روداد قفس

1 view
Skip to first unread message

Md.Alamullah

unread,
Jul 16, 2012, 1:37:46 PM7/16/12
to bazme...@gmail.com, bazme...@googlegroups.com
روداد قفس 
محمد علم اللہ دلی میں مقیم ہیں، اور جامعہ ملیہ اسلامیہ اے جے کے ایم سی آر سی ایم اے، ماس کام سال آخر کے طالبعلم ہیں۔ 
کچھ روز قبل ان کا برسا منڈا سنٹرل جیل رانچی" ایک اسائنمنٹ کے سلسلے میں جانا ہوا۔ زیر نظر روداد اسی دورے کا احوال ہے جسے انہوں نے راقم الحروف کو ارسال کیا تھا۔
اس تحریر کو پڑھنے کے بعد ہمیں کچھ تسلی ہوئی کہ سرحد کے اس پار بھی قیدیوں کا احوال کچھ اپنا اپنا سا معلوم ہوا۔ پاکستان مین جن لوگوں نے جیل میں گزرے وقت کی داستانیں قلم بند کی ہیں، ان میں سب سے زیادہ شہرت حمید اختر مرحوم کی کتاب " کال کوٹھری" اور ظفر اللہ پوشنی کی " زندگی زنداں دلی کا نام ہے" کو ملی۔ کال کوٹھری کی اشاعت اول کو نصف صدی سے بھی زیادہ عرصہ گزر چکا ہے لیکن حال یہ ہے کہ اس وقت بھی اردو بازار کراچی میں یہ کتاب دستیاب نہیں ہے، شائع ہوتے ہی نسخے فروخت ہوجاتے ہیں۔ کال کوٹھری کے علاوہ اس موضوع چند کتابوں کے نام یہ ہیں:

بڑی جیل سے چھوٹی جیل تک - راجہ انور - 1991 (تیسرا ایڈیشن)
جیل کی چار دیواری - حکیم عبدالرحیم - نومبر 1986 
جو مجھ پر گزری - مولانا جاوید نعمانی - اسی کی دہائی میں شائع ہوئی
میں باغی ہوں - جاوہد ہاشمی - 2005
چاہ یوسف سے صدا - یوسف رضا گیلانی 2006
روداد قفس - سید علی گیلانی - 1995 (تیسرا ایڈیشن)
روداد قفس - ڈاکٹر محمد عبدالغفور بسمل - 1952
کالے ناگ-گھر سے حوالات تک- ڈاکٹر یاسین رضوی - 1980 
وزیر جیل سے اسیر جیل تک - قمر عباس - 2009

قید و بند کی یاداشتوں میں مولانا جعفر تھانیسری کی "کالا پانی"، صدیق سالک کی "ہمہ یاراں دوزخ"، واحد باغی کی "قید سے قیادت تک"، کیپٹن نور احمد قائم خانی کی "فتح گڑھ سے فرار" بھی شامل ہیں۔ 


خیر اندیش
راشد اشرف
کراچی سے


ہم شہری آبادی سے نکل کر سنسان اور غیر آباد بستی میں داخل ہو چکے تھے۔دور دور تک سناٹا اور ہو کا عالم تھا۔حضرت انسان کے نام پر جوبھی چہرے نظر آرہے تھے،ان سے پریشانی عیاں ہورہی تھی یا پھر مخصوص لباس زیب تن کئے ہوئے وہ جوان دکھائی دے رہے تھے،جنہیں ادائیگیٔ فرض کی غرض سے مستعدکیا گیاتھا۔ پولس کے جوانوں کی بیداری یہ بتا رہی تھی کہ ہم کسی دوسری دنیا میں داخل ہو چکے ہیں۔ دور سے ہی برجوں پر تعینات پولس کے جوان اور ذرا آگے بڑھنے پر نیلے رنگ کا کشادہ گیٹ صاف نظر آ رہا تھا،جو گنہگاروں اور ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتے والے افراد کا نہایت فراخدلی کے ساتھ استقبال کرنے کا عادی کہلایا جاسکتاہے۔جی ہاں!یہ کہانی کسی دوسری دنیا کی نہیں بلکہ اس ’ برسا منڈا سنٹرل جیل رانچی ‘کا قصہ ہے جہاں ہم داخل ہونے جارہے ہیں۔

گوکہ ہم لوگ قیدی کی حیثیت سے داخل نہیں ہوئے کہ پشیمانی اور ندامت کا کوئی احساس ہو بلکہ جیل کا جو تصور عام ذہن و دماغ پر اپنا نقش چھوڑ جاتا ہے،ہم اسی خیال میں محو رانچی کے اس زنداں کے احاطہ میں داخل ہوچکے تھے ،جہاں کی دیواروں کے پیچھے رہنے والی انسانی زندگیاں جن کے بارے میں پہلے سن رکھا تھا،مزید بھیانک ہونے کا احساس دلارہی تھیں۔ایسے لوگ جو یوں تو عام انسانی معاشرے میں پیدا ہوتے ہیں، یہیں پلتے بھی ہیں اورجوان بھی ہوتے ہیں مگر،ان کی اپنی بدقسمتی یا ناکردہ گناہ انہیں عارضی یامستقل طور پرجیل کی کال کوٹھریوں کا مہمان بنادیتی ہے ،جہاں ایک ایک سانس پر پہرہ ،ہر ہر قدم پر بندش اور محرومی کا سایہ ہوتا ہے۔جہاںایک ہی وارڈ میں سینکڑوں اور بعض اوقات ہزار وں کی تعداد میں لوگوں کو رکھاجاتاہے،اس طرح کہ ہر پل اور ہر لمحہ انسانیت شرمندہ اور حیوانیت سربلند دکھائی دیتی ہے ، یہی ان کا گھر ہوتاہے ،جہاں رشتہ ناطہ کاکوئی تصور ہی نہیں۔ہاں! موٹے موٹے کھٹمل اور مچھر مہمانوں کے استقبال کیلئے پلکیں بچھانا نہیں بھولتے۔جہاں انھیں ہمیشہ ناپسندیدہ چہروں کو دیکھنے، گالیاں سننے اور بے ذائقہ کھانا تناول کرنے کی عادت ہوجاتی ہے ۔

ایسے خیالات کا آنا اور جسم میں ایک عجیب قسم کی جھر جھری کاطاری ہوجانا خلاف سبب بھی نہیں۔ خوفناک خیالات کے درمیان دل نے کہاکہ واپس لوٹ چلیں لیکن پھر یہ سوچ کر کہ ہم کوئی مجرم تونہیں بلکہ حقیقت کے متلاشی ہیں ،ہمت بندھی اوردل کے فیصلے کی تبدیلی نے آگے بڑھنے کاحوصلہ دیا ۔ابھی کچھ ہی قدم آگے بڑھے ہوںگے کہ دو سپاہیوں کی وحشت ناک آوازسماعت سے ٹکرائی: کیا معاملہ ہے ؟ادھر کہاں ؟پہلے سے ہی خوفناک خیالات ،کالے کالے چہرے ،لمبی لمبی مونچھیںاور غضبناک آنکھوں والے ان سپاہیوں کو دیکھ کرٹھٹک گئے اور ایک لمحہ کیلئے ایسا لگا جیسے ہم بھی مجرم ہیں
!
ڈرتے ڈرتے ہم نے ان سے جیل آنے کا مدعا بیان کیا اور جیل سپرٹنڈنٹ سے ملنے کی گذارش کرتے ہوئے کاغذات آگے بڑھا دیے جس میں جیل کے معائنہ اور قیدیوں سے بات چیت کرنے کی آئی جی نے اجازت دے رکھی تھی ۔کاغذات دیکھنے کے بعد ایک پولس والے نے پوچھا ۔’کہاں سے آئے ہو؟‘ہم نے بتایا دہلی سے۔’ کیوں ؟‘ریسرچ کیلئے ’اوہ! آپ لوگ میڈیا سے ہو ؟‘نہیں ہم طالبعلم ہیں’ اچھا! تو آئی کارڈدکھائو اوریہ بیگ میں کیا ہے ،جیسے یہ کسی طالبعلم کا بیگ نہیں کسی خطرناک دہشت گرد کی جھولی ہو، اچھی طرح ہماری تلاشی لی گئی اور چیکنگ کے مرحل سے گزارنے کے بعد ایک کمرے کی جانب جو غالباً استقبالیہ تھا، اشارہ کرتے ہوئے ایک دوسرے سپاہی نے کہا ’’پہلے موبائل ،لیپ ٹاپ ،سیم کارڈ یا جو بھی الیکٹرانک سامان ہو وہاں جمع کرائیے اور دائیں جانب یہ جو سڑک جا رہی ہے ،ادھر ہی سیدھے چلے جائیے ،وہیں رہتے ہیں صاحب۔
ہم آگے بڑھے مگر ہماری قسمت میں سپرٹنڈنٹ سے ملنا نہیں لکھا تھا ، معلوم ہوا کہ سپرٹنڈنٹ صاحب کی طبیعت خراب ہے، اس لئے انھوں نے صبح 7بجے کل ملنے کیلئے کہا ہے ۔ ہمارے یہاں ہندوستان میں دھونس اور رعب جمانے کے لئے بھی ایسا کیا جاتا ہے ،ہمیں معلوم نہیں حضرت سپرٹنڈنٹ صاحب واقعی بیمار تھے یا ٹال مٹول کے موڈ میں بیمار بن گئے تھے ۔

خیر! دوسرے دن جب ہم وقت معینہ پر پہنچے اور پوری صورتحال سے انھیں آگاہ کیاکہ ہمیں کیوں یہاں آنا پڑا تو انھوں نے یہ جاننے کے بعد کہ ہم’ ’ہندوستانی میڈیا میں جیل کی عکاسی اور اس کی حقیقت‘‘(قیدیوں سے بات چیت کے تناظر میں) جاننے کیلئے قیدیوں سے انٹرویو کرنا چاہتے ہیں،اجازت دے دی۔کافی پوچھ تاچھ کے بعد انھوں نے جیلر سے بات کی ،اور اطمئنان ہو جانے کے بعد اپنے پورے تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔اس سلسلہ میں ہمیں ویڈیو،ریکارڈنگ یا فوٹو گرافی کی اجازت نہیںملی ،لیکن یہ بھی ہم لوگوں کیلئے کم نہیں تھا کہ ہمیں ان قیدیوں سے بات چیت کی اجازت مل گئی تھی جن سے ان کے گھر والے بھی نہیں مل سکتے ہیں ۔بہرحال وہی دروازہ جسے ہم کسی دوسری دنیا کا دروازہ سمجھ رہے تھے ،اور جہاں اندر و باہر دس دس کیلو کے موٹے موٹے تالے لگے ہوئے تھے ،کا چھوٹا دروازہ انتہائی احتیاط کے ساتھ ہمارے لئے کھولا گیا ۔ہم اندر داخل ہوئے تو ایک دالان دکھائی دیا ،اس کے بعد بھی لوہے کا ایک اور کافی لمبا چوڑا اور مضبوط گیٹ نظر آیا،اس کو پار کرنے کے بعد ہی جیل کا احاطہ شروع ہو تا ہے ۔یہ وہی جگہ ہے جہاں جیل افسران اور دیگر اہلکاروں کے دفاتر ہیں،یہاں جیل اہلکار جنھیں اصطلاح میں سنتری کہا جاتا ہے، قیدیوں کی جامہ تلاشی لیتے ہیں۔

اس مقام یعنی دالان کے دائیں جانب جیلر کا کمرہ ،گیسٹ روم ،باورچی خانہ وغیرہ پرنگاہ پڑی۔یہیں دائیں جانب اسسٹنٹ جیلروں کی آفس،اسپیشل قیدیوں کیلئے ملاقاتی روم (جھارکھنڈ کے سابق وزیر اعلی مدھو کوڑا کو ہم نے یہیں کئی افرادکے ساتھ محو گفتگوپایا )باتھ روم اور ایک آفس بنا ہوا ہے جہاں قیدیوں کی فوٹو کشی اور فنگر پرنٹس لئے جاتے ہیں ۔یہیں قریب میں ایک بھاری بھرکم مشین بھی رکھی تھی جس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اشیاء کی ریڈنگ کرے اور یہ بتائے کے قیدی کے اندر لے جانے والے اثاثہ میں کیا کیا ہے ، ۔اسے اسکینر کہا جاتا ہے ،اس کی خوبی یہ ہے کہ یہ سخت سے سخت مادیاتی اشیاء کی بھی ایک ایک پرتیں کھول کھول کر بتا سکتا ہے ،ایسے میں کسی غیر ممنوعہ شئے کا اندر جانا واقعی نا ممکن ہے ،یہ اور بات ہے کہ موبائل فون اورغیرقانونی اشیاء کمال حکمت کے ساتھ جیل پہنچائے اور خراج وصول کئے جاتے رہے ہیں،جسکی خبریں برابر اخباروں میں آتی ہیں۔

برسا منڈاسنٹرل جیل بھی اس سے الگ نہیں جہاں قیدیوں کی جیبیںاگر گرم ہوں تو ممنوعہ اشیاء کے داخلہ کی نہ تو مقدارکی قید ہے اور نہ ہی تعداد متعین۔یہیں ہمیں ذرائع نے بتایا کہ جیل میں قیدی موبائل ٹیلیفون کو مختلف کاموں کیلئے استعمال کرتے ہیں۔قیدیوںکا ایک طبقہ وہ ہے جو موبائل فون کے ذریعے اپنے گھر والوں سے رابطہ کرتا،جبکہ دوسرے قیدیوں کی وہ جماعت ہے جو موبائل فون کے ذریعے جیل میں رہتے ہوئے باہر اپنا نیٹ ورک چلاتی ہے اورجیل کی محفوظ ترین پناہ گاہ میںرہ کر جرائم کی بادشاہت قائم کئے ہوئے ہے۔ابھی حال ہی میں اسی جیل کے بارے میں یہ خبر آئی تھی کہ ایک قیدی نے جیل کے اندر سے جھارکھنڈ کے اسپیکر کو فون کیا تھا،پولس کی اسپیشل ٹیم کے ذریعہ چھاپہ ماری میں کئی موبائل فون ضبط بھی کئے گئے تھے۔ یہ خبر ملک کے تقریبا سارے بڑے اخباروں میں آئی تھی ،اس واقعہ کے بعد سے برابر انتظامیہ کی جانب سے یہاں جیمر لگانے کی بات کہی جاتی رہی ہے لیکن یہ ابھی تک ممکن نہیں ہو سکا ہے ۔

بہرحال آیئے ہم اس جیل کی سیر کریں اور دیکھیں کہ کہاں کیا ہو رہا ہے۔ جیل کے اندر جرائم کی نوعیت کے لحاظ سے قیدیوں کے لیی مختلف بیرکوں میں قیام کا نظم ہے۔ ٹاور سیل میں نئے آنے والے حوالاتیوں کے ٹھہرنے کابندوبست ہے، قیدی بیرک میں عام قیدیوں کو جگہ ملتی ہے، سزائے موت سیل وہ جگہ ہے جہاںسزائے موت کے منتظرقیدیوںکامستقرہے، ڈاکوؤں کیلئے ڈکیتی سیل،جھگڑالو قسم کے مہمانوں کیلئے حفاظتی سیل، ، مستورات کیلئے علاحدہ سیل، قتل وغارت پھیلانے والوںکیلئے الگ قیام گاہ، پڑھے لکھے اور خواندہ افراد کی الگ بستی ،وی آئی پی اور سیاسی افراد کا بیرک الگ ،منشیات کے کاروبار سے جڑے افراد کامسکن الگ، توذہنی طور پربیمار قیدیوںکے قیام کا منفرد نظام۔غرض کہ جس پایہ اور درجہ کے قیدی ہیں،ان کیلئے اسی مرتبہ کی رہائش موجودہے۔
جیل آنے والے مہمانوںیا قیدیوں کیلئے آداب و روایات متعین ہیں کہ کن کا استقبال کس نہج پر کیاجائے؟عام طورپر صدر دروازے پر تلاشی کے بعد حوالاتی کو جیل احاطے کے وسط میں موجود سینٹر ٹاور پر لایا جاتا ہے، جہاں سے سزا یافتہ قیدیوںکو ان کے سیل میں بھیجا جاتا ہے۔ جیل میں سزا یافتہ اور زیر سماعت دونوں قسم کے قیدی ساتھ ہی رہتے ہیں ۔ قانون کے مطابق زیر سماعت قیدیوں سے مشقت نہیں کروائی جا سکتی لیکن ماہر سپاہی ان سے بھی پہلے دن ہی سے سخت کام لینا شروع کر دیتے ہیں۔ان کے ساتھ وہی سلوک اختیارکیا جاتا ہے جو رویہ عام قیدیوں کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے، حالانکہ قانون میں دونوں کیلئے الگ الگ حدیں متعین ہیں، مگریہاںکے سپاہیوںکیلئے عام قیدیوںاور زیر سماعت قیدیوں میںکسی طرح کی تمیزکی گنجائش اس وقت تک نہیں نکلتی جب تک کہ رشوت کی پیشکش نہ کی جائے۔ہمیں یہاں بتایا گیا کہ جوقیدی رشوت دیتا ہے اس کی جان بخشی ہوجاتی ہے اور جو پیسے نہیں دے سکتا، مشقت اس کا مقدر ہوتی ہے۔حالانکہ پرانے زمانے کی طرح جیلوں میں اب چکی پیسنے،پتھر توڑنے یا اس جیسے مشکل ترین کام کرانے کا رواج تو نہیں ہے لیکن اس کے باوجود جیل کی دنیا کے سارے کام چاہے وہ ناپسندیدہ ہوں یا پسندیدہ بحیثیت مزدور،چپراسی ،کلرک ،باورچی ،محرر، منشی ،استاذ ،نگراں ،بھنگی ،مہتر۔ الغرض وہ تمام کام جو باہر کی دنیا میں ہوتے ہیں جیل کے اندرانھیںقیدیوں سے انتہائی کم بلکہ برائے نام اجرت پر کرائے جاتے ہیں ۔

ہم نے یہاں جیل کے اندر کئی بچوں کوبھی دیکھا ،جن کی عمر اٹھارہ سال سے کم کی رہی ہوگی ۔ملک میں کم عمر بچوں کے لئے الگ سے جیلوں کا انتظام ہے ۔اس کے باوجود ان بچوں کو یہاں رکھنے کا مطلب میری سمجھ سے باہر تھا، اس لئے حیرت وتجسس میں مزید اضافہ ہوگیا ۔بات چیت میں قیدیوں کے ذریعہ ہی معلوم ہوا کہ پولس والے چھوٹے موٹے کیسوں میں ملوث غریب اور ان پڑھ بچوں کی عمریں بلا تحقیق بڑھا کر لکھ دیتے ہیں اور اس طرح ناجائز طریقہ سے بچے یہاں لائے جاتے ہیں۔ اس حوالے سے ایک قیدی نے یہ انکشاف بھی کیا کہ جیل کے اندر نو عمر قیدیوں کے ساتھ جنسی زیادتی ہوتی ہے ۔اس سے کس نے کیا سبق لیا، کون کون ذمہ دار ٹھہرایا گیا، کس کو کیا سزاملی؟ کچھ معلوم نہیں۔کم سن بچوں کو سگریٹ سمیت دیگر منشیات کون مہیا کراتا ہے؟ کچھ معلوم نہیں۔بڑی عمر کے قیدیوں کے ساتھ میل جول سے نوعمر لڑکوں کے ساتھ جنسی زیادتی کون کرواتا ہے؟ کچھ معلوم نہیں۔جیل حکام نے نام نہ بتانے کی شرط پرالبتہ یہ ضرور بتایا کہ جب جیل میں اس طرح کا کوئی واقعہ منظر عام پر آتا ہے ،تو جیل کے اندر موجود’پنیشمنٹ رجسٹر‘ پر اس واقعے کا اندراج کیا جاتا ہے۔ تاہم اس میں یہ نہیں لکھا جاتا کہ فلاں بچے کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی، بلکہ لکھا جاتا ہے کہ ’بدفعلی‘ کرنے کی’ کوشش‘ کی گئی۔ یوں جیل میں بچوں کے ساتھ ہونے والے اس طرح کے واقعات کو جیل کے اندر ہی دبا دیا جاتاہے اور بعض اوقات اگر معاملہ زیادہ بڑھا ہو تو رسماً متعلقہ تھانے میں رپورٹ بھی کر دادی جاتی ہے۔

اس جیل کے اندر ایک اسپتال بھی ہے ،جس کا کام بیمار قیدیوں کو علاج فراہم کرنا ہوتا ہے ،لیکن شاید ہی کوئی ایسا قیدی ہو جسے بروقت اور مناسب علاج مہیا کرایا جاتا ہو۔ اگر آپ کبھی جیل میں موجود اسپتال کا دورہ کریں تو آپ کو ایسے بااثر قیدی نظر آئیں گے جن کو کوئی بیماری تو نہیں ہوتی ہے ،لیکن وہ جیل عملے کی عنایتوں اور مہربانیوںکی وجہ سے وہاں محض آرام کرنے کیلئے منتقل ہوتے ہیں کیونکہ ان کے اپنے بیرکوں کے مقابلہ انھیں یہاں زیادہ آرام ملتا ہے۔بعض اوقات کچھ بارسوخ قیدی جیل کے ڈاکٹر وںکو رشوت دے کر شہر کے کسی اسپتال میں منتقل کئے جانے کی سفارش کرا لیتے ہیں۔یہاںکے اسپتال میں کوئی لیڈی ڈاکٹر نہیں ہے حالانکہ تقریباً ہر جیل کی طرح ہی یہاںبھی خواتین کی اچھی خاصی تعدادموجود ہے۔تشویشناک بات یہ بھی ہے کہ زیادہ تر جیل اسپتالوںکی مانندیہاںبھی ادویات سمیت طب کے بنیادی آلات موجود نہیں
ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ عام طور پر جیلوں میں صحافیوں کو جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

یہاں قیدیوں کے لئے پڑھنے لکھنے اور انھیں مصروف رکھنے کے لئے مختلف چیزوں کا انتطام ہے، جن میں آرٹ کرافٹ،کڑھائی تنائی ،کمپیوٹر کی تعلیم اور گھریلو صنعت، لفافہ سازی ،کمبل ،دری وغیرہ بناناشامل ہے ۔یہاں لائبریری بھی ہے جس میں کتابوں کا اچھا خاصا ذخیرہ ہونے کے علاوہ اخبارات اور رسائل و جرائدبھی پابندی سے آتے ہیں ۔لیکن اتنی بڑی لائبریری میں ساری کتابیں انگلش اور ہندی میں ہی نظر آئیں یہ کتابیں زیادہ تر ادبیات اور مذہبیات کی تھیں. ہندی میں کئی اسلام سے متعلق کتابیں بھی نظر آئیں ۔یہاں اسکول اور’ اگنو‘ کا سینٹر بھی ہے جس میں باضابطہ کلاسیں بھی ہوتی ہیں ۔یہاں کئی ایسے قیدیوں سے ہماری ملاقات ہوئی جنھوں نے جیل کے اندر ہی رہ کر گریجویشن اور ایم اے کی ڈگریاں حاصل کی ہیں ۔کئی لوگ کمپیوٹر پر کام کرتے نظر آئے ،پتہ کرنے پر معلوم ہوا کہ یہاں کئی ایسے دیہاتی جنھوں نے کمپیوٹر کا نام تک نہیں سنا تھا اس کے ذریعہ خوب کام کر لیتے ہیں، جیل کے سارے ڈیٹا بیس اور کمپیوٹر کا کام بھی یہی لوگ بحسن وبخوبی انجام دیتے ہیں ۔

یہاں پوجا پاٹ کے لئے مندر ،گرجا گھر اور عبادت کے لئے نماز خانہ کا بھی نظم ہے ۔جس میں تینوں مذہبوں کے رہنما پنڈت،پادری اور مولانا مقرر کئے جاتے ہیں ۔تمام ہی لوگوں کو اپنے اپنے مذہب کے مطابق عبادت اور تہواروں میں خوشیاں منانے کی مکمل آزادی ہے ۔ایک مسلمان سپاہی سے یہ بات معلوم کر کے بہت خوشی ہوئی کہ جیل کے نماز خانہ میں اچھی خاصی تعداد عبادت کے لئے آ تی ہے، امام کی اقتدا میں پانچوں وقت کی نماز پابندی سے اداکی جاتی ،گشت اور تبلیغ کا بھی اہتمام ہوتا ہے اورہفتہ اور عیدین کی نماز کے لئے با ضاطہ شہر سے مولانا آتے ہیں جو خطبہ دیتے اور نماز پڑھاتے ہیں، قیدی مسلمانوں کی شرعی و فقہی رہنمائی بھی انھیں کے ذمہ ہوتی ہے ۔

ہم نے دیکھا یہاں کھیتی باڑی اور کاشت کاری کا بھی معقول انتظام ہے ۔لمبے چوڑے قطعہ میں خوب ہرا بھرا اورکافی سر سبز و شاداب کھیت ہے۔ جس میں آلو، مکئی، ٹماٹر، شملہ مرچ،مٹرپھلی اور اس طرح کی دوسری کئی سبزیاں لگی تھیں ۔کئی قیدی کسان اپنے کام میں منہمک یعنی پانی بھرنے ،دوا ڈالنے،گھاس و خود رو پودوں کو اکھاڑنے اور کھیتوں کو ہموار کرنے میں مصروف تھے ۔ان کے چہروں سے کام کے تئیں بے زاری یا کسی بھی قسم کی بے چارگی بالکل بھی نظر نہیں آ رہی تھی ۔دیہاتی قیدی کسانوں کی اس ذمہ داری اور اپنے کام کے تئیں انہماک کو دیکھ کرجی خوش ہو اٹھا ۔اس جیل میںہمیںمسلسل چاردنوںتک قیدیوںکے احوال جاننے کا موقع ملا ،اس دوران تقریبا دس قیدیوں سے ہماری بات چیت ہوئی اور ہم نے ان کا تفصیلی انٹرویو کیا۔ انٹرویوجیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا ،جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اپنے موضوع سے متعلق ایک تحقیقی مقالہ کے لئے لیا گیا تھا ، اس لئے اس کا تفصیلی بیان یہاں مناسب نہیں، البتہ گفتگو کے دوران بعض قیدیوںسے ہونے والی ہماری دلچسپ بات چیت اورکچھ یاد گارواقعات کاتذکرہ ہم آگے ضرور کریں گے ۔

رانچی کابرسا منڈا جیل عام قیدیوںکی میزبانی کے ساتھ ہی ساتھ سیاسی مہمانوں کو بھی نہایت فیاضی کے ساتھ ٹھہرنے کاموقع دے چکاہے۔ مدھوکوڑا کے علاوہ اس جیل میں اور بھی کئی معروف شخصیات اپنی بدنصیبی کے دن گذار چکے ہیں ،جن میں چارہ گھوٹالہ کیس میں بہار کے سابق وزیر اعلی لالو پرساد یادو،کشمیری رہنما سید علی گیلانی،ان کے برادر نسبتی احمد شاہ ،موجودہ جھارکھنڈاسمبلی کے اسپیکر سی پی سنگھ اورریاست کے سابق وزیر اعلی شیبو سورین وغیرہ کے نام بطور خاص شامل ہیں ۔ روزنامہ ٹیلیگراف کلکتہ کی ایک رپورٹ کے مطابق25کروڑ کی لاگت سے بنے 40ایکڑزمین پر مشمل وسیع و عریض اس جیل میں 3215قیدیوں کے رہنے کی گنجائش ہے، جس میں فی الحال 3400قیدی بند ہیں ۔یہ جیل اپنی کئی خصوصیات کی وجہ سے بھی سرخیوں میں رہی ہے اور چونکہ جھارکھنڈ کو ماؤ نواز باغیوں کا علاقہ کہا جاتا ہے اس لئے یہاں آئے دن خونخوار اور خطرناک قسم کے قیدیوں کی آمد کا سلسلہ لگارہتا ہے۔گزشتہ دنوں انا ہزارے کی بدعنوانی مخالف تحریک میں یہاں کے قیدیوں کی کئی دنوں تک بھوک ہڑتال کی وجہ سے بھی اس جیل کا چرچا رہا تھا ۔

یہاںکے قیدیوں سے بات چیت میں جو چیز سب سے زیادہ ابھر کر سامنے آئی وہ یہ تھی کہ’ انسان کو خواہ کتنا ہی غصہ کیوں نہ آئے اس پر قابو پانے کی کوشش کرنی چاہئے‘۔ بیشتر لوگوں کا کہنا تھا کاش! اس وقت ہم غصہ پر قابو پا لیتے تو یہ دن نہ دیکھنے پڑتے ،بیشتر لوگ اپنے کئے پر نادم تھے اور اس کے خواہش مند کہ اگر ان کو ایک موقع مل جاتا تو وہ ایک نئی زندگی کا آغاز کرتے،اپنا آشیانہ سجاتے ،اچھی زندگی گذارتے اور ہر اس چیز سے دور رہتے جس سے انھیں کوئی خفت اٹھانی پڑتی ،گفتگو کے دوران بیشتر لوگ یہ کہتے نظر آئے کہ اللہ دشمنوں کو بھی یہ دن نہ دکھائے ۔


-- 

محمد علم اللہ اصلاحی 
M A Islahi
Mobil:0091-9911701772
          

Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages