You do not have permission to delete messages in this group
Copy link
Report message
Show original message
Either email addresses are anonymous for this group or you need the view member email addresses permission to view the original message
to 5BAZMeQALAM
شاہد احمد دہلوی نے 1963 میں اپنے جریدے ساقی کا جوش نمبر نکالا تھا۔ خوب ہنگامہ رہا تھا۔ اس کی جامع تفصیل ملتان میں قیام پذیر میرے بزرگ کرم فرما جناب خادم علی ہاشمی صاحب نے لکھ بھیجی، ملاحظہ کیجیے:
سب سے پہلے ساقی کے جوش نمبر کے حوالے سے۔ محمد طفیل صاحب نے خاکہ نمبر کے لیے شاہد احمددہلوی صاحب سے جوش صاحب کا خاکہ لکھوایا۔ شاہد صاحب نے کچھ ناگفتنی باتیں بھی لکھ دیں جن کو حذف کرکے نقوش میں شامل کیا گیا۔ اس پر شاہد صاحب کو تائو آیا اور انہوں نے
وہ مکمل خاکہ کہیں اور (شاید ساقی ہی میں) شائع کردیا۔ جوش صاحب کو احباب نے جواب دینے پر مجبور کیا تو انہوں نے اپنی "صفائی" میں جو کچھ لکھا اس میں جواب کے حوالے سے کچھ بھی نہیں تھا۔ ایک دلنشین تحریر تھی۔ البتہ اس
کا اختتام ان الفاظ پر تھا"شاہد صاحب آپ نیک شخص ہیں اور نیکں کی اولاد ہیں؛ نیک لوگ بروں کی برائیاں چھپاتے ہیں، اچھالتے نہیں" میں یہ الفاظ اپنے حافظے سے لکھ رہا ہوں، مگر مفہوم یہی تھا۔ شاہد صاحب نے اس کے جواب میں ایک اور مضمون ذرا زیادہ سخت لکھ مارا۔
شمس زبری نے تینوں مضامین "نقش ڈائجسٹ" میں یکجا چھاپ دیے۔ اس کے بعد شاہد صاحب نے ساقی کا جوش نمبر نکالا۔ میرے پاس یہ سب موجود تھے مگر ایک دوست لے گئے۔ میری نظر میں شاہد صاحب نے یہ جوش نمبر شائع کرکے نہ تو جوش کے قد میں تخفیف کی اور نہ ہی اپنے قامت میں کوئی اضافہ کیا۔
آپ کے ارسال کردہ مواد کا شکریہ۔ والسلام خیراندیش خادم علی ہاشمی ---------------------------------------------------------------------------------
گزشتہ کل کہ موسم ابرآلود تھا، بیس کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے راقم، ساقی کے اس جوش نمبر کے حصول کے لیے عقیل عباس جعفری صاحب کے دولت کدے تک جاپہنچا۔ وہاں کتابوں کی دولت منتظر تھی۔ شتابی سے جوش نمبر وصول کیا اور یہ جا وہ جا۔ عقیل صاحب نے درست کہا کہ چونکہ مذکورہ پرچے میں تقریبا تمام تحریریں جوش مرحوم کی مخالفت ہی میں لکھی گئی ہیں سو انہیں نہ ہی پیش کیا جائے تو اچھا ہوگا۔ ویسے بھی یہ ممکن نہیں تھا کہ 576 صفحات پر مشتمل اس ضخیم شمارے کے منتخب کردہ اوراق کی اسکیننگ میں بھی ضخامت ہی آڑے آتی۔ بہرحال، پرچے کے سرورق اور فہرست کے علاوہ چند ایسے اوراق پیش کیے جارہے ہیں جن میں جوش مرحوم کو شخصی تنقید کا نشانہ نہیں بنایا گیا ہے، باقی پورا پرچہ ہی ‘جوش شکن‘ کہلائے جانے کے قابل ہے۔
You do not have permission to delete messages in this group
Copy link
Report message
Show original message
Either email addresses are anonymous for this group or you need the view member email addresses permission to view the original message
to 5BAZMeQALAM
راشد میاں سلام مسنون
ساقی کے جوش نمبر سے اقتباسات کے لئے شکریہ۔۔۔ اس میں راجہ مہدی علی خاں صاحب کی ایک نظم بھی شامل ہے۔۔۔ نہ جانےانہوں نے اس مزاحیہ نظم کا عنوان "جوش ریلوے پلیٹ فارم پر" کیوں رکھا۔۔۔ جبکہ یہ فیض کی نظم کی پیروڈی ہے۔۔۔ ہو سکتا ہے کہ جوش و فیض کا کوئی واقعہ اس کے پیچھے ہو؟ کسی کو علم ہو تو ضرور بتائیں۔۔۔
You do not have permission to delete messages in this group
Copy link
Report message
Show original message
Either email addresses are anonymous for this group or you need the view member email addresses permission to view the original message
to Bazmeqalam
Rashid Sahab Salam Wondering there was any attachment/link with your post. If it was I didn't get it. Can you please send it again. Kind regards Mohammed Ali