Fwd: My Urdu Article on Venezuela

4 views
Skip to first unread message

Dr Tasleem Rehmani

unread,
Jan 6, 2026, 2:37:21 AM (3 days ago) Jan 6
to bazmeqalam, bazmeqalam


---------- Forwarded message ---------
From: Dr Tasleem Rehmani <arr...@gmail.com>
Date: Tue, Jan 6, 2026 at 1:05 PM
Subject: My Urdu Article on Venezuela
To: <nrin...@googlegroups.com>


وینزویلا: امریکی وجود کی فیصلہ کن جنگ

ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی

نئے سال کی آمد کے ساتھ ہی رات کے اندھیرے میں امریکی افواج نے تمام بین الاقوامی قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے لاطینی آزاد ملک وینزویلا پر حملہ کر کے وہاں کے منتخب صدر نکولازمادورو اور ان کی بیگم کو گرفتار کر لیا۔ وہاں کی راجدھانی کراکس اور قریبی شہروں پر بمباری کر کے چند گھنٹوں میں 40 لوگوں کو شہید، سینکڑوں کو زخمی ,  درجنوں عمارتوں کوزمیں بوس کر دیا۔ نکولا ز اور ان کی بیگم  سمیت  چار دیگر لوگوں پر مین ہاٹن کی عدالت نے گزشتہ 25 سال سے امریکہ میں منشیات کی سپلائی اور تشدد کا الزام لگایا  ہے۔ اس دوران دو جنوری 2026 سے امریکی صدر ٹرمپ مستقل پرجوش بیان بازی کرتے ہوئے اعلان کر رہے ہیں کہ وہ ایسا دنیا کے کسی بھی خطے میں کر سکتے ہیں۔ اور وینزویلا  اور وہاں کے تیل کے ذخائر پر بھی مکمل کنٹرول کریں گے۔ وہاں کی نائب صدر جو نگراں صدر بنا دی گئی ہیں ان کو بھی دھمکی دی گئی ہے کہ اگر انہوں نے امریکہ کے ساتھ تعاون نہیں کیا تو ان  کا  ا س سے بھی زیادہ سنگین انجام ہوگا۔ اس اچانک واقعے نے ساری دنیا کو حیران و پریشان کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری سمیت دنیا کے بیشتر ممالک نے اس واقعے کی شدید  مذمت کی ہے۔ پڑوسی ایشیائی ممالک کیوبا، میکسیکو، کولمبیا، پنامہ، برازیل وغیرہ نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کا ایمرجنسی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ (جو اس وقت جاری ہے )۔ یورپی ممالک امریکہ کے اس رویے کی مذمت تو کرتے ہیں لیکن  صدر نکولازکی بھی مذمت کرتے ہیں ،جس سے امریکی حمایت کا عندیہ ملتا ہے۔ لیکن ایشیائی ممالک خصوصا چین اور روس اس معاملے پر خاصے چراغ پا نظر آتے ہیں ۔بھارت نے گرچہ محتاط رویہ اختیار کیا ہے لیکن پھر بھی امریکی صدر نے بھارت کو مزید سخت ٹیریف لگانے کا انتباہ  دیا ہے۔

ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے کہ امریکہ نے کسی ملک کی حکومت گرا کے ان ممالک کے سربراہان کو  گرفتار یا قتل کیا ہو۔ اس سے قبل پنامہ 1989،افغانستان 2001 ،عراق 2003 ،حماس 2006 ،لیبیا 2011 ،یوکرین 2022 ،ایران 2024 میں ایسا کیا جا چکا ہے کہ جہاں جمہوری طور پر منتخب حکومتوں کو امریکی فوج کے ذریعے  گرا کر ان کے صدور کو پھانسی پر چڑھا دیا گیا ،یا قتل کر دیا گیا ،یا ان ممالک میں خانہ جنگی برپا کر دی گئی ۔ اس وقت مغربی ایشیا اور افریقہ کے مختلف ممالک کے مابین خانہ جنگی یا بدامنی کی پشت پناہی بھی امریکہ ہی کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ محض دنیا میں اپنی بالادستی قائم رکھنے کے لیے ہی کیا جا رہا ہے یا اس کے در پردہ کچھ دیگر عوامل بھی کارفرما ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی طاقت ہے جس کی معیشت 30 ٹرلین ڈالر پر مشتمل ہے۔ اس کے بعد چین دوسری بڑی معیشت ہے جو اس سے بہت پیچھے 19 ٹریلین ڈالر ہے جبکہ تیسری چوتھی معیشت بالترتیب جرمنی اور بھارت ہے جو محض پانچ اور چار ٹرلین ڈالر کی ہیں۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ دنیا بھر کے اقتصاد کا آدھاحصہ اکیلے امریکہ کے قبضے میں ہے۔ لیکن اس کے برعکس کچھ دیگر اعداد و شمار بھی ہیں جو اس مضبوط ترین اقتصاد کی قلعی کھولتے ہیں۔ مثلا امریکہ فی الوقت 38 ٹرلین ڈالر کا مقروض ہے اور اسے سالانہ ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ سود دینا پڑتا ہے جو وہ ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ عوامی سطح پر تقریبا 67 فیصد لوگ محض اپنا ماہانہ بل ادا کرنے کے بقدر ہی کماتے ہیں۔ علاج معالجے کے اخراجات اٹھانا ، مکانوں کے کرائے ادا کرنا بھی دشوار ہوتا ہے۔ 35 فیصد لوگ خط افلاس کے نیچے زندگی گزارتے ہیں ،نوجوانوں میں بے روزگاری کا شرح 34 فیصد ہے۔ 80 فیصد لوگ ملازمت پہ منحصر ہیں جنہیں  اوسطاساڑھےچار ہزار ڈالر ماہانہ( تقریبا 40 ہزار روپے) تنخواہ ملتی ہے، جو امریکہ جیسے مہنگے ملک میں زندگی گزارنے کے لیے بہت ناکافی ہے۔ اس کے باوجود 1980 سے اب تک دنیا کے مختلف ممالک پر امریکی  فوج کشی  جا ری ہے۔ اس کا اصل مقصد ان ممالک کے قیمتی اثاثوں اور وسائل کو چھین کر اپنی معیشت کو سنبھالے رکھنے کی کوشش ہے۔ اسی کوشش کا ایک حصہ دنیا بھر میں ڈالر کی برتری قائم رکھنا بھی ہے۔ اس غرض سے امریکی پالیسی ہمیشہ یہ رہی ہے کہ دنیا میں ان کی پسند کی حکومتیں ہی قائم رہیں۔ اور جو ان کی مخالف ہوں ان کو بزور طاقت کچل دیا جائے۔ افغانستان میں 20 سال بمباری کر کے اسے ریت کے کھنڈر میں تبدیل کرنے کے پیچھے یہ حکمت کار فرما تھی۔ عراق میں بھی خطرناک ہتھیاروں کے ذخیرے کا جھوٹ بول کر صدام حسین کا تختہ پلٹا اور پھر پھانسی دے کر وہاں کے تیل کے ذخائر پر مکمل قبضہ کر لیا گیا۔ جس سے وہاں کی معیشت آج تک سنبھل نہیں پائی۔ 2006 میں فلسطین کی جمہوری طریقوں سے منتخبہ حماس کی حکومت کو  برطرف کرنے کے پیچھے بھی یہی وجہ تھی کہ حماس کی حکمرانی سے مغربی ایشیا میں سیاسی توازن امریکہ مخالف ہو سکتا تھا۔ ۲۰۰۷ سے ہی غزہ کا محاصرہ کر کے وہاں کے 23 لاکھ لوگوں کو ایک کھلی جیل میں بند رہنے پر مجبور کر دیا گیا۔ یہ محاصرہ آج بھی جاری ہے۔ اسی طرح افریقی ممالک سوڈان، صومالیہ، مالے، نائیجیریا، گیمبیا، ایتھوپیا، کانگو وغیرہ میں موجود کوئلے اور ہیرے کے ذخائر پر بھی قبضہ کرنے کی جنگ جاری ہے۔ یہ تقریبا سبھی مسلم ممالک ہیں۔

 کہا جاتا ہے کہ ویننزویلا میں دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ مگر امریکہ کی اقتصادی ناکہ بندی کی وجہ سے وہ بمشکل اپنا یک فیصد ہی  تیل بیچ پاتے ہیں۔ نتیجے میں ان کے عوام غربت کا شکار رہتے ہیں۔ 1990 سے لگاتار امریکہ کسی نہ کسی بہانے وہاں کی حکومت میں مداخلت کی کوشش کرتا رہا ہے۔ سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے اربوں ڈالر سالانہ خرچ کیے جاتے ہیں، لیکن ابھی تک ناکامی ہاتھ لگی تھی۔ واضح رہے کہ جنوبی امریکہ میں کریبیائی سمندر پر واقع تین کروڑ کی آبادی والا امریکہ سے محض ساڑھے چار ہزار کلومیٹر کی دوری پر واقع یہ ملک فلسطین اور ایران کا زبردست حامی ہے۔ اور یہاں عموما کمیونسٹ نظریے کی سرکار رہتی ہے اپنی اہم جغرافیائی پوزیشن اور تیل کی وجہ سے آس پاس کے چھوٹے ممالک پر بھی اس کا اچھا خاصا اثر و رسوخ رہتا ہے۔ اسی لیے امریکی صدر نے تین جنوری کو دھمکی دی کہ کیوباتو اب خود بخود گر جائے گا جبکہ کولمبیا پر اسی طریقے سے قبضہ کر لیا جائے گا جیسے وینزویلا پر کیا گیا ہے۔

امریکہ کا ایک بڑا مسئلہ دنیا بھر میں ابھرتے عالمی ادارے ہیں۔ مثلا "برکس"( برازیل، روس، انڈیا چین، جنوبی افریقہ) 1998 میں قائم ہوا۔ یہ عالمی ادارہ دنیا کی 60 فیصد آبادی اور وسائل پر مبنی ہے۔ مگرمزید اہم ممالک بھی اس فورم میں شامل ہو رہے ہیں جس سے اس کا حلقہ اثر بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ ادارہ دنیا کی معیشت میں ڈالر کے بجائے مقامی کرنسی میں کاروبار کرنے کی وکالت کرتا ہے۔ کچھ ممالک تو   مقامی کرنسی میں  آپسی کاروبارکرنے بھی لگے ہیں۔ مثلا بھارت اور روس۔ امریکہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ یہی ہے۔ لیبیا کے صدر کرنل محمد قزافی کا قتل بھی اسی ضد کا شاخسانہ تھا کہ وہ امریکہ سے ڈالر کے بدلے نہیں بلکہ سونے کے بدلے تجارت کرنا چاہتے تھے۔ صدام حسین بھی انہی خطوط پر چل پڑے تھے ،جبکہ خلیجی عرب ممالک ایک معاہدے کے تحت ڈالر کے بدلے اپنے مقامی کرنسی کی قدر کو ہمیشہ کے لیے مستحکم کر چکے ہیں۔ دنیا بھر میں تیل اور دیگر اشیاء ضروریہ کی قیمتیں ڈالر کی مالیت پر منحصر ہوتی ہیں۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ جن حکومتوں کو ناپسند کرتا ہے وہاں کی کرنسی کی قدر بہت کم رہ جاتی ہے۔ مثلا عراق، شام، مصر، ایران، لبنان  اور بیشتر افریقی ممالک کی مقامی  کرنسی کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے۔ خود بھارت میں روپے کی قیمت میں مستقل گراوٹ آرہی ہے۔ ایسے ہی دنیا کے بیشتر ممالک میں افراط زر بپا کرنے کے لیے ڈالر کو ہتھیار بنایا جاتا ہے۔ ساری دنیا اس سے متاثر بھی ہے اور متفکربھی۔ امریکہ کو یہ خدشہ ستا رہا ہے کہ جلدہی برکس جیسے فورم ڈالر کو مات دے سکتے ہیں۔ ان حالات میں امریکہ کو اپنی معیشت سنبھالے رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ ایسی صورت میں دنیا کی سب سے بڑی عالمی طاقت بنے رہنے کی حیثیت بھی مشکوک جائے گی اور اسرائیل کی حمایت بھی ناممکن ہو جائے گی۔

امریکی  ہٹ دھرمی نے ساری دنیا کے کان کھڑے کر دیے ہیں خود صدر ٹرمپ نے بھی دھمکی دی ہے کہ دنیا میں کہیں بھی کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ حالانکہ وہ کولمبیا اور کیوبا کو اگلا نشانہ بنانے کی بات کر رہے ہیں۔ لیکن عالمی مبصرین کا خیال ہے کہ ان کا ہدف ایران ہو سکتا ہے۔ گزشتہ سال تہران کے قریب ایٹمی تنصیبات پر حملے کے ذریعے اس کی ریہرسل بھی کی جا چکی ہے۔ لیکن ایران پر کوئی طول الوقتی فوج کشی خلیج فارس سے یورپ اور امریکہ کو جانے والے تیل کی آمد و رفت کو متاثر کر سکتی ہے، جس سے وہاں توانائی کی زبردست بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ اب ویننزویلا کےتیل پر قبضے کے بعد یہ خدشہ کافی حد تک دور ہو گیا ہے۔ یہ تیل امریکہ اور یورپی ممالک کی ضرورت پورا کرنے کے لیے کافی ہے لیکن یہ قوتیں جس طرح گزشتہ دو سال میں حماس کو شکست دینے میں ناکام رہی ہیں اسی طرح خطے میں ایران کی موجودہ پوزیشن اس حملے سے  ایشیا میں طاقت کا توازن بگاڑ سکتی ہے۔ ایران میں امریکہ کی فتح دراصل روس اور چین کی شکست ہوگی۔ دوسری جانب بالکل قریب میں واقع خلیجی ممالک جہاں پہلے سے ہی امریکی فوجی اڈے موجود ہیں ان کے پاس بھی چوں چرا کئے بغیر امریکی حکم ماننے کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں بچے گا۔ خود بھارت کے خود مختاری اور بڑھتی ہوئی اقتصادی حیثیت محض امریکہ کی رہین منت رہ جائے گی۔ ظاہر ہے کہ سر دست یہ صورتحال سب سمجھ بھی رہے ہیں اور کسی کے لیے قابل قبول بھی نہیں ہے۔ بہرحال وینزویلا کے حالات  نے یہ تو واضح کر ہی دیا ہے کہ 2026 عالمی افرا تفری کا سال ہونے جا رہا ہے۔ خصوصا ایشیائی ممالک میں سیاسی اور اقتصادی عدم استحکام کے واضح اشارے موجود ہیں۔ خود اقوام متحدہ بھی   ویسے ہی بے دست و پا نظر آرہا ہے جیسے پہلی جنگ عظیم کے بعد لیگ آف نیشنز تھا۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ 2026 کے آخر آنے تک دنیا کا نیا نقشہ کیا ہوگا۔

venezuela Published .jpeg
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages