی آرٹیفیشل انٹلی جنس کی اہمیت انسانی زندگی میں اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے کہ کوئی بھی شعبہ حیات ایسا نہیں ہے جس میں اس کا عمل ذحل نہ ہو۔ لیکن جس طرح ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں اسی طرح اس کے بھی دو پہلو ہیں۔ ایک مفید ہے تو دوسرا مضر بلکہ تباہ کن۔ ابھی تک اے آئی کو ڈیجیٹل صورت گری کا ایک ٹول سمجھا جا رہا تھا لیکن اب تو جنگیں بھی مصنوعی ذہانت کے سہارے لڑی جا تی ہیں۔ اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ مصنوعی ذہانت انسان کی حقیقی اور فطری ذہانت سے کہیں زیادہ موثر اور کارگر ہے۔ اس کا تازہ ترین مشاہدہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں کیا جا سکتا ہے۔ اس جنگ کے فریقین یعنی امریکہ اسرائیل اور ایران اس کے سہارے کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں۔ حالانکہ اطلاعات کے مطابق اس میدان میں اسرائیل کو سبقت حاصل ہے۔ لیکن ایران بھی اگر ا س کے دوش بدوش نہیں تو بہت زیادہ پیچھے بھی نہیں ہے۔ اسرائیل نے مصنوعی ذہانت کے استعمال کا تجربہ غزہ میں کیا اور اب وہ ایران میں اس کا اعادہ کر رہا ہے۔ سعودی عرب کے انگریزی روزنامہ ’عرب نیوز‘ میں زید ایم بلباگی کا ایک پر ازمعلومات مضمون شائع ہوا ہے جس میں انھوں نے اس کی تفصیلات پیش کی ہیں۔ یہاں یہ ذکر بے محل نہیں ہوگا کہ عالمی برادری کا ایک بہت بڑا حصہ یہ سمجھتا ہے کہ خلیجی ممالک سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں دیگر ملکوں سے بہت پیچھے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس میدان میں وہ بھی نقوش پا ثبت کر رہے ہیں۔
ایران کے خلاف امریکہ و اسرائیل کی جنگ نے یہ ثابت کیا ہے کہ اے آئی جسے ابھی تک سائنس و ٹیکنالوجی کا ایک ٹول سمجھا جا رہا تھا اس میدان میں ہولناک تباہ کاریوں کا مرکزی کردار بن گیا ہے۔ یہ ایک جنگی ہتھیار کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس وقت ایران کے خلاف جو جنگ ہو رہی ہے وہ اے آئی جنگ ہے تو غلط نہیں ہوگا۔ یہ انسانی ہاتھوں سے زیادہ کارگر اور موثر تو ہے ہی اس کی تباہ کاریاں بھی انسانی ہاتھوں سے ہونے والی تباہیوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ اسرائیل کے پاس اے ائی سے چلنے والا ایک ایسا نظام ہے جو فضائی کارروائی کے دوران اپنے اہداف کو اچوک انداز میں نشانہ بناتا ہے۔ اس کا نام ’ہیبسورا‘ ہے۔ اسرائیلی ملٹری ذرائع کے مطابق یہ نظام ملٹری آپریشن کوانسانی قتل عام کی فیکٹری میں تبدیل کر دیتا ہے۔ ایک تحقیق کار اینٹونی لوویسٹین نے خبردار کیا ہے کہ یہ نظام جدید فنونِ جنگ کی اخلاقیات کی شکست و ریخت کا سامان بھی بن رہا ہے۔ اس نظام کو پہلے غزہ میں آزمایا گیا اور اب ایران میں آزمایا جا رہا ہے۔ اسرائیل کے سائبر آپریشن کے مطالعے سے مستقبل کی جنگوں کا ایک ایسا خوفناک منظر سامنے آتا ہے جو یہ بتاتا ہے کہ اگر اسی طرح اے آئی کا بے محابہ استعمال ہوتا رہا تو مستقبل کی جنگیں ماضی کی تمام جنگوں سے کہیں زیادہ تباہ کن ثابت ہوں گی۔ ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے ٹھکانے کی تلاش کے دوران اسرائیلی جنگی جہازوں نے تہران کے ٹریفک کیمروں کو ہیک کر لیا اور انھیں نگرانی نظام کو نشانہ بنانے والے ٹول میں بدل دیا۔ اس کی مدد سے ہی علی خامنہ ای کی آمد و رفت کی نگرانی کی جاتی رہی اور بالآخر ان کو نشانہ بند انداز میں ہلاک کر دیا گیا۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایران ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کی غیر متوقع جنگی کامیابیوں کے پس پردہ اے آئی ہی کی کارفرمائی ہے۔ امریکی خفیہ محکمہ ایف بی آئی کے سابق اہل کاروں کے مطابق ایران خلیجی ملکوں میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے اڈوں کو جس طرح نشانہ بنا رہا ہے اس میں رینسم ویئر یعنی کمپیوٹر وائرس کی مدد شامل ہے۔ اس کا ہائپر سونک فتح میزائل جس نے اسرائیل کی دفاعی قوت میں شگاف ڈال دیا اے آئی نظام سے لیس ہے۔ وہ اے آئی کا استعمال ڈرون ٹیکنالوجی، میزائل رہنمائی اور جاسوسی کے لیے کر رہا اور اہداف کی نشاندہی اور نگرانی کو بہتر بنا رہا ہے۔ آج کے جدید فنونِ حرب میں صرف ہتھیار ہی اپنی اہلیت ثابت نہیں کر رہے ہیں بلکہ یہ پورا تنازع مصنوعی ذہانت کی انتھک پیش قدمی کی وجہ سے ایک نئی شکل و صورت اختیار کر گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اس جدید جنگی دور کا ایک انکشافی پہلو یہ ہے کہ اس نے سیاسی بحران پیدا کرنے میں بھی ایک کردار ادا کیا ہے۔ اس کا مشاہدہ امریکہ میں ا س وقت کیا گیا جب امریکی محکمہ دفاع پنٹاگن نے ایک سرکردہ اے آئی کمپنی ’اینتھروپک‘ کو بلیک لسٹ کر دیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر وغیرہ نے مصنوعی ذہانت کے عالمی مقابلے میں اپنے قائدانہ کردار کو یقینی بنانے کے لیے اربوں کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔
ا س جنگ کی رپورٹنگ میں بھی اے آئی کا خوب استعمال کیا جا رہا ہے اور متعدد میڈیا ادارے اس کی مدد سے حاصل شدہ خبریں نشر کر رہے ہیں۔ اے آئی کی مدد سے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ایرانی کارروائی میں امریکہ اور اسرائیل میں کتنا جانی و مالی نقصان ہوا اور کتنے افردا زخمی ہوئے۔ اسی طرح ایران میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کا اندازہ بھی مصنوعی ذہانت ہی لگا رہی ہے۔ ایک دور تھا جب ریکارڈوں کی تلاش میں اخبارات و دستاویزات کھنگالے جاتے تھے۔ ان کے اوراق پلٹے جاتے تھے اور گھنٹوں کی محنت کے بعد کچھ تفصیلات اور اعداد و شمار ہاتھ آتے تھے۔ لیکن آج مصنوعی ذہانت نے یہ کام اتناآسان کر دیا ہے کہ نہ اخباروں کی فائلیں پلٹنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی دماغ لگانے کی۔ بس چیٹ جی پی ٹی یا گروک یا پھر دوسرے اے آئی چیٹ بوٹ کے سامنے سوال اچھال دیجیے اور نتیجہ لمحوں میں آپ کے سامنے۔ اے آئی کے استعمال کا ایک زبردست مشاہدہ اس وقت کیا گیا جب کئی روز تک دنیا بھر میں اس خبر کے گردش کرنے کے بعد کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کو ہلاک کر دیا گیا ہے، ان کی ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں ان کے ایک ہاتھ میں چھ انگلیاں تھیں۔ جب دنیا بھر میں کہا جانے لگا کہ یہ تو اے آئی کا بنایا ہوا نیتن یاہو کا کلون ہے تو پھر وہ ایک کافی شاپ پر کافی پیتے نظر آئے۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ وہ اپنے دونوں ہاتھوں کے پنجے دکھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ دیکھو چھ نہیں پانچ ہی انگلیاں ہیں۔ لیکن اس کا بھی پوسٹ مارٹم کر دیا گیا اور اس ویڈیو کا تجزیہ کرکے بتایا گیا کہ یہ بھی اے آئی نمونہ ہے۔ اس کے بعد فوجی اہل کاروں کے ساتھ میٹنگ کرتے ہوئے ان کی ایک ویڈیو جاری کی گئی۔ لیکن مصنوعی ذہانت کے اس قدر استعمال کی وجہ سے ان خبروں کی صداقت مشکوک ہو گئی کہ نیتن یاہو زندہ ہیں۔ اب کسی کو ان کے زندہ ہونے پر یقین نہیں ہے۔ حالانکہ ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر وہ زندہ ہیں تو انھیں تلاش کرکے مار دیا جائے گا۔ ادھرسوشل میڈیا پر ایسی جعلی پوسٹس، ویڈیوز اور تصاویر کی بھرمار ہے جنھیں بہت سے لوگ سچ مان کر جنگ کے بارے میں معلومات حاصل کر رہے اور انھیں آگے فارورڈ کر رہے ہیں۔ بہت سے صارفین نے ایسی تصاویر شیئر کیں جن میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ امریکی اور اسرائیلی پائلٹوں کو دھوکہ دے کر ایران میں پینٹ کیے گئے نقلی طیاروں پر بمباری کروائی گئی۔ حالانکہ بعد میں یہ خبر جھوٹی ثابت ہوئی۔ یہ پوسٹس مختلف زبانوں میں ہزاروں بار شیئر کی گئیں۔ جبکہ یہ اے آئی کا کمال تھا اور اس میں ذرا بھی صداقت نہیں تھی۔ اس طرح کی اور بھی بہت سی خبریں گردش میں ہیں۔ گویا اب مستقبل میں امن کی باتیں ہوں یا جنگ کی سب اے آئی کی محتاج ہوں گی۔گویا اب انسان کچھ نہیں ہے جو کچھ ہے اے آئی ہے۔ وہی ہیرو بھی ہے اور وہی ویلن بھی۔
موبائل:9818195929


Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages